hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

تاریخ خانقاہ دین پور شریف وبانی خانقاہ خلیفہ غلا م محمد د ین پو ری

تاریخ خانقاہ دین پور شریف وبانی خانقاہ خلیفہ غلا م محمد د ین پو ری

حضرت مدنی  اور علی میاں کی تحریرات کے آئینے میں

ضبط وترتیب: سعیدالرحمن درخواستی

حضر ت حا فظ محمد صد یق صا حب نو ر اللہ مر قد ہ کے دو خلفاء بہت امتیا زی شا ن کے ما لک ہو ئے ، خلیفہ اول حضرت مو لا نا غلا م محمد صا حب د ین پو ری تھے ۔ دو سرے خلیفہ حضرت مو لا نا تا ج محمد ا مرو ٹی (رحمة اللہ تعا لیٰ علیھما ور ضی عنھما وار ضا ھما )

دین پو ر علا قہ خا ن پو ر میں ایک مو ضع ہے جسے خلیفہ صا حب ہی نے آ با د کیا تھا ۔ آپ اصلاً ضلع جھنگ پنجا ب کے رہنے والے تھے ۔ایک انداز ہ کے مطا بق آپ کا سن ولا دت ١٢٥١ھ بمطابق ١٨٣٥ء ہے ۔

 

تاریخ خانقاہ دین پور شریف وبانی خانقاہ خلیفہ غلا م محمد د ین پو ری

حضرت مدنی  اور علی میاں کی تحریرات کے آئینے میں

ضبط وترتیب: سعیدالرحمن درخواستی


حضر ت حا فظ محمد صد یق صا حب نو ر اللہ مر قد ہ کے دو خلفاء بہت امتیا زی شا ن کے ما لک ہو ئے ، خلیفہ اول حضرت مو لا نا غلا م محمد صا حب د ین پو ری تھے ۔ دو سرے خلیفہ حضرت مو لا نا تا ج محمد ا مرو ٹی (رحمة اللہ تعا لیٰ علیھما ور ضی عنھما وار ضا ھما )

دین پو ر علا قہ خا ن پو ر میں ایک مو ضع ہے جسے خلیفہ صا حب ہی نے آ با د کیا تھا ۔ آپ اصلاً ضلع جھنگ پنجا ب کے رہنے والے تھے ۔ایک انداز ہ کے مطا بق آپ کا سن ولا دت ١٢٥١ھ بمطابق ١٨٣٥ء ہے ۔

آپ کے وا لد محتر م سر دار حاجی نو ر محمد خان ایک فقیر منش اور فقیر دو ست انسان تھے ۔ خلیفہ صا حب کی عمر چھ، سات سا ل کی تھی کہ انہو ں نے اپنے اہل و عیا ل کے سا تھ حجا ز مقدس کے سفر کا ارادہ کیا اور گھر سے سب کو لے کر نکل پڑے ۔ریاست بہا ول پو ر کے علاقہ رحیم یا ر خان پہنچے تھے اور اپنے بعض دوستوں کے یہا ں ٹھہرے ہو ئے تھے کہ حق کا بلا وا گیا ۔ ان کے انتقا ل کے بعد آپکی بیو ہ نے یتیم بچو ں کے سا تھ و ہیں رہائش اختیا ر کر لی ۔ ابتدائی عمر میں دوران طالب علمی میں آپ نے حضرت سید العا فین کے ہا تھ پر بیعت کی ،درگارہ عالیہ بھر چو نڈی شر یف میں رہ کر بڑی ریاضتیں کیں اور تقر یباً چا لیس سا ل کی عمر میں خلا فت سے سر فر ازہوئے۔ مر شد نے حکم د یا کہ خا ن پو ر کے قر یب جنگل میں (مو جو دہ د ین پو ر شر یف کے مقام پر ) آبا د ہوں ، دین پو ر شر یف کے قیا م اور آپ کی صحر ا نشینی کو زیا دہ عر صہ نہیں ہو ا تھا کہ آپ کی کششں با طنی اور تو جہ رو حانی سے لوگ جو ق در جوق اللہ اللہ سیکھنے کے لئے جنگل میں آپ کے پا س آنے لگے۔ خلق خدا پر وا نہ وار شمع ہدایت کے گرد جمع ہونے لگی ،اور خدا کے بندوں کا اس صحرا نشین فقیر کے پاس تانتا بندھ گیا ۔ اس سر زمین سے رشد و ہدا ت اور تعلیم ومعر فت کے سوتے پھوٹ نکلے۔

دین پور شریف حضرت کے زمانہ میں باطنی و ظا ہر ی علو م کا بڑا مر کز ہو گیا تھا ، جہا ں شرعی تعلیم کے اہتما م کے سا تھ رو حا نی تعلیم و تر بیت ،تزکیہ نفس کی ایک عظیم الشا ن خا نقا ہ حضرت خلیفہ صا حب کی سر برا ہی میں قا ئم تھی ۔ ( بیس مر دان حق )

شیخ ا لہند حضرت مو لا نا محمود حسن صا حب نو ر اللہ مرقدہ نے انگر یزں کے خلاف جہا د کا جو منصو بہ تیا ر کیا تھا جسے” تحریک ریشمی روما ل’کے عنوا ن سے شہرت حا صل ہو ئی اللہ کو منظور نہ تھا ورنہ یہ تحر یک حضرت سید احمد شہید علیہ الر حمتہ کی تحریک جہاد کا نقش ثانی تھی ۔ خلیفہ صا حب اس کے خا ص ر کن تھے ۔ شیخ ا لا سلا م حضر ت مو لا نا سید حسین احمد صا حب مد نی علیہ ا لر حمتہ تحر یر فر ما تے ہیں کہ :

”د ین پو ر شر یف بھی اس تحر یک آ ز اد ی کا مر کزثا نو ی تھا جس کے صد ر خو د مو لا نا ا بو سر ا ج صا حب مو صو ف تھے ……..ر یشمی خط آ پ کے پا س بھی پہنچا تھا ۔ ا نقلا ب کی تیا ر ی کے جملہ سا ما ن یہاں جمع کر دے گئے تھے او ر مز ید کو شش جا ر ی تھیں کہ فو ج کی بڑ ی مقد ا ر خا ن پو ر ا سٹیشن کو پہنچی وہاں مخلصین نے فو ر ا یہا ں مر کز میں خبر کر د ی ، ر ا توں ر ا ت تما م سا ما ن ر ائفلیں، کا رتو س و غیر ہ منتشر کر د یا گیا صبح کو جب ا فسر ا نگر یز مع فو ج د ین پو ر پہچا اور تفتیش کی تو کو ئی چیز مو جو د نہ تھی ر یشمی خط کو بھی تلا ش کیا و ہ ایک ڈ بہ میں بچو ں کے کھلو نو ںکے نیچے ر کھا ہو ا تھا ۔ ا نگر یز ا فسر نے اس ڈ بہ کو ا ٹھا یا مگر کھلو نو ں کو د یکھ کو ر کھ د یا ۔ غر ض کہ کو ئی چیز جس کی مخبر و ں نے خبر د ی تھی اور کو ئی مشتبہ چیز پا ئی نہیں گئی ۔فوج آ نے کی خبر ا طر ا ف و جو ا نب میں پھیل گئی تو ہز ا ر وں آ د می جمع ہو گئے اس لئے د ین پو ر میں گرفتا ر نہ کر سکے ۔ ا فسر نے ا ستد عا کی کہ چو نکہ ہما ر ا ا فسر خا ن پو ر ر ہ گیا ہے اس لئے آ پ خا ن پو ر چلئے اور اس سے گفتگو کر لیجئے و ہا ں جا نے پر کہا کہ یہا ں معلو م ہو ا کہ و ہ بہا و ل پو ر چلا گیا ہے اس لئے بہا و ل پو ر تشر یف لے چلئے، پھر و ہا ں سے پنجا ب لے گئے اور غا لبًا جا لند ھر میں نظر بند کر د یا ۔ کچھ عر صہ بعد ثبو ت نہ ہونے ا و ر عو ا م کے ا شتعا ل کی بنا پر چھو ڑ د یئے گئے ۔

(نقش حیا ت ‘ص ۔١٩٥’ ج ۔٢)

حضرت مو لا نا سید ا بو ا لحسن علی ند و ی بھی ان کی خد مت میں ١٩٣١ء یا ١٩٣٢ء میں حا ضر ہو ئے اس و قت مو لا نا موصو ف حضر ت مو لا نا ا حمد علی لا ہو ر ی مفسر قر آ ن کی خد مت میں د ر س حا صل کر ر ہے تھے اور ان سے بیعت بھی ہو گئے ۔ اور مو لا نا لا ہو ر ی مر حو م خلیفہ صا حب کے مجا ز بیعت تھے ۔

حضرت مو لا نا سید ا بو ا لحسن علی ند و ی، علی میا ں لکھتے ہیں کہ :

”ا یسا منو ر چہر غا لبًا اس سے پہلے د یکھنے میں نہیں آ یا تھا نہا یت کم گو اور کم سخن بز ر گ تھے ، گفتگو بھی فر ما تے تو ٹھیٹھ ر یا ستی ز با ن میں جو ملتا نی اور سند ھی کا مجمو عہ ہے د ین پو ر کی د ینا ہی نر ا لی تھی وہ صحیح معنی میں دین پو ر تھا ۔قا د ر ی طر یقہ ” ذ کر جہر ” سے مسجد ، خا نقا ہ اور بستی ہر و قت گو نجتی ر ہتی ا گر کو ئی کسی کو آ و ا ز بھی د تیا تو پکا ر نے و الابھی الااللہ کہتا اور جو اب د ینے والا الااللہہی سے اس کا جو ا ب د تیااس طر ح ا ذ ا ن ، ذ کر جہر اور صد ا ئے الا اللہ کے سو ااور کو ئی بلند آ و ا زسننے میں نہیں آ تی ، یہ ایک چھو ٹا سا گا ؤ ں تھا صر ف حضر ت اور حضر ت کے متعلقین آ با د تھے ۔ نیم خا م ، نیم پختہ چند مکا نا ت ، جن کی تعد ا د شا ید پا نچ ، سا ت سے ز یا د ہ نہ ہو ایک سا دہ سی مسجد خا م حجر ے ،ذ ا کر ین کے لئے کچھ کھجو ر و ں کے د ر خت جن کو د یکھ عر ب کے با د یہ کی بستیا ں یا د آ تی ہیں، آب وہوا بھی بادیہ عرب سے ملتی جلتی تھی ،مقیمین خانقاہ کے لئے ایک لنگر خانہ تھا جس میں خالصتاً سندھی اور بھالپوری مذاق کا ایسا کھانا تیار ہوتاتھا جو قوت لا یموت کا صحیح مصداق تھا اور ہم جیسے نازک مزاج مہمانوں کے لئے اس کا کھانا بڑا مجاہدہ اور امتحان تھا۔ گرمی کی شدت تھی ،دن بھر لو چلتی اور رات کسی قدر ٹھنڈی ہوتی یہ تھا دین پو کا نقشہ ۔حضرت خلیفہ صاحب کی عمر اسّی نوے سال سے متجاوز تھی، حضرت نے مجھے سلسلے میں داخل فرمایا اور ذکر قلبی کی تلقین کی۔

جس وقت و ہا ں سے ر خصت ہو نے لگا تو فر ما یا کہ ان کو اسلام کہہ د ینا میں نہیں سمجھا کہ ا شار ہ کس کی طر ف ہے؟ ،،،،،،صا حبزادہ میا ںعبد الہا د ی صا حب پا س سے گز ر رہے تھے ا نہو ں نے تشر یح فر ما ئی کہ مو لا نا ا شر ف علی صا حب تھا نو ی کو ! مو لا نا کا نا م سنتے ہی خلیفہ صا حب پر ر قت طا ر ی ہو گئی اس سے اس تعلق کا اند ا ز ہ ہو تا ہے جو ا ن د و نو ں بز ر گو ں کے د رمیا ن تھا مجھے معلو م ہو ا کہ مو لا نا تھانو ی ایک مر تبہ کر ا چی سے آ تے ہو ئے خلیفہ صا حب کی ز یا ت اور ملا قا ت کو آ ئے اور د ین پو ر ٹھہر ے تھے ۔ (پر ا نے چرا غ ‘ص ۔١٤٧٩’ج۔١)

حضر ت مو لا نا ا بو ا لحسن علی صا حب ند و ی نے مز ید لکھا ہے کہ حضر ت خلیفہ غلا م محمدصا حب پر جما ل کا غلبہ تھا، بڑے سکینت اور تمکین کے ما لک تھے ، چہر ہ مبا ر ک گلا ب کی طر ح سر خ اور آ فتاب کی طر ح پر ا نو ا ر معلو م ہو تا تھا ۔ نہا یت صا حب و جا ہت اور صا حب جما ل تھے ۔ پنجا ب و سند ھ کے تما م مشا ئخ ان کے علو م ،مر تبہ قو ت نسبت ا و ر ان کی بز ر گی کے قا ئل تھے ۔ ۔۔۔(پر ا نے چر ا غ ص١٤٨۔ج١)

ا پنی عمر طبعی کے آ خر ی دو بر سو ں میں حضر ت خلیفہ صا حب پر ا ستغر ا قی کیفیت طا ر ی ر ہنے لگی تھی بہت کم گفتگو فر ما تے تھے اور ہر و قت خا مو ش بیٹھے یا د ا لہیٰ میں محو و بے خو د ر ہتے تھے ، نشست و بر خا ست خد ا م کر ا تے تھے ، غذ ا بھی تقر یبا ً بر ا ئے نا م ر ہ گئی تھی ۔

حضرت اس ا ستغر ا قی حا لت میں بھی ا تبا ع شر یعت و سنت خیر الا نا م صلی اللہ علیہ و سلم کی بے حد پا بند ی اور ہتما م فر ما تے تھے ہر نما ز مسجد میں با جما عت پڑ ھی اور با قا عد ہ قر آ ن مجید کی منز ل سما عت فر ما تے ر ہے ۔ جب کمز و ر ی اور نقا ہت حد سے بڑ ھ گئی تو بھی دو آ د میوں کے سہا ر ے لڑ کھڑ ا تے قد موں سے مسجد میں تشر یف لے جا تے ، و فا ت کے روز آ پ پر شد ت تکلیف کے با عث غشی کے دو ر ے پڑ تے تھے مگر ہو ش میں آ تے ہی اپنے خا د م میا ں ر حیم بخش مر حو م کی ا قتد ا ء میں نما ز ادا فر ما تے ، غر ض ہر نما ز با جما عت ادا فر ما ئی ۔ آ خر ظا ہر ی اور با طنی خو بیو ں اور کما لا ت کا پیکر ، بہتر ین صفا ت و حسنا ت کا مجمو عہ ، شر یعت و طر یقت کا شہ سو ار ، ر شد ہدا یت کا یہ آ فتا ب عا لم تا ب تقر یبا ً ایک سو سال سے ا وپر کی عمر میں پہنچ

کر ٣٠ذو ا لحجہ١٣٥٤ھ مطا بق٢٤ما رچ ١٩٣٦ ء سا ڑ ھے با ر ہ بجے منگل کی شب میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غر وب ہو گیا ۔ ا نا اللہ و انا لیہ ر ا جعو ن (بیس مر ا د ن حق ‘ج۔١)

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.