hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آہ!حضرت اقدس ناناجی نوراللّٰہ مرقدہ

آہ!حضرت اقدس ناناجی نوراللّٰہ مرقدہ

مولانامفتی عبدالقیوم دین پوری

مسجدباب الرحمة ، پرانی نمائش ، کراچی

اس وقت میں جس سانحہ جاں کاہ اورحادثہ روح فرساسے دوچارہوں وہ بیان سے باہرہے ، یہ شدید الم ناک حادثہ صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے غم واندوہ کاباعث ہے ، جہاں حضرت اقدس مولانامحمدعبداللہ درخواستی نوراللہ مرقدہ کے اہل خانہ ومتعلقین ومتوسلین گریہ وزاری میں مبتلاہیں ، وہاں پوراعالم اسلام ان کے ساتھ برابرکاشریک ہے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ہراعتبارسے ممتاز شخصیت کے مالک تھے ، ذہین وذکی اوروسیع النظر عالم تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سلف صالحین کی خاص صفات کامجموعہ بنایاتھا، سلوک ومعرفت کایہ حال تھاکہ لاکھوں مسلمانوں نے تجلی باطنی کافیض حاصل کیااورروحانی مقامات طے کئے ۔

 

آہ!حضرت اقدس ناناجی نوراللّٰہ مرقدہ

مولانامفتی عبدالقیوم دین پوری

مسجدباب الرحمة ، پرانی نمائش ، کراچی

اس وقت میں جس سانحہ جاں کاہ اورحادثہ روح فرساسے دوچارہوں وہ بیان سے باہرہے ، یہ شدید الم ناک حادثہ صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے غم واندوہ کاباعث ہے ، جہاں حضرت اقدس مولانامحمدعبداللہ درخواستی نوراللہ مرقدہ کے اہل خانہ ومتعلقین ومتوسلین گریہ وزاری میں مبتلاہیں ، وہاں پوراعالم اسلام ان کے ساتھ برابرکاشریک ہے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ہراعتبارسے ممتاز شخصیت کے مالک تھے ، ذہین وذکی اوروسیع النظر عالم تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سلف صالحین کی خاص صفات کامجموعہ بنایاتھا، سلوک ومعرفت کایہ حال تھاکہ لاکھوں مسلمانوں نے تجلی باطنی کافیض حاصل کیااورروحانی مقامات طے کئے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوعلم حدیث سے بہت زیادہ شغف تھا، ہزاروں احادیث ازبر تھیں ، فرمایاکرتے تھے کہ میری تعلیم جب پایہ تکمیل کوپہنچی توسند حدیث کی غرض سے ایشیاء کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند جانے کاخیال ہواجہاں اس وقت حضرت مولاناسیدانور شاہ صاحب کشمیری رحمة اللہ علیہ کاچرچاتھالیکن میرے شیخ حضرت اقدس خلیفہغلام محمد صاحب دین پوری رحمة اللہ علیہ نے مجھے محبت بھرے انداز میں پیارکرتے ہوئے فرمایاکہ اپنی استطاعت کے مطابق احادیث مبارکہ روزانہ مجھے یاد کرکے سنادیاکرو ۔ اللہ تعالیٰ نے چاہاتودیوبند کے اکابرین یہاں خود آجائیں گے ۔ حضرت شیخ کی توجہ سے میں اس کام میں ہمہ تن مشغول ہوگیا، اس طرح مجھے بہت سی احادیث مبارکہ یاد ہوگئیں اورفرمایاکہ حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ کی اس توجہ سے اتنی بڑی نعمت میسرآئی اوراللہ تعالیٰ نے ہندوستان بھرکے علماء ومشائخ کی زیارت اس طرح کرائی کہ اکثربزرگ دین پورشریف تشریف لائے جن میں حضرت مولاناسیدانورشاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ بھی تھے اورہم نے جی بھرکران سے استفادہ کیا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ جب کبھی ان سے کسی مسئلے کے بارے میں رائے دریافت کی جاتی تھی توآپ اپنی طرف سے کوئی رائے نہ دیتے بلکہ احادیث مبارکہ پڑھ مسئلے کاحل فرمادیتے ۔

اسی طرح باقی علوم پربھی علیٰ وجہ الاتم دسترس رکھتے تھے ۔ ابتدائی دورمیں مکمل درسِ نظامی اکیلے پڑھایاکرتے تھے صبح کی نماز کے بعد اسباق پڑھاناشروع فرماتے اورعشاء کی نماز تک پڑھاتے رہتے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوعلم تفسیرسے بھی گہرا لگائوتھا، تقریبا نصف صدی تک پورے قرآن پاک کی تفسیرکادرس دیتے رہے ۔ شعبان ورمضان میں بغیر کسی بیاض کے سخت گرمی کے موسم میں یہ علم کاٹھاٹھیں مارتاہواسمندر پیاسوں کوسیراب کرتارہتااوربغیرکسی وقفہ کے یہ مجلس کئی کئی گھنٹے جاری رہتی ۔ آپ کے درس میں اندرونِ ملک کے علاوہ بیرون ملک کے کئی نامور علماء شریک ہوئے جن میں سے اکثر دنیاکے مختلف خطوں میں علم دین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔

آپ عشق رسولﷺ سے سرشار تھے ، آپ کے جسم کے ہرہرعضو میں عشق نبویﷺ رچابساہواتھا۔ ہروقت مدینہ طیبہ کی زیارت کی تمنارہتی تھی ، آخری دنوں میں تویہ حالت ہوگئی تھی کہ جب بھی کوئی دعافرماتے تویہ دعاضرورکرتے کہ یااللہ ہمیں مدینہ منورہ میں روضہ انورپرحاضری نصیب فرما۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک ایسی عظیم شخصیت کے مالک تھے کہ جن کواللہ تعالیٰ نے قلعہ اسلام کامحافظ بنایاتھا، جن کی ذات سے حق وصداقت کوفتح ونصرت حاصل ہوئی ، جن کی عالمانہ بصیرت سے شکوک وشبہات کاازالہ ہواجن کی محدثانہ گفتگو سے علمائے عرب وعجم دنگ رہ گئے اورجنہوں نے اسلام کی وکالت وحمایت کافرض ان نازک حالات میں انجام دیاجس وقت اس طرح کاکام اپنی موت کودعوت دینے کے مترادف تھااوربغیرجان کی بازی لگائے کوئی قدم آگے بڑھ نہیں سکتاتھاجن کی شہرت بام عروج پرتھی جواپنے فن میں امامت کادرجہ رکھتے تھے جن کااعتراف ان کے تمام معاصرعلماء کو تھااورآج تک عالم اسلام کاہرپڑھالکھااورباخبر آدمی ان کے کارناموں سے واقف اوران کی علمی وروحانی عظمت کاقائل ہے ۔

حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ کی ذات بڑی صفات کی جامع تھی ۔ وہ بڑے متواضع ، حلیم ، محنتی اورجفاکش تھے ۔ اکابر کے ہاں ان کی بڑی قدرومنزلت تھی ، بڑے بڑے علماء آپ کے ہاں پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے حاضرہواکرتے تھے ۔

تواضع وانکساری کایہ عالم تھاکہ مولاناقاری فیوض الرحمن صاحب مدظلہ جوکہ حضرتکے اجل تلامذہ میں سے ہیں اپنی کتاب مشاہیر علماء میں لکھتے ہیں کہ :

”میں نے آپ کاسوانحی تذکرہ لکھنے کی بہت کوشش کی مگرآپ نے یہ فرماکرکہ زندگی میں ہم نے کیاہی کیاہے جوآپ ہمارے حالات لکھتے ہیں ، انکارفرمادیا۔

میں نے تفسیرقرآن آپ سے ہی پڑھی ہے ،نہایت شفیق استاذ ہیں ۔”اہل خانہ بلکہ تمام متعلقین ومتوسلین سے محبت کایہ نرالا انداز تھاکہ ہرشخص یہ گمان کرتاتھاکہ حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ کومجھ سے زیادہ محبت ہے ۔ بچوں سے بہت زیادہ پیارکرتے تھے ، ہروقت اپنے ساتھ بچوں کے لئے کوئی نہ کوئی چیزضرور رکھتے تھے ۔

آخری ایام میں حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں رہنے کاموقع ملامیں رات کوکتاب کامطالعہ بھی حضرت کے کمرہ میں کرتارہا۔ جس دن حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ دنیاسے رخصت ہوئے اس رات بھی احقرحضرت رحمة اللہ علیہ کے ساتھ تھا، رات بالکل ٹھیک ٹھاک تھے ، رات کوتین مرتبہ بیدارہوئے ، آخری مرتبہ تقریبا تین بجے بیدارہوئے اوراحقرکوبلایااورفرمایاکہ پانی لے آؤ، احقرپانی لے آیا، آپ نے نوش فرمایاپھرآرام فرمانے لگے ۔ احقربھی سوگیاپھرمیں فجر کی نماز کے لئے مسجد میں چلاگیااورنماز سے فارغ ہوکر واپس گھرآیاتوگھروالوں نے بتایاکہ حضرت رحمة اللہ علیہ کوبخار ہے ، لیکن بظاہربخارمعلوم نہیں ہوتاتھا، نماز کے بعد حضرت آرام فرمانے لگے ، احقرسبق پڑھانے کے لئے مدرسہ چلاآیا، سبق شروع ہی کیاتھاکہ گھرسے بچے بلانے کے لئے آگئے کہ حضرت رحمة اللہ علیہ کوقے آگئی ہے ، احقرجلدی سے گھرپہنچاتواس وقت حضرت رحمة اللہ علیہ کی زبان مبارک تیزی سے حرکت کررہی تھی اورایسے محسوس ہورہاتھاجیسے بہت تیزی کے ساتھ ذکراللہ کاورد کررہے ہوں ، تھوڑی دیربعد ایک لمباسانس لیاجس میں لفظ ”اللہ ”کاتلفظ کہااورجاں جانِ آفریں کے سپرد کردی ۔

اناللہ واناالیہ راجعون

رسم دنیایونہی چلی آئی ہے ، یہاں جوآیا، جانے کے لئے آیا، زندگی کے صغریٰ کبریٰ کوجب اورجیسے چاہوملاؤ، اس کانتیجہ موت کے سواکچھ نہیں نکلے گا۔

اس طرح قافلہ ولی اللہ کے اس عظیم سپوت کافلک ، علم وفضل کاآفتاب درخشندہ غروب ہوگیا۔ بزم انس وقدس کی شمع فروزاں گل ہوگئی ۔ ، تقویٰ وطہارت کاچراغ گل ہوگیا۔ شریعت وطریقت کے اسرار ورموز کاجاتارہا، اخلاق ومکارم اسلامی کے ایوان میں خاک اڑنے لگی ، جوکل تک لاکھوں انسانوں کے لئے حبیب عیسیٰ نفس تھاخود وہ موت کی آغوش میں جاسویا،ملت اسلامیہ کاسہارا، فرزندان توحید کی امیدوں کامرجع ، پیروانِ دین محمدی ۖ کی تمنادل کامرکز راہی داربقاہوگیایعنی حضرت اقدس حافظ الحدیث شیخ التفسیر مولانامحمد عبداللہ صاحب درخواستی رحمة اللہ علیہ نے ١٩ربیع الاول ١٤١٥ ھ بروز اتواربوقت صبح سات بجے بمقام جامعہ مخزن العلوم عیدگاہ خانپور میں داعی اجل کولبیک کہا۔

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.