hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخرت کی کہانی انسان کی زبانی

فکر آخرت سرکار دوعالم :

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم سیأتی علی امتی زمان یحبون الخمس وینسون الخمس یحبون الدنیا وینسون الاخرة ویحبون الحیوة وینسون الموت ویحبون القضور وینسون القبور ویحبون المال وینسون الحساب ویحبون الخلق وینسون الخالق۔

ترجمہ:فرمایا۔ یری امت پر ایسا زمانہ آئے گاکہ پانچ چیزوں کو پسند کریں گے۔ اور پانچ چیزوں کو بھول جائیں گے۔

۱۔دنیا کوپسند کریں گے۔ آخرت کو بھول جائیں گے۔

۲۔زندگی کو پسند کریں گے۔ موت کو بھول جائیں گے۔

۳۔محلات ومکان پسند کریں گے۔ قبر کو بھول جائیں گے۔

۴۔مال ودنیا پسند کریں گے۔ حساب وکتاب بھول جائیں گے۔

۵۔مخلوق کو پسند کریں گے۔ خالق کو بھول جائیں گے۔

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ حضور مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔ دیکھا کہ بعض لوگوں کے ہنسی کی وجہ سے دانت کھل رہے ہیں۔ حضورنے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لذتوں کو توڑنے والی موت کو کثرت سے یاد کرتے ۔ تو وہ ان چیزوں میںمشغول ہونے سے روک دیتی۔ جس سے ہنسی آئی۔

ہر شخص کی قبر روزانہ اعلان کرتی ہے ۔ کہ میں بالکل تنہائی کا گھر ہوں۔میںسب سے علیحدہ رہنے کا گھر ہوں۔ میںکیڑوں کا گھر ہوں۔ جب نیک دفن ہوتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے کہ تیرا آنا مبارک ہو۔ تیرے آنے سے بڑی خوشی ہوئی ۔ جتنے لوگ میری پشت پر چلتے تھے۔ ان میںتو مجھے بہت پسند تھا۔ آج تو میرے پیٹ میں آیا ہے تو میں تجھے اپنا بہترین طرز عمل دکھاؤں گی۔ اس کے بعد اس کی قبر اتنی وسیع ہوجاتی ہے ۔ کہ جہاں تک مردہ کی نظر جائے وہاںتک کھل جاتی ہے ۔ ایک کھڑکی جنت میں سے کھل جاتی ہے ۔ جس سے وہاں کی خوشبوئیں اورہوائیں وغیرہ آتی رہتی ہیں۔ جب کوئی بدکار ، ریاکار کافر دفن ہوتا ہے ۔ تو زمین اس سے کہتی ہے کہ تیرا آنا بڑا نامبارک ہے۔ تیرے آنے سے جی بہت برا ہوا۔ جتنے لوگ میری پشت پر چلتے تھے۔ ان میں تو مجھے بہت برا لگتا تھا۔ آج میں تجھے اپنا بدترین طرز عمل دکھاؤں گی۔ یہ کہہ کر وہ اس کو ایسے بھینچتی ہے کہ اس کی ہڈیاں پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ حضور اقدسنے اپنیہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میںڈال کر فرمایا۔ کہ اس طرح ایک جانب کی پسلیاں دوسری جانب میںگھس جاتی ہیں۔ اور ستر اژدھے اس کو ڈسنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ ایسے زہریلے ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی زمین کے اوپر پھونک مارے تو قیامت تک زمین پر گھاس نہ اگے گی۔(اعاذنا اللہ فیھا من سائر العذاب )اس کے بعدحضور نے فرمایا ۔ قبر جنت کے باغوں میں ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں ایک گڑھا ہے۔

حضرت ابن عمر فرماتے ہیں:

ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا۔ کہ یارسول اللہ! سب سے زیادہ محتاط اور سب سے زیادہ سمجھدار کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا۔ جو شخص موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔موت کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ یہی لوگ دنیا کی شرافت اورآخرت کا اعزاز واکرام حاصل کرنے والے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.