hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت

حضرت مولانازاہدالراشدی

شیخ الاسلام حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی عمر ١٠٣برس کے لگ بھگ تھی اوروہ ١٩٦٢ء سے جمعیت العلماء اسلام پاکستان کے امیر چلے آرہے تھے ۔ مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ جنہیں پاکستان کے دینی وعلمی حلقوں میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے نام سے یادکیاجاتاہے عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات میں شمارہوتے تھے اورجناب رسول اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ کے ساتھ بے پناہ شغف وبے شماراحادیث زبانی یاد ہونے کے باعث انہیں ”حافظ الحدیث ”کے لقب سے پکاراجاتاتھاان کاتعلق ضلع رحیم یارخان کی بستی ”درخواست ”سے تھا جس کے باعث وہ درخواستی کہلاتے تھے ۔ انہوں نے دینی تعلیم اپنے گاؤں میں اوربعد میں دین پورشریف میں حاصل کی جواپنے وقت کے ولی کامل ومجاہد تحریک آزادی حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ کامرکز تھااوراب بھی ان کاخاندان اس روھانی مرکز کوآباد رکھے ہوئے ہے ۔

 

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت

حضرت مولانازاہدالراشدی

شیخ الاسلام حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی عمر ١٠٣برس کے لگ بھگ تھی اوروہ ١٩٦٢ء سے جمعیت العلماء اسلام پاکستان کے امیر چلے آرہے تھے ۔ مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ جنہیں پاکستان کے دینی وعلمی حلقوں میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے نام سے یادکیاجاتاہے عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات میں شمارہوتے تھے اورجناب رسول اکرمﷺکی احادیث مبارکہ کے ساتھ بے پناہ شغف وبے شماراحادیث زبانی یاد ہونے کے باعث انہیں ”حافظ الحدیث ”کے لقب سے پکاراجاتاتھاان کاتعلق ضلع رحیم یارخان کی بستی ”درخواست ”سے تھا جس کے باعث وہ درخواستی کہلاتے تھے ۔ انہوں نے دینی تعلیم اپنے گائوں میں اوربعد میں دین پورشریف میں حاصل کی جواپنے وقت کے ولی کامل ومجاہد تحریک آزادی حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ کامرکز تھااوراب بھی ان کاخاندان اس روھانی مرکز کوآباد رکھے ہوئے ہے ۔

حال ہی میں جرمن وزارت خارجہ ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری نے اپنی یادداشتوں میں اس تحریک آزادی کاذکرکیاہے ، جوشیخ الہند مولانامحمود الحسن دیوبندی رحمة اللہ علیہ نے منظم کی تھی اورجس کے تحت جرمن ،ترک اورافغان حکومتوں نے مل کربرطانوی استعمار سے برصغیر پاک وہند کی آزادی کے لئے مجاہدین آزادی کی عملی امداد کااہتمام کرناتھا لیکن قبل از وقت منصوبہ کے انکشاف کے باعث یہ تحریک ناکامی سے ہمکنار ہوگئی تھی ۔

دین پورشریف اس تحریک کے اہم مراکز میں سے تھا اورحضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ کاتحریک کوراہنمائوں میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بھی اس تحریک کے کارکنوں میں سے تھے اورکبھی کبھی اس دور کے واقعات سنایاکرتے تھے ۔ یہ ان کاطالبعلمی کادورتھالیکن اپنے شیخ ومربی حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری رحمة اللہ علیہ کے حوالہ سے تحریک آزادی کے کاموں میں وہ بھی شریک رہتے تھے ۔ وہ بنیادی طورپرتعلیم وتربیت کے میدان کے بزرگ تھے ۔ انہوں نے ساری زندگی قرآن کریم اورحدیث رسول ۖ کادرس دیا۔ اورلاکھوں تشنگان علوم نبوت کوسیراب کیا۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت اورذکر اللہ کی تلقین ان کاخصوصی ذوق تھااوربڑے بڑے علماء اورمشائخ ان کی روحانی مجالس میں بیٹھنے کوسعادت سمجھتے تھے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوحضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ کی وفات کے بعد علماء کرام نے اپنی امارت کے لئے منتخب کیااوروہ نظام العلماء پاکستان کے امیر چنے گئے جوایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کے دور میں سیاسی جماعتوں پرپابندی کے باعث جمعیت علماء اسلام کی جگہ مذہبی امور کی انجام دہی کے لئے قائم کی گئی تھی اورپھر ٦٢ء میں مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد سیاسی جماعت کے طورپر جمعیت علماء اسلام کی بحالی پروہ اس کے امیر چنے گئے ۔ ان کی امارت میں کام کرنے والوں میں مولانامفتی محمود ،مولاناعبدالحق ، مولاناغلام غوث ہزاروی ،مولاناعبیداللہ انور، مولاناسیدگل بادشاہ ، مولاناسیدمحمد شاہ امروٹی ، اورمولانامفی عبدالقیوم پوپلز ئی رحمہم اللہ جیسے اکابر علماء شامل رہے ہیں جومجالس میں ان کے سامنے دوزانو بیٹھتے اوران سیراہنمائی کے طالب ہواکرتے تھے ۔

١٩٧٢ء کی بات ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے ایک حلقہ کی طرف سے تجویز آئی کہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی علالت اورضعف کے باعث انہیں جمعیت کاسرپرست بنادیاجائے اورمولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ کوامیر منتخب کیاجائے شیرانوالہ لاہو ر میں جمعیت کی جنرل کونسل کے کھلے عام اجلا س میں مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ نے اس تجویز کی شدید مخالف کی اورکہاکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی موجودگی میں ہم کسی اورکی امارت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ یہ بات مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کی بزرگی اورراہنمائی پراپنے دور کے اہل علم کے بھرپور اعتماد کامظہر تھی اوران کے علم وفضل کااعتراف تھی ۔

شدید علالت اورضعف کے آخری چند سالوں کوچھوڑ کر حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ پوراسال ملک بھر میں متحرک رہتے تھے اورشاید ہی پاکستان اوربنگلہ دیش کاکوئی حصہ ایساہوجہاں انہوں نے باربار علماء کے اجلاسوں اورپبلک اجتماعات سے خطاب نہ کیاہو۔ وہ جہاں جاتے نفاذ اسلام اورتحفظ ختم نبوت کے لئے علماء اورکارکنوں کوابھارتے ان سے کام کرنے کاعہد لیتے ، نمایاں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی دستاربندی کراتے اوردینی مدارس ومکاتب کے قیام کی طرف لوگوں کوتوجہ دلاتے تھے ۔ وہ ایک ایک دن میں دس اجتماعات سے خطاب کرتے اوراس طرح مسلسل سفر میں رہتے تھے کہ میرے جیسانوجوان کارکن بھی چنددن سے زیادہ ان کاساتھ نہیں دے پاتاتھا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی زندگی کامشن پاکستان میں اسلامی نظام کانفاذ ، عقیدہختم نبوت کاتحفظ اورقریہ قریہ دینی مدارس کاقیام تھااوروہ جہاںجاتے اورجس مجلس میں ہوتے ان کی گفتگو انہیں مقاصد کے حوالہ سے ہوتی تھی ۔ ان کاخطاب معروف معنوں میں سیاسی نہیں ہوتاتھااورنہ ہی مربوط گفتگوکامزاج تھا۔ لیکن روحانی اورعلمی شخصیت کاکمال یہ تھاکہ لوگ گھنٹوں بیٹھے ان کی غیرمربوط گفتگوکی چاشنی سے محفوظ ہوتے رہتے ۔

بسااوقات ساری ساری رات گزرجاتی اورجب وہ تقریر کے بعد دعاء سے فارغ ہوتے توپتہ چلتاکہ فجر کی اذان کاوقت ہوگیاہے ۔ وہ جھوم جھوم کراحادیث رسول اکرم ۖ کی تلاوت فرماتے توایک عجب سماں کی کیفیت ہوتی خود بھی روتے اورساتھ ہی حاضرین کوبھی رلاتے رہتے ۔ وہ خود فرمایاکرتے تھے کہ جب میں رسول اللہ ۖ کاتذکرہ کرتاہوں اوران کی احادیث شریف سناتاہوں تومجھے وقت کاہوش نہیں رہتا۔ یہ ان کی عشق رسول ۖ کی علامت تھی۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ میرے مشفق امیرتھے ۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنی شفقتوں اوراعتماد سے نوازالیکن میں ان کے ساتھ اس سے زیادہ وفانہ کرسکاکہ جمعیت علماء اسلام میں دھڑے بندیوں کے کئی دورآئے مگرمیں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے علاوہ کسی اورکواپنا امیرنہ مان سکا۔ شاید یہی ایک بات آخرت میں ان کے ساتھ رفاقت کاباعث بن جائے آمین ۔

آج میرامیر مجھ سے جداہوگیاہے اورمیں وطن سے دور بہت دورگلاسکو کی مرکزی جامع مسجد میں بیٹھاان کی یاد میں آنسوبہارہاہوں اوران الفاظ کے ذریعے اپنے دل کاغمہلکاکرنے کی کوشش کررہاہوں اے کاش وقت کے یہ بے رحم فاصلے درمیان میں نہ ہوتے اورمیں ان کی آخری زیارت سے اپنی آنکھوں کوٹھنڈاکرسکتااللہ تعالیٰ انہیں جواررحمت میںجگہ دیں اورکروٹ جنت نصیب فرمائیں

۔

(آمین)

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.