hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

دین پور شریف کا قیام

دین پور شریف کا قیام

حامی عبیدی دینپوری

بستی گھوٹیہ ہی میں حضرتؒ کی بڑی صاجزادی پیدا ہوئی اور بچپن کے چند سال وہاں پرورش پائی۔ اگرچہ اس بستی میں آپ کے معاشی حالات قدرے درست تھے اور اہلِ بستی بھی آپ سے عقیدت وارادت رکھتے تھے مگر بستی کا عام ماحول ناخواندگی اورجہالت کے باعث شستہ و مہذب نہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے علاوہ بڑوں میں بھی بدزبانی وفحش کلامی کی عام عادت تھی۔ دنگافساد اورگالم گلوچ یہاں کے باشندوں کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ قدرتی طور پر حضرتؒ ایسے ماحول سےنفور اوررنجیدہ خاطر رہتے تھے۔ خلافت کے بعد حضور مرشدؒ کے فرمان کے مطابق اس علاقے کے کسی جنگل میںآباد ہوکر یاد الہٰی میں یک سوئی وتنہائی ضروری تھی اس لئے حضرتؒ کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے۔

 

 

 

دین پور شریف کا قیام

حامی عبیدی دینپوری

بستی گھوٹیہ ہی میں حضرتؒ کی بڑی صاجزادی پیدا ہوئی اور بچپن کے چند سال وہاں پرورش پائی۔ اگرچہ اس بستی میں آپ کے معاشی حالات قدرے درست تھے اور اہلِ بستی بھی آپ سے عقیدت وارادت رکھتے تھے مگر بستی کا عام ماحول ناخواندگی اورجہالت کے باعث شستہ و مہذب نہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے علاوہ بڑوں میں بھی بدزبانی وفحش کلامی کی عام عادت تھی۔ دنگافساد اورگالم گلوچ یہاں کے باشندوں کی گھٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ قدرتی طور پر حضرتؒ ایسے ماحول سےنفور اوررنجیدہ خاطر رہتے تھے۔ خلافت کے بعد حضور مرشدؒ کے فرمان کے مطابق اس علاقے کے کسی جنگل میںآباد ہوکر یاد الہٰی میں یک سوئی وتنہائی ضروری تھی اس لئے حضرتؒ کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے۔

اس عرصہ میں ایک مقامی بلوچ مرد صالح نور خان اوراس کی بیوی ”مائی خانزادی” کا حضرتؒ سے تعلق ارادت قائم ہوا۔ بعض روایات ہیں کہ ان کا تعلق بیعت پہلے حضور سیدالعارفینؒ سے تھا۔ حضرتؒ کے پیربھائی تھے اورآپ سے کمال اخلاص ومحبت رکھتے تھے یہ لوگ بستی گھوٹیہ کے شمال میں موجود دین پور شریف کی جگہ( جہاں ایک گھنا اور خوفناک جنگل تھا) اپنی چھ سات بیگھہ اراضی حضرتؒ کے نام ہبہ کردی۔ حضرتؒ نے اللہ کا نام لے کر اس خطرناک جنگل میں جہاں حشرات الارض اور جنگلی درندوں کی کثرت تھی اور وحشتناک ماحول تھا، گھانس پھونس کی جھونپڑیاں بناکر مستقل ڈیرے ڈال دئیے ۔ جنگلی جانوروں کی اس قدر بہتاب تھی کہ جانور گھر کے معمولی برتن اور خاردار باڑھ سے بنائی گئی عارضی مسجد سے نمازیوں کی جوتیاں اُٹھا کر لے جاتے تھے مگر یہ مختصر کنبہ ان تمام خطروں سے بے پروا، فقروفاقہ سے بے نیاز اس سنسان اورغیر آباد جنگل میں یادِ خدا میں مصروف رہنے لگا۔ یہ زمانہ تقریباً ۱۸۷۶ءکا ہے۔

دین پور شریف کی آبادی کا یہ ابتدائی دور گو مصائب اور عسرت وتنگی کا تھا، لیکن حضرتؒ اور آپ کے اس مختصر خاندان نے تکالیف کے وہ دن بڑے صبروثبات اورشکرورضا میں گزارے۔ آخر میں حضرت عسرت کے ان ایام کو بڑے حسرت ناک الفاظ میں یاد فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے رو کر فرمایا:" ہماری وہ پہلی حالتِ عسرت اچھی تھی جس میں اطمینان وسکون تھا اور یادِ الہٰی میں لذتِ ذوق وشوق حاصل تھی، ایسے مبارک عُسر پر تو لاکھوں ”یسر“ قربان ہوں"۔

دین پور شریف کے قیام اور آپ کی صحرانشینی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ آپ کی کشش باطنی اورتوجہ روحانی سے لوگ جوق درجوق" اللہ، اللہ" سیکھنے جنگل میں آپ کے پاس آنے لگے۔ خلقِ خدا پروانہ وار شمع ہدایت کے گرد جمع ہونے لگی اور خدا کے بندوں کا اس صحرا نشین فقیر کے پاس تانتا سا بندھ گیا۔ ایک کشش تھی جو حق کے متلاشی قلوب کو اِدھر کھینچ رہی تھی۔ اس سرزمین سے رشدوہدایت اورتعلیم ومعرفت کے سوتے پھوٹ نکلے ۔ لوگ آپ سے باطنی وروحانی فیض لینے لگے۔ یہ صحرا نشین وگوشہ نشین فقیر مرجع خلائق اورخلق اللہ کا مرکز عقیدت بن گیا۔

چونکہ دین پور شریف میں ہر ہنر وکمال کے لوگ آپ کے حلقہ بگوش ہورہے تھے۔ اس لئے حضرتؒ نے ایک ایسے معاشرہ کی بنیاد ڈال دی، جس میں ہر شخص فعال اور کارکن ہو۔ خانقاہ میں رہبانیت محض کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس مقصد کے لئے آپ نے بعد میں تھوڑی سی زمین بھی خریدلی جو فقراءاور خانقاہ کی ضروریات کے لئے مکتفی ہوسکے۔ جس پر حضرتؒ اور تمام فقرآ مل کر محنت ومشقت کرتے ، چنانچہ جنگل کٹتا چلاگیا، زرعی اراضی آباد ہوئی اور کنویں احداث کئے گئے ۔ مسافروں اور مہمانوں کے لئے عارضی اور کچی قیام گاہیں تعمیر ہوئیں۔ سب سے پہلے اس بستی مٰن ”خشت وسنگ“ کی جو پختہ عمارت کھڑی ہوئی وہ خدا کے گھر(مسجد) کی تعمیر تھی جس میں حضرت اور فقراءنے مل کر کام کیا تھا ۔ اینٹیں پاتھنے، پکانے ڈھونے ،گارا تیار کرنے، بنیادیں کھودنے اور تعمیر کے تمام مراحل میں حضرتؒ بھی برابر شریک کار رہے۔ بلکہ عام مزدور کی طرح کام کرتے رہے۔ صرف یہی نہیں حضرتؒ تاعمر جماعت فقراءکے ساتھ ہر کام مل کرکرتے تھے۔ لنگر عالیہ کا تمام کاروبار اپنے اور جماعت کے مخلص وبےلوث فقراءکے ہاتھوں میں رہتا تھا۔ خود حضرتؒ "سید القوم خادمہم "کی سچی اورصحیح تصویر تھے۔

غرض ان قدسی نفس انسانوں کی بدولت تھوڑی مدت میں یہ غیر آباد و یران خطہ جنگل میں منگل کا سماں پیش کرنے لگا۔ ہر طرف نغمہ توحید "اللہ ہو اللہ ہو" کی صدائیں گونجنے لگیں اور "ضرب الاللہکے نعرے اس قریہ کے زرّہ زرّہ سے سنائی دینے لگے ۔ دین پور شریف کے قیام سے نصف صدی بعد کا نقشہ مولانا ابوالحسن علی ندوی یوں کھینچتے ہیں۔

”دین پور کی دُنیا ہی نرالی تھی۔ وہ صحیح مضی معنی میں دین پور تھا، قادری طریقہ پر ذکر جحر سے مسجد وخانقاہ اوربستی ہر وقت گونجتی رہتی تھی۔ اگر کوئی کسی کو آوازبھی دیتا تو پکارنے والا بھی" الاللہ "کہتا اور جواب دینے والا بھی " الاللہ ہی سے اس کا جواب دیتا ۔ اس طرح اذان ، ذکر جہر اور صدائے" الاللہ" کے سواکوئی بلند آواز سننے میں نہ آتی۔ یہ ایک چھوٹا سا گاں تھا جس میں صرف حضرت اورحضرت کے متعلقین آباد تھے۔ نیم خام ،نیم پختہ چند مکانات جن کی تعداد شاید ۵ ،۷ سے زیادہ نہ ہو۔ ایک سادہ سی مسجد، چند خام حجرے ذاکرین کےلئے کچھ کھجوروں کے درخت جن کو دیکھ کر عرب کے بادیہ کی بستیاں یاد آتی ہیں، آب وہوا بھی بادیہ عرب سے ملتی جلتی تھی۔ مقیمین خانقاہ کے لئے ایک لنگر تھا جس میں خالص سندھی اور بہاولپوری مذاق کا ایسا کھانا تیار ہوتا جو "قوت لایموت" کا صحیح مصداق تھا۔ اور ہم اودھ کے نازک مزاج مہمانوں کے لئے اس کا کھانا بڑا مجاہدہ اور امتحان تھا۔ گرمی شدت کی تھی۔ دن بھر لو چلتی تھی، رات کسی قدر ٹھنڈی ہوتی"

(پرانے چراغ۱۴۱)

یہاں لنگر کے کھانے کے متعلق وضاحت ضروری ہے کہ یہاں لنگر میں پہلے یا بعد میں جس قسم کا کھانا تیار ہوتا تھا ، وہ اُبلے ہوئے نخود، جنہیں مقامی زبان میں ”کوہل“ کہتے ہیں اورپتلا" بھات "ہوتا تھا۔ یہ طعام خالص رزق حلال سے تیار ہوتا تھا اور اس میں کوئی مشتبہ مال یا دنیا داروں کے نذرانے کا پیسہ استعمال نہ ہوتا تھا۔ لنگر میں ایسے باخدا فقراءرہتے تھے، جن کی غذا میں اگر معمولی مشتبہ مال کا حصہ چلاجاتا تو فورا قے ہوجاتی ۔ اس لئے حضرت ؒ اس معاملے میں سخت احتیاط فرماتے تھے۔ یہ رزق حلال اورحضرت کی توجہ کا اثر تھا کہ صرف دین پور شریف کے اس خطہ میں داخل ہوتے ہی طالب پر انور و برکات کا نزول ہونے لگتا تھا۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ایک دفعہ واقعہ بیان فرمایا کہ اس ے سُسر مولانا ابو محمد احمد چکوالی حضرت شیخ الہندؒ کے پاس شاغل تھے، مگر کچھ عرصہ ورد اوراد چھوڑدئیے جنکی وجہ سے لطیفہ قلبی بند ہوگیاتھا، فرماتے تھے کہ جس وقت وہ دین پور شریف کی حدود نہر کے قریب آئے انکا لطیفہ قلبی خودبخود جاری ہوگیا۔

غرض حضرتؒ نے اس جنگل میں ایک ایسا ماحول بنالیا تھا جس کی فضاں اور ہواںمیں بھی "ذکر اللہ" کی اس قدر قوی تاثیر موجود تھی ابتداءمیں لوگ آپ کو صحرا نشینی کی نسبت سے ”رگ والا پیر“ یعنی(جنگل والا پیر) کہتے تھے مگر بعد میں پاک نفس فقراءنے یہاں کی دینی اور روحانی عظمت کے پیشِ نظر اس خطہ پاک کا نام "دین پور شریف" رکھا جو واقعی اسم باسمیّ تھا۔

دین پور شریف ، حضرت ؒ کے زمانہ میں باطنی وظاہری علوم کا بڑا مرکز تھا۔ جہاں ظاہری شرعی تعلیم کے اہتمام کے ساتھ ساتھ روحانی تعلیم وتربیت تزکیہ نفس کا ایک عظیم الشان ادارہ حضرتؒ کی سربراہی میں قائم تھا۔ حضرتؒ نے اس مختصر خطئہ اراضی میں" حضرت شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ" کے افکارونظریات کی بنیار پر ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل فرمائی تھی۔ جسمیں احکام شرعی کے نفاذ کے ساتھ ایک فلاحی ریاست کا تصور موجود تھا۔ اخلاقی وروحانی ترقی معیار عظمت تھا، ورنہ اس معاشرہ میں سب انسان برابر تھے، سب کے حقوق برابر تھے اور سب کا خیال رکھا جاتا تھا۔ حضرتؒ اور جماعتِ فقراءجو زمین مل کر کاشت کرتے تھے اور اشتراک محنت سے جو آبادی کا ثمر اٹھاتے تھے یا آمدنی ہوتی تھی وہ "بیت المال" میں جمع کردی جاتی تھی۔ یہاں سے مساکین، فقراء، مسافروں ، یتیم بچوں ، بیوگان اورمستحقین میں ہر ایک کے بقدرِ ضرورت وہ آمدنی خرچ کی جاتی تھی۔ خود حضرتؒ اس آمدنی یا نذر و نیاز کو اپنی ذات اورخاندان پر خرچ نہ کرتے تھے ۔

غرض دین پر شریف کا یہ معاشرہ ’’مزہب وسیاست کے امتزاج سے تیار کیا ہوا ایک مثالی معاشرہ تھا جو خالص عہدِ خلافت راشدہ" کا نمونہ معلوم ہوتا تھا اورحضرتؒ کے تربیت یافتہ لوگ صور تاً وسیرتاً قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی تصویر دکھائی دیتے تھے۔ بقول امیر شریعتؒ "ایسا لگتا تھا، قافلہ اصحافِ رسولجارہا تھا اور یہ لوگ اس سے بچھڑ کر پیچھے رہ گئے تھے"۔

حضرت دین پوری رحمتہ اللہ علیہ اس مثالی معاشرہ یا چھوٹی سی اسلامی ریاست کے سربراہ اور ”خلیفہ“ تھے۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے یہاں ایک عجیب نکتہ پیش کیا تھا، فرماتے تھے کہ”لفظ خلیفہ مسلمانوں کے مذہبی اورسیاستی معاملات واسلامی حکومت کے قائد کے لئے استعمال ہوتا ہے یا اولیاءکرام کے صاحب اجازت خدّام کےلئے مگر موخّر الذکراصحاب کے نام کا جزونہیں ہوتا، لیکن حضرت دین پوریؒ خلیفہ کے لقب سے ہی مشہور ومعروف تھے اور یہ لقب ان کے نام کا ایک حصہ بن گیا تھا۔ چونکہ حضرتؒ ایک چھوٹے سے اسلامی معاشرہ اور خانگی قانون (ہوم رول) طرز کی اسلامی حکومت کے سربراہ تھے، اس لئے ہماری رائے میں آپ اس عظیم لقب کے بجا طور پر مستحق تھے۔

دین پور شریف کی ابتدائی تعمیر وتزئین میں حضرتؒ کے ہمراہ جن فرشتہ خصائل انسانوں نے کام کیا تھا ، ان میں میاں غلام رسول (برادر خورد حضرتؒ) حافظ نور دین مرحوم ، نتھو فقیر ، داد فقیر (معماران مسجد شریف) ، میاں خدا بخش لانگری اور میاں مرید احمد مرحوم کے اسمائے گرامی اس قریہ کی تاریخ میں یاد گار رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.