hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

کہیں سے ڈھونڈ کے لادوانہی زمانوں کو

کہیں سے ڈھونڈ کے لادوانہی زمانوں کو

حضرت حافظ الحدیث کے کی بابرکت صحبت میں گزرے ہوئے لمحوں کی روداد

حفیظ رضاپسروری

٢٢جنوری ١٩٨٥ئ:

نماز مغرب سے فارغ ہواتوٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ میں ظفر اقبال خان ایڈووکیٹ بول رہاہوں ، حفیظ صاحب ہیں ؟جی میں حفیظ رضاعرض کررہاہوں ۔ السلام علیکم :

فرمانے لگے حضرت درخواستی تشریف لائے ہیں اوردستگیر بھائی کے ہاں آپ کویاد فرمارہے ہیں ۔ ظفر صاحب !میں تھوڑی دیر میں حاضرہوتاہو ں ۔ حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی عالم اسلام کی وہ واحد شخصیت ہیں ، (افسوس کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے )جوحافظ الحدیث ہیں ۔ آپ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ کے محبوب ترین شاگردوں اورمریدوں میں سے ہیں ۔

کہیں سے ڈھونڈ کے لادوانہی زمانوں کو

حضرت حافظ الحدیث کے کی بابرکت صحبت میں گزرے ہوئے لمحوں کی روداد

٭…حفیظ رضاپسروری

٢٢جنوری ١٩٨٥ئ:

نماز مغرب سے فارغ ہواتوٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ میں ظفر اقبال خان ایڈووکیٹ بول رہاہوں ، حفیظ صاحب ہیں ؟جی میں حفیظ رضاعرض کررہاہوں ۔ السلام علیکم :

فرمانے لگے حضرت درخواستی تشریف لائے ہیں اوردستگیر بھائی کے ہاں آپ کویاد فرمارہے ہیں ۔ ظفر صاحب !میں تھوڑی دیر میں حاضرہوتاہو ں ۔ حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی عالم اسلام کی وہ واحد شخصیت ہیں ، (افسوس کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے )جوحافظ الحدیث ہیں ۔ آپ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ کے محبوب ترین شاگردوں اورمریدوں میں سے ہیں ۔  آپ کے ہزاروں شاگرآپ س دورئہ حدیث اورتفسیر قرآن مجید مکمل کرکے افریقی ، عربی ممالک ،بنگلہ دیش ، افغانستان اوربرصغیر میں علم کی شمع جلارہے ہیں ، آپ کاروحانی اورعلمی مرتبہ بہت بلندہے اورمجھے ان سے بیعت کاشرف حاصل ہے اورمیری بشری کمزوریوں کے باوجود حضرت درخواستی مجھے اپنی بابرکت دعائوں میں یادرکھتے ہیں ۔ حضرت درخوستی رحمة اللہ علیہ کے والد محترم حافظ محمود الدین صاحب رحمة اللہ علیہ اپنے عہدکے ممتاز عالماورحفاظ میں سے تھے ، ساری عمر ہزاروں حفاظ ان کے ہاں سے فارغ ہوئے ، صبح سے رات تک قرآن مجید پڑھتے اورپڑھاتے تھے اوریہ وہ اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل میں کرتے تھے ۔ سحور سے شروع ہوتے تھے اوررات گئے تک پڑھاتے رہتے تھے ۔

حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی وفات سے لے کراب تک حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ جمعیت علماء اسلام کے امیر مرکزیہ ہیں ۔ ایک مرتبہ میں حضرت رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوا، وہ اپنے کمرے میں اکیلے تھے مجھ سے حال احوال پوچھا اوردعائوں سے نوازا ۔ فرمانے لگے کہ اب وہ عمر ہ کے لئے روانہ ہوجائیں گے اورچاہتے تھے کہ مدینہ منورہ میں زندگی کاباقی حصہ گزاردیں مگرحضورنبی کریم ۖ نے قیام کے لئے پاکستان میں ہی رہنے کاحکم دیااورفرمایاکہ آپ اپناعلمی ، تبلیغی اورتدریسی سلسلہ پاکستان میں جاری رکھیں ، اس لئے حکم نبوی ۖ کی تعمیل میں یہاں کام کررہاہوں ، آج منچن آباد روانگی ہوگی ۔

حضرت مدظلہ کاروان علماء حق کے آخری حدی خوانوں میں سے ہیں ، سلف صالحین کی واحد یادگارہیں جواللہ تعالیٰ نے کمال فیاضی سے پاکستان اورعالم اسلام کوعطافرمائی ہے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ عالم اسلام کے ممتازمحدث ہیں اورآپ کادرس حدیث ایسی رقت کاسماں پیداکردیتاہے کہ حاضرین وسامعین کی تقدیریں بدل جاتی ہیں ۔ آپ ایک دفعہ نمازفجر کے بعد حرم شریف مکہ معظمہ میں درس حدیث دے رہے تھے توسامعین میں ایک اسلام ملک کے مفتی اعظم بھی موجود تھے ۔ حضرت درخواستی کے درس میں احادیث نبوی ۖ کانزول باران رحمت کی طرح ہورہاتھااورسننے والوں کے آنسوئوں کاسیلاب امڈآیاتھاجب درس ختم ہواتومفتی اعظمموصوف نے حضرت رحمة اللہ علیہ سے مخاطب ہوکرکہا :

”یاشیخ !ہم سمجھتے ہیں کہ علم عرب میں ہے لیکن آج پتہ چلاکہ علم عجم میں بھی ہے ۔”

حضرت درخواستی نے پوچھا۔”آپ کاتعارف؟”

انہوں نے کہاکہ میں مصرکامفتی اعظم ہوں ۔

حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا”آپ نے اس منصب جلیلہ پرفائز ہوکربھی داڑھی نہیں رکھی ؟”مفتی اعظم نے جواب دیا۔ ”یاشیخ ایمان دل میں ہوتاہے ۔”

یہ سن کرحضرت رحمة اللہ علیہ اپنی جلالی کیفیت میں آگئے فرمانے لگے

”اگرایمان دل میں ہوتاہے توپھرشرم اورحیابھی دل میں ہوتی ہے ،

کپڑوں میں نہیں ، یہ کپڑے اتاردو کیوں پہن رکھے ہیں ۔ ”

 

حضرت کے اس مثبت جواب سے موصوف بہت پریشان اورشرمندہ ہوئے ۔ غیرت کوتاہی اورغلطی محسوس کی اوراسی مجلس سے داڑھی رکھ لینے کافیصلہ کرگئے ۔

میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں عشاء تک بیٹھارہا ،پہلی بار یہ ملاقات طویل بھی تھی اورذریعہ فیوض وبرکات بھی تھی ، کچھ راز ونیاز کی کیفیت بھی لئے ہوئے تھی ۔ میں نے عرض کیاکہ کہ کچھ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ کے متعلق ارشاد فرمائیں ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ ولایت کے اعلیٰ مقام پرفائز تھے اورحق پرست گروہ کے روحانی رہنماتھے ، ان کے متعلق ایک دفعہ حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ نے فرمایاتھا:

”ہرولی کی ولایت کی کوئی دلیل ہوتی ہے مگرحضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ کاچہرہ دیکھنے کے بعدکسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی ۔”

فرمانے لگے ایک دفعہ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ اپنے مریدوں کی دعوت پرڈیرہ غازی خان تشریف لے گئے ، جمعہ کے بعد وہاں کے ایک مشہور اوربااثر زمیندار سید جندوڈا شاہ حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے اورحضرت کے چہرہ مبارک کی تاب نہ لاسکے اوراسی مجلس میں اس نے حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ سے بیعت کرلی ۔ علاقہ میں یہ خبرعام ہوگئی اورجند وڈاشاہ کے لواحقین اعتراض کرنے لگے کہ ایک سید نے امتی کی بیعت کرلی ہے اوراس طرح سادات کی توہین کی ہے ۔ کسی نے جاکراس کاذکر حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ سے کیاتوحضرت نے فرمایا:

”بھائی !اگرکسی بادشاہ کاہیراگم ہوجائے اورپتہ چلے کہ کسی کمہاریاجولاہے کے گھر میں ہے اوربادشاہ اسے لینے کے لئے وہاں چلاجائے تواس میں توہین کی کیابات ہوئی ؟ اسلام سادات کی دولت تھا، جب انہوں نے اس سے غفلت برتی اوروہ میرے گھرمیں ہے ۔ اب وہ اپنی متاع گمشدہ کولینے میرے گھرآگیاتوکیاتوہین ہوگئی ؟ ۔ اللہ اکبر

اولیاء اللہ علماء حق ، محدثین فقہاء علماء ربانین کے چہروں کی بات ہوئی توفرمانے لگے کہ ایسے کئی واقعات ہیںکہ غیرمسلم ہمارے اسلاف کے چہروں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آگئے ۔ اس سلسلہ میں فرمانے لگے کہ ١٩٢٩ء میں برصغیر کے ممتاز محدث حضرت علامہ سیدانورشاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ ایک دینی مدرسہ کے جلسہ میں شرکت کیلئے مظفرگڑھ تشریفلائے ۔ جلسہ کے اختتام کے بعدرات کے آخری حصہ میں ، مظفرگڑھ سے روانہ ہونے والی رات ٣بجے کی گاڑی کے لئے اسٹیشن پرتشریف لے آئے ، وہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پربیٹھے تھے اوران کاچہرہ نورایمانی سے منور تھا۔ اسٹیشن کاہندواسٹیشن ماسٹرہاتھ میں بتی لئے وہاں گھوم رہاتھا، اس نے جب ان کاچمکتادمکتاچہرہ دیکھاتووہیں بیٹھ گیااورکہنے لگا:

”یہ چہرہ کسی اوتارکاہوسکتاہے ”

فوراًاس نے حضرت رحمة اللہ علیہ کے دست حق پرست پراسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ کاچہرہ دیکھ کررپورٹر لدھارام مسلمان ہوگیاتھاجوبرصغیر کی تاریخ حریت کامشہورواقعہ ہے ۔ فرمانے لگے کہ ایسے کئی واقعات حضرت قطب العالم مولاناتاج محمود امروٹی رحمة اللہ علیہ حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کے مرشد کے ساتھ بھی ہوئے کہ کئی غیرمسلم ان کودیکھ کر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تھے ۔ مجھے فرمانے لگے کہ آپ کاتعلق ہونے کے سبب آپ کویاد ہوگاکہ شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کی شخصیت اورچہرہ ہی قاضی احسان احمدشجاع آبادی ، مولاناحبیب الرحمن ، شیخ حسام الدین رحمہم اللہ تعالیٰ اورکئی دیگر احراری رہنمائوں کی مجلس احرار میں شرکت کاباعث بنا۔ ایسے ہی کئی واقعات حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی باکمال شخصیت سے وابستہ ہیں۔ فرمانے لگے کہ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ اکثرفرمایاکرتے تھے :

٭اس فقیر کافقرکمال تک پہنچے گاجوغیر کے درپرنہیں جاتا۔

٭شیخ جس مقام میں ہے مولویوں کاوہاں گزرنہیں ، شیخ فنافی الرسول ۖ کے مقاممیں ہے ۔

٭شیخ کامقام بہت اونچاہے ۔

ایک مرتبہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ صوبہ سرحد کے دورہ سے واپس تشریف لائے تونماز فجر کے بعد بھائی ظفر خان سینئر ایڈووکیٹ کے ساتھ غریب خانہ پرتشریف لائے ، حضرت گزشتہ اس عاجز پربہت شفقت اورتوجہ فرماتے حالانکہ اپنی کوتاہیوں کے سبب میں اس کااہل نہیں اورمیراحال حضرت علامہ انورصابری رحمة اللہ علیہ کے اس شعرکامصداق ہے

تیرے کرم کی بات ہے ساقی

میری کیا اوقات ہے ساقی

حضرت نے تعویذ خیروبرکت کے لئے عطاء فرمایا۔ یہ تعویذ حضرت نے اس عاجز کے لئے مدینہ منورہ میں لکھاتھا۔ (سبحان اللہ ) ایک تسبیح میرے لئے اورایک اہلیہ کے لئے عطافرمائی ۔ مختصر ساناشتہ فرمایا، اس اثناء میں چند اوراحباب بھی آگئے اورحضرت رحمة اللہ علیہ نے احادیث نبویﷺکی روشنی میں مختصر خطاب اوردعافرماتے ہوئے دس رہنمااصول اپنی زندگیوں میں اپنانے کی تاکید فرمائی ۔

دس رہنمااصول:

٭ایمان باللہ ٭ایمان واتباع رسول ۖ کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت

(١) اصلاح عقائد (٢) التزام العبادت (٣) التزام التوکل علی اللہ (٤) التزام دعوت الی الخیر (٥) التزام اتباع کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ۖ (٦)التزام تعظیم شعائراللہ ”بیت اللہ ، رسولۖ ، کتاب اللہ ، صلوٰة اللہ ”(٧)التزام الرفات اولیاء الرحمن (٨)التزام اجتناب من اولیاء الشیطان (٩) التزام الدعاء الی اللہ (١٠)عقیدہ تحفظ ختم نبوت ، عصمت وعظمت اصحاب رسول ۖ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ جب بمع جماعت دورہ پرتشریف لے جاتے توراستے میں بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھتے جاتے ۔ ایک بار میں نے عرض کیاکہ حضرت اگروظیفہ کرنامقصود ہے توآپ زیرلب بھی فرماسکتے ہیں ۔ فرمایاکہ بیچنے والے اپنامال فروخت کرنے کے لئے ہمیشہ اونچی آواز ہی لگایاکرتے ہیں ۔ میرے پاس یہی سوداہے ، اس لئے شاید راستے میں کسی کواس کی ضرورت پڑجائے اوروہ مجھ سے لے لے ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کے اس طرز عمل سے سینکڑوں غیرمسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔

جزاکم اللہ احسن الجزاء

 

اللہ کااحسان ہے کہ علالت کے باوجود حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ اوراکابرین کے تذکرہ کی توفیق ملی ، خداکرے اس کی برکت سے اس عاجز کواگراللہ کومنظورہوتوصحت عطاہواوربزرگان دین کی تذکرہ نویسی کی سعادت حاصل ہوتی رہے ۔ دعائوں کامحتاج ہوں ۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی رحلت سے ہم نہ صرف تنہارہ گئے ہیں بلکہ علمی اورروحانی طورپریتیم ہوگئے ہیں ، یہ نظام مشیت ہے اوراس پرصبر کے سواکوئی چارہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کے مراتب کوبلندفرمائے۔ آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.