hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

بقیةالسّلف

خطیب ا سلام مولانا محمد اجمل خان

سرپرست اعلیِ: جمعیت علماء اسلام پاکستان

بلاشبہ اسلام کے ہردور میں علم وتحقیق کے آفتاب وماہتاب چمکتے رہے اوراسلام کی ذرخیز زمیں میں ایسی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں ،علوم ومعارف کے گلستانوں مین کیسے کیسے پھول کھلے جن سے آج تک مشام عالم معطر ہے اور رہے گا۔ملّت محمدیہ کے ابر نیساں نے برس کر کیسے کیسے لعل و گوہرپیدا کیے اور امت مسلمہ میں کیسی کیسی باکمال شخصیات ظہور میں آئیں۔

 

بقیةالسّلف

خطیب ا سلام مولانا محمد اجمل خان

سرپرست اعلیِ: جمعیت علماء اسلام پاکستان

بلاشبہ اسلام کے ہردور میں علم وتحقیق کے آفتاب وماہتاب چمکتے رہے اوراسلام کی ذرخیز زمیں میں ایسی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں ،علوم ومعارف کے گلستانوں مین کیسے کیسے پھول کھلے جن سے آج تک مشام عالم معطر ہے اور رہے گا۔ملّت محمدیہ کے ابر نیساں نے برس کر کیسے کیسے لعل و گوہرپیدا کیے اور امت مسلمہ میں کیسی کیسی باکمال شخصیات ظہور میں آئیں۔

محققین و متکلمین میں کیسے کیسے بابرکت افرادنے دنیائے علم و تحقیق کے میدان کو روشن کیا ،ایک طرف اگرامام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک،امام شافعی،امام احمد بن حنبل،حضرت سفیان ثوری رحمہم اللہ نظر آتے ہیں ، تودوسری طرف امام بخاری ،امام مسلم ،اسحاق بن راہویہ ،امام ابو دائود رحمہم اللہ نگاہ عالم کو خیرہ کیے ہوئے ہیں۔

اس امت میں طحاوی ، ابن جریر،ابن المنذر، جصاص رحمہم اللہ تعالی جیسی باکمال ہستیاں فقہ و حدیث میں داد تحقیق پاتے ہیں۔ایسے ہزاروں اہل کمال سے امت محمدیہ کا دامن بھرا ہوا ہے،دور نہیں جاتے ہندوستان کی سر زمیں شاہ ولی اللہ ،شاہ عبد العزیز ،شاہ اسماعیل شہید بحر العلوم جیسے جامع کمالات اور علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر پیدا کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

اس آخری دور میں دہلی ،دیوبند ، سہارنپور ،گنگوہ، نانوتہ، تھانہ بھون میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ،حضرت مولانا امداد اللہ مہاجر مکی،حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ،حضرت مولانا حسین احمد مدنی ،حضرت مولانا عبید اللہ سندھی،حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ،حضرت مولانا احمد علی لاہوری ،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ،حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی،حضرت مولانا عزیز الرحمن ،قاری محمد طیب ،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ،مولانا محمد ادریس کاندھلوی ،مولانا بدر عالم،مولانا سید یوسف بنوری رحمہم اللہ جیسی شخصیات ظہور میں آئیں ، جس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی،جن کے اخلاص و تقوی اور علوم ِ نبوت میں کمال دیکھ کر قرونِ اولی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمةاللہ علیہ اس دور کے ان علماء راسخین میں سے تھے جن کی دقّت ِنظر ،وسعتِ تحقیق ،حسنِ ذوق کا بہت کم کسی کو علم ہو گا،وہ حیاء کے پیکر تھے،ان کا سرخ و سفیدنورانی چہرہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے لعل بدخشاں چمک رہا ہے،ربیع الاوّل کے مبارک مہینہ میں ہم سب کے شفیق بزرگ سچے عاشق رسول ۖ شیخ الاسلام والمسلمین حافط الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نوراللہ مرقدہ اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے ۔

انّا للہ و انّا الیہ راجعون

آپکی وفات سے وہ تاریخ ساز شخصیت ہم سے جدا ہو گئی کہ آئندہ صدیوں تک ایسی شخصیت کا ملنا محال نظر آتا ہے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ پیدا

حضرت درخواستی نے اپنی ساری زندگی اللہ کے قرآن اور نبی آخرالزمان ۖ کے ارشادات کو پھیلانے میں بسر کردی ، آپ ہر سال قرآن مجید کی تفسیر رمضان المبارک میں پڑھاتے تھے،جس میں تقریبا ٥٠ ہزار سے زائد علماء و فضلاء نے شرکت کیا اور آپ سے دورہ تفسیر مکمل کیا۔آپ علم کا ایسا سمندر تھے جسکی موجیں باہر بھی جا ٹکرائیں ، آپ کے تلامذہ نہ صرف پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں بلکہ بنگلہ دیش ،ہندوستان،افغانستان،ایران،سعودی عرب ،مصر،جنوبی افریقہ،برطانیہ تک آپ کی جلائی ہوئی شمعیں روشن ہیں۔

آپ کے ساتھ راقم الحروف کو طویل عرصہ تک رفاقت کا شرف حاصل رہا ،آپ کے ساتھ بنگلہ دیش میں کئی مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا،آپ کی تقاریر سننے کیلئے بنگلہ دیش میںلاکھوں کا اجتماع ہوا کرتا تھا۔آپ نے حرمین شریفین میں احادیث کا ذخیرہ سنا کر اہل عرب کو ورطہ حیر ت میں ڈال دیاکہ ایک عجمی عالم دین احادیث کاذخیرہ ازبر سنا رہا ہے۔

حضرت درخواستی کو اکابرین میں سے حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن،شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ،حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد،حضرت مولانا میا ں عبد الہادی دین پوری اور ولی کامل حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہم للہ علیہم جیسے امت کے عظیم سپوتوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔

حضرت درخواستی حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے بعد ١٩٦٢ء سے جمعیة علماء اسلام پاکستان کے ١٩٩٤ء تک امیر رہے،١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔١٩٧٧ء میں چلنے والی تحریک نظام مصطفی کی تحریک میں حضرت درخواستی نے ملک کے چپے چپے کا دورہ کیا۔

آپ پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے ،جن سے آپ کے ماتھے ،ناک،کان پر چوٹیں آئیں لیکن حضرت درخواستی کو راہِ حق سے ہٹانے والوں کے عزائم خاک میں مل گئے اور حضرت درخواستی نے مسلسل اپنا سفر جاری رکھا ۔آپ زندہ دماغ ،حساس دل،مفکر مزاج،دردمند طبعیت،جفاکش،بے لوث خادم،نڈر عالم اور بیباک بزرگ تھے،آپ اپنی ذات میںایک ادارہ ،ایک انجمن ،ایک زندہ تحریک تھے،حضرت ١٠٣ سال میں ہمین چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔۔۔۔۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.