hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

چند انمول موتی:

دنیا آٹھ چیزوں سے قائم ہے:

(۱)۔ خدا کی رحمت سے۔ (۲)۔ رسول کی رسالت سے۔ (۳)۔ حکماء کی حکمت سے۔ (۴)۔ عابدوں کی عبادت سے۔ (۵)۔ عالموں کی پندونصیحت سے۔ (۶)۔ بادشاہوں کی عدالت سے۔ (۷)۔ بہادروں کی شجاعت سے۔ (۸)۔ کریموں کی سخاوت سے۔

چار چیزوں کو تھوڑا نہ سمجھو:

(۱)۔ قرض۔ (۲)۔ مرض۔(۳)۔ دشمنی۔ (۴)۔ آگ

چار چیزوں کی قلت اچھی ہے:

(۱)۔ قلعت الطعام ۔ (۲)۔ قلت الکلام۔ (۳)۔ قلت المنام۔ (۴)۔ قلت الاختلاط مع الانام۔

پانچ چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں:

(۱)۔ توبہ کی امید پر گناہ کرنا ۔ (۲)۔ علم پڑھنا عمل نہ کرنا۔ (۳)۔ عمل کرنا مگر اخلاص نہ ہو۔ (۴)۔ رزق کھانا اور شکر نہ کرنا۔(۵)۔ مردہ کو دفن کرنا اور عبرت نہ لینا۔

نکتہ:مظلوم کی آہ سے بچو۔ جب وہ کہتا ہے ۔ اللہ تو لفظ اللہ میں آہ شامل ہوتی ہے۔

ایک باپ سات بیٹوں کی پرورش کرتا ہے ۔ مگر بیٹے ایک باپ کی خدمت نہیں کرسکتے۔ بیٹے تین طرح کے ہوتے ہیں۔ (۱)۔ پوت۔ (۲)۔ سپوت۔ (۳)۔ کپوت۔

(۱)۔پوت:وہ ہے جو باپ کی جائیداد کو قائم رکھے۔

(۲)۔ سپوت:وہ ہے جو ترقی کرے۔

(۳)۔کپوت:وہ ہے جو جائیداد ضائع کرے۔

تم سوچو تم کون ہو؟ کس لفظ کو اختیار کروگے۔

نمازی چار قسم کے ہیں:

(۱)۔ ٹھاٹھ کے(۲)۔ آٹھ کے۔(۳)۔ کھاٹ کے۔(۴)۔ تین سو ساٹھ کے۔

ٹھاٹھ کے:یعنی روزانہ کے عادی

آٹھ کے:یعنی جمعہ نماز پڑھنا

کھاٹ کے:یعنی جو جنازہ میں شامل ہوں

تین سو ساتھ کے: یعنی جو صرف عید نماز پڑھیں

تم کون ہو؟

چار الفاظ کلام کا باعث ہوں گے:

(۱)۔ کیا۔ (۲)۔ کیوں۔ (۳)۔ کیسے۔ (۴)۔ کہاں۔

دس چیزیں دس چیزوں کو کھاجاتی ہیں:

(۱)۔ نیکی بدی کو۔ (۲)۔ تکبر علم کو۔ (۳)۔ توبہ گناہ کو۔ (۴)۔ جھوٹ رزق کو۔ (۵)۔ عدل ظلم کو۔ (۶)۔ غم عمر کو۔ (۷)۔ صدقہ بلاومصیبت کو۔ (۸)۔ غصہ عقل کو۔ (۹)۔ پشیمانی سخاوت کو۔ (۹)۔ غیبت اعمال کو۔

(یہ شعر الٹا پڑھو ۔ ربط وحروف میںفرق نہیںآئے گا۔ کمال شاعری اسے کہتے ہیں

شکر بترازوی وزارت برکش

شو ہمرہ بلبل بلب ہر مہوش

پانچ حروف کو الٹنے سے وہی الفاظ بنتا ہے:

(۱)۔ داماد۔ (۲)۔ نادان۔ (۳)۔ موہوم۔ (۳)۔ موسوم۔ (۴)۔ شاباش۔

عمریں:

حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ١٠1000٠٠ سال تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ١٩195٥ سال تھی۔

حضرت عاسمعیل علیہ السلام کی عمر ١137٣٧ سال تھی۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی عمر ١127٢٧ سال تھی۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کی عمر 180١٨٠ سال تھی۔

حضرت محمد رسول اللہکی عمر 63٦٣ سال تھی۔

دس خصلتیں دس آدمیوں سے اللہ پاک کو پسند نہیں:

(۱)۔ بخل مالداروں سے۔ (۲)۔ تکبر فقیروں سے۔ (۳)۔ طمع عالموں سے ۔ (۴)۔ بے حیائی عورتوں سے۔ (۵)۔ حب دنیا بوڑھوں سے۔ (۶)۔ سستی جوانوں سے۔ (۷)۔ ظلم بادشاہوں سے۔ (۸)۔ بددلی غازیوں سے۔ (۹)۔ خود پسندی زاہدوں سے۔(۱۰)۔ ریاکاری عابدوں سے۔

سعادت مندی پانچ چیزوں میں مضمر ہے:

(۱)۔ عورت موافق۔ (۲)۔ اولاد نیک۔ (۳)۔ متقی دوست۔ (۴)۔ ہمسایہ صالح۔ (۵)۔ اپنے شہر میں رزق۔

پانچ باتیں بیوقوفی کی علامت ہیں:

(۱)۔ جاہل کو مونس کرنا۔ (۲)۔ عقلمندوں سے پرواز کرنا۔ (۳)۔ نالائقوں کو سرفراز کرنا۔ (۴)۔ عدو کو ہمراز کرنا۔(۵)۔ دوسروں کی کمائی پر ناز کرنا۔

نقطہ:

جب تک دو چراغ نہ جلیں ۔ ایک کے نیچے اندھیرا رہے گا۔ اوردونوں بے نقطہ کے ہاتھ ۔ پائوں۔ کان ۔ آنکھ دو دو ہیں۔

کلمے کے دو حصے ہیں۔ دونوں میںبارہ بارہ حروف ہیں۔ اور دونوں بے نقطہ ہیں۔

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ:

معنی: لا الہ الا اللّٰہ۔ (مقصد زندگی) ۔ محمد رسول اللہ (طرز زندگی)

فضیلت کے پانچ درجے ہیں:

(۱)۔نبوت (۲)۔صداقت (۳)۔شہادت۔ (۴)۔ صالحیت (۵)۔ اطاعت

قابل رحم چار ہیں:

یاالہٰی رحم کر تو ان چار پر۔ (۱)۔ بے کس پر (۲)۔ مجبور پر (۳)۔ مزدور پر۔ (۴)۔ لاچار پر۔

مقولہ علیؓ:

تین شخص بد ترین ہیں:

(۱)۔ فقیر متکبر۔ (۲)۔ بوڑھا زانی۔ (۳)۔ بدکار عالم

قومی ترقی کے تین اسباب ہیں:

(۱)۔ اتحاد۔ (۲)۔ علم ۔ (۳)۔ دولت۔

آجکل عدالتوں میںانصاف کی امید کرنے میں تین چیزیں درکار ہیں:

(۱)۔ عمر نوحؑ(۲)۔ گنج قارون (۳)۔ صبر ایوبؑ۔

انسان رات دن میں چوبیس ہزار مرتبہ سانس لیتا ہے:

ہر سانس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیے۔

ہر سانس پر اللہ کا محتاج بھی تو ہے۔

چار چیزاست تحفہ لندن

خمر و خنزیر جرمانہ وزن

فقیر کی دو جزیں ہیں:

(۱)۔ ترک المال (۲)۔ ترک السوال

تین چیزوں کو سمجھ کر اٹھاؤ:

(۱)۔ قلم (۲)۔ قدم (۳)۔ قسم۔

چار قاف سے تبلیغ کا مقصد ادا ہوگا:

(۱)۔ قولی (۲)۔ قدمی (۳)۔ قلمی (۴)۔ قلبی۔

مسجد الحرام میں ایک نماز ۔۔۔۔۔ایک لاکھ کا ثواب۔

مسجد نبویمیں ۔۔۔۔۔۔۔٥٠٠٠٠50000 کا ثواب۔

مسجد اقصیٰ بیت المقدس میں ۔۔۔۔۔١1000٠٠٠ کا ثواب۔

جامع مسجد سے نماز میں۔ ۔۔۔۔٥٠٠500 کا ثواب۔

جماعت سے نمازمیں۔ ۔۔۔۔۔٢٧27کا ثواب۔

عام لوگوںسے دور رہو تو تین چیزیں میسر ہوں گی:

(۱)۔ راحت جسمانی (۲)۔ قوت روحانی (۳)۔ حفاظت ایمانی۔

مکارم اخلاق تین ہیں:

(۱)۔ عفو بقدر قدرت (۲)۔ تواضع بحالت حکومت۔ (۳)۔ عطا بغیر منت۔

طبقات جہنم سات ہیں:

(۱)۔ سقر (۲)۔ سعیر (۳)۔ لظی (۴)۔ حطمہ (۵)۔ جحیم (۶)۔ جہنم (۷)۔ ہاویہ۔

طبقات جنت آٹھ ہیں:

(۱)۔ دارالاسلام (۲)۔ دارالقرآن (۳)۔ جنت عدن (۴)۔ جنت الماویٰ (۵)۔ جنت النعیم (۶)۔ عینین (۷)۔ فردوس (۸)۔ خلد۔

راستے دو ہیں:

حق یا باطل۔ صحیح یا غلط۔ نیکی یا برائی۔ اسلام یا کفر۔ توحید یا شرک ۔ سنت یا بدعت۔ سچ یا جھوٹ۔ جنت یا جہنم۔

روزانہ قبر کی پکار:

اے بے کار، گنہگار، خبردار، ہشیار، بار بار لیل ونہار، یہ آواز بے ساز آرہی ہے۔

انا بیت الظلمة انابیت الوحدة انا بیت الغربة انا بیت الوحشة انا بیت الدودة۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.