hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

فرامین

 

 

 

ملکی حالات پر تبصرہ

ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اس خطاب میں کہا کہ

دینی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے رمضان المبارک کی بے حرمتی ہورہی ہے ،

ناچ گاناعام ہے، فلمیں بن رہی ہیں ، سینما آباد ہیں اور لوگوں کو بے حیا بنا یا جارہا ہے۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث کا انکار ہو رہا ہے ،

نبی ۖ کے یاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تو ہین ہوتی ہے

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی بے احترامی کی جاتی ہے ،

لیکن اسکا کوئی نوٹس نہیں لیتا ،اس زندگی سے موت بہتر ہے

اور اس حالت میں جینے میں کوئی مزہ نہیں ہے”۔

اللہ کے نام میں مزا

مزاتو اللہ کانام لینے میں ہے ،سب درد دل سے کہو”اللہ، اللہ” کیسا میٹھانام ہے اللہ کا”۔

دہشت

کنزالعمال میں روایت ہے کہ

جب جمعہ کادن ہوتا ہے تو سب چیزیں دہشت میں ہوتی ہیں مگر انسان وجن دہشت میں نہیں ہوتے”۔

میرا عقیدہ

میرا عقیدہ ہے کہ بادشاہوں کے تاج وتخت ایک طرف

اور مدینہ منورہ کے کتوں کے پائوں کی غبا ر ایک طرف”۔

صرف اسلام

ہم ملک میں محمدی قانون چاہتے ہیں ،یہاں پرنہ امریکی ازم کو چلنے دیا جائیگا

اور نہ ہی روسی اورچینی نظام کو برداشت کیاجائے گا”۔

دامنِ مصطفی

ملک میں کتاب وسنت کا قانون نافذکیا جائے اور اپنا تعلق

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح معنوں میں جوڑ لیا جائے”۔

یہ ناقدری ہے

یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، جسکی ہمیں قدر کرنی چاہئے تھی اور خدائے بلند وبرتر کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا

لیکن ہم شکر نعمت کی بجائے کفران ِنعمت کر رہے ہیں ”۔

غیر اسلامی نظام کی وجہ سے ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوا

ملک میں اسلامی نظام نافذنہ ہونے کی وجہ سے علاقائی اور لسانی تعصبات کو سراٹھا نے کا موقعہ ملا ،

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کا بڑاصوبہ ہم سے جداہوگیا”۔

خالص نظام

ہم اس ملک پاکستان میں قرآن وسنت پر مبنی خالص اسلامی نظام کے خواہاں ہیں ”۔

فرنگی نظام پست ہوگا

ایک وقت آئے گا کہ باطل خود ٹکڑے ٹکڑے ہوگا، تمام فرنگیوں کے نظام پست ہونگیں،

اللہ تعالیٰ ”محمدی نظام ”کو یقینا بلند کرے گا”۔

طوفان کامقابلہ

جو اللہ کاہو جاتا ہے اس کو کسی ظالم کا ڈر نہیں رہتا،

مسلمان طوفانوں کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کرتا ہے”۔

اللہ کی عظمت

دل میں یقین ہو کہ ہمارا رب عیب سے پاک ہے ،

اس کی نظیر نہیں لم یزل ولا یزال ہے ”۔

دین ادب کا نام ہے

دین ادب کانام ہے ،ادب کے ساتھ بیٹھوگے تو دامن بھر کے جائو گے ،

بے ادبی کے ساتھ بیٹھو گے تو دامن خالی لے کے جائو گے”۔

ملک کلمہ کی بر کت سے ملا ہے

پاکستان ملاتو ”لااِلٰہ الا اللہ محمدرسو ل اللہ ” کے ساتھ ،

اب محفوظ رہے گا تو ”لااِلٰہ الا اللہ محمدرسو ل اللہ ” کے ساتھ”۔

صحابہ کرام کی اتباع

حضرت درخواستی قدس سرہ نے فرمایا کہ

ہمیں کسی صحا بی پر تنقید کا حق نہیں ہے ،کسی صحابی کی تنقیص کا حق نہیں ۔

ہمیں ان کی اتباع کا حکم ہے ، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین معیار حق ہیں”۔

تباہی کاسبب

تباہی کا سبب یہ ہے کہ ہم نے محبوب ۖ کا ساتھ چھوڑکر غیرو ںکاساتھ دیا”۔

رب کو منا لو

اب بھی وقت ہے ،رب کو منانا ہے تو منا لو،

در فیض محمدی ۖ وا ہے ،آئے جس کاجی چاہے ،

جونہ آئے آتش دوزخ میں جائے جس کاجی چاہے”۔

دین کی حقیقت

دین حقیقت میں اطاعت خداوندی اوراطاعت رسول ۖ کا نام ہے”۔

آمد کامقصد

انسان کا مقصد اپنے رب کی پہچان اور بندگی ہے”۔

تمام دکھوں کاعلاج

یاد رکھیں !

ا طمینا ن قلب کے لئے اللہ تعالیٰ کاذکر تمام دکھوں کا علاج حضور ۖ پر کامل ایمان

اور آپ کی سچی اطاعت اور محبت ہے”۔

دینی علوم

یاد رکھیں !

قرآن وحدیث اور دینی علوم پڑھنے پڑھانے کے لئے علماء کرام کی معیت اور صحبت ضروری ہے ”۔

اصلی سکون

عصر حاضر کے بھٹکے ہوئے اور سکون کے متلاشی انسان کو اپنی مشکلات کا حل

حضور ۖ کی حیات طیبہ میں ہی مل سکتا ہے” ۔

صدق دل

اگر صدق دل سے طلب ہو تو ملنے کی امید یقینی ہے۔

اللہ سے مانگو

فرمایا کہ دعوة الحق اس کو پکارنا ، سچ ہے ،سچائی سے مانگنے والوں کے حال سنئے۔حدیث شریف میں یہاں تک آیا ہے کہ”اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے وہ بھی اللہ سے مانگو”۔

اللہ روٹھ گیا

حضور ۖ کی اطاعت اللہ کیاطاعت ہے ،حضور کی اطاعت ہم نے چھوڑ دی ،جو حکم خداوندی تھا۔ خداہم سے روٹھ گیا۔

شرک سے دوری

عبادت کے اندر کسی کو اللہ کا شریک نہ کرو بلکہ صدقہ وخیرات نذرو نیازبھی اسی ذات بے نیاز کے لائق ہے ۔لہٰذا عبادت مرکب جسم وجاں اور عبادت مالیہ خالصتا للہ ہوئی۔

رزق بند نہ کرنا

اللہ تعالیٰ ہی پرستش کے لائق ہے ،وہ رحمٰن اور رحیم ہے ، قصور ہو جائے تو رزق کادروازہ بند نہیں ہوتا۔

سو رة الکوثر کے تین حصے

یہ سورة تین حصوں پر منقسم ہے :

پہلا فضائل خاتم النبیین ۖ کا بیان

دوسرا فرائض خاتم النبیین ۖ کا بیان

تیسرا اصول ہزیمت دشمن اسلام کا بیان

خوش قسمت

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کامال مساجد ، دینی مدارس اور قرآن وسنت کی اشاعت میں خرچ ہو رہا ہے ۔

زادِ راہ

حج کے لئے نیاز مندی ، عجزااور ادب سب سے بڑازادراہ ہے۔

امیر غریب میں فرق

امیر وغریب کے مابین اتنا وسیع خلاپیدا ہو چکا ہے کہ جسے نظام معیشت میں انقلابی تبدیلیاں کر نے ہی سے پر کیا جاسکتا ہے۔

یتیم کی خدمت کاصلہ

یتموں کو دکھ نہ دیا کرویہ تم سب کے لئے امانے ہیں ،قیامت کے دن یتیموں کی پر ورش کر نے والوں کو حضور ۖ کی رفاقت نصیب ہو گی۔

قیامت کی شرمندگی

کوشش کرو سستی کے ساتھ زندگی مت گزاروجو شخص سستی کی زندگی گزارے گا ،قیامت کے دن بغیر شرمندگی کے کچھ نہ پائے گا ۔

علماء کا پاکستان

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نے فرما یا:

تا جر کا پاکستان بن چکا ہے کیو نکہ اسے اپنی تجارت میں کامیابی نصیب ہوئی تو اس کا مقصد پورا ہوگیا ،کیو نکہ اسے اپنی زمینداری میں کامیابی نظر آئی ، صنعت کا ر کا پاکستان بن چکا ہے اسے ملک میں کار خانوں اور فیکٹریوں کا مالک بنا دیا گیا ہے۔لیکن کہ افسو س کہ علماء اور مشائخ کاپاکستان نہیں بنا کیونکہ جو ان کا مقصد تھا وہ ابھی تک حاصل نہیں ہوا ”۔

دین کا کام کرو

اللہ رتعالیٰ اسی وقت راضی ہو سکتا ہے ، کہ جب تم اسکے دین لے لئے کام کروگے۔

تحریک ختم نبوت

ختم نبوت کی تحریک قیامت تک اسی طرح جاری رہے گی۔

عر بی زبان

میری تمنا ہے کہ اس ملک کے اندر سر کاری زبان عربی ہو۔

بخاری شریف میں جمال وجلال

بخاری شریف جلالی بھی ہے اور جمالی کتاب بھی ہے ،اس کی ابتداء جلال سے ہو تی ہے اور انتہا جمال پر ہوتی ہے ۔

غیر مسلم، مسلمان کا خیر خواہ ہونا

یہ یہودی اور نصرانی نہ کبھی خیر خواہ بنے ہیں ،اور نہ بنے سکتے ہیں ۔خد اہمیں ان کے فریب سے بچائے۔ آمین

روضئہ اقدس پر حضرت دراخواستی کا استخارہ

میں نے حضور کے روضئہ اقدس کے سامنے بیٹھ کر استخارہ کیا ہے جس میں حضور ۖ نے تین باتوںکے بارے میں تنبیہ فرمائی ہے اور مسلمان کوان کے مقابلے کے لئے تیار کرنے کا ارشاد فرمایاہے۔ ان تین باتوں میںفرمایا گیا : آنے والے دور میں گمراہ قسم کے لوگوں کا دور دورہ ہوگا،غنڈہ ازم کی ترویج ہو گی ، جعلی پیروں کا تسلط ہوگا ،البتہ اس زمانے میں نوجوان نسل دین کے لئے کام کرے گی اورختم نبوت کی حفاظت کے لئے جانیں دیں گے۔

نفاذ اسلام

حضرت درخواستی نے فرمایا کہ حکومتی تر جیحات میں نفاذ اسلام کو نمائشی اولیت دینے کی بجائے اسے عملا ً تمام امور پر فوقیت دی جائے اور اس تقاضوں سے ٹکرانے والی ہر مصلحت کو رد کر دیا جائے ۔نفاذ اسلام کو صرف حدودیا چند دیگر اقدامات تک محدود رکھنے کی بجائے ملک کے معاشی ڈھانچے کو سر مایہ درانہ، جاگیردارانہ نطام چنگل سے نجات دلا کر خلافت راشدہ کے سنہری اصولوں کی روشنی میں ازسر نو مرتب ومنظم کیا جائے اور معاشی تفاوت کو کم سے کم کرنے کی پالیسی اختیار کرکے خلافت راشد ہ کی طرز کے غیر طبقاتی معاشرہ کی تشکیل وقیام کو معاشی پالیسیوںکی منزل مقصود ٹھہرایا جائے۔

قرآن مجید کی شان

قرآن مجید شان والی کتاب ہے ،جس نبی پر یہ کتاب اتاری گئی وہ بھی شان والے، اس کو دیکھ نے والے بھی شان والے ،اس کے پڑھنے والے بھی شان والے،جن کے سینوں میں قرآن ہے وہ بھی شان والے۔

چراغ

قرآن وحدیث ایسے چراغ ہیں کہ ان کی روشنی نہ رات میں ختم ہوتی ہے اور نہ دن میں ختم ہو تی ہے ،جو اس روشنی کے قریب ہو گیا،اس کے دل کی روشنی کبھی ختم نہیں بجھے گی۔ قیامت کے دن بھی یہ روشنی اس کے ساتھ ہو گی ،قیا مت کے دن پہچاننے والے کہیں گے یہی ہے فدایان محمد مصطفی ۖ جن کے ساتھ محمد مصطفیۖ کی روشنی موجود ہے۔

شیدائی یا حلوائی

حافظ الحدیث حضرت درخواستی نے فرمایا :

اگر تم نے آج اس زندگی میں دین کی حفاظت اور اسلامی نظام کے لئے کو شش نہیں کی تو کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور حضور ۖ کو کیا منہ دکھائو گے؟

رحمت کا دریا موج میں ہے ،قسمت والے شیدائی بن رہے ہیں ،بد قسمت حلوائی بن رہے ہیں ،میں آپ سے پوچھتاہوں کہ شیدائی بنو گے یا حلوائی؟ حاضرین جلسہ نے یک آواز ہو کر کہا ”شیدائی بنے گے”۔پور ے میدان میں ہاتھ ہی ہاتھ تھے۔

اللہ تعالیٰ کی شان

اللہ تعالیٰ دینے پر آئے تو غریبوں کو دے دے ،لینے پر آئے تو امیروں سے لے لے ۔

قدرت کا نظام

اللہ تعالیٰ دینے پر آئے تو وہ بے دینوں کو دین دار بنادے اور لینے پر آئے تو دین داوں کو بے دین بنا دے۔

دینی مدارس

سبحان اللہ! یہ دینی مدارس درحقیقت قرآن وحدیث کی حفاظت کی تدبیریں ہیں ۔

تین شرائط

١٩٧١ء میں شنکیاری میں حضرت درخواستی نے ایک ہزار کے اجتماع کو بیعت کرتے ہوئے فرمایا :

١….. جب تک زندہ ہیں کسی کے آگے سر نہیں جھکا ئیں گے ۔

٢….. جب تک زند گی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے رہیں گے ۔

٣….. جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے ادبی کرے گا ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔

حضورکا علم

رسالت مآب ۖکو کا ئنا ت میں سب سے زیادہ علم دیا گیا ،دنیا میں بھی آپ ۖ کو علم ملتا رہا ہے، قیامت کے دن بھی آپۖ کو علم ملے گا ،نہ خدا کا دینا ختم ہو گااور نہ رسول ۖ کا لینا ختم ہوگا۔

رب کو راضی کرنے والا ورد

شیخ الاسلام حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نے ارشاد فرمایا:

بوڑھے …. استغفار اور درود شریف کا

اور نوجوان …. حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الوَکِیْلُ کا

اور بچے…. نَصْرُ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْح قَرِیْب کاورد کیا کریں ۔

کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ناز

کسی کو قومی اسمبلی کی ممبری پر ناز ہے ،کسی کو صوبائی اسمبلی پر ناز ہے ،کسی کو درہم اور دینا ر پر ناز ہے ،کسی کو جاگیر اور محلات پر ناز ہے ،علماء دیوبند اور جمعیت علماء اسلام کو خدا اور اس کی کتاب اور حدیث رسول ۖ پر ناز ہے۔

بزرگوں کی برکت

شیخ الاسلام حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ ہم بزر گوں کو نہیں مانتے ۔میرا اور میرے بزرگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک اس دنیا میں بزرگ ہوں گے تو یہ دنیا بھی قائم رہے گی،جب دوستان خدا ختم ہو جائیں گے تو یہ دنیا بھی ختم ہو جائے گی۔

قرآنی باغ

لوگ دنیا میں باغوں کی سیر کرتے ہیں ،رنگ برنگی پھول نظر آتے ہیں ،مگر آواز آتی ہے یہ باغ بے وفا ، ان کے پھول بھی بے وفا، ان کی رنگت اور خوشبو بھی بے وفا، لیکن جو باغ اللہ نے تیس پارے قرآن مجید کا لگایا ہے ،یہ بھی شان والا، اس کے دیکھنے، پڑھنے ،سننے والے بھی شان والے۔ اس کے پھول ان کی رنگت اور خوشبو وفادار ہے، اپنے دل ودماغ کو اس کے پھولوں کی خوشبوسے معطر کرتے ہو!۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.