hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

توحید باری تعالٰی

(…توحید…)

مرتب: مولوی عثمان انیس درخواستی

اللہ کا نام لینا بہت بڑی چیز ہے …

تم میرا نام فرش پر لو میں تمہارا نام عرش پر لوں گا ۔ کہو اللہ

٭مالک کل بھی اللہ

٭رازق کل بھی اللہ

٭نگران کل بھی اللہ

٭اللہ نے تمہیں آنکھیں دیں ہیں تم دیکھتے نہیں تم کہو ہم دیکھ رہے ہیں

الم تروا

 

 

 

(…توحید…)

خطبہ

الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونومن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیاة اعمالینا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ولا نظیر لہ ولا ندلہ ولا کفولہ ولا مثل لہ ولا مثال لہ ولا مجالس لہ ولا معاندلہ ولا مقابل لہ شہادة تکون کفولہ ولا مثل لہ ولا مثال لہ ولا مجالس لہ ولا معاندلہ ولا مقابل لہ شھادة تکون للنجاة وسیلة ولعلو الدرجات کفیلة

ونشھد ان سیدنا وسندنا ومولا نا وحبیبنا وشفیعنا وطبیب قلوبنا محمد اً عبدہ ورسولہ ارسل اللہ تعالیٰ بین یدی الساعة مبشرا ونذیرا وداعیاً الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا ۖ وعلیٰ الہ و اصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیرا ۔

الحمد للہ الذی بحلا لہ احی الا نام ودین محمد ، والصلوة والصلام علیٰ خیر الانام وسید حبیب الہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیرا ۔

الحمد للہ الذی بجلالہ احی الانام ودین محمد ، والصلوة والسلام علیٰ خیر الانام وسید حبیب الہ العالمین محمد ، بشیر نذیر ھاشمی مکرم عطوف رئوف من یسمی باحمد اللھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علیٰ ابراھیم واعلیٰ ال ابراھیم انک حمید مجید الھم بارک اعلیٰ محمد واعلی ال محمد کما بارکت علیٰ ابراھیم وعلیٰ اٰل ابراھیم انک حمید مجید ۔

اما بعد فا عوذ باللہ من الشیطن الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، مسجدی ھٰذا اٰخر مساجد الانبیاء وانا اٰخر الانبیاء لا نبی بعدی وانتم اٰخر الامم لا امة بعد کم ۔

قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، العلماء ورثة الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا درھما ولا دینارا انما ورثوا العلم فمن اخذہ فقد اخذ بحظ وافر ۔(مشکوٰة)

انعامات باری تعالیٰ:

اللہ کا نام لینا بہت بڑی چیز ہے … تم میرا نام فرش پر لو میں تمہارا نام عرش پر لوں گا ۔ کہو اللہ

٭مالک کل بھی اللہ

٭رازق کل بھی اللہ

٭نگران کل بھی اللہ

٭اللہ نے تمہیں آنکھیں دیں ہیں تم دیکھتے نہیں تم کہو ہم دیکھ رہے ہیں

الم تروا

خدا کی شان تم دیکھتے نہیں تم دیکھ لو

کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰواتٍ طِبَاقَا(سورة نوح آیت ١٤ پ٢٩)

اللہ نے اپنی قدرت کے ساتھ سات آسمان کیسے بنائے ۔

سب کہو …سبحان اللہ ۔

ہم تو زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں … یہ رجب کے مہینہ میں معراج کی رات اور ایک ہی رات میں پروردگار نے شان والے نبیکو کہیں سے کہیں پہنچا دیا سب کہو سبحان اللہ ۔

کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰواتٍ طِبَاقَا

سمجھانے کے لئے فرمایا :

وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرَا

زمین اور آسمان کے اندر خدا نے چاند کو نور بنایا …

سب کہو… سبحان اللہ

وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرَا مُّبِیْنَا

قرآن مجید کو خدا نے نور مبین کہا … سب پڑھو سبحان اللہ

کیو نکہ چاند کی روشنی جس کو نور مبین کہا نہ دن کو جاتی ہے … اور نہ رات کو کم ہوتی … اور فرمایا

وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجَا

وَدَاعِیَاً اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہ وَسِرَاجَا مُّنِیْرَا

سورج کو خدا نے سراج کہا اور شان والے نبی کو سراج منیر کہا ، سورج کو سراج کہا … سورج کی روشنی دن کو ہوتی ہے رات کو نہیں ہوتی ۔

شان والے نبی کی نبوت روشنی نہ دن کو کم ہوتی ہے … اور نہ رات کو کم ہوتی ہے ۔ ،شان والے نبی کا مقام اللہ نے بلند کیا ہے لیکن آج دل چا ہتا ہے کہ توحید کے متعلق بات کروں

وجود باری تعالیٰ پرنقلی دلیل

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

قالت رسلھم افی اللہ شک فاطر السموات والارض

(سورہ ابراہیم آیت ١٠)

ان پیغمبروں نے فرمایا کیا اللہ کے بارے میں شک ہے ۔

یہ نا ممکن اور محال ہے کہ مخلوق موجود ہے ۔ مگر خالق موجود نہ ہو ۔کارسازی موجود ہے مگر کارساز موجود نہ ہو ،سب کچھ موجود ہے مگر کوئی موجد نہیں ۔

عمل بغیر کسی عامل کے ۔عمارت بغیر کسی معمار کے اور نقش بغیر کسی نقاش کے کیسے معرض وجود میں آسکتا ہے ؟ ۔

وجود باری تعالیٰ پر عقلی دلائل

٭ایک اعرابی سے کسی نے پوچھا ؟

وجود باری تعالیٰ پر تیرے پاس کیا دلیل ہے ،اس نے جواب میں کہا

یا سبحان اللہالبعر تدل علی البعیر والروث علی البغال و الحمیر ، وان آ ثار الاقدام تدل علی المیسر ، فسماء ذات ابراج و ارض ذات فجاج۔ وبجار ذات امواج ۔ کیف لاتدل علیٰ وجود اللطیف الخبیر ۔

ترجمہ : لید اونٹ پر اور خچر اور گدھے پر ۔ پائوں کے نشانات (زمین پر ) چلنے والے پر دلالت کرتے ہیں ۔ پس بر جوں والا آسمان ، راستوں والی زمین اور موجوں والے دریا ، خدائے رحیم و قد یر پر دلالت کیوں نہیں کرتے

دلیل نمبر ٢۔

٭حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی جانب سے وجود باری تعالیٰ پر پیش کردہ دلائل :

٢۔ خلیفہ منصور عباسی کے در بار میں ایک دہر یہ (منکر خدا ) سے مناظرہ ہوا واقعہ کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ ایک دہریہ نے خلیفہ منصور سے کہا کہ میں وجود خدا کا منکر ہوں ۔ آپ کے ہاں اگر کوئی عالم ہے ۔ تو اسکو لے آئو ۔ میں اس سے اس بارے میں مناظرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ خلیفہ منصور کی نگاہ انتخاب حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ پر پڑی ۔ مناظرہ کے لیے جگہ اور وقت کا تعین کر دیا گیا ۔ دہریہ وقت پر آگیا ۔ لیکن امام صاحب دیر سے تشریف لائے ۔ آپ سے تاخیر کی وجہ دریافت کی گئی ۔ تو آپ نے فرمایا میں وقت پر آجاتا ۔ ایک ایسا واقعہ پیش آگیا ۔جسکی وجہ سے تاخیر ہوگئی ۔ پوچھنے پر آپ نے فرمایا میرا مکان دریا کے دوسری جانب واقع ہے ۔ جب میں ساحل پر پہنچا تو کشتی موجود نہ تھی ۔ ۔ بڑی پریشانی ہوئی۔ آخر کار کیا دیکھتا ہوں کہ ایک درخت خودبخود گر پڑا ۔اور اس کے تختے خودبخود نکلنے لگ گئے ۔ پھر خود ہی جڑنے لگ گئے اور کشتی تیا ر ہوگئی ۔ میں کشتی میں سوار ہوا ۔بغیر کسی ملاح کے ساحل پر پہنچا ۔ دہریہ نے خلیفہ منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عالم کس قدر جھوٹ سے کام لے رہے ہیں ۔ امام صاحب کی یہ بات سن کر اہل مجلس بھی محو حیرت میں تھے ۔ امام صاحب نے فرمایا جب ایک کشتی بغیر عمل نجار (کاریگر ) کے نہیں بن سکتی اتنے بڑے آسمان و زمین ۔ دریا پہاڑ ، جنگل اور کائنات عالم اللہ تعالیٰ کے بنائے بغیر کیسے معرض وجود میں آسکتے ہیں سب کہو سبحان اللہ ۔

(فبھت الذی کفر ) پس دہریہ اس پر لاجواب ہوگیا ۔

٭ حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل:

٤۔ ہارون الرشید نے ایک مرتبہ حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ کیا زمین و آسمان کا کوئی خالق ہے ۔ اس پر کوئی دلیل پیش فرمائیں ۔آپ نے فرمایا تمام انسان نوعیت کے اعتبار سے متحد ہیں ۔ ہر شخص کے پاس کان ہے۔ آنکھ، ناک اور دوسرے حواس ایک ہی جیسے ہیں لیکن صورتوں،آوازوں ،اور زبانوں کا اختلاف اللہ جل شانہ کے وجود پر بہت بڑی دلیل ہے ۔یعنی سب انسان ایک ماں باپ سے بنائے اور تمام روئے زمین پر پھیلائے اور سب کی جدا جدا بولیاں کردیں۔ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک میں جاکر زبان کے اعتبار سے محض اجنبی اور بیگانہ ہو کر رہ جاتا ہے ۔پھر دیکھو شروع دنیا سے لے کر آج تک کتنے بیشمار آدمی پیدا ہوئے مگر کوئی دو آدمی ایسے نہ ملیں گے جن کا لب ولہجہ ۔ تلفظ اور طرز تکلم بالکل یکساں ہو۔ جس طرح ہر آدمی کی شکل و صورت اور رنگت وغیرہ دوسرے سے الگ ہے ۔ اسی طرح آواز اور لب ولہجہ ایک دوسرے سے جدا ہے ۔ ابتدائے عالم سے لے کر اب تک نئی نئی صورتیں اور بولنے کے نئے نئے طور نکلتے چلے آتے ہیں۔ حقیقت میں اتنا بڑا نشان حق تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کا مظہر ہے ۔

جس کو ہم صانع عالم اور خالق کائنات کہتے ہیں۔ گویا آپ نے سورة روم کی آیت سے استدلال فرمایا

( واختلاف السنتکم والوانکم)

ترجمہ:۔ اور تمہارے لب ولہجہ اور رنگتوں کا الگ الگ ہونا (سورة روم آیت ٢٢)

 

حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ کی عقلی دلیل ۔

٥۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ وجو د و با ری تعالی پردلیل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں شہتو ت کا سبز پتا ریشم کا کیڑا کھائے تو اس سے ریشم نکلتا ہے ۔ اگر ہرن کھائے تو اس سے کستو ری بنتی ہے ۔ اگر بھیڑ ،بکری ، اُونٹ کھائیں تو اس سے میگنیاں نکلتی ہیں ۔ شہتوت کے پتے کی طبیعت اور خاصیت ایک ہے ۔ لیکن اس سے الگ الگ چیزوں کا پیدا کرنا صرف قادر مطلق اور خالق کا ئنات کا کام ہے ۔

حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کی عقلی دلیل

٢۔ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ وجود باری تعالیٰ پر ایک عجیب دلیل پیش فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک سونے اور چاندی کا مضبوط قلعہ دیکھا ۔ جسکی دیواریں چاندی کی اور اندر کا حصہ سونے کا اور اس کے اندر جانے کا راستہ بھی نہیں اور نہ ہی اندر سے باہر آنے کا راستہ ہے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد اس قلعہ محفوظ سے ایک ایسی جاندار چیز نظر آتی ہے جو خوبصورت اور بولنے والی ہوتی ہے ۔ بتائوں آخر وہ کون ہے جس کی یہ کاریگری ہے ۔ یہ تو وہی خالق کائنات ہے جس نے انڈے سے زندہ چوزہ پیدا فرمایا۔ جو ابھی سے چل رہا اور دانہ چگ رہا ہے ۔ اور پانی نوش کر رہا ہے۔

ایک دیہاتی چرخہ کاتنے والی عورت کی عقلی دلیل

٧۔ ایک بڑھیا سے کسی نے اللہ تعالیٰ کے وجود پر دلیل پوچھی ۔ تو اس نے کہا ۔ میری دلیل میرا چرخہ ہے ۔ جب میں اس کو چلاتی ہوں تو چلتا ہے اور جب اس کو چھوڑ دیتی ہوں تو ٹھہر جاتا ہے ۔ جب یہ چھوٹا سا چرخہ بغیر چلائے چل نہیں سکتا ۔ اتنا بڑا آسمان بغیر کسی چلانے والے کے کس طرح چل سکتا ہے ۔ اس بڑھیا سے پوچھا گیا کہ خدا ایک ہے یادو ۔ اس نے کہا خدا ایک ہے ۔ پوچھا گیا دلیل پیش کرو ۔ کہنے لگی یہی میرا چرخہ چونکہ میں اس کو تنہا چلاتی ہوں۔ اگر کوئی دوسری عورت میرے ساتھ بیٹھ کر چرخہ چلائے تو دو حال سے خالی نہیں ۔ چلانے میں میری موافقت کرے گی یا مخالفت اگر موافقت کرے گی ۔ تو رفتا ر تیز ہو جائے گی ۔ اسی طرح اگر خدا ایک نہ ہو بلکہ دو یا زیادہ ہوں ۔ تو پھر زمین آسمان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔

ثنا گو پتہ پتہ ہے دم بدم خدایا تیرا،

زمین وآسمان تیرے ہیں یہ موجود عدم تیرا ،

جو دنیا میں کھا کر تیرا شکوہ کریں یا رب ،

تعجب ہے کہ ان پر بھی ہے لطف وکرم تیرا

دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا :

مرکز توحید بیت اللہ میں درس تو حید وسنت دینے والے مولانا مکی صاحب آ ئے ہوئے ہیں اور ان کے والد ماجد مولانا خیر محمد صاحب نام بھی ان کا خیر اور خدا نے ان کو خیر کے ساتھ مکہ مدینہ پہنچا دیا ان کا تعلق ہمارے حضرت دین پوری کے ساتھ ہے وہ حضرت دین پوری کے مرید تھے میرا بھی ان کے ساتھ تعلق تھا :

نہ کتابوں سے ، نہ وعظوں سے ، نہ زر سے پیدا

دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

شکر ہے … شاہ ولی اللہ سے لے کر جہاں جہاں دینی مدرسے ہیں سب حنفی ہیں … داستان بڑی لمبی ہوگئی میرا رخ مکے مدینے کو چلا گیا ۔

قرآن مجید پڑھنے کا مزا… بیت اللہ کے سامنے آتا ہے ۔

حدیث نبی کا بیان کرنا… گنبد خضرا کے سامنے مزا آتا ہے ۔

لاکھوں گنبد ایک طرف … شان والے نبی ۖ کے گنبد کا شان ایک طرف

جمعہ کے دن کی فضیلت :

قرآن مجید متن ہے … حدیث خاتم الانبیائۖ اس کی شرح ہے ۔

قرآن مجید سیکھنے کے لئے … ارشادات خاتم الانبیاء کی ضرورت ہے ۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو قرآن وحدیث سے کچھ حصہ مل گیا ۔

یہ تقریب جمعہ کے دن اسلئے رکھی گئی ہے کہ

حضورۖ نے فرمایا ان من افضل ایامکم یوم الجمعہ کہ تمام دنوں سے فضیلت کا دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن ہے ۔

فیہ خلق آدم اس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے ۔

وفیہ ادخل الجنةاسی دن بہشت میں داخل ہوئے وفیہ اخرج منہا اور اسی دن نکا لے گئے لاتقوم السا عة الا فی یوم الجمعة اور اسی دن قیامت ہوگی ۔

(مسلم عن ابی ہریرة ،ابو دائوود ،نسائی ،دار قطنی،البیہقی فی الدعوات الکبیر ،از مشکوٰة ص١٢٠)

کنز العمال میں روایت ہے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے سب چیزیں دہشت میں ہوتی ہیں مگر انسان و جن دہشت میں نہیں ہوتے ۔ (کنزالعمال)

رب رحیم کی رحمتیں:

٭اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا بیان فرمایا ۔

٭میری رحمت کی کوئی انتہاء نہیں ۔

٭شفقت کی کوئی انتہا نہیں ۔

٭تم جو کچھ مانگتے رہے ۔

٭میں دیتا رہا ، میں دینے سے بھی تھکا نہیں ۔

٭دینے سے کبھی رکا نہیں ۔

٭نیکوں کو بھی دیا ۔

٭گنہگاروں کو بھی دیا ۔

٭مانگنے والوں کو بھی دیا ۔

٭بن مانگوں کو بھی دیتا رہا اتنا دیا کہ!

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا(سورة ابراہیم آیت ٣٤ پ١٣)

اگر تم اللہ رب العزت کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے ۔ دور ہی کیا جاتے ہو؟

وَفیِ اَنْفُسِکُمْ اَفَلا تُبْصِرُوْنَ

سر سے پائوں تک کیسا نقشہ کھینچا

نقشہ کھینچنے والا بھی بے مثال … نقشہ بھی بے مثال ۔

جس طرح ہم نے چاہا بنایا ، تم ہو تو سب انسان مگر رنگوں میں بھی اختلاف ، زبانوں میں بھی اختلاف، سوچنے پر پتہ چلتا ہے کہ انسان میں سب کچھ موجود ہے ۔ چھوٹا سا سر ہے ۔ اس میں …

٭کس طرح آنکھیں لگائیں ۔

٭کس طرح کان لگائے۔

٭کس طرح ہونٹ بنائے ۔

٭کس طرح نقش و نگار کھینچا ۔

٭خدا نے پیٹ بھی دیا ۔

٭پشت بھی دی ۔

٭ہاتھ بھی دئیے ۔

٭پاو ں بھی دئیے ۔

یہ سب چیزیں رب تعالیٰ نے تمہیں بن مانگے دیں ۔ الحمد للہ

٭رو ح بھی خدا نے بن مانگے دی ۔

٭جسم بھی بن مانگے دیا ۔

٭ان کی غذا بھی بن مانگے دی

٭جسمانی بیماریوں کا علاج بھی بن مانگے دیا

٭روحانی بیماریوں کا علاج بھی بن مانگے دیا ۔

جسم کے نشوونما کے لئے آسمان… زمین … ستارے… باغات … درخت … پانی … ہوا سب چیزیں پیدا کیں مگر اعلان فرما دیا ۔وما خلقت الجن والا نس الا لیعبدون (سورة طورآیت

اے انسان! یہ سب تیرے لئے ہے مگر تو بھی اپنے مقصد حیات کو نہ بھلانا کہ تو کس کام کے لئے آیا ہے؟

جسمانی خوراک کا انتظام بھی فرمایا ۔

روحانی غذا کا انتظام بھی فرمایا ۔

روحانی امراض کے لئے معالج بھی بھیجے ۔

حضرت آدم علیہ السلام سے حضور علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام معالج روحانی تھے … انبیاء پر مختلف اوقات میں کتابیں بھی نازل کی گئیں ۔

٭کبھی تورات

٭کبھی انجیل

٭کبھی زبور ،کبھی دیگر صحائف

٭آخری نبی اور آخری دین لائے آخری معالج جب تشریف لائے جن کا نام نامی محمدۖ تھا تو اعلان فرما دیا

٭الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (سورة مائدہ آیت ٦)

اور فرمایا

٭مَا کَانَ مُحَمَّد اَبَا اَحَدٍ مّن رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّن (سورة احزاب آیت ٣٩)

نبی بھی آخری آیا … اور … دین بھی جو ملا وہ بھی آخری ملا

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام(سورة آل عمران آیت ١٨)

دین بھی آخری ملا ۔

کتاب بھی آخری ملی

اب نئے دین کی ضرورت نہیں ہے ۔

نئی کتاب کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔

اور نہ ہی نئے نبی کی ضرورت ہے ۔

انسان کی ناشکری

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْم” کَفّار (سورة ابراھیم آیت ٣٣)

بے شک انسان بڑے ظالم وناشکرے ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں ناشکری سے بچائے شکر کی توفیق دے ، یوں کہیں ۔

الحمد للہ قرآن بھی بن مانگے ملا ،

خاتم الانبیائۖ بھی بن مانگے ملے۔

یہ دینی مدارس حقیقت میں قرآن وحدیث کی حفاظت کی تجویزیں ہیں ۔ اللہ ان حضرات پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے دین کے لئے قربانیاں دیں

اللہ کی شان بے نیازی :

تئو تی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء و تعز من تشآء وتذل من تشاء بیدک الخیر انک علیٰ کل شئی قدیر (سورة آل عمران آیت

٭اللہ تعالیٰ کی شان ہے …

٭دینے پر آئے تو غریبوں کو دے دے ،

٭لینے پر آئے تو امیروں سے لے لے ،

٭دینے پر آئے تو بے دینوں کو دیندار بنادے،

٭اور لینے پر آئے تو دینداروں کو بے دین کر دے ،

دینے پر آئے تو فرعون کے گھر آسیہ جیسی شریف پاک دامن نیک عورت رکھے ،

بے نیازی پر آئے تو حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت نوح کے گھر میں بیویاں بے دین کر دے ،

عنایت پر آئے تو بادشاہ نجاشی اصحمہ کو حضورۖ کا غلام بنادے، اسلام کا شیدائی بنا دے ۔ جوان بادشاہ اصحمہ نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر سنی ، اسلام کا دیوانہ ، پروانہ ، شیدائی بن گیا۔ رتبہ کیسا ملا ۔ سبحان اللہ

مدینہ منورہ میں آنحضرتۖ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اطلاع دی کہ آج نجاشی دنیا سے رخصت ہو گیا ہے ، آنحضرتۖ نے مہاجرین و انصار کو اکٹھا کیا تاکہ نمازجنازہ پڑھیں ، سبحان اللہ وفات حبشہ میں اور نماز جنازہ مدینہ منورہ میں ۔ سب کہو… سبحان اللہ

نجاشی کا جنازہ:

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں ، جب ہم صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے تو حضورۖ آگے بڑھے ہم نے دیکھا کہ نجاشی کی لاش پڑی ہے ، فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس بادشاہ کی لاش کو مدینہ طیبہ لے چلو تا کہ حضورۖ اس کی نماز جنازہ پڑھیں ۔ حضرت جابر فرماتے ہیں ان النبی ۖ اصحمة النجاشی فکبر اربعا (بخاری شریف ص٥٤٦)

شان والے نبی ۖ نے اس نجاشی باد شاہ جسکا نام اصحمة تھا اسکی نماز جنازہ غائبانہ ادا فرما ئی اور چار مرتبہ تکبیر یں پڑھیں ،،میں سوچتا رہا کہ جو اللہ فرشتوں کے ذریعے نجاشی کی لاش مدینہ منورہ لا سکتا تھا ، وہ ذات اس پر بھی تو قادر تھی کہ حضورۖ کو مدینہ منورہ سے حبشہ لے جاتے مگر راز معلوم ہوا کہ آقاغلام کے پاس نہیں جایا کرتا بلکہ غلام آقا کے پاس جایا کرتا ہے ۔ اور حضرت عائشہ فرما تی ہیں لما مات النجاشی کنا نتحدث انہ لایزال یریٰ علیٰ قبرہ نور (ابوداود )

نجاشی کی قبر سے نور کا دکھائی دینا ہمارے درمیان کافی مشہور رہا ہے ،کیو نکہ وہ عاشق رسول تھا مگر میں دعا کرتا ہوں کہ…

٭یہاں ذکر بھی ہو ،

٭ عشق رسولۖ بھی ہو ،

٭ادب بھی ہو ،

٭علم بھی ہو ،

نعرے لگانا اور دعوے کرنا تو بہت آسان ہے ، مگر محبت پیدا کرنی بڑی مشکل بات ہے ۔ ادب والے کروڑوں اس دنیا سے چلے گئے۔

عظمت ریاض الجنتہ:

میرا عقیدہ ہے کہ بادشاہوں کے تاج و تخت ایک طرف اور مدینہ منورہ کے کتوں کے پائوں کی غبار ایک طرف ۔ حضرت نانوتو ی کہتے ہیں ہوسگان حرم میں میرا نام شمار ہو

حضورۖ نے فرمایا :

مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَة” مِنْ رِّیَاضِ الْجَنَّة ومنبری علیٰ حوضی

(مسند احمد ص٤٧٠ ج ٣عن ابی ہریرة ،بخاری ،مسلم)

میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان والا حصہ جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے جو وہاں نماز پڑھے ، وہ بھی جنتی ہو جاتا ہے ۔ فرمایا یہ میرا حوض کوثر ہوگا ، دعا کرتے ہیں کہ آج جس طرح اس جلسہ میں جمع ہوئے ہیں اسی طرح حوض کو ثر پر بھی حضور ۖکے جھنڈے کے سائے تلے جمع ہوں ۔ (آمین)

فتنوں کا زمانہ:

بہر حال فتنوں کا زمانہ ہے ، حضورۖ نے فرمایا کہ عنقریب فتنوں کا دور آنے والا ہے ، کقطع اللیل المظلم اندھیری رات کی طرح فتنے اٹھیں گے ان کا خیال رکھنا ، یصبح الرجل مئو منا ویمسی کافرا صبح ایک شخص مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا ویمسی مئومنا ویصبح کافرا اور شام کو مومن تو صبح کو کافر ہوگا (ابوداود ص٢٣٦ ج٢ عن ابی موسیٰ،)ویبیع دینہ بعرض من الدنیا اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے مال کے عوض بیچ ڈالے گا (مسند احمد ص٦٥ ج٣ ،ترجمان السنة ص٣٢٠ ج٤،عن ابی ہریرة ،کنز العمال ص،،ج١١ حدیث نمبر ٣١٠٢٤،مشکٰوة ص٤٦٢ج٢)

الا من احیاہ اللہ بالعلم (سنن الدارمی ص٩٧ج١،عن ابی امامہ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورۖ سے ہم نے پوچھا کہ ماالمخرج منہا یارسول اللہ ان فتنوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے تو حضورۖ نے ارشاد فرمایا کہ کتاب اللہ ”اللہ تعالیٰ کی کتاب ، فیہ نباء ما قبلکم وخبر ما بعدکم اس میں پہلوں اور پچھلوں کی خبریں ہیں ،وحکم مابینکم انصاف ہے ، وھو حبل اللہ المتین اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے ، وھو الذکر الحکیم حکمت بھری نصیحت ہے وھو الصراط المستقیم صراط مستقیم اور نورمبین ہے ،

من ترکہ من جبار قصمہ اللہ جو سرکش اس کتاب کو چھوڑے گا اس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے گا ومن ابتغیٰ الہدیٰ فی غیرہ اضلہ اللہ اور جو اس کتاب کے سوا ہدایت ڈھونڈے گا اسے گمراہ کر دے گا”۔(ترمذی ص١١٤ج٢ باب ما جاء فی فضل القرآن عن علی ،مشکوٰة ص١٨٦ج١)

صدیق اکبر کا تعلق بالرسولۖ:

سبحان اللہ! نصیبہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جن کی نظریں دن رات صاحب قرآن حضورۖکے مبارک چہرے پر پڑتی تھیں ۔ حضرت سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب مجھے کوئی پریشانی ہوتی تو بس حضورۖ کے چہرہ ٔ انور کو دیکھ لیتا ، آپۖ کے ارشاد مبارک کو سن لیتا ، پریشانی جاتی رہتی۔

فتنوں سے بچائو کی تدبیر:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کان الیوم الذی قدم فیہ رسول اللہۖ اضاء منہا کل شئی کہ جب حضورۖ مدینہ تشریف لائے تو روشنی پھیل گئی اور فلما کان الیوم الذی مات فیہ اظلم منہا کل شئی جب وصال فرمایا تو اندھیرا چھا گیا ۔ حضورۖ نے فتنوں سے بچنے کی تدبیر بتلائی کہ کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو ، یہ کتاب جامع ہے ، اس جیسی کتاب آئی ہے اور نہ آئے گی ۔

یہ ایسی کتاب ہے سبحان اللہ جسکو ہڑھ کر انسان اپنے غموں کو پریشانیوں کو اپنی تکلیفوں کو اپنی مصیبتوں کو دور کر سکتا ہے اس سے دلوں کو تسکین ملتی ہے اس سے دلوں کو راحت ملتی ہے

در فیض محمد ۖ وا ہے ، آئے جس کا جی چاہے

نہ آئے تو آتش دوزخ میں ، جائے جس کا جی چاہے

مریضان گنہ کو دو خبر فیض محمدۖ کی

بلا قیمت دوا ملتی ہے آئے جس کا جی چاہے

مرشد کی دعائ:

وہ جمعہ کا دن یاد آتا ہے… دین پور میں ، میںنے جب دورہ حدیث مکمل کیا حضرت شیخ خلیفہ غلام محمد رحمة اللہ علیہ کی شفقت کا کیابتلائوں ، مجھے میرے شیخ کی دعا پہرہ دے رہی ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بزرگوں کو نہیں مانتے ، میرا اور میرے بزرگوں کا عقیدہ ہے ، جب تک بزرگ ہوں گے ، تو یہ دنیا باقی ہوگی ، جب دوستان خدا ختم ہو جائیں گے تو یہ دنیا بھی ختم ہو جائے گی ۔

نہ کتابوں سے ، نہ وعظوں سے ، نہ زر سے پیدا

دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

اہل اللہ کی علامات:

الا ان اولیا ء اللہ لا خوف علیہم ولا ہم یحز نون ، یہ اللہ والوں کی نشانی ہے کہ ان کو دیکھ کر خدا یاد آ جاتا ہے۔قرآن وحدیث پڑھنے کا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے کا شوق پیدا ہو جائے ۔

رب کے ہاں پیشی اور قیامت کا دن یا د آئے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے بزرگوں کی صحبت سے مستفیض فرمائے اور ایسے لوگوں کی صحبت سے بچائے ، جن کے ہاں نہ نماز ہے نہ ذکر اللہ ہے ، نہ قرآن و حدیث کا شوق ہے ۔

شیخین کا مقام:

شان والے نبی ۖ کا ہر صحابی ولی تھا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر یہ دونوں امام الاؤلیا ء تھے ایک مرتبہ حضورۖ دخل المسجد وابوبکر وعمر احدھما عن یمینہ والآ خر عن شمالہ جمعہ کے دن تشریف لائے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کاندھے پر دایاں ہاتھ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کاندھے پر بایاں ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لارہے تھے، مہاجرین وانصار سے فرمایا !

”گواہ رہو ھکذا نبعث یوم القیٰمة ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔”(ترمذی ص٢٠٨ج٢، عن ابن عمر) سب کہو …سبحان اللہ

حُبُّ النَّبِیِّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ۖ مُفْتَرِض”

وَحُبُّ اَصْحَابِہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ نُوْر” بِبُرْھَانٍ

اور ایک مرتبہ فرمایا ابابکر وعمر ھٰذان السمع والبصر ابوبکر وعمر یہ دونوں بمنزلہ کان اور اور آنکھ کے ہیں (ترمذی ص٢٠٨ج٢)

ان صحابہ کے متبعین ہمارے علماء بھی اولیء میں سے تھے اور دین محمدی کے چار یار ہیں ، ان کی یاد گار پاکستا ن میں جمیعت علماء اسلام موجود ہے ۔

صفات جمالیہ وجلالیہ کا ظہور:

ان موحدین کے اندر اللہ نے اپنی صفات کا عکس ڈالا تاکہ معلوم ہو کہ ولی اللہ کون ہیں اور غیر ولی اللہ کون ہیں موحد کون ہیں اور غیرموحدکون ہیں۔ اس کی حقیقت آپ یوں سمجھیں کہ ، امام الموحدین حضور اکرمۖ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے جلال وجمال دونوں کا عکس پڑا۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جلال اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں جمال آیا ، مگر حضر ت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں جمال و جلال دونوں کا عکس ہے ۔ سبحان اللہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کسی پر جلال اور کسی پر جمال کا عکس پڑا۔

پھرہندوستان میں سب سے پہلی جامع شخصیت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تھے ان میں بھی جلال وجمال تھا ۔

ان کے بعد کاملین میں سے حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ پر جلال اور حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ پر جمال کا عکس پڑا اور حضرت مدنی رحمہ اللہ جامع تھے جلالی بھی تھے اور جمالی بھی تھے۔ حضرت مدنی دین پور بھی تشریف لائے تھے واپسی پر ملتان تک میں انکے ساتھ گیا تھا

اسی طرح جلال وجمال کا سلسلہ سندھ میں بھی ہے ۔ بھر چونڈی شریف کے حافظ محمد صدیق جلال وجمال کے مظہر تھے ۔ حضرت دین پوری رحمہ اللہ میں جمال اور حضرت امروٹی رحمہ اللہ میں جلال اور پھر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ میں جمال و جلال دونوں صفات تھے ۔ اسی طرح بخاری شریف جلالی بھی ہے ، جمالی بھی ہے ۔ ابتداء جلال سے ہوتی ہے انتہا جمال پر ہوتی ہے ۔آج جو حدیث مبارکہ پڑھی گئی ہے ، جمالی ہے ، میں تو رو رو کے بوڑھا ہو گیا ہوں۔

دین ادب کا نام ہے:

مولاہماری نگاہوں کے دامن تنگ ہیں ،

مولا تیری وسعت کے پھول بہت ہیں ،

تیری بہار کے پھول چننے والے دامن کی شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے دامن تنگ ہیں ، تیرے خزانے میں تو کمی نہیں ہے،

دامن پھیلا کے بیٹھو … دل کی طرف متوجہ ہوجا ہجرت کرکے جو یہاں سے مدینے اور مکے جاتا ہے … راستے میں اگر موت آجائے تو ہجرت کا ثواب اس کو مل جائے گا … میں نے شروع میں ایک قرآنی آیت پڑھی تھی … راستے کو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ ابھی ابتدائے عشق ہے ۔

محمدی باغ اور بہشتی باغ:

اور دعوت دیتا ہوں میں اہل خان پور اور تمام پاکستان کی عوام کو کہ ان مراکز دینیہ کی حفاظت کرنا آپ کا فریضہ ہے ۔ میرے نزدیک دینی مدرسے محمدی باغ ہیں ۔ اور مسجدیں جنتی باغ ہیں۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دینی مدارس اور مسجدوں کی حفاظت کرتے ہیں یہ بد نصیب ہیں جو مسجدوں کے اندر تفریق کرتے ہیں … خدا ان کو بھی ہدایت دے ۔ کیوں کہ جہاں جاتا ہوں ہر ایک کا اپنا کاروبار ہے ۔

امیر ہو ، غریب ہو،وزیر ہو،صدر ہو، سب کھیل رہے ہیں ،

ضیاء الحق کو بھی کہا تھا اور مدینہ منورہ سے خط بھی لکھا تھا … کہ تمہیں خدا نے یہ عہدہ دیا ہے… مگر یاد رکھو دو چیزوں کو پورا کرو تب تو خیر ہے … ورنہ تمہاری بھی پہلوں کی طرح خیر نہیں ہوگی ۔

پہلی چیز میں نے کہا قرآن اور دوسری چیز حدیث مصطفیۖ

شان والے نبیۖ نے آخری وصیت فرمائی کہ اے مہاجرین وانصار میں جارہا ہوں … ترکت فیکم امرین دو چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں ۔

لن تضلو مع تمسکتم بھما کتاب اللہ وسنتی کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ

میں نے کہا کہ تم دونوں چیزوں کو اپنائو تو تمہاری خیر ہے … ورنہ تمہاری بھی پہلوں کی طرح خیر نہیں ہوگی کئی آئے شکاری ۔

قاریوں کو بھی شکار کیا ۔مولویوں کو بھی شکار کیا ۔

بھٹو کے مظالم:

بھٹو جیسا بھی ظالم… آج اس کو بھی پاکستان میں سید الشہداء کہا جارہا ہے … میں کیا کہوں تم تو سب جانتے ہو … مسجدوں میں جتنے علماء مشائخ اور اللہ کے نیک بندوں کو قتل کرایا اس کی نظیر کوئی نہیں … تم تو قریب سے دیکھنے والے ہو ۔

مسجد کی بے حرمتی:

جامع مسجد ڈیرہ نواب احمد پور شرقیہ میں جمعہ کا دن تھا ۔قرآن پڑھا جارہا تھااور گولی چلانی شروع کر دی… لوگوں نے سر پہ قرآن رکھے ہوئے تھے ان ظالموں نے ،نہ قرآن والوں کو چھوڑا ،نہ اللہ کا نام لینے والوں کو چھوڑا

میں اس وقت منچن آباد میں تھا … مجھے رات کو سرور خان خدا اس کو بھی جنت نصیب کرے … اس نے جمعیت کا کام بڑے دل سے کیا … راستہ خراب تھا خدا کی شان… بہاولپور سے جب ہم گزرے اس وقت رات کے دو بج رہے تھے … تو دیکھا مسجد میں لاشیں پڑی ہیں … مسجد کی چٹائیا ں اور قرآن بھی خون آلودہ … معلوم نہیں لاشوں کو انہوں نے کس طرح نکالا ۔

اعلان ختم نبوت:

میں یہی بات کہتا ہوں شان والے نبی جب منبر پر تشریف فرماہوئے تو مہاجر اور انصار سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ فرمانے لگے مہاجر اور انصار سن لو میری بات میں تم سے جدا ہونے والا ہوں ۔مسجدی ھٰذا آخر مساجد الانبیا

یہ میری مسجد جو ہے مدینہ منورہ میں… تمام انبیاء کی مسجدوں میں سے آخری مسجد ہے… جو بات سمجھانا چاہتا ہوں ۔

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی ،میں آخری نبی ہوں… قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔وانتم آخر الامم لا امة بعدکم تم آخری امت ہو… قیامت تک کوئی امت نہیں آئے گی ۔

جب شان والے نبیۖ نے کہا کہ میں آخری نبی ہوں لیکن یہ مرزائی شور مچا رہے ہیں کہ نبی مرزا غلام قادیانی ہے جو انگریز کاپٹھو ہے جو انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے یہ ملک کے اندر فساد برپا کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ختم نبوة کے محا فظین کو

حضرت درخواستی کا فتویٰ:

میں کہتا ہوں محمدۖ کے غلامو!اورحکم دیتا ہوں ۔

مسجد اقصیٰ کے نام پر یہ مسجد ضرار ہے اور جنت البقیع انہوں نے بنائی ہے … لندن سے بھی ان کے مرید آتے ہیں… دو ہزار روپے ان کو دے کر دفن ہوتے ہیں … میں نے کہا یہ میرا فتویٰ ہے ۔

افغانستان کی بات تو بعد میں کریں گے ۔ آزادی کشمیر کی بات تو بعد میں کریں گے ۔ پہلے گھر کی بات کرو تمہارا گھر جل رہا ہے … اور میں کہنا چاہتا ہوں یہ منافقوں نے بنائی تھی … اور تباہی کا ارادہ کرتے ہیں … خدا نفاق و شر سے پاکستان کو بچائے … پہلے بھی منافقین نے پاکستان کا تختہ الٹا کیا…

اسم اعظم کی برکت:

پہلے انکا جنازہ نکالا جائے پھر بعد میں ملک کے حالات کا سوچیں گے اور ایران کے منافقین نے مدینہ منورہ میں فساد برپا کیا ان سب کو نکالا جائے ان سے جان چھڑائی جائے ورنہ ملک کے مزید حالات خراب ہونگے ایک دفعہ میں جارہا تھا پر جب کراچی پہنچا … انہوں نے کہا کہ لکھ دو میں نے حج نہیں کیا … پھر تو ویزہ ملے گا ورنہ نہیں … میں نے کہا جھوٹ بول کر میں نہیں جاتا… انہوں نے کہا کہ قاہرہ کا راستہ ہے ۔

میں نے مدینے منورہ جانا تھا … ارادہ تھا کہ جمعہ وہیں پڑھوں گا مگر مجبوراً قاہرہ آگئے … خدا کی شان وہاں جہاز خراب ہوگیا … کہنے لگے رات کو پہنچ جائے گا… میں نے فون کیا کراچی والوں کو… کہ تم نے دھوکہ کیا… دوسرا جہاز آیا دو بجے رات کے ہم پہنچے… اور اعلان ہوگیا کہ اب حج کے ایام آگئے ہیں… اور مدینہ منورہ کوئی نہیں جاسکتا… میں حیران تھا ایک ٹیکسی والے کو میں نے کہا کہ تم چلو اس نے کہا کہ انہوں نے منع کر دیا ہے ۔

میں نے کہا کہ میں اسم اعظم پڑھتا ہوں تم چلو ہم انشاء اللہ نکل جائیں گے … اسم اعظم پڑھ کر میں بیٹھا اور پھونکتا رہا… ادھر ادھر وہ فوجی کھڑے تھے … اور کہتے تھے کہ وہ تو جارہا ہے ۔

مدینہ میں شیعت کا دخول:

جب مدینہ منورہ پہنچا… وہاں خدا کی شان کیا دیکھتا ہوں کہ خمینی کے فوٹو لے کر مر د اور عورتیں پھر رہے ہیں … مدینہ کے شہر میں … منبر نبویۖ پر دو عورتیں سیاہ کپڑے پہن کر نعرے لگا رہی تھیں … کیا نعرہ تھا کہ

زاللہ اکبر… خمینی رہبرزاللہ ہادی … خمینی مہدی زاور کیا کہتے خمینی جانشین خد است لعنت ہو ان پر خدا کی اللہ اس فتنہ سے ہماری حفاظت فرما ئے یہ گستاخ رسول ۖواصحاب رسول ہیں

جمعیت کی کار گردگی:

تین باتیں کرنے کے بعد اپنی تقریر ختم کروں گا …

سب سے پہلی بات جمعیت علماء اسلام نے جو کام کیا ہے … تمہیں تو پتہ نہیں ہے … بلوچستان میں قادیانیت پھیلائی جارہی تھی … ظفر اللہ وزیر خارجہ تھا تم سب کو پتہ ہے … گرمیوں کے ایام میں مرزا بشیر وہاں جاتا رہا… عورتیں لے جاتا… سارا دن عورتیں گشت کرتیں ۔ دعوت دیتیں ۔

کہ آئو شیخ کی تقریر سن لو… وہاں آگے تقریر ہوتی تھی… وہاں میں جب گیا … بائیس بروہی مرزائی ہوچکے تھے… کیوں کہ وہاں جہالت تھی پتہ نہیں تھا

میں نے وہاں پر علماء کو بلایا … وہ ڈرتے تھے … وہ وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی بلو چستان کو قادیانیت کا مرکز بنا نا چاہتا تھا ۔

بلوچستان میں اسی فیصد مرزائی انہوں نے ملازم رکھے ہوئے تھے میں نے بارہ نوجوانوں کو وہاں اکٹھا کیا … اور میں نے کہا

قیامت کے دن خدا کو کیا …منہ دکھائو گے ،شان والے نبیۖ کے سامنے کیا… منہ دکھائو گے۔ شان والے نبیۖ کی بے ادبی ہو رہی ہے…تم خوشی منا رہے ہو… یہ مرزائی جال پھیلا رہے ہیں ۔

تفرقہ ختم کرو:

تو ان بارہ نوجوانوں کو میں نے فتویٰ لکھ دیا … شکر ہے وقت کے تقاضہ کے مطابق مولانا ابراہیم سیالکوٹی غیر مقلد بھی موجود تھے ۔

ضرورت کے وقت ہم نے غیر مقلدین کو بھی ملا یا تھا ۔

مگر اب یہ بھی شرارتی بن گئے ہیں اب انکے ساتھ اتحا د جائز نہیں ہے

حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری نے اخیر وقت میں ابوالحسنات جیسے کو بھی امیر بنایا… گولڑہ شریف میں ان کو دعوت دی کہ آئو ختم نبوت کے لئے اکٹھے ہو جائو… اب ہم بھی اعلان کر رہے ہیں کہ علماء اور مشائخ آپس کی تفریق کو ختم کرو اور مرزائیوں کے مقابلے کے لئے ایک ہو جائو ۔

گستاخ رسولۖ کا جنازہ:

آپ کو پتہ ہوگا پھر وہ مرزا بشیر کا رشتہ دار تھا عبد الحق ربوہ گیا … ان نوجوانوں نے جلسہ رکھ دیا … ختم نبوت کا یہ جلسہ شروع تھا … اور یہ فوج لے کر گیا ان نوجوانوں نے کار کو گھیر لیا … ایک نو جوان نے چاقو کے ساتھ اس کا پیٹ چاک کیا اور وہ مر گیا … صبح کو جنازہ لے آئے بلوچستانی غیرت مند ہیں … پتہ چلا تو کھڑے ہوگئے ،اور کہا کہ اس کا ہم جنازہ نہیں پڑھیں گے ،کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے ۔ رات کو مرزا بشیر کو گھیر لیا کہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے … مرزا بشیر وہاں سے بھاگا اور بلوچستان قادیانیت سے بچ گیا ۔

آخر میں نے مدینہ منورہ سے خط لکھاکہ میں جو ان کو اوراسکے بقیہ نوجوانوں کو داددیتا ہوں کہ تونے وعدہ کیا تھا کہ میں ختم نبوت کے لئے آخری قطرہ بہائوں گا … تیرے شہر میں مرزائی بھی ہیں … اور قیامت کے دن کیا جواب دو گے… تمہیں پتہ ہے اس مجاہد نے کیا کیا … اپنی جان کی بازی لگا دی ۔ اورقادیانیت ذلت کے گھاٹ میں اتار دیا

ختم نبوت کے لئے خون کا آخری قطرہ بہادیں گے :

مفتی محمود مرحوم اور ہم بہاولپور سے ان کی تعزیت کے لئے جب وہاں گئے تو نوجوان تقریر کر رہا تھا پشتو میں … میں پشتو نہیں سمجھتا تھا …

میں نے کہا یہ نوجوان کیا کہہ رہا ہے ۔

ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے امیر مولانا شمس الدین شہید کی وفات کے بعد یہ نہ سمجھو کہ ہم بیٹھ جائیں گے … ہم بھی ختم نبوت کے لئے آخری قطرہ خون کا بہائیں گے ۔

عورتوں کا جذبہ ایمانی:

نوجوانو عہد کرو کہ ہم بھی مولانا شمس الدین کی طرح ختم نبوت کے لئے آخری قطرہ خون کا بہائیں گے ۔

مجھے اطلاع ملی کہ مولانا کے والد بھی بے ہوش ہیں… مولانا شہید نے شادی کی ہوئی تھی ابھی اولاد نہیں ہوئی تھی میں ادھر گیا دل میں سوچا کہ میں انہیں کیسے تسلی دوں میں نے کہا شہید کے گھرانے والو!

تعزیت کے لئے نہیں آیا ۔ میں تمہیں مبارک دینے کے لئے آیا ہوں اس شمس الدین کو خدا نے ایک دن میں تین شہادتیں نصیب کی ہیں ۔

دین کے لئے قتل ہوا ۔

زاور سفر میں قتل ہوا ۔

زاور ناگہانی موت آئی ۔

ان کی والدہ کھڑے ہو کے کہنے لگی … جب قرآن مجید پڑھ کر خان پور سے آیا تھااس نے کہا کہ میں وعدہ کر کے آیا ہوں … ختم نبوت کے لئے آخری قطرہ خون کا بہائوں گا… کہنے لگی یہ تو ایک بچہ ہے ہم تو ہزاروں بچوں کو ختم نبوت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ سب عورتیں بھی برابر نہیں ۔ سب جوان بھی برابر نہیں ،میں ان نوجوانوں کو پھر کہتا ہوں شمس الدین کی طرح تم بھی کھڑے ہو کے کہو ہم مرزائیوں کے مقابلے میں ختم نبوت کے لئے آخری قطرہ خون کا بہانے کے لئے تیار ہیں ۔

نبی ۖ کی پسند:

شان والے نبیۖ اپنے صحابہ کرام موجود تھے وہ منظر عجیب تھاجیسے چاند ستاروں میں ،مرشد مریدوں میں ،استاد شاگردوں میں ۔

حضورۖ نے فرمایا اے مہاجرین انصار! میں نے زندگی گزاری ہے تمہاری دنیا میں … میں پوچھتا ہوں دنیا میں تمہیں کون سی چیزیں پسند ہیں ۔

حضرت ابوبکر صدیق کہنے لگے حضرت ! آ پ امام ہیں پہلے آپ بتلائیں پھر ہم بھی بتلائیں گے ۔ فرمانے لگے تمہاری دنیا سے مجھے تین چیزیں پسند ہیں ۔

پہلی چیز الطیب … خوشبو ۔

دوسری چیز والمرا ئة الصالحة … نیک عورت۔

تیسری چیز … وقرة عینی فی الصلٰوة ،، نماز۔

میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔

نمازیں پانچ وقت پڑھا کرو ۔

مشکلیں آسان کرنے والی نماز ہے ۔

جنت میں پہچانے والی نماز ہے ۔

جہنم سے بچانے والی نماز ہے ۔

بس اسی پر بات ختم کرتا ہو ں۔

و اٰخر دعوانا عن الحمد للہ رب العالمین

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.