hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

خلفائے راشدین اور تذکرہ موت

قول صدیق اکبرؓ:

کل امرء مصبح فی اھلہ والموت ادنی من شراک نعلہ (بخاری)

ترجمہ: ہر فرد کواپنے اہل میں صبح اچھی گزرنے کی دعا دی جاتی ہے۔ حالانکہ موت جوتی کے تسمہ سے زیادہ قریب ہوتی ہے"۔

قول فاروق اعظمؓ:

کفی بالموت واعظایاعمر۔

ترجمہ:”عمر! واعظ کے طور پر موت ہی کافی ہے”۔

قول ذوالنورینؓ:

ان القبر اول منزل منازل الاخرة۔

ترجمہ:”قبر آخرت کی پہلی منزل ہے”۔

قول علی مرتضیٰؓ:

موت سے بڑھ کر سچی اور امید سے برھ کر جھوٹی کوئی چیز نہیں ہے۔ موت ایک بے خبر ساتھی ہے۔ جب نماز شروع فرماتے ۔ لرزہ براندام ہوجاتے۔فرماتے: ڈرتا ہوں ۔ قبول ہوگی یا نہیں۔

قول ابو بکرؓ:

الظلمات خمس والسرج لھا خمس ء حب الدنیا ظلمة والسراج لہ التقویٰ والذنب ظلمة والسراج لہ التوبة والقبر ظلمة والسراج لھا لا ایلا الا اللہ محمد رسول اللہ والا خرہ ظلمة و السراج لھا العمل الصالح والصراط ظلمة والسراج لہ الیقین۔

ترجمہ:تاریکیاں اوراندھیریاں پانچ قسم کی ہوتی ہیں اوران ظلمتوں کو دور کرنے کے لئے چراغ بھی پانچ قسم کے ہوتے ہیں ۔دنیا کی محبت تاریکی ہے ۔ جس کا چراغ پرہیز گاری ہے (٢)۔ معصیت اور گنہا بھی ایک تاریکی ہے جس کا چراغ توبہ ورجوع الی اللہ ہے۔(٣)۔ گوشہ قبر بھی خانہ تیرہ وتار ہے جس کا چراغ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔(٤)۔ غفلت وخود فراموشی سے آخرت میںبھی تاریکی سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس کا چراغ عمل صالح ہے۔(٥)۔ اور پل صراط بھی ظلمت ہی ہے جس کاچراغ یقین وایمان کامل ہے۔

والسراج لھا الیقین۔

قول علی مرتضیؓ:

ان من نعیم الدنیا یکفیک الاسلام نعمہ وان من اشغال الدنیا یکفیک الطاعہ شغلا وان من العبرة یکفیک الموت عبرة۔

ترجمہ:دنیا کی نعمتوں میں سے تجھے نعمت اسلام کافی ہے۔ دنیا کی مشغویستوں میں سے تجھے مشغولی عبادت کافی ہے۔ دنیا کی عبرتوں میں سے تجھے عبرت موت کافی ہے۔

موت کیا ہے؟

زندگی اور موت کی کشمکش ابتداء سے چلی آرہی ہے۔ زندگی نے دعویٰ کیا کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہوں گی۔ موت نے اس کو باطل کرکے دکھایا۔

کش مکش ہوتی رہی دن رات مرگ وزیست میں

انتہا میں موت جیتی اور ہاری زندگی

زندگی میں انسان نے مکان بنایا کارخانے بنائے۔ دکان بنائی۔ ملیں لگائیں باغات لگائے کوٹھیاں ائیر کنڈیشنڈ تیار کیں محل بنائے آرائش وزیبائش کے سامان تیار کئے۔ بناوٹ سجاوٹ سج دھج دکھایا۔ قلعے تیار کیے اور حفاظتی جنگلے لگائے۔ مگر جب موت نے ڈیرا ڈالا۔ اجاڑکے رکھ دیا رہنے والے مکین چلے گئے۔ گاہک آئے دکاندار روانہ ہوچکا تھا۔ بیوی تھی مگر بیوہ تھی۔ بچے تھے مگر بے سہارا۔ ہنستے ہوئے گھر غمزدہ ہوگئے۔ خوشی غمی میں تبدیل ہوگئی۔ آبادی بربادی میں تبدیل ہوگئی۔ خانہ سرسبز وشاداب خراب ہوگیا۔ اللہ اللہ کتنا ہولناک منظر ہے۔ نومولود چیخ رہا ہے مگر دودھ پلانے والی شفیق ماں دنیاسے چل بسی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.