hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

لوگوٍ!ہم یتیم ہوگئے

لوگوٍ!ہم یتیم ہوگئے

حافظ محمد حنیف سہارنپوری

مدیر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

۲۸اگست ۱۹۹۴ء کی صبح فون کی گھنٹی بجی ۔مدرسہ کے مدرس صاحبزادہ قاری محمد سالک رحیمی نے فون سنا جوکہ جامعہ انوار القرآن کراچی کی طرف سے تھا

لوگوٍ!ہم یتیم ہوگئے

حافظ محمد حنیف سہارنپوری

مدیر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

۲۸اگست ۱۹۹۴ء کی صبح فون کی گھنٹی بجی ۔مدرسہ کے مدرس صاحبزادہ قاری محمد سالک رحیمی نے فون سنا جوکہ جامعہ انوار القرآن کراچی کی طرف سے تھا ۔حافظ الحدیث شیخ التفسیر فون کرنے والے صاحب نے یہ المناک خبر سنائی کہ جمعت علماء اسلام کے امیر مرکزیہ شیخ وقت ولی کامل حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی آج صبح چھ بجے ذکر الٰہی کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس افسوس ناک خبر کی اطلاع عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا محمدعلی صدیقی نے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒنائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کودی ۔حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒنے دفتر ختم نبوت تشریف لاکر مولانا جمیل خان ،مولانا محمد علی صدیقی اور اپنے صاحبزادے حافظ عتیق الرحمان لدھیانوی کوحضرت درخواستی کے جنازہ میں شرکت کرنے کاحکم فرمایا ۔یہ قافلہ سپر ایکسپریس سے سوا پانچ بجے خان پور کے لئے روانہ ہوا اور ۲۹اگست کی صبح پانچ بجے خان پور اسٹیشن پر اترا ۔اترتے ہی ریلوے سٹیشن کی مسجد سے آواز گونجی حضرات ایک اعلان سنئے اور یہ اعلان حضر ت کی وفات اور نماز جنازہ کے وقت کا تھا ۔گو تمام حضرات حضرت درخواستی کی وفات کی خبر سن کر خان پور پہنچے تھے لیکن جیسے ہی اس اعلان کی آواز کانوں میں پڑی تو تمام سننے والوں کی انکھیں آنسوؤں سے تر ہوگئیں جو کیفیت وفات کی اطلاع سننے کے بعد ہوئی تھی ایک بار پھر لوٹ آئی ۔تمام لوگ اپنے محبوب امیر ومرشد کا آخری دیدار کرنے کے لئے مدرسہ جامعہ مخزن العلوم کی طر ف رواں دواں تھے ۔جب مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفدوہاں پہنچا تو مدرسہ جامعہ مخزن العلوم اورمسجد اپنے محبوب استاد امیر ومرشد کی آخری زیارت کرنے والوں سےکچھا کھچ بھری ہوئی تھی ۔ایک طرف لمبی لائن لگی ہوئی تھی عوام الناس حضرت کا آخری دیدار کررہے تھے جوبھی آدمی دیدار کرکے نکل رہا تھا ایک ہی جملہ اس کی زبان پر جاری تھا کہ آج علم وعرفان کا سورج غروب ہوگیا اور پاکستان کے علماء بلکہ پوری دنیا کے علماء بےا ٓسراہوگئے ۔ہرکوئی حضرت کا آخری دیدار کررہا تھا اور حضرت درخواستی بڑی میٹھی نیند میں دنیا کی تمام حرکات وسکنات سے بے خبر سوئے ہوئے تھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اپنے دیدار کرنے والوں کو کہہ رہے ہوں کہ لوگو دنیا اور آخرت کی کامیابی صرف اور صرف اللہ تعالی نے اپنے دین میں رکھی ہے اوریہ پیٖغام دے رہے تھے کہ اگر نجات چاہتے ہوتو اس ملک پاکستان میں جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا اور اس میں آج تک آنے والے حکمرانوں نے اسلام کا نفاذ نہیں کیا بلکہ دھوکہ دیتے چلے آرہے ہیں ۔نام اسلام کا لیتے ہیں کہلاتے مسلمان ہیں لیکن ظفراللہ خان قادیانی کو وزیر خارجہ بنایا اور ڈاکٹر عبدالسلام جیسے ٖغدار اسلام اور غدار وطن سائنسدان کو مسلمان مانتے ہیں نام اسلام کا لیتے ہیں اور فوج وسول کے اعلی سرکاری عہدوں پر قادیانی بٹھائے ہوئے ہیں اس ملک میں نفاذ اسلام اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بھر پور کوشش کرو گے تو کامیابی ہوگی ورنہ دنیا میں بھی اورقیامت کے دن بھی رسوائی ہوگی

نمازجنازہ میں شرکت کے لئے پورے پاکستان سے علماء کرام مذہبی وسیاسی رہنماجن میں حضرت مولانا فضل الرحمان بن مولانا مفتی محمود،حضرت مولانا سمیع الحق ،حافظ حسین احمد،مولانا اعظم طارق ،بزرگ حضرات میں مولانا مسعود احمد دین پوری ودیگر بزرگ حضرات جید علماء کرام مولانا محمد اجمل خان ،مولانا میاں اجمل قادری ،یادگار اسلاف قاری محمد امین ممبر شوری مجلس تحفظ ختم نبوت ،قاری محمد اخلاق مدنی لیکچرار فیصل مسجد اسلام آباد ،مولانا محمودالحسن توحیدی فیصل آباد،مولانا حسین علی توحیدی ،مولانا عبدالغفار غفاری ،قاری محمد فاروق،مولانا محمد عبداللہ بھکر ،مولانا صفی اللہ ،حافظ ممتاز علی ،مولانا محمد صدیق ،مولانا عبدالہادی ،مولانا مفتی حفیظ بھکر ،مولانا قاری نذیر ،مولانا عبداللطیف شاہ کوٹ،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یعقوب ربانی فاروق آباد ،مولانا عبدالغفور حقانی ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا مفتی جمیل خان ،مولانا محمد علی صدیقی ،حافظ عتق الرحمان لدھیانوی کراچی،مولانا محمد بشیر احمد ،مولانا حافظ احمد بخش ،مولانا اسحاق ساقی ،مولانا امام الدین وٹو،مولانا عبدالرزاق ،مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ،مولانا مفتی نعیم ،مولانا غلام رسول ،مولانا فیض اللہ آزاد ،مولانا سیف اللہ ربانی ،مولانا عزیز الرحما ن رحمانی بن مفتی احمدالرحمان اور حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کے مریدین ،شاگردان اور جمیعت علماء اسلام کے قائدین اور کارکنان شامل تھے ۔

پونے آٹھ بجے مدرسہ جامعہ مخزن العلوم سے جنازہ اٹھایا گیا ۔حضرت کے جسد اطہر پر جمعیت علماء اسلام کا پرچم تھا جس کو حضرت درخواستی نے پرچم نبوی احادیث سے ثابت کیا کرتے تھے اور چارپائی کے دائیں طرگ جمعیت علماء اسلام کا پرچم لہرا رہا تھا ۔مخزن العلوم سےجب حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی چارپائی اٹھائی گئی تو جس پر لمبے لمبے بانس باندھ دئیے تھے تو شرکا ء کی سسکیاں اور چیخیں نکل گیئں ۔ہر ایک دیوانہ وار حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی چارپائی کو کندھا دینے کے لئے بے چین تھا اور جنازہ گورئمنٹ کالج کے گراؤنڈ کی طرف رواں دواں تھا ۔تقریبا دوکلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد جنازہ گورئمنٹ کالج کے گراونڈ میں پہنچا تو اسکول کے میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی تاحد نظر غمزدہ لوگوں کے سرہی سر نظر آرہے تھے ۔پور اخان پور شہر حضرت عبداللہ درخواستی کے وصال کے افسوس میں بغیر کسی تحریک اور اعلان کے بند تھا اور جب آپ کی تدفین نہیں ہوئی سارا شہر بند رہا ۔لاؤڈ اسپیکر پر آواز بلند ہوئی صفیں درست کرلیں اور ایک اعلان سنیں ۔مائیک پر اعلان ہو ا کہ حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کے جانشین حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی دامت برکاتہم ہوں گے اور مدرسہ کے مہتمم مولانا فضل الرحمان درخواستی ہوں گے ۔دونوں حضرت کے صاحبزادے ہیں ۔حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کے آٹھ صاحبزادے ہیں ۔ماشاء اللہ دین کی خدمت میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی یہ اعلان ہو ا کہ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ خود مولانا فضل الرحمان درخواستی پڑھائیں گے اس کے بعد مولانا محمد اجمل خان قائم امیر کی تقریر کا اعلان ہوا

مولانا اجمل خان بمشکل یہ کہہ پائے تھے کہ لوگو ہم یتیم ہوگئے ۔گورئمنٹ کالج کا میدان ایک بار پھر سسکیو ں سے گونج اٹھا اور اکثر شرکاء جو اپنے آپ کو ضبط کئے ہوئے تھے ان کے بندھن ٹوٹ گئے ۔مولانا اجمل خان نے اپنے مخصوص انداز میں حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ان سے پہلے مولانا فضل الرحمان ،مولانا سمیع الحق اور دیگر مقررین نے حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کو اپنے لئے ہی نہیں بلکہ پوری امت کے لئے ایک المناک واقعہ قرار دیا۔ساڑھے آٹھ بجے حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔پہلی صف میں مولانا فضل الرحمان ،مولانا سراج احمد دین پوری ،مولانا مسعود احمد دین پوری ،مولانا سمیع الحق ،مولانا محمد اعظم طارق،مولانا ضیاء القاسمی ،وفاقی وزیر امور جناب افضل خان اوردیگر راہنماء شامل تھے ۔یہ اعلان بھی کیا گیا کہ حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کو بستی دین پور شریف میں دفن کیا جائے گا اور وہاں حضرت کی دوبارہ نماز جنازہ ہوگی نماز جنازہ مولانا فداء الرحمان درخواستی دامت برکاتہم پڑھائیں گے ۔حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی دامت برکاتہم عمرے کے سفر پر تھے ان کو وہاں اطلاع دی گئی کافی دیر دین پور شریف میں انتظار کیا گیا لیکن جہاز لیٹ ہونے کے سبب مولانا اپنے والد ماجد کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر سکے ۔یاد رہے کہ بستی دین پور شریف علماء دیوبند کا مرکز ہے ۔یہاں پر حضرت مولانا خلیفہ غلام محمددین پوری ،حضرت مولانا عبیداللہ سندھی ،حضرت مولانا عبدالہادی رحمہم اللہ کی خانقاہ ہے اور اس بستی کو تما م دینی تحریکات میں خواہ تحریک ریشمی رومال ،خواہ تحریک ختم نبوت ۱ٍ۹۸۴،۱۹۷۴،۱۹۵۳ہو یا تحریک نظام مصطفی اس بستی دین پور شریف نے اہم کردار ادا کیا ۔خان پور سے حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ پڑھ کر دین پور شریف کی طرف روانہ ہوئے ۔حضرت درخواستی کے مریدین کارکن جنازہ کے ساتھ پیدل تقریبا تین کلو میٹر سفر طے کرکے دین پور شریف بستی پہنچے تو تمام گھر غمزدہ مہمانوں کے مہمان خانہ بن گئے ۔خصوصا حضرت مولانا سراج احمد دین پوری اورمولانا میاں مسعوداحمد دین پوری کا گھر ۔حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کو دین پور شریف میں حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوری،مولانا عبدالہادی رحمہم اللہ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔اس قبرستان میں جہاں حضرت مولانا حلیفہ غلام محمد ،مولانا عبدالہادی رحمہم اللہ آرام فرما رہے ہیں وہاں مولانا عبیداللہ سندھی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر چہارم حضرت مولانا لال حسین اختر،مولانا عبدالشکور دین پوری،اور دیگر جید علماء کرام آرام فرما رہے ہیں ،سچ تو یہ ہے کہ یہ تمام واقعات حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کا آخری دیدار ،حضرت کے جنازہ کے ساتھ سفر ،گورئمنٹ کالج کے میدان تک پھر نماز جنازہ میں شرکت اور پھر دین پور تک سفر اور دین پور شریف کے عظیم قبرستان میں اپنے ہاتھوں سے حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی قبر پر مٹی ڈالنا اپنی نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود بھی دل نہیں مان رہا کہ حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ ہمیں تنہا چھوڑ کر اس منزل کی طرف عازم سفر ہوگئے جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی حضرت درخواستی ؒکو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں بزرگوں کی قدر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور جمعیت علماء اسلام جو ملک میں نفاذ اسلام کے لئے کوشاں ہے ان کوہمت اور اتحاد نصیب فرمائے ۔(آمین)

Leave A Reply

Your email address will not be published.