hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

اقوال حکماء اولیاء درفکر آخرت:

حضرت حاتم اصم فرماتے ہیں:

ما من صباح الاویقول الشیطان ما تاکل وما تلبس واین تسکن اقول لہ اکل الموت والبس الکففن واسکن القبر۔

ترجمہ:”فرمایا جب صبح ہوتی ہے مجھے شیطان کہتا ہے۔ آج کیا کھائے گا۔ کیا پہنے گا۔ کہاں رہے گا۔ جواب دیتاہوں ۔ موت کھائوں گا۔ کفن پہنوں گا۔ قبر میںرہوں گا۔

مقولہ:ـ

حضرت ابراہیم بن ادھم:

انا قلیل لہ بما وجدت الذھد قال بثلاثہ اشیاء رایت القبر موحشا ولیس معی مونس رایت طریقا طویلا ولیس معی زادورایت الجبار قاضیا ولیس معی حجہ۔

ترجمہ:پوچھا گیا۔ زہد وتقویٰ کو کیسے پایا؟ فرمایا۔ تین چیزوں سے۔

دیکھا قبر وحشت کی جگہ ہے۔ میرے پاس ساتھی نہیں۔ دیکھا لمبا راستہ ہے اور میرے پاس توشہ نہیں ۔ دیکھا کہ خدائے جبار قاضی ہے اور میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔

مقولہ:

حضرت لقمان حکیم:

قال لابنہ یانبی ان للانسان ثلثة اثلاث ثلث للہ وثلث لنفسہ وثلث لدود۔ فاما ھوللہ فروحہ وما ھو لنفسہ فعملہ واما ھولدود فجسمہ۔

ترجمہ:فرمایا۔ بیٹا انسان کے تین حصے ہیں ان میں سے ایک حصہ خدا کا۔ ایک اپنا۔ ایک حصہ کیڑوں کا۔ پس جو حصہ اللہ کا ہے وہ روح ہے۔ جو حصہ اپنا ہے۔ وہ عمل ہے ۔ جو کیڑوں کا ہے وہ جسم ہے۔

مقولہ:

حضرت حاتم اصم:

قال اربعة اشیاء لا یعرف قدرھا الا اربعة الشباب لا یعرف قدرہ الا الشیوخ والعافیة لا یعرف قدرھا الا اہل البلاء والصحة لا یعرف قدرھا۔ الا المرضیٰ والحیوة الا یعرف قدرھا الا الموتیٰ۔

ترجمہ:چار چیزوں کی قدر چار ہی جانتے ہیں۔ جوانی کی قدر بوڑھے جانتے ہیں ۔ اور صحت کی قدر بیمار ۔ عافیت کی قدر مصیبت والے جانتے ہیں۔ اور زندگی کی قدر مردے۔

مقولہ:

حضرت سفیان ثوری:

لا یجمع فی ھذا الزمان لا حد مال الا وعندہ خمس خصال طول الامل وحرص غالب وشح شدید وقلہ الورع ونسیان الاخرہ۔

ترجمہ:فرمایا۔ اس زمانے میںمال ودولت اس کے پاس جمع ہوسکتی ہے جس میںپانچ خصلتیں ہوں گی۔

(۱)۔ لمبی امیدیں۔ (۲)۔ حرص قوی۔ (۳)۔ بخل سخت۔ (۴)۔ قلت تقویٰ (۵)۔ فراموشی موت۔

قال الشاعر:

انی لمفتروان البلائ

یعمل فی جسمی قلیلا قلیلا

نزود للموت زادا فقد

نادا المنادی الرحیل رحیلا

ترجمہ:میںدنیا پر فریفتہ ہوگیا ہوں۔ بے شک آفات ومصائب میرے جسم کو تھوڑا تھوڑا کرکے کھارہے ہیں۔ موت کے لئے کوئی توشہ لے جا۔ پس تحقیق منادی روزندا کرتا ہے۔ کوچ ہے کوچ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.