hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

حکایت:

حضرت ابن منبہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ملک الموت ایک بہت بڑے جابر ظالم کی روح قبض کرکے جارہے تھے۔ فرشتوں نے ان سے پوچھا۔ کہ تم نے ہمیشہ جانیں قبض کیں۔ کبھی کسی پر رحم بھی آیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ ترس اس عورت پر آیا ۔ جو جنگل میں بالکل تنہا تھی۔ جونہی اس کا بچہ پیدا ہوا مجھے اس عورت کی جان قبض کرنے کا حکم ہوا۔ مجھے اس بچہ کی تنہائی پر بڑا ترس آیا کہ جنگل میں جہاں کوئی دوسرا نہیں ہے اس بچے کا کیا بنے گا؟ فرشتوں نے کہا یہ ظالم جس کی روح تم لے جارہے ہو۔ وہی بچہ ہے۔ ملک الموت حیران ہوگئے۔ کہنے لگے مولیٰ تو پاک ہے بڑا مہربان ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کے برعکس دودھ بہہ رہا ہے مگر پینے والا قبر کے اندر چلاگیا۔ ہاں ہاں بادشاہوں کے محلات مضبوط تھے۔ قلعے موجود ہیں۔ مگر اب وہ کھنڈر ہیں۔ خالی ہیں۔ یادگار ہیں۔ آثار قدیمہ ہیں۔ عبرت گاہ ہیں۔ تخت ہے تخت نشین نظر نہیں آتا۔ آرام کرسیان موجود ہیں مگر کرسی نشین مفقود ۔ گاؤ تکیے رہ گئے۔ مگر ٹیک لگا کر آرام کرنے والے چلے گئے۔ اس جہان فانی مٰن بڑے بڑے لوگ آئے : بدکار آئے ، باوقار آئے ، انبیاء ، اولیاء ، صلحاء ، اتقیاء ، امراء ، عقلا ، فصحاء ، بلغاء آئے ، طاقتور بہادر پلوان آئے ، نوجوان آئے ، بادشاہ آئے ، وزیر آئے ، حسین آئے ، نازنین مہ جبین آئے ، سپہ سالارآئے ، شہسوار آئے ، سردار آئے ، مالدار آئے ، نیکو کار آئے ، بدکار آئے ، پدمہا کروڑہا لکھو کھہہ ہزارہا آئے ، تندرست آئے لاچار آئے مگر سب چند دنوں کے مہمان تھے۔ کیسے ہی ذی شان تھے۔ بہادر تھے پہلوان تھے موت نے کسی کو نہیں چھوڑا۔ مغرور کا غرور توڑا ۔ دولت میں قارون ،تکبر میں فرعون ، ظلم میں ہلاکو ، شہ زوری میں رستم ، خوبصورتی میں یوسفؑ، صبر میں ایوبؑ ، درازی عمر میں نوحؑ، جلالی میں موسٰیؑ،عدالت میں عمرؓ،صداقت میں صدیقؓ، سخاوت میں عثمانؓ، شجاعت میںعلیؓ ، شہادت میں حمزہؓ و حسینؓ، فصاحت میں سبحان، عدل وانصاف میںنوشیرواں، حکمت میں لقمان،جود میں حاتم ، موسقی میں تان سین ، عشق میں مجنوں ، شاعری میںانوری ، سعدی ، حافظ ، جامی ، فردوسی اور اقبال ، خاموشی میںزکریاؑ ، گریہ میں یعقوبؑ، رضا جوئی میں ابراہیمؑ، ادب میں اسماعیلؑ، ذہانت میںفیضی ، حکومت میںسلیمانؑ ، فلسفہ میں غزالی، تفسیر میں محمود آلوسی ، حدیث میں بخاری ، دعوت میں نوح ،خونریزی میں چنگیز خاں ، فقہ میں امام ابو حنیفہ، خوش الحانی میں داؤدؑ ، سیاحت میں ابن بطوطہ ، فتح میں سکندر اعظم ، شہادت و صبر میں امام حسینؓ، تصنیف و وعظ میں مولانا اشرف علی تھانوی ، تبلیغ میں مولانا الیاس ، سیاست میں مولانا عبید اللہ سندھی ،میدان خطابت میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مجاہدہ میں حسین احمد مدنی۔

 

عورتیں :ـ

حیاء میںمریم، امتحان میںکامیاب ہاجرہ، ایمان میں بنیان مرصوص آسیہ ، وفا میں خدیجہ،علم میں صدیقہ، صبر میں سمّیہ،سخاوت میں زبیدہ، عفت میںفاطمہ،حدیث میں رفاعیہ مگر یہ بھی قبر کی مہمان بن گئیں۔

تھیں عظیم ہستیاں مگر خالی کرگئیں بستیاں

نہ آیا جو کہ باقی رہا نہ ساغر رہا نہ ساقی رہا

بی بی عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا:

لو کانت الدنیا تدوم لواحد

لکان رسول اللہ فیھا مخلدا

فارسی میں کسی نے کیا عجیب کہا:

اگر کس در جہاں پایندہ بودے

ابوالقاسم محمد زندہ بودے

انسان کیسا احمق بے وقوف ہے۔ کیوں نہ ہو۔ مگر اسے موت کا یقین ہے ۔ موت کا سیاہ بادل ہر وقت سر پر منڈلارہا ہے۔ جہاں موجود ہو ، جس جگہ ہو ایک دن موت کے پنجہ میں گرفتار ہوگا۔ کون ہے جو دعویٰ کرے کہ یہ چیز میری ہے ، مگر ایک موت ہے جو دعویٰ کرسکتی ہے کہ یہ میرا ہے۔ آنے کا ایک راستہ ہے ۔ مگر جانے کے ہزار راستے ہیں۔ دنیا کی زندگی موت پر موقوف ہے۔

رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ

بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ

ہم موت کو بھول جائیں۔ مگر موت نے ہمیں نہیں بھلایا آئے گی ضرور آئے گی۔ یہ شکایت ہی غلط ہے کہ موت اچانک آتی ہے ۔ پہلے مطلع نہیںکرتی۔ ہم روزانہ اپنی آنکھوں سے بچے ، جوان ، بوڑھے اور نوجوان مرتے دیکھتے ہیں ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مرنے کا وقت مقرر ہے۔

 

سبق آموز واقعہ:

قدیم بادشاہوں میں رواج تھا کہ ایک افسر ان کو ہر صبح وشام موت یاد دلایا کرتا تھا۔ جب شاہجہاں کی تاج پوشی ہو رہی تھی۔ راگ رنگ ، ناچ گانے ، راجے مہاراجے ، خوبصورت لونڈیاں ، سپاہ لشکر سب موجود تھے۔ خزانے لٹائے جارہے تھے ۔ اہل اللہ دعا کررہے تھے ۔ فقرا ، گدا مداح سرائی میں مصروف تھے۔ شعراء قصیدے لکھ رہے تھے۔ انتظام و اہتمام دربار عام صبح وشام جاری تھا۔ مرصع مزین شاندار چمکدار موتیوںوالا تاج سرپر تھا۔ آفرین مبارکبادی کے پیغامات اطلاعات ، لگا تار مل رہے تھے۔ خوشی ومسرت وشادمانی میںہر شخص باغ وبہار تھا۔ اچانک ایک فقیر نے بلند آواز سے کہا۔ بادشاہ سلامت ! اتنی خوشی کااظہار کرو جتنی خوشی رہ سکے۔ کل یہ تاج اتارا جائے گا ۔ یہ شاہی ختم ہوجائے گی۔ یہ عیش وعشرت سب کافور ہوجائے گی۔ جو عزت دے سکتا ہے ۔ذلت بھی دے سکتا ہے۔ شاہی دینے ولا تباہی بھی کرسکتا ہے۔ تاج دینے والا اتار بھی سکتا ہے۔ ہزاروں میں رونق افروز ہونے والا کل تنگ وتاریک قبر میںجائے گا ۔ شاہجہان کا چہرہ یکایک فق ہوگیا۔ گردن جھک گئی ، آنکھیں پرنم ہوگئیں ، دماغ چکرا گیا۔ وجود کانپنے لگا۔ فوراً تخت سے اتر کر مٹی پر سر رکھا۔ عاجزی وانکسار ی سے روتے ہوئے عرض کیا۔ کہ مالک زمین و آسمان ، اے حقیقی شاہجہان ، رب دو جہان ، اے رحیم ورحمان ، اے وارث کون ومکان ، میں کمترین انسان شاہجہان پانی کا قطرہ ، لاشی محض ، محتاج فقیر ناتواں ، بندہ حقیر ہوں۔ اے اللہ ! ذلت سے بچانا ، حکومت تیری ہے میں تیرا محکوم ہوں، میں عاجز تو قوی ، میں انسان تو عالی شان ، میں فقیر تو مدبر ، میں فانی تو باقی ، مجھے ناز نہیں نیاز ہے ، تو ہی شرافت دے ، قوم کی خدمت دے ، بادشاہ کی اس مسکینی ، ناتوانی ، بے چینی ، بیقراری اور اضطراری کو دیکھ کو پورے دربار میں سناٹاچھاگیا ۔ تمام خوشیاں ، عیش وعشرت فکر آخرت میں تبدیل ہوگئیں۔ ہر طرف خاموشی چھاگئی۔ تمام پروگرام موقوف ، اذھان مائوف ۔

نمے ترسی ازاں روزے کہ درگورت فروآرند

عزیزاں جملہ باز آیند تو تنہا درلحد مانی

 

حکایت:

ایک بیوہ عورت کا اکلوتا بیٹا فوت ہوگیا۔ بیچاری مامتا کی ماری دربدر پھرتی رہی کہ میرے بچے کا علاج کرو۔ اسے یقین نہ آیا کہ واقعی میرا بیٹا مرگیا ہے ۔ لوگوں نے سمجھایا ، بتایا ، کفن اٹھاکر دکھایا کہ تیرا بچہ موت کی آغوش میں چلا گیا پھر بھی اس مامتا ، غمزدہ ماں کو یقین نہ آیا۔ ایک ولی اللہ کے پاس گئی۔ پوچھا میرا بچہ زندہ ہے یا مردہ؟ اگر مردہ ہے تو زندہ کردو۔ اہل اللہ نے کہا کہ مردہ کو زندہ کرنا رب العالمین کا کام ہے ، اچھا میں زندہ کروں گا۔ بشرطیکہ ایسے گھر سے پانی کا گھڑا بھر کر لادے جہاں کوئی بھی نہ مرا ہو۔ اس نے تمام شہر چھان مارا۔ کالونی اور محلوں میں پھری۔ جھونپڑی ، خیمہ تک پھری۔ مگر سب نے جواب دیا کہ ہر گھر سے جنازہ اٹھا ہے بلکہ زندہ کم ہیں مرے بہت ہیں۔ وہ عورت واپس آئی۔ اسے یقین ہوگیا کہ لڑکا واقعی مرچکا ہے۔ یہ فقط میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ اوروں کے ساتھ یہی صدمہ ہوا ہے۔ پس صبر کے سوا چارہ نہیں۔

حکایت:

ہارون الرشید کا شہزادہ ، مگر نہ دولت کا دلدادہ نہ شاہی محلات میں رہنے پر آمادہ ، نہایت سادہ ، مسکینی فقیری اختیار کی۔ بیابانوں ویرانوں میں پھرتا رہا ۔ بادشاہ نے کئی بار قاصد بھیجے۔ بیٹا گھر آؤ نعمتیں ہیں ، لطف ہے ، خزانے ہیں ، دولت ہے ، عیش ہے ، آرام ہے ، محل ہے ، نوکر ہیں ، باندیاں ہیں ، تیرے ہر اشارے پر ہر چیز میسر ہوسکتی ہے۔ بیٹے نے کہا والد محترم ! یہ سب بے کار ہے آخر فنا ہے ، دنیا بے وفا ہے۔ آخرت کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ دنیا قارون کا ورثہ ہے اور دین محمد مصطفی کا ورثہ ہے۔

میری نگاہ قرآن کی اس آیت پر ہے:

قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَاقَلِیْل۔

ترجمہ:فرمائیے۔ سامان دنیا بہت تھوڑا ہے۔

وَالْآخِرَةُ خَیْرُوَّاَبْقٰی۔

ترجمہ:آخرت اچھی ہے اور باقی ہے۔

ایک دن شہزادے کی موت کا وقت قریب آیا ۔ صحرا میں کسمپرسی ، میںمسکینی میںجان جان آفرین کے سپرد کرنے سے پہلے زمین پر یہ اشعار تحریر کرکے ہمیشہ کے لئے خاموشی ہوگیا۔ اشعار نوشتہ برزمین یہ تھے۔

یا صاحبی لا تغرر بتنعمی

فالعمر ینفدو والنعیم یزول

اذا حملت الی القبرل جنازہ

فاعلم بانک بعدھا محمول

ترجمہ:اے دوست دولت پر مغرور نہ ہو۔ یہ مال بھی ختم ہوگا اور عمر بھی ۔ جب قبرستان کی طرف جنازہ اٹھاکر لے جائے تو یقین کرنا کہ اس کے بعد تیری باری بھی آئے گی۔ ہارون الرشید کو اطلاع ملی کہ تیرا فرزند ، ارجمند فلاں جنگل میں فقیری لباس ، اینٹ سرہانے نہ پلنگ نہ غالیچے وہ نازنین نازک بدن ، زیب چمن ، بے وطن بے گورو کفن ، مسکینی انداز میں دنیا سے بے نیاز ابدی نیند سورہا ہے۔

بادشاہ نے جب یہ سنا تو محبت وشفقت پدری نے جوش مارا ، چیخیں نکل گئیں ، بے اختیار روپڑا ، فوراً عزیز بیٹے کے سرہانے پہنچا۔ پیشانی چوم کر کہا! مبارک ہو بیٹا تو نے فقیری کو امیری پر ترجیح دی ، آج تو رسول اللہ کی گو دمیں چلا گیا۔ زندگی سادہ موت اعلیٰ مگر تیری جدائی کا داغ ہمیشہ سینے میں رہے گا۔

تواضع زگردن فرازاں نکوست

گدا گر تواضع کند خوئے اوست!

سیٹھ جی کو فکر تھی اک اک کے دس کیجئے

آیا جو ملک الموت بولا جان واپس کیجئے

ہارون الرشید متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا یقین ہوگیا کہ دنیا فانی ہے ۔ آخرت باقی ہے۔ اس کے بعد علماء کی محبت اختیار کی۔

خود ہارون الرشید کی بھی یہ مشہور بات ہے کہ نصیحت کے سننے پر بہت رویا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حج کو جارہے تھے۔ تو سعدوں مجنوں راستہ میں سامنے آگئے۔ چند شعر پڑھے۔ جس کا مطلب یہ تھا۔ مان لیا کہ تم ساری دنیا کے بادشاہ بن گئے ہو۔ لیکن کیا آخر موت نہ آئے گی؟ دنیا کو اپنے دشمنوں پرچھوڑدو۔ جو دنیا آج تمہیں خوب ہنسا رہی ہے۔ یہ کل کو تمہیں خوب رلائے گی۔ یہ اشعار سن کر ہارون الرشید نے ایک چیخ ماری اوربے ہوش ہو کر گر گئے۔ اتنے طویل عرصہ تک بے ہوش رہے کہ تین نمازیں قضا ہوگئیں۔

 

حکایت:

بہلول مجذوب ہارون الرشید کے زمانے میں ایک مجذوب صفت بزرگ تھے۔ ہارون الرشید ان کی باتوں سے ظرافت کے مزے لیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی جذب کے عالم میں وہ پتے کی باتیں بھی کہہ جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بہلول مجذوب ہارون الرشید کے پاس پہنچے ۔ ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھاکردی۔ مزاحا کہا کہ بہلول یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوں۔ جو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے اسے دے دینا۔ بہلول مجذوب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی۔ اور واپس چلے آئے۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ شاید ہارون الرشید بھی بھول گئے ہوں گے۔ عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی۔ بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ اطبا نے جواب دیا ۔ بہلول مجذوب عیادت کے لئے پہنچے اورسلام کے بعد پوچھا۔ امیر المومنین کیا حال ہے؟ امیر المومنین نے کہا حال پوچھتے ہو بہلول؟ بڑا لمبا سفر درپیش ہے ۔ کہاں کا سفر؟ جواب دیا۔ آخرت کا۔ بہلول نے سادگی سے پوچھا۔ واپسی کب ہوگی؟ جواب دیا بہلول! تم بھی عجیب آدمی ہو۔ بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی واپس ہوا ہے۔ بہلول نے تعجب سے کہا۔ اچھا آپ واپس نہیںآئیں گے۔ تو آپ نے کتنے حفاظتی دستے آگے روانہ کئے اورساتھ ساتھ کون جائے گا؟ جواب دیا۔ آخرت کے سفر میںکوئی ساتھ نہیں جایا کرتا۔ خالی ہاتھ جارہا ہوں۔ بہلول مجذوب بولا۔ اچھا اتنا لمبا سفر کوئی معین ومددگار نہیں پھر تو لیجئے ہارون الرشید کی چھڑی بغل سے نکال کر کہا۔ یہ امانت واپس ہے۔ مجھے آپ کے سوا کوئی انسان اپنے سے زیادہ بے وقوف نہیں مل سکا۔ آپ جب کبھی چھوٹے سفر پر جاتے تھے۔ تو ہفتوں پہلے اس کی تیاریاں ہوتی تھیں۔ حفاظتی دستے آگے چلتے تھے۔ حشم وخدم کے ساتھ لشکر ہمرکاب ہوتے تھے۔ اتنے لمبے سفر میں جس میں واپسی بھی ناممکن ہے۔ آپ نے تیاری نہیں کی۔ ہارون الرشید نے یہ سنا تو روپڑے اور کہا۔ بہلول ہم تجھے دیوانہ سمجھا کرتے تھے۔ مگرآج پتہ چلا ۔ کہ تمہارے جیسا کوئی فرزانہ نہیں۔

حکایت:

ایک اہل اللہ کی وفات کا وقت جب قریب آیا۔ تو وصیت کی کہ میرے کفن پر یہ اشعار لکھ دیں۔ شاید میری نجات ہوجائے۔ یہ اشعار کفن پر لکھ دئیے گئے۔

یا رب تیری رحمت کا امیدوار آیا ہوں

منہ ڈھانچے کفن سے شرمسار آیا ہوں

چلنے نہ دیا بارگناہ نے مجھ کو پیدل

اس لئے کندھوں پر سوار آیا ہوں

کسی نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا کیا حال ہے۔ فرمایا فضل ذوالجلال ہے۔ ان اشعار کی وجہ سے رحمت رب غفار کو جوش آیا۔ معاف فرمایا۔ قبر باغ جنت ہوگئی۔ الحمدللہ۔

ارشاد حضرت علی:

حضرت علی جب قبرستان سے گزرتے یہ مقولہ دہراتے اورآنسو بہاتے یوں فرماتے:

یا اھل القبور امورالکم قسمت

اے قبر والوں تمہارا مال سب تقسیم ہوگیا۔

ودیارکم سکنت۔

تمہارے گھروں میں اور لوگ آباد ہو گئے۔

ونساء کم زوجت۔

تمہاری بیوی نے اورخاوند کرلیے

واولاد کم حرمت۔

تمہاری اولاد تمہاری شفقت سے محروم ہوگئی۔

بیماری :کثرت مال کی ہوس۔

علاج:قبور کی زیارت۔

فرماتے ہیں ۔ کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے۔ تو کان میں اذانوتکبیر دی جاتی ہے۔

یہ حقیقتاً موت کا اعلان ہے کہ فانی جہان ہے۔

اذان الناس حین الطفل یاتی

وتاخیر الصلوة المرء شیئی

یشیر بان عمر المرء شیئی

کما بین۔ الاذان الی الصلوة

بچے کی پیدائش پر اذان دینا اور نماز کو وفات تک موخر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کی عمر بس اتنی ہی ہے جتنا اذان اور نماز کے درمیان وقفہ ہوتا ہے۔

آتے ہوئے اذان ہوئی جاتے ہوئے نماز

اتنی قلیل مدت میں آئے چلے گئے

قسمت ازیں جہاں ترا یک کفن است

آں ہم بگماں است بری یا نہ بری

اے دل تو دریں جہاں چرابے خبری

روز و شب طالب سیم و زری

جائے گر یہ است ایں جہاں دروے مخند

چشم عبرت بکشا ولب ببند

حکایت:

ایک شخص کی اکلوتی بیٹی جس کی شادی قریب تھی۔ تمام سامان جہیز مہیا کیا۔ عین شادی کے دن ملک الموت نے ڈیرہ ڈالا اور بچی داغ مفارقت دے گئی۔ بارات آئی ۔ مگر دلہن نہ تھی۔ حلوہ تیار کیا۔ مگر کھانے والی نہ تھی جو مبارکبادی دینے آئے تھے شریک موت ہوئے۔ انہیں دور سے کہا گیا۔ کہ آج شادی نہیں بربادی ہے۔ خوشی نہیں غمی ہے۔ مبارک دن نہیں منحوس دن ہے۔ جہیز پر نگاہ پڑی ۔ باپ بے اختیار کہہ اٹھا۔

نہ آیا یاد اے آرام اس نامرادی میں

کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم سامان شادی میں

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے

پھول تو کچھ دن بہار جانفزا دکھلاگئے

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاگئے

حکایت:

حضرت باقی باللہ ولی اللہ ، عالم باعمل ، کامل واکمل ، صالح بے بدل تھے۔ ان کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔ ایک عقیدت مند دور سے آیا۔ چہرے سے کفن اٹھا کر زیارت کی ۔ رو رو کر یہ فرمایا ۔ سب کو تڑپایا۔

سروسیمنا بصحرا میروی سخت بے مہری کہ بے ما میری

اے تماشا گاہ عالم روئے توتو کجا بہر تماشا میری

جس نے یہ اشعار سنے۔ اس سے ضبط نہ ہوسکا ۔ مگر کون دم مارے۔

حکایت:

ایک مصنف کا جنازہ جارہا تھا۔ پوچھا کون ہے؟ جواب ملا جج ہے۔ جو لوگوں کے فیصلے کرتے تھے۔ آج ان کے خلاف فیصلہ ہوگیا۔ اٹل فیصلہ کوئی اپیل نہ دلیل سنی جائے گی۔

آج دنیا کی کچہری سے سدھارے منصف

ملک الموت کی ڈگری ہوئی ہارے منصف

حکایت:

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میںملک الموت آدمی کی صورت بن کر حاضر ہوا ۔ ایک وزیر حضرت کے پاس بیٹھا تھا۔ ملک الموت نے کئی بار وزیر کو دیکھا۔ جب ملک الموت چلے گئے ۔ وزیر نے پوچھا۔ حضرت یہ کون تھا؟ فرمایا۔ عزرائیلؑ۔ وزیر نے کہا۔ اس کے بار بار دیکھنے سے خوف پیدا ہوا۔ ابھی ہوا کو حکم دو کہ مجھے اپنے وطن بوماس جزیرہ میں پہنچادے۔ حضرت سلیمانؑ نے حکم دیا آن کی آن میں خدا کی شان وزیر باتدبیر وطن پہنچا۔ ابھی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تھا۔ ملک الموت نے جان قبض کرلی ۔ دوسری ملاقات میںسلیمانؑ کے دریافت فرمانے پر ملک الموت نے جواب دیا: میں حیران تھا کہ مجھے حکم ہوا کہ اس وزیر کی جان جزیرہ بوماس میںقبض کرنی ہے اور یہ یہاں آپ کے پاس تھا۔ مگر حکم پورا ہوگیا۔

دو چیز آدمی راستا نند بزور

یکے آب و دانہ دگر خام گور

مثل مشہور ہے۔ ”پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

حکایت:

ایک ہرن کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی۔ ہمیشہ دریا کے کنارے رہتا تھا۔ ضائع شدہ آنکھ دریا کی طرف کرکے چلتا تھا۔ تاکہ خطرہ نہ رہے۔ اچانک کوئی شکاری کشتی میںجارہا تھا۔ اس نے گولی ماری ۔ ہرن کا کام تمام کردیا۔ یاد رکھو زندگی آفت میںہر وقت گھری ہے۔ کسی حالت میں بچنا محال ہے۔

نہ پوچھو میری انتہا موت ہے

وہ مجرم ہوں جس کی سزا موت ہے

حکایت:

ملکہ الزبتھ اول نے کہا تھا۔ جب کہ موت میںگھری ہوئی تھی کہ مجھے کوئی ڈاکٹر موت کے منہ سے بچائے۔ ایک منٹ کی قیمت ایک لاکھ روپیہ دوں گی۔ ڈاکٹر بے بس تھے۔ کوئی بھی نہ بچا سکا۔ سب ہار گئے۔ اسی دن چل بسی۔

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

نہ اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے

تخت آرا تھا جو کل وہ آج زیر خاک ہے

عالم فانی کا منظر کتنا عبرتناک ہے۔

حکایت:

حضرت حسن بصریؒ جواہرات کی تجارت کیا کرتے تھے پھرتے پھراتے روم پہنچے۔ کیا دیکھا کہ وزراء کی بیگمات ، لونڈیاں اور فوج سب کہیں جارہے ہیں۔ پوچھا کیا آج جشن ہے یا بے وطن ہو کر جارہے ہو؟ وزیر نے کہا۔ ہمارے ساتھ چلو۔ ایک جنگل میں پہنچے۔ وہاں خیمہ ایستادہ ہے۔ نہایت شاندار خیمہ۔ پہلے لشکر مسلح نے طواف کیا اور روتے رہے۔ پھر حکماء فلاسفروں نے پھر لونڈیوں نے پھر شاہی بیگمات نے پھر وزیروں نے آخر میں بادشاہ نے طواف کیا۔ اندر گیا۔ بصدرنجوملال ، یاس وحسرت ، پریشان روتا ہوا سرجھکائے باہر نکلا۔ کچھ آہستہ آہستہ بادشاہ کہتا رہا۔ حسن بصریؒ نے ماجرا پوچھا کہ کیا ہے؟ وزیر نے کہا۔یہنوجوان لڑکا بادشاہ کا فوت ہوگیاہے۔ ہر سال پورا لشکر یونہی معہ بادشاہ اس کی قبر پر آتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ بے نیاز کے قبضہ میں یہ فرزند ہے؟ اے عزیز بچہ! اگر میرے اختیار میں ذرہ برابر زندہ کرنے کا امکان ہوتا تو ہم سعی بلیغ کرتے سب مال ملک اور دولت نثار کردیتے کہ تیری ایک بار ملاقات ہوجاتی۔ مگر ہم ہار گئے ۔ ہماری طاقت ہیچ ہے۔ تو ایسی ذات کے قبضہ میںہے جو بے نیاز ہے۔

حضرت حسن بصریؒ پر اتنا اثر ہوا ۔ کہ سب کاروبار چھوڑ کر بصرہ واپس آئے اورتمام جواہرات فی سبیل اللہ غرباء میں تقسیم کردئیے۔ دنیا ترک کردی اورگوشہ نشین ہوگئے۔ ستر سال اللہ اللہ میںگزارے ۔ ولی کامل بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ (فاعتبروایااولی الابصار)

حکایت:

حضرت بہلولؒ نے گھر میں قبر کھدوارکھی تھی۔ روزانہ صبح و شام اس میںجاکرسوجاتے۔ روتے اورفرماتے ! یہ تیرا اصل گھر ہے۔ بہلولؒ یہ بھی ملے گا یا نہیں۔ موت یاد کر آخرت پر نظر رکھ!

حکایت:

ایک ولی کامل نے آبادی چھوڑ کر قبرستان میں ڈیرہ لگایا۔ لوگوں نے پوچھا حضرت آبادی میں چلو وہاں انسان آباد ہیں ، چہل پہل ہے ، آمدورفت ہے ، ماحول ہے ، گھر بار ہے ، رہن سہن ہے ، اہل و عیال ہے ، دھن دولت اور مال ہے ۔ ولی نے فرمایا۔ دیکھتے نہیں کہ ہر شہر والا اک اک ہو کر یہاں پہنچ رہا ہے ۔ وہاں نہ رہوں جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔

زندگی ہے کشمکش موت ہے کامل سکوت

شہر میں ہے شور وغوغا مقبرہ خاموش ہے

فرمایا۔ شہر میں لوگ دھکے دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہٹ جا رستہ دے ، اندھا ہے یہ کرو وہ کرو ، کون ہے؟، کیوں آئے ہو ؟، کیا کام کرتے ہو ؟، کہاں رہتے ہو ؟ مگر یہاں ایسے لوگ ہیں جو رنج وتکلیف نہیںپہنچاتے ۔ سوئے تواٹھے نہیں، ایسے چپ ہیں کہ بولتے نہیں ، گم ہوئے تو نظر نہ آئے ، قبر کی مٹی میں گئے تو کپڑے نہیںبدلے ، جنگل میںگئے تو گھر واپس نہ آئے۔ پس دوستو! مجھے یہی جگہ یہی ماحول اور یہی دوست پسند ہیں۔

حکایت:

حضرت نوحؑ سے عزرائیلؑنے پوچھا۔ آپ کی عمر تمام پیغمبروں سے زیادہ ہوئی ہے ۔ یعنی1000 سال ۔ آپ نے دنیا کو کیسے پایا ؟ کچھ یاد بھی ہے کہ دنیا میں کتنی مدت قیام فرمایا ؟ فرمایا!"ایک مکان کے دو دروازے ہیں ایک سے داخل ہوا اور دوسرے سے نکل آیا۔ بس اتنا یاد ہے"۔

اے انسان ! ایسی زندگی گزار کہ جب تو دنیا سے رخصت ہو تو تیرے محاسن بیان کریں۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں۔

یاد داری بوقت زادان تو

ہمہ خنداں بودند تو گریاں

ہم چناں زی بوقت مردن تو

ہمہ گریاں بودند تو خنداں

یعنی اے انسان! جب تو پیدا ہوا تو روتا ہوا آیا تیرے ماں باپ دوست و احباب تیرے پیدا ہونے کے وقت خوشی منارہے تھے۔ اب دنیا میںایسی زندگی گزار کہ لوگ تیرے فراق میں اشکبار ہوں اور تو ہنستا ہوا اس جہان فانی سے رخصت ہو۔ حدیث قدسی بھی ہے۔

انا عندظن عبدی بی۔

ترجمہ:بندہ جیسے گمان کرے گا ویسے اللہ کو پائے گا۔

اگر روتا ہوا آئے تو ہنستا ہوا جائے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

نشان مرد مومن باتو گویم

چوں مرگ آمد تبسم برلب اوست

حدیث نبویﷺہے:

علی ماتموتون تحشرون۔

ترجمہ:جس حالت میں موت آئے گی۔ اسی حالت میں اٹھو گے۔

انما الاعمال بالنیات والعبرة بالخواتیم۔

ترجمہ:اعمال کا دارومدار نیتوںپر ہے۔ خاتمہ بالخیر ہے تو خیر ۔ ورنہ خیر کہاں۔

فاروق اعظم والی دعا یاد کرو۔ فرماتے ہیں:

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا شَہَادَةُ فِیْ سَبِیْلِک وَاجْعَلْ مَوْتَنَافِیْ بَلَدِ حَبِیْبِکَ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم۔

جس کا خاتمہ کلمہ پر ہوا بچ گیا۔ کامیاب ہوگیا۔ ناجی مراد ہے۔ جہنم سے آزاد ہے ، آباد ہے ، شاد ہے ، ورنہ برباد ہے ، ناشاد ہے ، نامراد ہے۔

میں نے پوچھا جو زندگی کیا ہے ؟

ہاتھ سے گر کر جام ٹوٹ گیا

دنیا کی عجیب کیفیت ہے۔ کوئی آرہا ہے ، کوئی جارہا ہے ۔ کوئی شادمان ہے ، کوئی پریشان ہے۔ کسی کے لئے حیات ، کسی کے لئے موت ہے ۔ کسی کا شاندار مکان ہے ، کوئی قبرکامہمان ہے۔ کوئی مسرور ہے ۔ کوئی رنجور ہے ۔ اے انسان چار روزہ زندگی پر مغرور نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے ۔

حشر تک زیر زمین دو روز بالائے زمیں

دنیا میں تعمیر کی حاجت نہیں

زندگی ہے علامت مرگ کی اے غافلو

اورکچھ اس خواب کی تعبیر کی حاجت نہیں

ہر آن ہر وقت ہر لمحہ یہ اعلان ہورہا ہے:

اے بے خبر حیات کا کیا اعتبار ہے

ہر وقت موت سر پر بشر کے سوار ہے

کسی کو موت کا علم نہیں کب کہاں اور کیسے آئے گی۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی

گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی

روزانہ فرشتہ اللہ کی طرف سے پکار پکار کر ندا کرتا ہے۔

الایا ساکن القصر المعلی

ستد فن عن قریب فی التراب

خبردار اے محلات میں رہنے والا عنقریب مٹی میں دفن ہوگا۔

لہ ملک ینادی کل یوم

لدو اللموت وابنوللخراب

ہر روز فرشتہ اعلان کرتا ہے۔ آہ بچے مریں گے اور تعمیرات خراب وتباہ ہوں گی۔

اے غافل: تو ہنس رہا ہے ۔ تیرا کفن تیار ہوچکا ہے۔ تیری قبر اندھیرے میں ہے۔

حکایت:

حضرت وہب ابن منبہ فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا جس کا ارادہ اپنی مملکت کی زمین کی سیر اور حال دیکھنے کا ہوا۔ اس نے شاہانہ جوڑا منگایا ۔ ایک جوڑا لایا گیا۔ وہ پسند نہ آیا۔ دوسرا منگایا وہ بھی پسند نہ آیا۔ غرض بار بار رد کرنے کے بعد نہایت پسندیدہ جوڑا پہن کر سواری منگائی گئی ۔ ایک عمدہ گھوڑا لایا گیا۔ پسند نہ آیا۔ اس کو واپس کردیا۔ دوسرا منگایا وہ بھی پسند نہ آیا۔ غرض سارے گھوڑے منگائے گئے ۔ ان میں سے اپنی پسندکا گھوڑا لے کر سوار ہوا۔ شیطان مردود نے اور بھی نخوت اس کے ناک میں پھونک دی نہایت تکبر سے سوار ہوا ، خدام ، فوج پیادہ ، بڑائی اورتکبر سے رعایاکی طرف التفات بھی نہ کرتا تھا۔ راستے میں چلتے چلتے ایک شخص نہایت سادہ خستہ حال ملا ، سلام کیا۔ بادشاہ نے توجہ بھی نہ کی۔ خستہ حال نے گھوڑے کی لگام پکڑلی۔ بادشاہ نے ڈانٹا۔ لگام چھوڑ۔ اتنی جرات کرتا ہے معلوم ہے میںکون ہوں؟ اس نے کہا مجھے تجھ سے کام ہے۔ بادشاہ نے کہا ۔ اچھا صبر کر۔ جب میں سواری سے اتروں گا ۔ تب بات کرلینا۔ کہا نہیں۔ اب کام ہے ۔ یہ کہہ کر زبردستی لگام چھین لیا۔ کہا میں ملک الموت ہوں اور تیری جان لینے آیا ہوں۔ یہ سن کر بادشاہ کا چہرہ فق ہوگیا۔ دماغ چکرا گیا۔ زبان لڑکھڑا گئی۔ کہنے لگا۔ اچھا مجھے اتنی مہلت دے دے کہ میںگھر جاکر اپنے سامان کا نظم کرلوں۔ فرمایا مہلت نہیں ہے یہ کہہ کر اس کی روح قبض کرلی۔ وہ گھوڑے سے لکڑی کی طرح نیچے گر گیا۔ بغیر پوچھے بغیر اطلاع بغیر مرض وہ موت ہے۔

کیا نظام قدر ت ہے۔ جوحکیم جس مرض میںماہر تھا۔ اسی کا شکار ہوکر چل بسا سل کے مرض میں ارسطاطالیس ، افلاطون فالج سے ، حکیم لقمان اور جالینوس اسہال سے مرا ، حکیم اجمل خان دل کی بیماری سے ، جس بیماری میںید طولیٰ رکھتے تھے اسی میںختم ہوئے۔ دھنہ سانپ پکڑتا ہے۔ سانپ نے کاٹا اورچل بسا۔

دنیا یہ سدا عبرت و اندیشہ کی جگہ ہے

ہاںکیسا مقام آٹھ پہر کوچ لگا ہے

جاتے ہیںچلے لوگ مرگ کا دروازہ کھلا ہے

رہ جائے نہ کوئی یہ آواز صدا ہے

مال وعیال ساتھ جانے کو تیار ہوتے ہیں مگر مال گھر تک ، عیال قبر تک ساتھ جاتے ہیں۔ اعمال حشر تک ساتھ رہتے ہیں۔

کہا احباب نے دفن کے وقت

کہ ہم کیونکر وہاں کا حال جانیں

لحد تک تیری تعظیم کر دی

اب آگے آپ کے اعمال جانیں

دنیا کیا ہے؟

یہ دنیا سرائے فانی دیکھی!!

ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی

آکے جو نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا

جاکے جو نہ آئے وہ جوانی دیکھی

دنیا کی بے ثباتی سے اکبر ملول ہے

لیکن زیادہ اس کاتصور فضول ہے

کیا اچھا کہا:

حقیقت دنیا کی اگر معلوم ہوجاتی

طبیعت محفل عشرت میںمغموم ہوجاتی

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے

کوئی پارہا ہے کوئی کھورہا ہے

کہیں ناامیدی نے بجلی گرائی!

کوئی بیج امید کے بو رہا ہے

اس فکر میںاکبر:

دنیا کے جو مزے ہیںہر گز کم نہ ہوں گے

پرچے یونہی رہیں گے افسوس ہم نہ ہوں گے

ارشاد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی :

فکم من کفن مفعول

وصاحبہ فی السوق مشغول

ترجمہ:بہت سے لوگوں کے کفن تیار ہوکر آچکے ہیں۔ مگر کفن پہننے والے ابھی تک بازاروں میںخریدوفروخت میںلگے ہوئے ہیں۔ یعنی موت سے غافل ہیں۔

فکم من قبر محفور

وصاحبہ باالسرور مغرور

وکم من ضاحک

وھو عن قریب ھالک

وکم من منزل کمل بِنَاؤُہ

وصاحبہ قد اذن فناؤُہ

و کم من عبد یرجوا بشارةً

فیرولہ الخسارہ

وکم من عبد یرجو الثواب

فیرولہ العقاب

ترجمہ:بہت سے لوگوں کی قبریں کھود کر تیار ہوئیں ۔ مگر ان میں دفن ہونے والے غفلت سے خوشیاں کرتے پھرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس وقت ہنستے خوشیاں کرتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ ہنسنے والے جلد ہلاک ہونے والے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے ابھی محل ومکان نئے بن کر تیار ہوئے تھے یکایک مکان کے مالک کی موت کا وقت آگیا۔ بہت سے لوگ خوشی کی خبروں کے منتظر ہوتے ہیں ۔ اچانک ان کے سامنے رنج ومصیبت کی خبریں آجاتی ہیں۔ بہت سے لوگ برے عمل کرتے ہیں اور امید ثواب کی رکھتے ہیں ۔ مگر کیاہوا۔ ان کا کیا ان کے سامنے آتا ہے۔

عبرت آموز واقعہ:

حضرت فاطمہ کا جنازہ رات کو قبر میں اتارا گیا۔ تو حضرت ابو ذر غفاری نے اپنے جوش میں قبر سے خطاب فرمایا۔

یا قبر اھل اذتدری من التی جئنا بھا الیک ھذہ بن رسول اللہ ۖ ھذہ زوجة علی المرتضٰی ھذہ ام الحسنین ۔ ھذہ فاطمة الزھرائ۔

ترجمہ:یعنی اے قبر۔ تجھے خبر بھی ہے کہ کس کے جنازے کو لائے ہیں ۔ یہ بیٹی رسول اللہکی قبر میں آئی ہے ۔ یہ خاتون ہے ۔ علی المرتضٰیؓ کی۔ یہ والدہ ہے شہید کربلا کی۔ حضرت حسنؓ حضرت حسینؓ کی۔ یہ فاطمۃ الزہراۃؓ قبر میں آئی ہیں۔

قبر سے آواز آئی:

یا باذرلست انا موضع حسب ولا نسب انا موضع عمل صالح فلا ینجو الامن کثر خیرہ وسلم قلبہ وخلص عملہ۔

ترجمہ:یعنی اے ابوذرؓ ۔ قبر حسب نسب بیان کرنے کی جگہ نہیں۔ یہاں تو عمل صالح کا ذکر کرو۔ یہاں تو وہی آرام پائے گا۔ جس کا دل مسلمان ہوگا۔ جس کے عمل صالح ہون گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.