hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

لوگوں نے ہرچیز میں اختلاف کیا۔ اپنی اپنی رائے رکھی۔ نظریہ علیحدہ خیال جدا راہ مختلف پر چلے۔ بلکہ ذات خدا میں بھی اتفاق نہ ہوسکا۔

دوخدا یہودیوں نے تصوردیا ، نصرانی تین خدا کے قائل ہوئے ، ایران نے خیروشر کے خدا منوائے ، مشریکن عرب۳۶۰خدا کے قائل ہوئے ہندوں نے ٣٣ کروڑ دیوتائوں کے پجاری نظر آتے ہیں۔ ہمہ اوست ہمہ ازوست کی تقسیم کی گئی ۔ لا شریک خدا مشرک بن گئے ۔

اسی طرح مذاہب میں تفریق اعتقاد کا جھگڑا ، تصور میں انتشار ، نبوت میںاختلاف کیا ، سچانبی جھوٹا نبی ، ظلی نبی بروزی نبی ، اصلی نبی نقلی نبی ، ایک نبی دو نبی ، گھر گھر نبی مدینہ نبی ، اسلام کفر ، توحید شرک ، حق و باطل ، سچ و جھوٹ کے پلیٹ فارم بن گئے۔

پھر عجیب تصورات دئیے۔ حاضروناظر ، عالم الغیب ، نوروبشر ، عالم ماکان مایکون ، نبی مختارکل ، حیات النبی ممات النبی ، ایک طوفان کھڑا ہوا۔ استغفراللہ

کتابیں تحریر ہونے لگیں ، پلیٹ فارم بن گئے ، مختلف جماعتیں نظر آنے لگیں، آپس میں مناظرے ، مجادلے ، مباہلے ، مکالمے ، کفر کے فتوے ، مسجد ، مدرسہ ، کلمہ ، اذان ، ایمان ، فرمان میں اختلاف ہوا۔ صحابہ کرامؓ، آلؓ رسول کے متعلق جداجدا نظریات رکھے گئے۔ صرف موت ہے جس میں کسی مذہب کسی فرقے کو اختلاف نہیں ہے۔ موحد مشرک ، مسلمان کافر ، امیر غریب ، حسین وبدصورت ، مرد عورت ، عرب وعجم ، مغرب ومشرق ، صغیر وکبیر ، حاکم ومحکوم ، عالم جاہل ، دوست دشمن سب متفق ہیں کہ موت برحق ہے۔ یقینا قبر کا مہمان ہوگا۔ جو دنیا میں آیا قبر کی طرف ایک دن جائے گا۔ تندرست بیمار ، خوردوکلاں ، شاہ وگدا ، عالم وجاہل ، سب اس دار فانی سے عالم بقاء کو روانہ ہوں گے۔ ناتواں پہلوان سب کوچ کریں گے۔

 

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

پیش لفظ

میری انتہائے نگارش یہی ہے

تیرے نام سے ابتدا کررہا ہوں

لوگوں نے ہرچیز میں اختلاف کیا۔ اپنی اپنی رائے رکھی۔ نظریہ علیحدہ خیال جدا راہ مختلف پر چلے۔ بلکہ ذات خدا میںبھی اتفاق نہ ہوسکا۔

دوخدا یہودیوں نے تصوردیا ، نصرانی تین خدا کے قائل ہوئے ، ایران نے خیروشر کے خدا منوائے ، مشریکن عرب۳۶۰خدا کے قائل ہوئے ہندوں نے ٣٣ کروڑ دیوتائوں کے پجاری نظر آتے ہیں۔ ہمہ اوست ہمہ ازوست کی تقسیم کی گئی ۔ لا شریک خدا مشرک بن گئے ۔

اسی طرح مذاہب میں تفریق اعتقاد کا جھگڑا ، تصور میں انتشار ، نبوت میںاختلاف کیا ، سچانبی جھوٹا نبی ، ظلی نبی بروزی نبی ، اصلی نبی نقلی نبی ، ایک نبی دو نبی ، گھر گھر نبی مدینہ نبی ، اسلام کفر ، توحید شرک ، حق و باطل ، سچ و جھوٹ کے پلیٹ فارم بن گئے۔

پھر عجیب تصورات دئیے۔ حاضروناظر ، عالم الغیب ، نوروبشر ، عالم ماکان مایکون ، نبی مختارکل ، حیات النبی ممات النبی ، ایک طوفان کھڑا ہوا۔ استغفراللہ

کتابیں تحریر ہونے لگیں ، پلیٹ فارم بن گئے ، مختلف جماعتیں نظر آنے لگیں، آپس میںمناظرے ، مجادلے ، مباہلے ، مکالمے ، کفر کے فتوے ، مسجد ، مدرسہ ، کلمہ ، اذان ، ایمان ، فرمان میں اختلاف ہوا۔ صحابہ کرامؓ، آلؓ رسول کے متعلق جداجدا نظریات رکھے گئے۔ صرف موت ہے جس میں کسی مذہب کسی فرقے کو اختلاف نہیں ہے۔ موحد مشرک ، مسلمان کافر ، امیر غریب ، حسین وبدصورت ، مرد عورت ، عرب وعجم ، مغرب ومشرق ، صغیر وکبیر ، حاکم ومحکوم ، عالم جاہل ، دوست دشمن سب متفق ہیں کہ موت برحق ہے۔ یقینا قبر کا مہمان ہوگا۔ جو دنیا میں آیا قبر کی طرف ایک دن جائے گا۔ تندرست بیمار ، خوردوکلاں ، شاہ وگدا ، عالم وجاہل ، سب اس دار فانی سے عالم بقاء کو روانہ ہوں گے۔ ناتواں پہلوان سب کوچ کریں گے۔

نہ آیا جو کہ باقی رہا

نہ ساغر رہا نہ ساقی رہا

اس لئے فکر آخرت ، ذکر موت پر میںنے قلم اٹھایا کہ ہر انسان ایک حقیقت اور اٹل بے بدل چیز کا تصور حقیقی رکھے۔ چند نصائح ، پندوموعظتکی حکایات ، بزرگان کیکلمات ، سچے واقعات ، موت کے حالات ، قرآنی آیات ، نبوی ارشادات کا مجموعہ تیار کیا۔ شاید وباید کوئی اہل دل اس سے نصیحت حاصل کرے اور آخرت کے لئے کوئی سامان ایمان ، ایقان ، قرآن ، نبی آخر الزمان کا فرمان بن جائے ۔ اللہ اور اس کا رسول راضی ہوجائے اللہ کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہوجائے ، سچی بات پر یقین کرے ، قبروحشر میں نجات ہوجائے۔

توفنی مسلمان والحقنی بالصالحین

محمد عبدالشکور دین پوری

Leave A Reply

Your email address will not be published.