hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

د ورہ تفسیر اور حضرت د رخواستی کی شخصیت

د ورہ تفسیر اور حضرت د رخواستی کی شخصیت

حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر

مہتمم : جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

میں اپنی زندگی میں جن حضرات کی روحانیت ،زندگی،اور تقوی سے متأثر ہوا ان میں سے ایک شخصیت” حافظ الحدیث شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمةاللہ علیہ ”تھے۔

میں ١٩٥٣ء میں دارالعلوم کراچی نانک واڑہ میں درجہ خامسہ پڑھ رہا تھا،جب سالانہ چھٹیاں قریب آنے لگیں تو پتہ چلا کہ تعطیلات میں پاکستان کہ بعض مدارس میں دورئہ تفسیر ہوتا ہے،ان ہی مدارس میں جامعہ عربیہ مخزن العلوم والفیوض خانپور کا نام بھی آیا،جہاں حضرت درخواستی رحمةاللہ علیہ خود دورہ تفسیر پڑھاتے تھے۔

 

د ورہ تفسیر اور حضرت د رخواستی کی شخصیت

حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر

مہتمم : جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

میں اپنی زندگی میں جن حضرات کی روحانیت ،زندگی،اور تقوی سے متأثر ہوا ان میں سے ایک شخصیت” حافظ الحدیث شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمةاللہ علیہ ”تھے۔

میں ١٩٥٣ء میں دارالعلوم کراچی نانک واڑہ میں درجہ خامسہ پڑھ رہا تھا،جب سالانہ چھٹیاں قریب آنے لگیں تو پتہ چلا کہ تعطیلات میں پاکستان کہ بعض مدارس میں دورئہ تفسیر ہوتا ہے،ان ہی مدارس میں جامعہ عربیہ مخزن العلوم والفیوض خانپور کا نام بھی آیا،جہاں حضرت درخواستی رحمةاللہ علیہ خود دورہ تفسیر پڑھاتے تھے۔

میں نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ یہ طے کر لیاکہ چھٹیوں میں ہم حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے ہاں جائیں گے،گرمی کے دن تھے،لُو چل رہی تھی،ہم خانپور پہنچے اور دورئہ تفسیرمیں شریک ہو گئے،اسی دوران رمضان المبارک بھی آگیا، صبح سے ظہر تک ، ظہر کے بعد بھی غالبا کچھ وقت درس جاری رہتا ،حضرت رحمة اللہ علیہ آیات کا تر جمہ ،آیات اور سورتوں کے مضامین کا خلاصہ ،اور آپس کے ربط کو خوب اچھے انداز میں اس طرح بیان فر ماتے کہ کمزور سے کمزور طالبعلم کی سمجھ میں بھی آ جاتا اور قرآن کریم کے مضامین کا اجمالی نقشہ طالب علم کے ذہن میں نقش ہو جاتا۔

اس دورئہ تفسیر میں شرکت سے یہ غلط فہمی بھی دور ہوئی جس کے بارے میں بعض لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ ڈیڑھ ،دو ماہ میں کیسی تفسیر پڑھائی جاتی ہو گی ؟ ہم نے دیکھا کہ مدارس میں سال بھر میں قرآن کریم کے ترجمہ اور تفسیر کو جتنے گھنٹے دیئے جاتے ہیں ،دورئہ تفسیر کے گھنٹے اس سے کم نہیں ہوتے تھے۔دورئہ تفسیر کے درمیان حضرت درخواستی رحمةاللہ علیہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ،حضرت ایک با رعب اور روحانی شخصیت جو طلبہ کو علمی افادہ کے ساتھ ساتھ روحانی فائدہ بھی پہنچا رہے ہیں اور دل میں ان سے محبت اور عقیدت روز بروز بڑھ رہی ہے۔یہی وجہ تھی کہ دورئہ تفسیر ختم ہونے کے بعد جب طلبہ حضرت رحمةاللہ علیہ سے رخصت ہو رہے تھے تودھاڑیں مارتے ہوئے رو رہے تھے۔

حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی سادگی کا یہ حال تھا کہ ایام درس کے دوران حضرت کو بخار آگیا،ہم طلبہ تیمار داری کیلئے حاضر ہوئے تو دیکھا کہ ایک کمرہ میں رسیوں کی چارپائی پر حضرت رحمةاللہ علیہ آرام فرما رہے ہیں،کمرہ میں ایک چٹائی پڑی ہے،نہ کوئی دوسری چارپائی اور نہ ہی کوئی کرسی تھی۔

نبی کریم ﷺ کے شمائل میں آتا ہے کہ جب آپ چلتے تو جیسے اونچائی سے نیچے کی طرف جا رہے ہیں اور آپﷺ اپنی طبعی رفتار سے چلتے،لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بڑی مشقت سے آپ کو پہنچتے،اس کا پَر تو میں نے حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی چال میں دیکھا ۔سبق ختم ہونے کے بعدجب آپ گھر تشریف لے جاتے یا کسی اور مناسبت سے آپ کے ساتھ چلنے کا موقع ملتا ،توحضرت تو اپنی طبعی رفتار چلتے اور ہمیں ساتھ ساتھ بھاگنا پڑتا ۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمةاللہ علیہ نبی کریم ۖ کے دین کے وارث اور عالم ربّانی تھے،اِس لئے ایک طرف تواس دین کی حفاظت کیلئے جامعہ عربیہ مخزن العلوم و الفیوض خانپور قائم کیا اور تعلیم وتربیت کے ذریعہ علماء پیدا کئے اور ساتھ ساتھ عوام الناس کی اصلاح اور ان کے ایمان کی حفاظت کیلئے دور دراز کے سفر فرماتے اور اپنے علمی اور روحانی خطابات سے ان کی اصلاح فرماتے ۔

ا فسوس کہ مجھے حضرت رحمةاللہ علیہ کے ساتھ رہنے اور خدمت کا موقع نہیں ملا ،اس لئے ان ہی مشاہدات اور تأثرات پر اکتفا کرتا ہوں ۔اللہ تعالی مجھے اور تمام علماء کرام کو حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی اِن صفات میں اقتداء کی توفیق عطافرمائے۔آمین

فرحمہ اللہ تعالی رحمة واسعة

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.