hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

افغانستان کاجہاد ملی اورمولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ

افغانستان کاجہاد ملی

اورمولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ

حضرت مولانازاہدالراشدی

شیخ الحدیث مدرسہ نصرة العلوم ، گوجرانوالہ

حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی قدس سرہ العزیز کو میں سب سے پہلے اکتوبر ١٩٦٠ ء کودیھا جب میراحفظ قرآن کریم مکمل ہوا۔ میں نے قرآن کریم سب سے پہلے اپنے والد محترم اوروالدہ مرحومہ سے پڑھنا شروع کیاپھرمرکزی جامع مسجد گکھڑ میں مدرسہ تجویدالقرآن کاقیام عمل میں لایاگیاتووہاں حفظ کاآغاز کیااوراکتوبر ١٩٦٠ ء میں حفظ مکمل کیا۔ میرے استاد محترم قاری محمدانورصاحب نے جوآج کل مدینہ منورہ کے ایک مدرسہ میں قرآن کریم کی تدریس میں مصروف ہیں اس موقع پراپنے دواساتذہ حضرت مولاناقاری فضل کریم صاحب رحمة اللہ علیہ اورحضرت مولاناقاری سیدحسن شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کومدعو کررکھاتھااورایک تقریب کااہتمام کیاتھاتاکہ میں ان بزرگوں کوآخر میں سبق سنائوں کہ اچانک اس روز حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ صوبہ سرحد کے کسی شہر سے واپس جاتے ہوئے پہلے گکھڑ اورپھرگوجرانوالہ رکے تووالد محترم حضرت مولانامحمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے اس موقع کوغنیمت جانتے ہوئے انہیں اس تقریب کے لئے روک لیااوراس طرح مجھے اپناآخری سبق انہیں سناکران سے تلمذ کاشرف حاصل کرنے کی سعادت مل گئی ۔

افغانستان کاجہاد ملی

اورمولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ

حضرت مولانازاہدالراشدی

شیخ الحدیث مدرسہ نصرة العلوم ، گوجرانوالہ

حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی قدس سرہ العزیز کو میں سب سے پہلے اکتوبر ١٩٦٠ ء کودیھا جب میراحفظ قرآن کریم مکمل ہوا۔ میں نے قرآن کریم سب سے پہلے اپنے والد محترم اوروالدہ مرحومہ سے پڑھنا شروع کیاپھرمرکزی جامع مسجد گکھڑ میں مدرسہ تجویدالقرآن کاقیام عمل میں لایاگیاتووہاں حفظ کاآغاز کیااوراکتوبر ١٩٦٠ ء میں حفظ مکمل کیا۔ میرے استاد محترم قاری محمدانورصاحب نے جوآج کل مدینہ منورہ کے ایک مدرسہ میں قرآن کریم کی تدریس میں مصروف ہیں اس موقع پراپنے دواساتذہ حضرت مولاناقاری فضل کریم صاحب رحمة اللہ علیہ اورحضرت مولاناقاری سیدحسن شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کومدعو کررکھاتھااورایک تقریب کااہتمام کیاتھاتاکہ میں ان بزرگوں کوآخر میں سبق سنائوں کہ اچانک اس روز حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ صوبہ سرحد کے کسی شہر سے واپس جاتے ہوئے پہلے گکھڑ اورپھرگوجرانوالہ رکے تووالد محترم حضرت مولانامحمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے اس موقع کوغنیمت جانتے ہوئے انہیں اس تقریب کے لئے روک لیااوراس طرح مجھے اپناآخری سبق انہیں سناکران سے تلمذ کاشرف حاصل کرنے کی سعادت مل گئی ۔

سورة المرسلات کادوسرارکوع میراآخری سبق تھاجو میں نے حضرت درخواستی رحمةاللہ علیہ اورمندرجہ بالاتینوں بزرگوں کوایک عام اجتماع میں سنایا ۔ شاید یہ ان حضرات کارعب تھاکہ میں اس چھوٹے سے سبق میں بھی بھول گیااورسناتے ہوئے ایک آیت مجھ سے رہ گئی ۔

اس کے تقریبادوبرس بعد کی بات ہے جب میں مدرسہ نصرة العلوم گوجرانوالہ میں زیرتعلیم تھا، ایک روز معلوم ہواکہ حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں تشریف لائے ہیں، میں بھی زیارت وملاقات کی نیت سے وہاں پہنچاوہ عقیدت مندوں کے ہجوم میں گھرے ہوئے تھے میں ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا، خیال تھاکہ جب ہجوم کم ہوگا تومصافحہ کرلوں گا، مگر میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ جب حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے نظر پڑتے ہی مجھے آواز دے کر بلوایا اورفرمایاکہ ”ادھر آئو، اب ملتے بھی نہیں ہو؟میں قریب ہوا مصافحہ کیاتوسبق میں بھول جانے والی آیت پڑھی اورپوچھا کہ اب وہ آیت یاد ہے یانہیں ؟ میرے لئے اتنی بات ہی کافی تھی کہ اس بزرگ کوتین سال قبل ایک عام اجتماع میں سبق سنانے والے طالب علم کاچہرہ بھی یادہے اوریہ بھی یاد ہے کہ وہ سبق سناتے ہوئے کونسی آیت بھول گیاتھا۔

اس کے چند برس بعد اسی طرح کاایک واقعہ ہواکہ جہلم میں جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام کاسالانہ جلسہ تھا، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اس میں خطاب کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے ، میں بھی ایک سامع کی حیثیت سے وہاں موجودتھا ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ جلسہ گاہ میں پہنچے توبے شمار لوگ قطار میں ان سے باری باری مصافحہ کررہے تھے ۔ میں بھی لائن میں لگ گیااوررومال کے ساتھ اپنے چہرے کواس طرح ڈھانپ لیاکہ آنکھیں اورچہرے کاکچھ حصہنظرآرہاتھااس خیال سے کہ پہچان لیں گے توکہیں پھرسبق نہ پوچھ لیں ، میری باری آئی اورچلتے چلتے مصافحہ کیاتومیراہاتھ پکڑلیااورفرمایاکہ ”اب چھپتے بھی ہو”سبق یاد ہے ؟یہ حضر کی بے پناہ قوت حافظہ اوریادداشت کااظہار بھی تھا اورمحبت اورشفقت کامظاہرہ بھی ، جوان کے ہرعقیدت مندکے حصہ میں ہمیشہ آتارہاہے ۔

وہ پرانی وضع کے ایک دل ، سادہ منش اورصاف گوعالم دین تھے ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں سے نوازاتھا۔ انہیں شیخ التفسیر حضرت مولانااحمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ کے بعد جمعیت علماء اسلام پاکستان کاامیر منتخب کیاگیاتوبہت سے حضرات متعجب ہوئے کہ وہ اس ڈھب کے آدمی نہیں ہیں اورانہیں آج کی سیاست سے کوئی لگائونہیں ہے ۔ لیکن حضرت رحمة اللہ علیہ نے جس جرأت کے ساتھ علماء کے اس قافلہ کی قیادت کی وہ تاریخ کاایک مستقل باب ہے ، وہ اپنے ذوق کے لحاظ سے ”فنافی الحدیث ”تھے رسول اللہ ۖ کے ارشادات کویاد کرنا، ہروقت ان کاتذکرہ کرتے رہنااورہرموقع پرجناب نبی اکرم ۖ کی کوئی نہ کوئی حدیث سنادینا ان کے مزاج کاحصہ بن گیاتھا۔ انہیں ”حافظ الحدیث ”کے لقب سے یاد کیاجاتاتھااوربلاشبہ انہیں اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ احادیث یاد کرنے کاشرف حاصل تھا۔

ایک دفعہ کاذکرہے کہ کسی شخص نے ان سے سوال کیاکہ کسی کوآپ سے زیادہ حدیثیں بھی یاد ہیں ؟ توغالباًان کاجواب یہ تھاکہ یہاں تونہیں البتہ مدینہ منورہ میں ایک خاتون تھیں جنہیں مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں ۔ کافی عرصہ بعد پتہ چلاکہ یہ خاتون شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کی دخترمحدثہ امة اللہ دہلوی رحمہمااللہ علیہاتھیں جنہوں نے حجاز مقدس میںنصف صدی تک علم حدیث کی مسندتدریس آباد رکھی اوربڑے بڑے محدثین ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرکے ان سے روایت حدیث کی اجازت لینے پرفخرکیاکرتے تھے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کااحادیث نبویہ ۖ کے ساتھ شغف انہیں اپنے سب معاصرین میںممتاز کئے ہوئے تھاوہ جب رسول اللہ ۖ کاتذکرہ فرماتے یاآپ ۖ کی کوئی حدیث سناتے تواکثران کی آنکھوں میں آنسو آجایاکرتے تھے اوروہ صرف خودنہیں روتے تھے بلکہ ان کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کیلئے بھی آنسوئوں کوروکنامشکل ہاجایاکرتاتھا۔ رسول اللہ ۖ کاتذکرہ کرتے ہوئے اورآپ ۖ کی احادیث سناتے ہوئے انہیں نہ وقت گزرنے کاکوئی احساس ہوتاتھااورنہ ہی گردوپیش کاکوئی ہوش رہتاتھاکئی بارایسا ہواکہ کسی مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں رات کوخطاب فرمارہے ہیں اورذکریارۖ میں اس قدر محو ہیںکہ صبح کی اذان کاوقت ہوگیاہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ روایتی طرز کے مقررنہیں تھے اورنہ ہی ان کی گفتگومیں کوئی ربط اورترتیب ہوتی تھی لیکن حدیث نبوی ۖ کے ساتھ ان کے جذب ومستی کایہ عالم تھاکہ لوگ گھنٹوں ان کے سامنے بیٹھے جھومتے اورسبحان اللہ کاورد کرتے رہتے تھے ۔ وہ آخری وقت تک جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر رہے اورمجھے ان کی امارت میں کم وبیش تیس برس تک ایک کارکن اورمختلف مناصب کے ذمہ دار کی حیثیت سے کام کرنے کاموقع ملاہے ۔

عام جلسوں ، خصوصی اجلاسوں ، نجی محافل اورتنہائی کی ملاقاتوں کاشماراندازے سے بھی کرناچاہوں تومیرے بس میں نہیںہوگاانہیں خوشی اورناراضگی کی دونوں حالتوں میں دیکھاوہان کی دینی حمیت تھی ، وہ دین کے معاملہ میں قطعی بے لچک تھے گھر میں بھی ، جماعت کی خصوصی مجلس میں بھی اورعام اجتماعات میںبھی اوراس بارے میں وہ کسی سے رعایت نہیں فرماتے تھے ۔ وہ جس چیز کوناجائز سمجھتے تھے کوئی بڑے سے بڑاشخص بھی ان سے اس کے بارے میں لچک کاتقاضاکرنے کاحوصلہ نہیں رکھتاتھا۔

نفاذ شریعت اورتحفظ ختم نبوت کے لئے جدوجہد کوانہوں نے اپنی زندگی کاسب سے بڑامقصد قراردے رکھاتھا، عام اجتماعات سے سب سے زیادہ انہی موضوعات پرگفتگوفرماتے ، جس علاقہ میں جاتے وہاں کے علماء اوردینی کارکنوں کواس جدوجہد کیلئے تیار کرتے ، ان سے عام اجتماعات میں عہدلیتے اوربعض کی دستار بندی کراتے ، جس عالم یاکارکن کی حوصلہ افزائی کرناچاہتے اس کے سرپر سب کے سامنے دستاربندھاتے اورنفاذ شریعت کے لئے کام کرنے کاوعدہ لیتے ۔ یہ ان کی حوصلہ افزائی کامخصوص انداز تھاجسے ان کے عقیدت منداپنے لئے باعث سعادت سمجھتے اوربہت سے علماء اورکارکنوں نے وہ رومال اوردستاریں برکت کے لئے سنبھال کررکھی ہوئی ہیں ، جوکسی نہ کسی موقع پرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے ان کے سرپربندھوائی تھیں ۔

خود میرے ساتھ کئی باراس شفقت کامظاہرہ فرمایاایک بار مرکزی جامع مسجدگوجرانوالہ میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کابیان تھاحسب روایت بہت سے علماء اورکارکنوں کی دستار بندی فرمائی پھرمجھے آواز دی مگرجب میںپہنچا، دستاریں اوررومال ختم ہوچکے تھے ۔ سردیوںکاموسم تھا، حضرت نے اپنے سرپر گرم ٹوپی پہن رکھی تھی جس پررومال بندھاتھا ، رومال کھول کرٹوپی اتاری اورمیرے سرپررکھ دی ، جواب بھی میرے پاس محفوظ ہے اورکبھی کبھی میں وہ ٹوپی تبرک کے لئے پہناکرتاہوں ۔بعد میں کئی مواقع پرحضرت رحمة اللہ علیہ نے اس کاتذکرہ کیااورمختلف مجالس میں یوں فرمایاکہ میں نے راشدی والوں کواپنی ٹوپی پہنادی ہے اوراب اڑاپھرتاہے ۔ اوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اس وقت جو کچھ بھی ہوں چندبزرگوں کی دعائوں اورشفقتوں کے باعث ہوں ورنہ اپنے دامن اعمال کی طرف دیکھتاہوں تواس میں شرمندگی اورحسرت کے سواکچھ دکھائی نہیں دیتا۔

نفاذ شریعت اورتحفظ ختم نبوت کے لئے کلمہ حق بلند کرنے اورعلماء اورکارکنوں کواس کی خاطرتیار کرتے رہنے کے علاوہ قدرت نے جوخصوصی ذوق حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوودیعت فرمایاتھاوہ دینی مدارس کاقیام تھا، وہ جس علاقے میں تشریف لے جاتے دینی مدارس کی امداد کی طرف وہاں کے لوگوں کومتوجہ فرماتے ، مدارس کے سالانہ اجتماعات میں اپنی جیب سے بھی عنایت فرماتے، اپنے عقیدت مندوں کانام لے لے کرانہیں جلسے میں کھڑاکرتے اوران سے تعاون کے لئے فرماتے ۔ جہاں مدرسہ نہیں ہوتاتھاوہاں دینی درسگاہ قائم کرنے کی ترغیب دیتے اورکوئی کوشش فرماتے کہ ان کی موجودگی میں ہی مدرسے کے قیام کی طرف عملی پیش رفت ہوجائے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے ایک رفیق سفرواقعہ سناتے ہیںکہ قبائلی علاقہ کے سفرمیں وہ ایک جگہ رکے ، لوگ حضرت درخواستی کانام سن کوجمع ہوگئے ، ایک صاحب حیثیت شخص نے آپ کو اپنے گھرچلنے اورچائے پینے کی دعوت دی ، اس سے پوچھا کہ یہاں کوئی دینی مدرسہہے ؟جواب ملاکہ نہیں اس پرحضرت نے فرمایاکہ پہلے مدرسہ قائم کرنے کاوعدہ کروپھرتمہارے گھرچلیں گے ، اس نے وعدہ کرلیا گھرپہنچے توفرمایاکہ نیکی کے کام میں دیر نہیںکرنی چاہیے اس لئے مدرسہ کیلئے جگہ مخصوص کردو، اس نے اپنے گھرکے ساتھ اپنی زمین میں ایک ٹکڑامخصوص کردیا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ اب مزید دیرکس بات کی ہے ؟دوچاراینٹیں لائوتاکہ سنگ بنیاد رکھ دیاجائے

۔ وہ اینٹیں لایااورمدرسہ کاسنگ بنیاد رکھ دیاگیااوراس طرح جہاں وہ دوران سفرصرف تھوڑی دیرآرام کے لئے رکے تھے وہاں ایک دینی مدرسہ کاآغاز کرکے آگے بڑھ گئے ۔

افغانستان میں روس کی مسلح افواج کی آمد کے بعد جہاد افغانستان کاآغاز ہواتوحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں کاطوفانی دورہ کیا، جہاں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے مریدوں اورشاگردوں کی بڑی تعداد موجودہے ، جہاد افغانستان کی حمایت میں پرجوش بیانات جاری کرکے پورے علاقے میں جہاد کے حق میں فضاگرم کردی جس کے اثرات مدت تک محسوس کئے جاتے رہے ۔ افغان مجاہدین کے ایک سرگرم رہنما مولانانصراللہ منصور شہیدرحمة اللہ علیہ ایک بارشیرانوالہ لاہور میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی اجلاس کے موقع پرآئے اورکہاکہ میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی زیارت کے لئے آیاہوں جنہوں نے قبائلی علماء اورعوام کو جہاد افغانستان کی حمایت کیلئے تیارکرکے ہماراراستہ صاف کردیاہے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ آخروقت تک علالت، ضعف اورنقاہت کے باوجوجہادِ افغانستان کیلئے فکر مندرہے اوراس سلسلہ میں بہت سےاجتماعات میں شریک ہوکرخطاب فرمایا۔

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.