hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

عالم بے بدل ، محدث اعظم

عالم بے بدل ، محدث اعظم

مولانامحمداسلم تھانوی

مہتمم جامعہ اشرفیہ ملتان

یوں توموت اس عام وگل کی ہرچیز کے لئے مقدرہے جوزندگی کاعاریتی لباس پہن کربساط ہستی پرنمودار ہوئی ہے لیکن جس طرح زندگی ، زندگی میں فرق ہوتاہے ، اسی طرح ہرایک کی موت بھی یکساں نہیں ہوتی ۔ کبھی کبھی ایسی اموات بھی واقع ہوتی ہیں جوصرف افراد واشخاص کی اموات نہیں ہوتیں بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی عمارتِ حیات بھی اس سے متزلزل ہوجاتی ہے جومرنے والے کے دامانِ عقیدت وارادت سے وابستہ ہوتے ہیں ۔ پھراس کی موت کاصدمہ آنکھوں کے چند قطرہ ہائے اشک سے دھل نہیں جاتابلکہ لاکھوں لوگوں پرسکون آبادیاں ایک مستقل غم کدئہ آمال دامانی بن کررہ جاتی ہیں ۔ امیدوں اورولولوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں ، نشاط وکامرانی حیات کے آتش کدے سردہوجاتے ہیں اورایسامحسوس ہوتاہے کہ اس حادثہ جان کاہ نے کائنات عالم کی ہرہرچیز کواداس اورغمگین کردیاہے ۔اسی طرح کی ایک موت پرعربی کے ایک ممتاز شاعرنے کہاتھا۔

وَمَاکَانَ قَیْسْ ھَلْکَہ ھَلْکُ وَاحِدٍ

وَلٰکِنَّہ بُنْیَانُ قَوْمٍ تَھَدَّمَا

قیس کامرنا صرف ایک شخص کامرنانہیں ہے بلکہ وہ تو

ایک قوم کی بنیاد تھاجواس کے مرنے سے منہدم ہوگئی ۔

 

 

عالم بے بدل ، محدث اعظم

مولانامحمداسلم تھانوی

مہتمم جامعہ اشرفیہ ملتان

یوں توموت اس عام وگل کی ہرچیز کے لئے مقدرہے جوزندگی کاعاریتی لباس پہن کربساط ہستی پرنمودار ہوئی ہے لیکن جس طرح زندگی ، زندگی میں فرق ہوتاہے ، اسی طرح ہرایک کی موت بھی یکساں نہیں ہوتی ۔ کبھی کبھی ایسی اموات بھی واقع ہوتی ہیں جوصرف افراد واشخاص کی اموات نہیں ہوتیں بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی عمارتِ حیات بھی اس سے متزلزل ہوجاتی ہے جومرنے والے کے دامانِ عقیدت وارادت سے وابستہ ہوتے ہیں ۔ پھراس کی موت کاصدمہ آنکھوں کے چند قطرہ ہائے اشک سے دھل نہیں جاتابلکہ لاکھوں لوگوں پرسکون آبادیاں ایک مستقل غم کدئہ آمال دامانی بن کررہ جاتی ہیں ۔ امیدوں اورولولوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں ، نشاط وکامرانی حیات کے آتش کدے سردہوجاتے ہیں اورایسامحسوس ہوتاہے کہ اس حادثہ جان کاہ نے کائنات عالم کی ہرہرچیز کواداس اورغمگین کردیاہے ۔اسی طرح کی ایک موت پرعربی کے ایک ممتاز شاعرنے کہاتھا۔

وَمَاکَانَ قَیْسْ ھَلْکَہ ھَلْکُ وَاحِدٍ

وَلٰکِنَّہ بُنْیَانُ قَوْمٍ تَھَدَّمَا

قیس کامرنا صرف ایک شخص کامرنانہیں ہے بلکہ وہ تو

ایک قوم کی بنیاد تھاجواس کے مرنے سے منہدم ہوگئی ۔

ایسی ہی قابل رشک موت جن مشاہیر ہستیوں کوحاصل ہوئی ان میں ایک ذات ستووہ صفات حافظ الحدیث ، شیخ الاسلام ، عالم بے بدل ، محدث جلیل ، نمونہ اسلاف ، حجة الاسلام حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی قدس سرہ کی ہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کے علوم ومعارف کے شارح اورترجمان تھے ۔ انہی کے طرز پرہرسال دورہ تفسیرپڑھاتے رہے ، جس میں ملک کے اطراف واکناف سے طلباء جمع ہوجاتے اورآپ سے بھرپور استفادہ کرتے ۔ آپ ایک صاحب نسبت اورمتبع سنت بزرگ تھے اورکیوں نہ ہوتے کہ آپ بارہ تیرہ سال کی چھوٹی سی عمر میں بھی رات کے آخری پہراٹھ کر تہجد اوراوراد ووظائف میںمشغول ہوجاتے ۔ سردیوں کی انتہائی تلخخت راتوں میں بھ اس معمول کاناغہ نہ ہونے دیتے تھے ۔

خانپور شہر میں مستقل جویان فیض اورطالبان حق کاتانتابندھارہتاتھا۔ ایک سے ایک پتھردل آتااورموم ہوکرجاتا۔ مشغلہ وعظ سے آپ نے اسلام اوراہل اسلام کی جوخدمت کی ہے وہ کم ہی لوگوں کے نصیبے میں آتی ہے ۔ آپ کے مواعظ وتزکیہ قلوب سے ہزارہاہزار گم کردہ راہ لوگوں کوراہ راست نصیب ہوئی اوربے شمار بدعات کے دروازے ہمیشہ کے لئے بندہوئے ۔

آپ مشہور محدث ، فقیہ اورعارف باللہ بزرگ تھے ۔ دین کے ہرشعبہ کے کاموں کے لئے من اللہ موفق تھے ۔ دورہ تفسیر کی نسبت سے آپ کے تلامذہ دنیاکے ہرہرخطے میں پھیل گئے ۔آپ نے پاکستان کاکوئی گوشہ نہیں چھوڑاکہ سفرکرکے وعظ وتبلیغ نہ فرمایاہو۔

اب اس دورکابالکل خاتمہ ہوگیاجوحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، حکیم الامت حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ ، خلیفہ میاں غلام محمددین پوری ، شیخ الحدیث مولانامحمد صدیق رحمہم اللہ علیہ کاعظیم یادگارتھااورجس کی ذات میں حضرت مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ اورحضرت سیداحمدشہید بریلوی رحمة اللہ علیہ کی نسبتیں یکجاتھیں ۔ جس کاسینہ معرفت الہٰی ، مجددی سکون اورحب نبوی ۖ کامجمع البحرین تھا۔ جس کی زبان شریعت وطریقت کی وحدت کی ترجمان تھی ، جس کے قلم نے فقہ وتصوف کوایک مدت کی ہنگامہ آرائی کے بعد باہم ہم آغوش کیاتھااورجس کے فیض نے تقریبا پون صدی تک اللہ تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے اپنی تعلیم وتربیت اورتزکیہ ہدایت سے ایک عالم کومستفید کیااورجس نے اپنی تقریر وتحریرسے حقائق ایمانی ، دقائق فقہی ، اسرار احسانی اوررموز حکمت ربانی کوبرملافاش کیاتھا۔

حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ جس طرح کے عالم متبحرتھے ، طریقت اورسلوک میں بھی مقام رفیع کے مالک تھے ۔ ان کی ذات علوم باطنی وظاہری کاعظیم ” مخزن ”تھی ۔ علم سفینہ سے زیادہ عم سینہ ان کااصلی جوہراورزیورتھا۔ تحریریں علم وفضل کامعدن ہوتی تھیں اورتقریریں بھی بلاکی اثر انگیز ہوتی تھیں ۔ وہ جس بات کوحق سمجھتے اسے برملاکہتے اورکرتے تھے اوراس میں انہیں کسی لومة لائم کی ذرہ برابرپرواہ نہیں ہوتی تھی ۔ خود توایک درویش گوشہ نشین تھے مگران کاآستانہ بڑے بڑے ارباب دولت وثروت اوراصحاب علم وفضل کی عقیدت گاہ تھا۔ جوبات اورجوعمل تھااخلاص اوردیانت کے ساتھ تھا، دنیاوی وجاہت وشہرت اورمالی حرص وآز کاشاید دل کے آسپاس بھی کہیں گزرنہ ہواتھا۔ اپنے اصول اوراپنے عقیدہ وخیال پراس مضبوطی وپختگی سے عمل پیراہوتے تھے کہ دنیاکی کوئی طاقت ان کواس سے منحرف نہیں کرسکتی تھی ۔

حضرت رحمة اللہ علیہ کاآستانہ معرفت وروحانیت کاایک ایساچشمہ تھاکہ ہزاروں تشنہ کام آتے اورسیراب ہوکرجاتے تھے ۔ وہ جن کی زندگیاں معصیت کوشی اورعصیاں آلودگی میں بسرہوئی تھیں نہ صرف یہاں سے پاک صاف ہوکربلکہ گوہرمقصود سے دامان آرزوبھرکرواپس لوٹتے تھے ۔ ان کی زندگی اتباع سنت کاایک زندہ درس اوران کی گفتگو اسرار ورموز طریقت کادفترگرانمایہ تھی ۔ تقویٰ وطہارت ،تفقہ فی الدین ، شرعی علوم میںمہارت وبصیرت ، راست گفتاری ، مخلصانہ عمل کوشی ، انابت الی اللہ ، بے لوث خدمت دین اوربے غرضانہ تلقین ، رشدوہدایت حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کے یہ وہ اوصاف عالیہ اورفضائل حمیدہ تھے جوہرموافق ومخالف کے نزدیک برابرمسلمہ رہے ۔ بعض عوارض واسقام کی بناء پرگوشہ نشین ہونے سے قبل اپنے مواعظ حسنہ اوراپنی تصانیف کے ذریعہ حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ نے اصلاح اعمال وعقائد اورابطال رسول وبدعات کی جوعظیم الشان خدمات انجام دیں وہ غالبا تمام ہم عصروں میں انہی کاطرئہ امتیاز ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ نے اپنی تحریروں اورتقریروں سے ہزاروں انسانوں کے روحانی امراض کاایساکامیاب علاج فرمایاکہ جوسنگ ریزے تھے وہ گوہر آبدار بن گئے اورجوصرف پیتل تھے وہ زرخالص ہوگئے ۔

مجھے حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کی پہلی زیارت جامعہ فاروقیہ شجاع آباد کیسالانہ جلسے میں ہوئی ۔ جہاں حضرت مولانارشیداحمد صدیقی رحمة اللہ علیہ کی دعوت پریہ ناکارہ بھی مدعوتھا۔ حضرت کابیان انتہائی پراثرتھا بلکہ بعض لوگوں کواحقر نے اس تقریر کے دوران چشم پرنم بھی دیکھا۔ جلسے کے اختتام پردعابھی حضرت ہی نے فرمائی جس کی چاشنی اورکیفیت آج تک یاد ہے ۔ اس کے بعد توپھرمتعدد بار حضرت کی موجود گی میں بعض مرتبہ صدارت میں بھی اس ناکارہ کوبیان کرنے کاموقع ملا۔

الحمدللہ حضرت خوب شفقت فرماتے تھے ۔

دارالعلوم مدنیہ کوٹ مٹھن ضلع راجن پور میں سالانہ جلسہ تھا، حضرت مہتمم مولاناحفیظ الرحمن مدنی نے احقر کوبھی دعوت خطاب دی تھی ۔ جلسے کے آخرمیں حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے علماء کرام کی دستاربندی بھی فرمائی تھی ۔ جب اس عاجز کانمبرآیا توحضرت نے دستاربندی کرنے کے بعد چند کلمات بطورقول وقرار اورعہد کے کہلوائے جن کویہاں بطورتبرک نقل کیاجاتاہے ۔

”میرانام مولوی محمداسلم تھانوی ہے ”تھانوی حضرات ”وہ تھے کہ جنہوں نے یہ پیاراملک پاکستان بنایا، میں بھی پاکستانی ہوں اورتھانوی ہوں ، اس لئے اس ملک کی حفاظت اورنفاذ اسلام کے لئے کسی کوشش وکاوش سے دریغ نہیں کروں گا۔ا ستحکام پاکستان کی خاطر اوراسلامی آئین کے نفاذ کی خاطرانتھک جدوجہد کروں گا۔”اس جلسے میں حضرت رحمة اللہ علیہ کے نواسے حضرت مولاناسیف الرحمن درخواستی مدظلہ بھی موجود تھے ۔

خطیب الامت حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمة اللہ علیہ نے اس ملک کیجوبے لوث خدمت کی ہے ، وہ یہاں کے باشندوں سے مخفی نہیں ہے ۔ آپ نے چنداورعلماء کرام کوساتھ ملاکرایک جماعت ”نظریہ پاکستان علماء محاذ ”کی بنیاد رکھی تھی ۔ جس کے تحت حضرت رحمة اللہ علیہ آخروقت تک کام کرتے رہے ۔ احقر نے بھی ١٩٩٢ء میں اس کی تشکیل نوکرتے ہوئے کام کوآگے بڑھانے کے لئے ”تحفظ نظریہ پاکستان علماء محاذ ”کے نام سے اس جدوجہد کومزید تیز کردیاچونکہ احقرکایہ یقین کامل ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پرمعرض وجود میں آیاہے ۔ اگراس نظریہ ہی کوسرے سے ختم کیاگیاتوپھریہ ملک کبھی قائم نہ رہ سکے گااس لئے بقائے پاکستان کے لئے نظریہ کاوجود ، تحفظ اوراس کادفاع نہایت اہم اورضروری ہے ۔

حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کی رحلت کی خبر احقر کوسفرآزاد کشمیر سے واپسی پرسفرہی کی منزل پرملی ۔ چونکہ ان تواریخ میں یہ ناکارہ علماء اوراپنی جماعتوں کے قائدین کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے دورہ پرتھا۔ واپسی پراکوڑہ خٹک کی مشہوردینی درسگاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پہنچاظہرکے بعد کاوقت تھا، تمام طلباء اوراساتذہ قرآنی خوانی میں مصروف تھے ۔ قائد جمعیت اورمہتمم دارالعلوم حضرت مولاناسمیع الحق مدظلہم العالی خان پور جنازے میں شرکت کی غرض سے تشریف لے جاچکے تھے ۔ ماہنامہ ”الحق ”کے سابق مدیرحضرت مولاناعبدالقیوم حقانی نے ہمیں نہایت سوگواری کی حالت میں خوش آمدید کہااورعصرکے بعد تعزیتی جلسے میں احقر کے خطاب کااعلان کرادیا۔ چنانچہ احقر نے ایک گھنٹے کے خطاب میں حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کی سوانح حیات پرمختصر روشنی ڈالی اوردرج ذیل اشعا رپڑھے

سنے آہ کون صدائے دل میں لوں کس سے اپنی دوائے دل

وہ جوبیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھاگئے

ملتان حاضری کے چند یوم بعد فوری طورپرخان پور روانگی ہوئی اورحضرت کے مزار پرانوار پرحاضری دی ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کی عظیم یادگاریں جامعہ مخزن العلوم والفیوض عیدگاہ اورجامعہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں مقامات پرحاضری دی اوردیر تک حضرت ہی کی باتیں کرتارہا۔ اس سفر میں حضرت کے صاحبزادے مولانامطیع الرحمن درخواستی نے حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کی ایک یادگارتقریر”موت ”کے عنوان پرہدیتاًعنایت فرمائی ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ نے یہ تقریر شیخ التفسیر حضرت مولانااحمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال پرفرمائی تھی ۔ ہمارے مدرسہ جامعہ اشرفیہ ملتان کے صدرالمدرسین استا ذالعلماء ، جامع المعقول والمنقول حضرت العلامہ مولاناابوالفتح عبدالمالک رحمانی مدظلہ نے اس عاجزسے بیان کیا۔ ایک مرتبہ جلال پور پیروالہ کے مضافات بیٹ قیصر کے علاقے میں کئی سال تک بارش نہ ہوئی لوگوں نے علمائے کرام کی اقتداء میں ”نماز استسقاء ”بھی اداکی مگربارش نہ ہوئی ۔ علماء نے باہمی مشاورت کی کہ حضرت اقدس حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کوبلوایاجائے چنانچہ حضرت تشریف لے آئے ، ابھی خطبہ مسنونہ ہی پڑھ رہے تھے کہ لوگوں نے آسمان پرنگاہ کی توبادل چھاگئے اورجب تقریر شروع فرمائی توموسلادھار بارش ہوئی ، ساراعلاقہ جل تھل ہوگیا۔ حضرت صدالمدرسین صاحب اس جلسے میں بہ نفس نفیس خود موجود تھے ۔ا سی طرح کے چندواقعات بشکل کرامات چنداورعلماء نے اپنے اپنے علاقوں کے سنائے ہیں ۔ حضرت مولانارحمانی صاحب نے ایک واقعہ بیان کیا کہ جلالپور پیروالہ کے بڑے رئیس اورزمیندار کی شادی وہاں قریب کی بستی میں ہوئی تھی ، حضرت حافظ الحدیث نے خود نکاح پڑھایاتھااوراس شادی میں شریک تھے ۔ تیس سال بعد اسی علاقے کے جلسے میں حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ وعظ کے لئے تشریف لائے اورمجمع میں موجود چوہدری طفیل احمدصاحب کوکھڑاکرکے فرمایاکہ ”تمہارانام طفیل احمدہے اورتمہاری شادی تیس سال پہلے علاقے کی فلاں بستی میں ہوئی تھی اورمیں اس شادی میں شریک تھا، سب کہوسبحان اللہ ۔ ”سارامجمع حضرت کے اس قوتِ حافظہ پرحیران رہ گیا۔بالآخرمحفل دوستاں کاوہ چراغ سحرجوکئی سال سے ضعف ومرض کے جھونکوں سے بجھ بجھ کرسنبھل جاتاتھا۔ وہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بجھ گیاہے ۔

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خاموش ہے

حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال سے ان کے لاکھوں مریدین ، معتقدین ، مستفیدین ، منتسبین اورشاگردان ِ رشید غمگین ومہجور ہوگئے کہ ان کے غم والم کااب مداوانہ ہوسکے گا

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزئہ نورستہ تیرے در کی دربانی کرے

دعاہے کہ حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ کے صحیح معنوں میں علمی ، عملی اورروحانی جانشین حضرت اقدس شیخ التفسیر مولانافداء الرحمن درخواستی مدظلہم کاسایہ عاطفت خدام کے سروں پرتادیر سلامت باکرامت تاقیامت رکھے ۔

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمیں بد

Leave A Reply

Your email address will not be published.