hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

دبستان دین پورشریف کالعل چراغ شب

دبستان دین پورشریف کالعل چراغ شب

سیرت نگار اقبال احمدصدیقی ،کراچی

زبدة الساکین ، زینت العارفین حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ کی رفاقت میں اپ کے جوچند سال گزرے وہ حاصل زندگی تھے ، تعلیم وتربیت کے علاوہ استاد کی شفقت فراواں اورشخصیت سازی کامعاملہ خوب سے خوب ترتھا۔ ابتداء ہی سے احادیث نبویﷺ یادکرنے کااز حد شوق تھاچنانچہ معمول بناکرروزانہ اپنے مرشد کی خدمت میں حاضرہوتے ۔ علومرتبہ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ پوچھتے ”مولوی عبداللہ آج کیاپڑھاہے ”آپ چند احادیث نبویہ ۖ مع ترجمہ سناتے توحضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ پروجد کی کیفیت طاری ہوجاتی اورآنکھیں پرنم ہوجاتیں ۔ حضرت قطب الاقطاب خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ترقی حافظہ ، ذہنی آسودگی اوردرازی عمر کی دعافرماتے اورآنے والے وقت میں آپ واقعی حافظ الحدیث اورعالم باعمل بنے ۔

دبستان دین پورشریف

کالعل چراغ شب

سیرت نگار اقبال احمدصدیقی ،کراچی

زبدة الساکین ، زینت العارفین حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ کی رفاقت میں اپ کے جوچند سال گزرے وہ حاصل زندگی تھے ، تعلیم وتربیت کے علاوہ استاد کی شفقت فراواں اورشخصیت سازی کامعاملہ خوب سے خوب ترتھا۔ ابتداء ہی سے احادیث نبویﷺ یادکرنے کااز حد شوق تھاچنانچہ معمول بناکرروزانہ اپنے مرشد کی خدمت میں حاضرہوتے ۔ علومرتبہ حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ پوچھتے ”مولوی عبداللہ آج کیاپڑھاہے ”آپ چند احادیث نبویہ ۖ مع ترجمہ سناتے توحضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ پروجد کی کیفیت طاری ہوجاتی اورآنکھیں پرنم ہوجاتیں ۔ حضرت قطب الاقطاب خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ترقی حافظہ ، ذہنی آسودگی اوردرازی عمر کی دعافرماتے اورآنے والے وقت میں آپ واقعی حافظ الحدیث اورعالم باعمل بنے ۔

ایک مرتبہ مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ نے مرشد کامل رحمة اللہ علیہ سے دارالعلوم دیوبند کے اکابر اساتذہ علماء سے ملاقات کی اجازت چاہی ، حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:

”آپ جن شیوخ کے مشتاق دیدہو ، وہ انشاء اللہ یہاں تشریف لائیں گے ۔ ”

سبحان اللہ اس جواب میں کیسی صداقت تھی ، چنددنوں بعد مولاناعبیداللہ سندھی کے ہمراہ حکیم ا لامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ دین پورشریف تشریف لائے ۔ حضرت درخواستی بھی دوسرے طلباء واساتذہ کے ساتھ حکیم الامت کے استقبال کے لئے خان پور ریلوے اسٹیشن گئے ۔

پھرایسابھی ہواکہ شیخ الاسلام حضرت مولاسیدحسین احمدمدنی اورحضرت علامہ انورشاہ کشمیری رحمہمااللہ یکے بعددیگرے ریاست بہاولپور تشریف لائے ، اس موقع پرحضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ اکثر ان کی خدمت میں حاضررہے ۔

علوم اسلامیہ وروحانی تربیت کی تکمیل کے بعد بالآخر وہ مبارک گھڑی بھی آپہنچی جب عمومی دستاربندی کے بعدحضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ نے اپنے سرمبارک سے عمامہ اتارکرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے سرپررکھ کرارشاد فرمایا:

”بزرگوں نے خدمت دین کاجومشن مجھے سونپاتھاآج میں تمہارے حوالے کرتا

ہوں تمام دنیاوی آرزووئوں کاخاتمہ کرکے میرے ساتھ عہد کروکہ اس مشن کی

تکمیل کیلئے نفع ونقصان کی پرواہ کئے بغیرپوری زندگی وقف کردوگے ”

حضرت مولانامحمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے دین اسلام ، ملت اسلامیہ کی دینی اخلاقی ، معاشرتی ، روحانی خدمت انجام دے کراپناعہد پوراکردکھایااوران کے نام اورخدمات جلیلہ کووہی وقار ، احترام اورسربلندی حاصل ہے ۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشاد ہے کہ اچھے اچھے نام ہیں انہی ناموں سے ان کوپکاراکرواورحدیث مبارک میں نبی اکرم ۖ سے منقول ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ٩٩نام ہیں ۔ جس نے ان کو یاد کیاوہ جنت میں داخل ہوگا۔ علماء امت نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے ناموں کی تقسیم کی ہے کہ ان میں ”اللہ ”ذاتی نام ہے اورباقی اسماء صفاتی ہیں ، جن کے عجیب اوراعلیٰ فضائل ومناقب اوراثرات ہیں ۔ ہمارے ممدوح حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ رمز آشنائے توحید باری تعالیٰ اورسرشارعشق مصطفی ۖ تھے ۔

شیخ طریقت وشریعت ، نقیب الاولیاء ، صاحب عرفان وبصیرت شیخ القرآن والتفسیر حافظ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی قدس سرہ العزیزمضافات خان پورکی خوش نصیب اورمردم خیز بستی درخواست میں بروز جمعہ ماہ محرم الحرام میں اس جہان آب وگل میں تشریف لائے ۔

تعلیم القرآن کاسلسلہ شروع کرنے کے لئے درخواست کے چندمعززاشخاص خان پورکی نواحی بستی سہجہ سے حضرت میاں جی حافظ محمود الدین کویہاں لے آئے تھے ۔ انابت الی اللہ اوراشاعت دین کاکام کرنے والے یہ بزرگ حضرت میاں جی حافظ محمود الدین ، حضرت قطب الاقطاب خواجہ غلام محمددین پوری رحمہمااللہ کے معتمد علیہ یکے از متعلقین ، متقی ، پرہیز گار ، سراپا جودوسخا، متوکل علی اللہ اوردرویش بے ریاتھے ۔ ان کی معیت میں کئی پابند صوم وصلوٰة افراد ہرجمعہ کودین پورجاتے ۔ حضرت میاں جی رحمة اللہ علیہ اپنے رفقاء اورشاگردوں کومرشد کامل حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ سے بیعت کراتے ۔ فرائض وواجبات ، سنن ، ونوافل کے حال وقال میں کسی سہو کی گنجائش نہ تھی ،پوری زندگی ۔میں فرض توکجا تہجد بھی قضانہ کی ۔ تعلیم قرآن کی اجرت نہ لیتے اوراپنے تلامذہ کوبھی مشورہ دیتے کہ قرآن مجید پڑھانے کی اجرت یاوظیفہلوگے توقرآن مجیدکی برکات سے محروم ہوجائوگے ۔ اکثردسترخوان پرکسی مسافر یامہمان کاانتظار کرتے ۔

حضرت میاں محمود الدین رحمة اللہ علیہ کے صالح اورسعادت مندفرزند محمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ حفظ قرآن کی تکمیل کے بعدکھنڈوالے مدرسہ میںتین سال تک جامع المعقول کادرس امام الصرف والنحومولانااحمدبخش رحمة اللہ علیہ سے لیتے رہے ۔ حضرت مولاناقادربخش ملک پوری بھی مسند درس پرموجود تھے ، حضرت میاں جی رحمة اللہ علیہ نے اپنے فرزند کوصرف ونحو کے علاوہ فارسی پڑھانے کی ذمہ داری بھی سونپ دی ۔ جوفقہ اورذہانت انہوں نے وراثت میں پائی تھی ۔ جوبات ایک دفعہ سن لیتے وہ ذہن نشین ہوجاتی ۔ وہ دریافت نہ کرتے صبح سویرے مدرسے چلے جاتے ، عصرکے بعد واپس گھرآتے ۔ عشاء کے بعد والدصاحب رحمة اللہ علیہ کوسبق سنا کرسوجاتے ۔ حضرت مولاناعبدالغفور حاجی پوری رحمة اللہ علیہ شاگرد شیخ الہندسے فقہ وحدیث ، مولاناغلام صدیق رحمة اللہ علیہ سے بخاری شریف ، ترمذی شریف اوردیگرکتب پڑھیں ۔

اللہ رب العزت کایہ احسان عظیم ہے کہ اس نے ہزاروں ارباب حدیث کے دلوں کواس طرف پھیردیااورانہوں نے تین سوسال سے زیادہ مدت تک بڑی باریک بینی کے ساتھ تمام روایتوں کوچھاننا اورپوری جانچ پڑتال کے بعد ان کی اقسام مقررکیں ۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر پورے وثوق سے کہاجاسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے علمائے حدیث کے ذریعہ اپنے دین کوبڑاتحفظ عطافرمایااوراکثر نام ایسے محدثین کرام کے ملتے ہیں کہ انہیں زبردست خدادادصلاحیت حافظہ حاصل تھی کہ ان کے واقعات پڑھ کرآج کے دور کے لوگ ورطئہ حیرت میںپڑجاتے ہیں ۔ جیساکہ ائمہ احادیث کے ان علمی کارناموں سے ظاہرہے ۔

احادیث وآثار کے مختلف مجموعے اپنی ترتیب اورمشتملات کے اعتبارسے مختلف ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔ مثلاالمنقی ، مصنف، المسند، المستدرک ، المنجم ، الموطا، السنن ، الجامع وغیرہ۔ ان مجموعوں میںکثیر مشہور متداول کتابیں یہ ہیں ۔ انہی میں ہم احادیث وآثار کی روایات بھی پاتے ہیں ۔

(١) الموطاللامام مالک رحمة اللہ علیہ وفات ١٧٩ ھ

(٢) الجامع الصحیح للامام ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری المتوفی ٢٥٦ ہجری

(٣)الجامع الصحیح الامام مسلم بن الحجاج القشیری المتوفی ٢٦١ ھ

(٤)جامع السنن الامام عبداللہ الدارمی المتوفی ٢٥٨ ھ

(٥)الترمذی (٦)النسائی (٨)مسنداحمدبن حنبل

ان کے علاوہ بھی بعض مجموعے ایسے ہیں جوکئی اعتبارے سے قابل ذکرہیں ۔ مثلاسنن الدارقطنی ، سنن ابی دائود السجستانی ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ ، القزوینی وغیرہ ۔ ایک بہت بڑامجموعہ السنن البریٰ الامام احمدبن حسین البیہقی المتوفی ٤٥٨ ھ کاہے جودس ضخیم جلدوںپرطبع ہوا۔

ائمہ حدیث کے مطابق ٣٢ہزار راویان احادیث وآثار کے نام ونشان ذاتی احوال وکردار اورعقائد واعمال علم رجال کی صورت میں ان کے سامنے موجود تھے لیکن اس کے علاوہ دومحکم پیمانے بھی ان کے پاس تھے ۔

اول: قرآن مجیدجولفظا محفوظ متد اول اوراہل ایمان کے سینوں میں محفوظ تھا۔

دوم: تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین : کون ذی ہوش اس شبہ میں مبتلاہوسکتاتھاکہ تبوک سے یمن تک پھیلے ہوئے یہ لاکھوں صحابہ اورصحابیات کسی بے اصل بات پراتفا ق کرکے عبادات میں اسلامی شعائر پرعمل پیراہوگئے تھے ۔ یامسجد وں میں جویہ پانچ اوقات اذانیں ہوتی ہیں اورلوگ جماعت سے نمازیں اداکرتے ہیں یہ معمول رسول اللہ ۖ سے ثابت نہیں ہے یقیناہے ماہ رمضان میں روزے رکھنا اورماہ ذی الحج میں حج کرنایہ سب ہی توآنحضرت ۖ کے قول وفعل کے مطابق ہے ۔ احادیث نبوی ۖ کااس کاذریعہ ہیں ، چنانچہ اسلامی شریعت میں قرآن مجید کے بعد حدیث نبوی ۖ کودوسراماخذ سمجھاجاتاہے ۔ احادیث کی دوقسموں میں سے ایک قسم وہ ہے ، جس میں عام طورپر”قال اللہ ”(اللہ تعالیٰ نے فرمایا)کے الفاظ سے آغاز ہوتاہے ۔ علماء نے ان کانام ”حدیث قدسی ”یعنی (خدائی احادیث ) رکھاہے اورایسی احادیث کوقطعی ثقہ اورمستند سمجھاجاتاہے ۔ پیش نظرمضمون میں حافظ الحدیث مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کے اوصاف ذاتی میں ہماری خصوصی توجہ ان کے علم حدیث پرہے ۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدئہ عالم دوام ما

اول ایک علمی سوال یہ ہے کہ حدیث کیاہے ؟ تواس کاایک ہی غیر مبہم جواب ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان صداقت بیان سے حضرت محمدرسول اللہ ۖ کے کسی قول ،فعل نفی یااجازت وارشاد کی شہادت اورروایت دستیاب ہونا۔ پھرجہاں علم ودانش کایہ نہایت دقیع تحقیقیذوق کہ علمائے حدیث عہدتابعین سے اب تک روایات وافادات کوشہادت وروایت کے مسلمہ اصول پرجانچتے اورمدوّن کرتے رہے ہیں ۔حتی کہ وصال نبوی ۖ سن ١١ہجری کے بعد سے تقریباتین سوبرس تک لفظ علم سے صرف ”علم حدیث ”ہی کوتعبیر کیاجاتاتھا۔

اہل علم اورطالبان علم اس جستجو میں مصروف رہے اوراحادیث نبوی ۖ کی تلاش میں طویل اوردشوار گزار سفرکرتے جہاں سے کچھ اقوال وارشادات نبوی ۖ دریافت ہوتے غورسے سن کریاد کرکے پھرروایت ودرایت پران شہادتوں کی تقویم کرکے انہیں قبول کرتے ۔ احتیاط اتنی زیادہ تھی کہ راوی یعنی اس سلسلے میں شاہد ین میں سے ایک ایک کے عقائد ، اعمال ، عادات اورشخصی احوال وافکار کااتنابڑاذخیرہ اس مقصد کے لئے جمع کیاگیاکہ دنیا میںکہیں اورکسی قوم اورکسی زبان وادب میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ آج ہمارے پاس تقریبابتیس ہزار(٣٢٠٠٠)راویو ں کے احوال محفوظ ہیں ۔

اس تحقیق وتدقیق اوربے مثال جدوجہد سے علم الجرح والتعدیل ، علم نقدالحدیث اورعلم الرجال پیداہوئے ۔ ان علوم میں جمع کیاہوابہت ساسرمایہ مطبوعات اورمخطوطات کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے ۔ اگرخدانخواستہ تابعین اوران کے شاگرد اتنی محنت نہ کرگئے ہوتے توہمیں آج کیسی دشواری کاسامناکرناپڑتا۔ یہ کسی طرح معلوم نہ ہوتاکہ ہادی برحق ۖ نے کیافرمایا ، کیاعمل کیااورکس عمل کی اجازت دی ؟ اللہ تعالیٰ توقرآن حکیم میں باربار یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ کی اطاعت کرواتباع کرتے رہو۔ ہم اطاعت واتباع کیسے کرتے ہیں ؟ اگرہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ آنحضرت ۖ نے کیافرمایا ، کیاعمل فرمایااورکس عملکوناجائز قراردیا۔

حقیقت یہ ہے کہ عبادات ، مناکحات ، معاملات اورمتفرقات سے متعلق تمام احکام قرآنی کی عملی صورت صرف اورصرف سنت نبوی ۖ ہی سے واضح ہوتی ہے اورسنت کے سنت ہونے کی اطلاع ہمیں احادیث وآثارسے حاصل ہوتی ہے ۔

ایک فاضل محقق نے اچھی مثال دی کہ قرآن کریم کوہم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے خود نہیں سنااورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے براہ راست جبریل امین علیہ السلام سے سناتھا ۔ ہمیں یہ قرآن مجید رسول اللہ ۖ کی زبان اقدس ہی سے ملا۔ صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین نے آپ ۖ کی آواز ہی سے سنا اوریاد کیاتھاپھرصحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ہم تک بذریعہ روایات ہی محفوظ چلاآرہاہے اوراس طرح کہ ایک ”امالہ ”یاایک ”وائوعطف ”کافرق بھی نہیں ہونے پایا۔ یہ تحفظ کی ایک بے مثال صورت ہے کہ قرطاس وقلم اپنی جگہ رواں ، تحریر منضبط لیکن زیادہ اہم سینوں میں محفوظ ہوناہے ۔

احادیث نبوی ۖ کواصول حدیث کے ساتھ پڑھنے اوراصل عربی متن نیز مع مآثر وماخذ حفظ کرلینے میں انہیں ایسی کمال مہارت حاصل ہوئی کہ اس صلاحیت خداداد نے ان کے وعظ وخطابت کو بھی فاضلانہ اورباران رحمت بنادیا ۔ شیخ القرآن والتفسیر حضرت مولانا محمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بن ولی کامل میاں جی محمود الدین رحمة اللہ علیہ کو ١٩٣٢ ء میں مقدمہ قادیانیت بہاولپور کے موقع حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ نے حافظ الحدیث کاخطاب عطا فرمایا جومشہورہوکران کے نام کاحصہ بن گیا۔ گویاہماے مخدوم حضرتمولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اسلاف کی سنت کوزندہ رکھا۔

مشہور تابعی حضرت قتادہ رحمة اللہ علیہ کے ترجمہ میں امام بخار ی اورابن سعد رحمہمااللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ نقل کیاہے کہ سعید بن عروبہ رحمة اللہ علیہ سے قتادہ رحمة اللہ علیہ نے کہاکہ قرآن کھول کر دبیٹھ جائو ۔ میں سورہ بقرہ سناتاہوں ، سعید رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اوّل آخرت تک سنا۔ ایک حرف کی بھی غلطی قتادہ رحمة اللہ علیہ نے نہ کی ۔ پھرمجھ کومخاطب ہوکرکہا۔

حضرت جابرعبداللہ رضی کی نوشتہ حدیثوں کامجموعہ جس کانام صحیفہ ہے

وہ سورہ بقرہ سے بھی زیادہ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔”

(تاریخ کبیربخار،ص١٨٢)

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے تھے :

”باربارحدیث کودہراتے رہوکیونکہ اس کوزندہ رکھنے کی یہی صورت ہے ۔”

(معرفت علوم الحدیث للحاکم ۔ص١١٤)

حضرت امام بخاری کے متعلق ان کے رفیق درس جن کانام حاشد بن اسماعیل تھاانہوں نے اپنامشاہدہ بیان کیاہے کہ بخاری ابھی نوعمر تھے ہمارے ساتھ حدیث کے حلقہ میں شریک ہوتے تھے ۔ ہم لوگوں کاقاعدہ یہی تھاکہ استادحدیث بیان کرتاجاتااورہم لوگ لکھتے جاتے تھے لیکن بخاری کوہم نے دیکھاچپ چاپ بیٹھے سنتے رہتے ہیں اورلکھتے نہیں ۔ ساتھی پوچھتے توخاموش ہوجاتے ، ایک دن بہت ٹوکااوراصرار کیاتوانہیں غصہ آگیا۔پھرکہا:

آپ لوگوں نے جوکچھ لکھاہے آئولے کربیٹھ جائو میں زبانی سنادیتاہوں۔”

(حاشد کابیان ہے کہ پندرہ ہزار احادیث اس بندئہ خدابخاری نے زبانی سنادیں )

حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے علمی ودینی عظیم الشان خدمات کے علاوہ قومی وسیاسی زندگی میں بھی بڑے بڑے منصب پراپنے فرائض دیانتداری اورمؤمنانہ فراست سے انجام دئیے ۔ آج اسلام کاسفینہ ہرسمت سے بادِ مخالف کے تھپیڑوں کی زد میں ہے ،دین اسلام کفر والحاد کی یلغار میں گھراہواہے ۔آج حضرت ممدوح کی صلح پسند رہبری کی زیادہ ضرورت پہلے سے بھی زیادہ تھی لیکن رضائے الہٰی نے آپ کوگوشئہ جنت میں بلالیا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے وصال کے موقع پرآپ کے جانشین اوربڑے صاحبزادے حضرت مولانافداء الرحمن درخواستی زید مجدہم حرمین شریفین میں تھے ، اس لئے حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانافضل الرحمن درخواستی نے نماز جنازہ پڑھائی اوردین پورکے تاریخ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔

علم والے کادریا بہا کر چل دئیے

واعظان قوم سوتوں کو جگا کر چل دئیے

کچھ سخنور تھے کہ سحر اپنا دکھا کر چل دئیے

کچھ مسیح تھے کہ مردوں کو جلا کر چل دئیے

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.