hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

راہِ حق میں حضرت درخواستی کا مصائب جھیلنا

راہِ حق میں حضرت درخواستی کا مصائب جھیلنا

امامِ اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرصاحب

سندھ کے اندر ایک مقام پر تقریر کیلئے جا رہا تھا کہ مخالفین نے مجھ پر بندوق چلائی مگر بندوق نہ چل سکی ،اللہ تعالی نے محفوظ رکھامگر ان ظالموں نے میرے ناک پر چھری چلا دی اور بہت گھرا زخم آیا،جو کافی دنوں کے بعد مندمل ہوا ،یہ اسکا نشان ہے

 

 

 

راہِ حق میں حضرت درخواستی کا مصائب جھیلنا

امامِ اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرصاحب

شیخ الحدیث مدرسہ نصرة العلوم گوجرانوالہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ……امّا بعد !

دنیا میں جتنے بھی مذاہب و ادیان موجود ہیں ان سب میں سچا اور نجات والا مذھب صرف دینِ اسلام ہی ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

انّ الدین عند اللہ الاسلام

ومن یبتغ غیر الاسلام دینافلن یقبل منہ

اس دین کی بنیاد  قرآن کریم ،حدیث شریف اور ان کے خادم علوم پر ہے،جن کی حفاظت کیلئے اللہ تعالی نے  ہر دور اور ہر زمانہ میں ایسے با ہمت اور مخلص حضرات پیدا کیے،جنہوں نے ان کی حفاظت کا کما حقہ حق ادا کیا اور انشااللہ العزیز قیامت تک ایسے بزرگ آتے رہیں گے،ان بزرگوں میں اپنے دور کے ولی کامل حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بھی ہیں ،جنہوں نے ساری زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کیا اور بے شمار دینی مدارس قائم کئے جو دین حق کے قلعے ہیں،جن سے لاتعداد حضرات استفادہ کر رہے ہیں اور انشاء اللہ العزیز کرتے رہیں گے۔حضرت درخواستی رحمةاللہ علیہ اپنے دور کے اور اپنی طرز کے بے مثل واعظ اور مبلغ تھے،جن سے ہزاروں لوگ مستفید ہوئے اور آپ رحمة اللہ علیہ نے اس سلسلے میں بڑی بڑی تکالیف اٹھائیں ،کئی مرتبہ داقمِ اثیم کے ہاں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ تشریف لائے اور جب راقم نظر نہ آتا تو فرماتے ”سرفراز والے کہاں ہیں ؟” اور بڑی بے تکلفی سے باتیں فرماتے۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ناک پر ایک خاص نشان تھا ،راقم اثیم نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ہے ؟تو مسکرا پڑے اور فرمایا کہ:

سندھ کے اندر ایک مقام پر تقریر کیلئے جا رہا تھا کہ مخالفین نے مجھ پر بندوق چلائی مگر بندوق نہ چل سکی ،اللہ تعالی نے محفوظ رکھامگر ان ظالموں نے میرے ناک پر چھری چلا دی اور بہت گھرا زخم آیا،جو کافی دنوں کے بعد مندمل ہوا ،یہ اسکا نشان ہے

 

اس کے علاوہ حق گوئی پر جو مصائب آپ پر آئے ان کی داستان طویل ہے۔دینی خدمت کے علاوہ حضرت رحمة اللہ علیہ سالہا سال تک سیاسی میدان میں جمیعت علماء اسلام کے امیر رہے اور احسن طریقے سے بھی اس میدان کو سر کیا ،آپ کی اولاد ،دراولاد میں جیّد علماء اوربہترین خطباء ہیںجو آپ کیلئے صدقہ جاریہ ہیں ۔

اللہ تعالی حضرت رحمة اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔

آمین ثمّ آمین

اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.