hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

تذکرہ موت قرآن میں!

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَافَانٍ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔

جو کوئی زمین میں ہے فنا ہونے والا ہے اور باقی رہے گی ذات تیرے رب کی بزرگی اورعظمت والی۔

کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتٍ کُلُّ شَیْئیٍ ھَالِک اِلَّا وَجْھَہُ۔

ہر جی کو موت چکھنی ہے۔ ہر چیز فنا ہونے ولای ہے مگر اس کی ذات۔

اَیْنَ مَاتَکُوْنُوْایُدْرِکُکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْکُنْتُمْ فِیْ بُرَوْجٍ مَّشَیَّدَةٍ۔

جہان کہیں بھی تم ہوئے موت تم کو آپکڑے گی۔ اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔

خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَوٰةَ لِیَبْلَوْکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنَ عَمَلاً۔

موت و حیات کو پیدا کیا۔ تاکہ جانچے تم میں کون اچھا کام کرتا ہے۔

قُلْ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنَسَکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

تو کہہ میری نماز میری قربانی میرا جینا میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فِاِنَّہُ مُلٰقِیْکُمْ ۔

تو کہہ موت جس سے تم بھاگتے ہو۔ وہ ضرور تم کو ملنے والی ہے۔

تذکرہ موت پیغمبر کے فرمان میں!

اکثر واذکر ھاذم اللذات قیل وما ھاذم اللذات قال الموت۔ (مشکوٰة)

ترجمہ:جب صبح کرے۔ پس انتظار شام کا نہ کر۔ جب شام کرے۔ تو صبح کا انتظار مت کر اپنے آپ کو مردوں میںشمار کر۔

من مات فقد قامت قیامتہ۔

ترجمہ:لذتوں کو مٹانے والی کو اکثر یاد کیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا۔ لذتوں کو مٹانے والی کیا ہے؟ فرمایا (موت)۔

ان المیت لیعذب ببکاء اھلہ۔

ترجمہ:جو مرگیا۔ اس کے لئے قیامت قائم ہوگئی۔ (ف) اس قیامت سے مراد قیامت صغریٰ ہے۔

اغتنم خمساً قبل خمسٍ شبابک قبل ھر مک وصحتک قبل سقمک وغناء ک قبل فقرک وحیاتک قبل موتک وفراغک قبل شغلک۔

ترجمہ:گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ بشرطیکہ اگر رونے والے کی زبان سے خلاف شرع الفاظ سرزد ہوئے۔

ترجمہ:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھ۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے صحت کو بیماری سے پہلے تونگری کو تنگدسی سے پہلے زندگی کو موت سے پہلے فراغت کو مشغولیت سے پہلے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.