hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

اکابرکی جدوجہد کے امین

اکابرکی جدوجہد کے امین

مفسرقرآن حضرت مولاناعبدالحمیدسواتی مدظلہ

مدرسہ نصرت العلوم ،گوجرانوالہ

اس وقت مجھے آپ کے سامنے حضرت شیخ الحدیث والقرآن مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات پرکچھ عرض کرناہے ۔ ہمارے بہت سے ساتھی حضرت مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کے جنازے میں بھی شریک ہوگئے تھے میں توبیماری کی وجہ سے سفرنہیں کرسکالہٰذ جنازے میں شکرت سے محروم رہاتاہم ان کے بارے مین کچھ ضروری باتیں عرض کرناچاہتاہوں۔

 

 

اکابرکی جدوجہد کے امین

مفسرقرآن حضرت مولاناعبدالحمیدسواتی مدظلہ

مدرسہ نصرت العلوم ،گوجرانوالہ

اس وقت مجھے آپ کے سامنے حضرت شیخ الحدیث والقرآن مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات پرکچھ عرض کرناہے ۔ ہمارے بہت سے ساتھی حضرت مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کے جنازے میں بھی شریک ہوگئے تھے میں توبیماری کی وجہ سے سفرنہیں کرسکالہٰذ جنازے میں شکرت سے محروم رہاتاہم ان کے بارے مین کچھ ضروری باتیں عرض کرناچاہتاہوں۔

مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی شخصیت:

مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کس شخصیت اورکس حیثیت کے مالک تھے ؟ حضرت مولانادرخواستی اس برصغیر کے علمائے حق کے قافلے کے ایک فرد تھے ، یہی وہ قافلہ ہے جوگیارہویں صدی کے مجدد مولاناشیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ سے چلاآرہاتھا۔ ہجرت کاایک ہزار سال گزرچکاتھااوراب گیارہویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے مولاناشیخ احمدسرہندی رحمة اللہ علیہ کوالف ثانی کامجددپیدافرمایاجیساکہ حضورۖ کاارشاد مبارک ہے کہ ایک ہزار سال کے بعد اللہ تعالیٰ اس امت میں ایسے لوگ پیدافرماتارہے گاجوتجدید دین کافریضہ انجام دیں گے ، دین میںجوخرابیاں اوربدعات پیداہوچکی ہوں ان کوصاف کرکیلوگوں کوصحیح راستہ بتائیں گے ،یہ وہی حضرت امام ربانی مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ ہیں جنہوں نے اپنے وقت میں اس ذمہ داری کوپوراکیا۔

امام ربانی مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ دربار جہانگیری میں :

امام ربانی مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ کے زمانہ ظہور میں برصغیر میں مسلمان بادشاہ جہانگیر کادورتھااس کے دربارکایہ دستورتھاکہ جوشخص دربار شاہی میں جاتاتھا ، بادشاہ کے سامنے سجدہ کرکے آدب درباری بجالاتاتھا، ایک موقع پربادشاہ نے امام ربانی مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ کواپنے دربار میں بلایا،آپ تشریف لے گئے مگرسجدہ کرنے کے بجائے اسلامی طریقہ کے مطابق سلام کیا۔”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ”دربارشاہی کے دستورکی خلاف ورزی پربادشاہ ناراض ہوگیا اورامام صاحب سے باز پرس کی کہ آپ نے حسب دستور سجدہ کیوں نہیںکیا؟ آپ نے جواب دیاکہ سجدہ توصرف اللہ وحدہ لاشریک کے سامنے رواہے ، کسی دوسرے کے سامنے سجدہ کرناحرام ہے ۔ خواہ کوئی بت ہو قبر ہو یابادشاہ وقت ہی کیوں نہ ہو، غیر اللہ کوسجدہ کرناتوکفراورشرک والاکام ہے ، بھلامیں ایساکام کیسے کرسکتاہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اللہ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایاہے ۔

لاتسجدواللشمس ولاتقربوا واسجدوللہ الذی خلقھن

سورج چاندیاکسی مخلوق کوسجدہ مت کروبلکہ ان تمام چیزوں کے خالق کوسجدہ کرو۔ حضورنبی کریم ۖ کاارشاد ہے کہ کوئی بڑآدمی ہے اس کی عزت کرو، تعظیم بجالائو مگرسجدہ صرف اللہ رب العزت کے سامنے کرویعنی عبادت صرف رب تعالیٰ ہی کی رواہے اورکسی کی نہیں ۔ اسجواب پرجہانگیر سخت ناراض ہوااورپھرآپ کومعلوم ہوناچاہئے کہ اس حق گوئی کی پاداش میں حضرت مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ کوگوالیار کی جیل میں سات سال کی قید کاٹناپڑی ۔

دربار سجدہ کی منسوخی:

اس زمانے میں شخصی بادشاہت کاعروج تھااوربادشاہ کسی اخلاقی قانون کے پابندنہیں ہوتے تھے لہٰذامن مانی کرتے تھے اوران کی زبان سے نکلاہواحرف ، حرف آخرہوتاتھایہ فرعونیت آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ، موجود دہ دورمیں بھی جب مسلمان حکام بگڑجاتے ہیں توپھراول فول جودماغ میں آتاہے کرگزرتے ہیں ، فرق صرف اتناہے کہ پہلے دور میں شخصی استبداد کے طور پرجائزوناجائز کام ہوتاتھا مگراب جمہوریت کے نام پروہی باتیں دہرائی جاتی ہیں ، اس دور میں بھی وہی کچھ ہورہاہے کہ جس کوچاہاراستے سے ہٹادیااورجس کوچاہاانعامات سے نواز دیا، کسی کوجاگیرعطاکردی ، کسی کوحسن کارکردگی کاتمغہ عنایت کردیااورکسی کوبھاری قرضہ دے کربعد میں معاف کرادیا۔

اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ کی اس قربانی کااثر پیداکردیااورخود جہانگیر بھی اثرقبول کئے بغیرنہ رہ سکا ، اس کی سلطنت کے بعض بڑے بڑے امراء اوردرباری پہلے ہی حضرت مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ کے ہاتھ پربیعت کرچکے تھے ، انہوں نے اسلام کی حقیقت کوسمجھنے کی کوشش کی تھی لہٰذا انہوں نے بھی بادشاہ کوسمجھایاکہ مجددصاحب تواللہ کے نیک بندے اوروی اللہ ہیں ان کی بات معمولی بات نہیں ہے لہٰذااس پرغورہوناچاہئے ۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ جہانگیر نے درباری سجدہ کومنسوخ کردیا۔

حضرت مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ کے مکتوبات میں ان نیک صفت امراء کے نام ایک مکتوب میں موجود ہیں ، جنہوں نے درباری سجدہ کومنسوخ کرانے میں آپ کی اعانت کی تھی ، بہرحال امام صاحب رحمة اللہ علیہ نے اپنے دورمیں پھیلی ہوئی بدعات کی نشاندہی فرمائی اورلوگوں صحیح اورغلط راستے کی پہچان کرائی اوراللہ نے آپ کی یہ قربانی قبول فرمائی ۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ :

حضرت مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ کے ٨٠سال بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اوربزرگ کوپیدافرمایاجن کانام نامی اسم گرامی شاہ ولی اللہ ہے ، آپ بارہویں صدی کے مجددتھے ، ان کے ہاتھ پراللہ تعالیٰ نے علوم کی بھی تجدید کی دین کی بھی تجدید کی ۔ یہ حضرت مجددالف ثانی رحمة اللہ علیہ اوران کے خلفاء کے اثرات تھے ، نیز شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کے والد صاحب کے کارناموں کااثرتھاکہ جہانگیر نرم ہوگیا اورمسلمانوں کے حق میں حالات کسی حدتک ٹھیک ہوگئے ۔

اورنگزیب عالمگیراورمابعد:

شاہ جہاں کے بعد اس کابیٹاعالمگیر برسراقتدارآیا، وہ مکمل طورپر مسلمان بلکہ عالم دین تھا، اس نے علمائے حق سے تعلیم حاصل کی تھی ، اس نے بھی اسلام اورمسلمانوں کے حق میں پوراپورازورلگایا ، اس دور میں مسلمانوں کی افغانستان سے لے کر برماتک حکومت تھی ، افغانستان اوربرما اسلامی سلطنت کے صوبے تھے درمیان میں کچھ ہندو،راجواڑ ے ، راجے مہاراجے بھی تھے جوبعض اوقات شرارتیں بھی کرتے تھے ، مرہٹے بھی باربار سراٹھاتے تھے ،چنانچہ عالمگیر کیزندگی کااکثر حصہ ان مفسدوں کے خلاف لڑائی میں گزرا، دکن میں امن قائم کئے بمشکل ایک سال ہی گزراتھاکہ عالمگیر کادورختم ہوگیا اوراورنگزیب عالمگیر کے بعدحضرت شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ نے دس حاکموں کودیکھاجوکہ سب کے سب نالائق ثابت ہوئے اورنتیجہ یہ نکلاکہ مسلمانوں کی اتنی وسیع سلطنت برباد ہوگئی ، ظاہر ہے کہ جب حاکم ہی نالائق تھے جوملک کوسنبھال نہیں سکتے تھے توبآخر ملک نے تباہ ہی ہوجاناتھا۔

خاندان شاہ ولی اللہ کی خدمات :

اللہ تعالیٰ نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کی خدمات کوشرف قبولیت بخشا، ان کے چاروں بیٹے عالم دین ، مفسرقرآن ، مبلغ ، مصنف ، مفتی اورمجاہد تھے ، سب نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق دین کی خدمت کی ، شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ خود اگرچہ میدان جنگ میں نہیں گئے مگرمرہٹوں کے خلاف پانی پت کی لڑائی آپ ہی کی علمی استعداد اورصلاحیت کی مرہون منت تھی ؟

دہلی میں مرہٹوں نے فتنہ وفساد کابازار گرم کررکھاتھا، شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ نے ابدالی کوبلاکر پانی پت کی جنگ لڑی ، اس جنگ میں اگرچہ دس ہزار مسلمان کام آئے مگراللہ تعالیٰ نے فتح عطافرمائی اورمرہٹوں کازورٹوٹ گیا، یہ شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کی مساعی کانتیجہ تھا۔

آپ کے مکتوبات آج بھی موجود ہیں ، آپ نے اس وقت کے تمام حکام کو خطوط لکھے تھے ، جن میں واضح کیاگیا تھاکہ تم غلط روپوش پرجارہے ہو ، مسلمانوں کادین اورشریعت خراب ہورہے ہیں ، آپ کی وفات کے بعد جب آپ کے بیٹے کادورآیاتوانہوں نے صاف فتویٰ دیدیا کہ چونکہ کلکتہ سے لے کرلاہورتک انگریزوں کی مکمل عمل داری قائم ہوگئی ہے لہٰذا اب یہ خطہ دارالحرب بن چکاہے تمام مسلمانوں پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دارالحرب کوپھرسے دارالاسلام بنادیں ، یہاں پراسلامی احکام کے بجائے انگریز کے احکام نافذ ہیں ،بعض چھوٹی موٹی ریاستوں رامپور ، لکھنؤوغیرہ میںکسی حدتک اسلام کی رمق باقی تھی وگرنہ کلکتہ سے لاہورتک پورے علاقے میں انگریز کاقانون جاری تھا، آپ نے واضح کیاکہ یہ نہ سمجھوکہ انگریز انہیں نماز ، روزہ سے تونہیں روکتے مگرحقیقت یہ تھی کہ وہ اسلامی احکام نہیں چلنے دیتے تھے ، اس وقت برصغیر میںمسلمانوں کی تحریک چل رہی تھی جبکہ ١٨٠٦ء میں آپ نے مذکورہ فتویٰ جاری کیاتھا ، آپ نے اعلان کیاتھاکہ ان حالات میں کفر کی باقیات کوختم کرنااوراسلام کوغلبہ اپنے مقام پردوبارہ لانامسلمانوں پرفرض ہوچکاہے ۔

سکھوں اورانگریزوں کے خلاف جہاد:

اس مقصد کے حصول کے لئے شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کے لائق ترین شاگردوں نے جماعت تشکیل دی ، سیداحمدشہیدرحمة اللہ علیہ کی سرپرستی میں دوہزار آدمی فوجی تربیت کے لئے ٹونک بھیجے جنہوں نے وہاں چھ سال تک تربیت حاصل کی اورباقاعدہ لشکرتیار کرکے انگریزون کے خلاف جہاد کرنے کامنصوبہ بنایا۔ ادھر پنجاب کے علاقہ میں سکھوں کاغلبہ تھا، شاہ اسماعیل شہیدرحمة اللہ علیہ نے کئی دفعہ دورہ کرکے مسلمانوں کی پریشانی کامشاہدہ کیا۔ سکھوں کاغلبہ تھا، شاہ اسماعیل شہیدرحمة اللہ علیہ نے کئی دفعہ دورہ کرکے مسلمانوں کی پریشانی کامشاہدہ کیا۔ سکھوں نے مسلمانوں کاناطقہ بندکررکھاتھاسکھوں کے تسلط کی وجہ سے اسلامی لشکرکاپنجابسے گزرکرجانامشکل تھااس لئے یہ لشکر رائے بریلی سے ہوتاہواکلکتہ پہنچا، وہاں سے مدراس اورپھروہاں سے ساحلی اورسمندری راستے سے ہوتے ہوئے تین ہزارمیل کاسفرطے کرکے سندھ بلوچستان اورپھروہاں سے افغانستان سے پشاور آکراسلامی نظام قائم کیااوراس طریقے سے اس علاقے میں تین سال تک اسلامی حکومت قائم رہی مگرمسلمانوں کی غداری کی وجہ سے شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کامشن پورانہ ہوسکا۔

شاہ صاحب کشمیر کواپنامرکز بناکرانگریزوں کے خلاف ٹکرلینے کی اسکیم بناناچاہتے تھے مگرآپ کامنصوبہ ادھورارہ گیا، بالاکوٹ کے مقام سے دریابھی عبور نہیں کرسکے تھے کہ سکھوں کے جتھے آگئے ، اسی مقامپرسکھوں کے ساتھ معرکہ ہواجس میں سیداحمد بریلوی اورشاہ اسماعیل شہید رحمہمااللہ اپنے بہت سے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے اوراس طرح وہ شہادت کامرتبہ پانے میں توکامیاب ہوگئے مگران کا پروگرام مکمل نہ ہوسکا اوروہ ایک تحریک کی صورت میں ہی رہ گیا انکی جماعت کے لوگوں نے اسی تحریک کومیدانوں ، پہاڑوں اورجنگلوں میں زندہ رکھااورانگریزوں کے برصغیر سے نکل جانے تک اس تحریک کوکمزور نہ ہونے دیا۔

تحریک ریشمی رومال:

١٩١٥ء تک شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمة اللہ علیہ کی تحریک ریشمی رومال چل رہی تھی ، انگریزوں کازمانہ بڑے تشدد کازمانہ تھاآپ چاہتے تھے کہ کسی طرح ملک سے باہرترجیحاترکی چلے جائیں اورپھر ترکوں کوساتھ ملاکرافغانستان کے راستے برصغیر میں انگریزوںپرحملہ کرکے انہیں یہاں سے نکال باہرکریں مگرانگریز کے جاسوسوں کے ذریعہ یہ راز فاش ہوگیا اوریہ تحریکبھی ناکام ہوگئی ، اندرونی جاسوس نے بارہ مربع اراضی کے لالچ میں یہ راز فاش کردیا۔

اس زمانہ میں حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ مدینہ طیبہ میں مقیم تھے پھرمکہ مکرمہ آگئے ، وہ ترکی جاناچاہتے تھے مگرکامیاب نہ ہوسکے ۔ انگریزوں نے شریف مکہ سے سازباز کرکے اللہ کے اس بندے کوپانچوں ساتھیوں سمیت گرفتار کرادیا، مصرکی عدالت میں مولاناپرمقدمہ چلا، بغاوت کے جرم میں سزائے موت کافیصلہ سنایامگراللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے موت کے منہ سے توبچالیا اورموت کی سزاکالے پانی کی سزاکی شکل میں نرم کردی گئی ۔

حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ نے ساڑھے چارسال تک مالٹا میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ آپ کو معلوم ہوناچاہئے کہ اردن کے موجودہ شاہ عبداللہ کاوالد شاہ حسین اسی شریف مکہ پڑپوتاتھاجس سے ملی بھگت کرکے انگریزوں نے حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کوگرفتارکرلیاتھا۔ یہ اگر چہ ہاشمی کہلاتے ہیں مگر غدار خاندان کے لوگ ہیں ۔

دوسری طرف ترکی کوبھی شکست ہوگئی ، خلافت کانظام تہس نہس ہوگیااورمسلمان دربدر ہوگئے ، اس کے بعد بعض دوسری تحریکیں بھی چلیں جن میں سے ایک تحریک خلافت بھی تھی جس کامقصد یہ تھاکہ مسلمانوں میں خلافت کے نظام کودوبارہ زندہ کیاجائے تاکہ مسلمانوں کاباہمی رشتہ ملت واخوت قائم رہ سکے ۔

خلافت کی یہ تحریک ١٩١٨ء سے شروع ہوکر بیس سال تک چلتی رہی ہمارے ہاں کے بڑے بڑے اکابرین نے اس تحریک میں حصہ لیاجن میں مولانامحمدعلی ، مولاناشوکت علی ، ڈاکٹر انصاری وغیرہ خاص طورپرقابل ذکر ہیں ۔ مقصدیہ تھاکہ مسلمانان عالم کی خلافت کودوبارہ زندہکرکے سب کوایک پلیٹ فارم پرجمع کیاجائے اوراس طریقے سے ان کواپناکھویاہوامقام واپس دلایاجائے ۔

مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کاحصہ:

اس کے بعد بھی تحریکیں مسلمانوں کے حق میںچلیں ، حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ ان میں برابرحصہ لیتے رہے ، انگریزوں خلاف ہرتحریک میں شامل ہوئے ، مولانامعلم تھے اوربنیادی طورپرآپ کاموضوع تعلیم ہی تھا ، تفسیر اورحدیث پڑھاتے تھے ،درخواست حضرت کے گائوں کانام ہے جس کی نسبت سے آپ مولانادرخواستی مشہورہوئے ، یہ گائوں خانپور سے 3میل کے فاصلے پرہے آپ نے یہیں سے قرآن پاک کی تفسیرکی تعلیم کاآغاز کیاجہاں اب بہت بڑامدرسہ ہے جس میں آپ نے زندگی کابڑاوقت صرف کیا۔

مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ ان بزرگوں میں سے تھے جن کافیض دنیامیں جاری ہوا، آپ پچاس ساٹھ سال تک قرآن پاک کی تفسیر کادرس دیتے رہے ، آپ سے پچاس ہزار لوگوں نے تفسیرپڑھی ہے ، ان میں عرب وعجم کے سبھی لوگ شامل ہیں ۔ سعودی عرب اوردیگراسلامی ممالک کے طلباء کوآپ کے تلمذ کاشرف حاصل ہے ۔ آپ حدیث کے بھی معلم تھے ، اس ملک میں آپ نے تقریباپانچ سومدارس قائم کئے ۔ آپ کم وبیش چارہزار مدارس کی سرپرستی بھی فرماتے تھے ، ہمارے بزرگون میں آخر دورکے حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ کی وفات پرتمام علماء نے متفقہ طورپر حضرت قدس سرہ کو جماعت کاامیر مقرر کیا، آپ نے تقریبا٢٣سال تک یہ ذمہ داری بھی احسن طریقے سے نبھائی ، پھرآخری سالوں میں آکربیمارہوگئے ، زندگی بھرآپ نے جوذمہ داری قبول کی اس کاحق اداکردیا۔

مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کی خصوصیات:

اب میں حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی کچھ خصوصیات عرض کرتاہوں ۔ آپ متقی، پرہیز گار، عبادت گزار اورخداپرست تھے ، دنیادار بالکل نہ تھے ۔ خداتعالیٰ نے مولانا درخواستی رحمة اللہ علیہ کواتنا بلندحافظہ عطافرمایا تھاکہ ہرروز تقریبا تین سواحادیث یاد کرلیتے تھے ، وعظ کہتے تھے ، درس دیتے تھے ، پڑھاتے تھے اوربیعت کرتے تھے ۔

مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوری رحمة اللہ علیہ بڑے پائے کے بزرگ ہوئے ہیں انہوں نے بھی انگریز کی مخالفت میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں ،انہوں نے سوسال سے زیادہ عمرپائی ، حضرت مولاناتاج محمود امروٹی رحمة اللہ علیہ حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کے دوست تھے ، سیدتھے پیراور بزرگ تھے ، سندھ کے پانچ ہزار ہندوئوں نے آپ کے ہاتھ پراسلام قبول کیاتھا، انگریزوں کے آپ بھی سخت خلاف تھے اوراس پادا ش میں کئی بارجیل گئے ۔

مولاناعبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ کے پیرومرشد حضرت حافظ محمدصدیق بھرچونڈی والے تھے ،مولاناسندھی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ وہ اپنے زمانے کے جنید تھے ، بڑے پائے کے بزرگ تھے انہیں کے ہاتھ پرمولاناسندھی رحمة اللہ علیہ نے کلمہ پڑھااوربیعت کی ، پھرآپ ہی کے مشورے سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہندوستان چلے گئے اوردارالعلوم دیوبند میں حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی ، دیوبند جانے سے پہلے اپنے پیرکی خدمت میں عرض کیاکہ

”حضرت امیری والدہ توسکھ مذہب سے تعلق رکھتی ہیں ، لہٰذا میرے باپ توآپ ہیں ہیں ۔”

چنانچہ پیرصاحب نے اپنی جماعت کے لوگوں کونصیحت کی تھی کہ عبیداللہ نے اللہ کے لئے ہمیں اپناماں باپ بنایاہے ،لہٰذااس کاہمیشہ خاص خیال رکھناچنانچہ مولاناسندھی رحمة اللہ علیہ کے ہندوستان سے واپس آنے سے آٹھ دس دن قبل ہی خواجہ محمدصدیق رحمة اللہ علیہ وفات پاگئے تھے ۔ حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری اورسید تاج محمود امروٹی رحمة اللہ علیہ نے مولاناسندھی رحمة اللہ علیہ کی خوب پرورش اورتربیت کی ۔ آپ کوکتب خانہ قائم کرکے دیا، مدرسہ بناکر دیا،پریس لگاکردیااورتعلیمی امور میں ان کے ساتھ بھرپورتعاون کیا۔ مولاناسندھی تقریبا١٥سال تک تعلیم ومطالعہ میں مصروف رہے اورساتھ ساتھ سیاسی کام بھی کرتے رہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ مولانادین پوری رحمة اللہ علیہ کے مرید تھے ، آپ نے پیرصاحب سے روحانی تربیت کے لئے کہا توانہوں نے فرمایاکہ میں تجھے اوراد وظائف بتادیتاہوں کیونکہ تمہیں سلوک طے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، پھراپنی دستار مبارک اتارکرحضرت درخواستی کے سرپررکھ دی اورفرمایا کہ ساری عمر قرآن وحدیث ہی پڑھاتے رہنا کہ یہی تمہاراسلوک اورتصوف ہے چنانچہ آپ عمر بھر قرآن وحدیث ہی پڑھاتے رہے ۔ آپ کی طبیعت پرجذب طاری رہتاتھا، بیعت بھی کرتے تھے ، بڑے نیک آدمی تھے ، آپ نے لمبی عمر پائی ،ساری تحریکوں میں حصہ لیا، اہل بدعت نے دودفعہ آپ پرقاتلانہ حملہ کیااورآپ کوزخمی کردیا۔ آپ کی ناک پرآنے والازخم کانشان آخرعمر تک باقی رہا ، مولانا خود تودیوبند نہیںجاسکیمگرعلمائے دیوبند کے تربیت یافتہ ، خداپرست ، حق گواوربہادر آدمی تھے ، ساری عمر دین کی خدمت میںہی گزاردی ۔

صدر ایوب کے اقتدار کاپہلاسال ١٩٥٨ ء تھاجبکہ ایک تقریر کی پاداش میں تین ماہ کے لئے میری زبان بندی کردی گئی ، میں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیاتواس نتیجہ پرپہنچاکہ یہاں بیٹھ کرخاموش نہیں رہ سکتا، اس وقت خانپور میں مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ تفسیر پڑھارہے تھے ، اس دورہ سے استفادہ کرنے کے لئے خانپور چلاگیا۔ پچیس پارے تک تفسیر کادورہ ہواجس کے بعد حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بیمار ہوگئے ،پانچ دن تک انتظارکیا مگرطبیعت سنبھل نہ سکی لہٰذادعاکے بعدتفسیر کادورہ ختم کردیاگیا۔

مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ ہم پرشفقت فرماتے ہوئے ہماری دعوت کوقبول فرماتے تھے ، آپ کئی بار یہاں تشریف لائے ، بخاری شریف کے ختم پربھی ایک دفعہ تشریف آوری ہوئی ، مختلف تحریکوں کے دوران بھی تشریف لاتے رہے ، میں نے لوگوں کو اس وقت بھی کہاتھاکہ آج حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کودیکھ لو، پھرڈھونڈتے رہوگے ۔

موت العالم موت العالم:

میں ے مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کاذکر خیرکرتے ہوئے ان کے متعلق ضروری باتیں آکے گوش گزارکی ہیں تاکہ ان کے لئے دعائے مغفرت کی جائے ، میں یہ بھی عرض کرتاچلوں کہ عربی مقولہ ہے ”موت العالم موت العالم”یعنی کسی ایک عالم دین کی موت پورے جہاں کی موت کے برابرہے ۔ دنیاکی ہدایت علمائے حق کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ،ہمارے جیسے کوئی مرگئے توکیاہوامگرعلمائے حق کادنیاسے اٹھ جاناکسی حادثہ سے کم نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ قادرہے وہ دنیامیں تجدید دین کے لئے اپنے بندے پیداکرتارہتاہے تاہم علمائے

حق میں اب مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ جیسا آدمی کوئی مشکل سے ہی ملے گا ۔ پہلے مولانااشرف علی تھانوی ،مولاناشبیراحمدعثمانی مولاناحسین احمدمدنی ، حضرت لاہوری رحمہم اللہ کی وجہ سے اہل اسلام کوتقویت ملتی رہتی تھی ، مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بھی اسی زمرہ کے آدمی تھے ۔ ان حضرات کاآپس میں بھی گہراتعلق اوررابطہ تھا۔ مولاناغلام محمد دین پوری رحمة اللہ علیہ کے تعلق سے دیوبندکے لوگ بھی اکثر ان کے ہاں آیاکرتے تھے کیونکہ وہ ان کی حیثیت کوسمجھتے تھے کہ یہ بڑی حیثیت اوربڑے پائے کے بزرگ ہیں ۔

حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ بھی وہاں تشریف لے گئے ، حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ توحضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ کے مرید ہی تھے مولاناسندھی رحمة اللہ علیہ بھی وہیں کے تربیت یافتہ تھے ایک دفعہ مولاناتھانوی رحمة اللہ علیہ بھی وہاں تشریف لے گئے ، مولاناغلام محمددینپوری رحمة اللہ علیہ گائوں سے گھوڑالے کراسٹیشن پراستقبال کے لئے آئے ،حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ گھوڑے کی سواری سے اعراض کرتے تھے ، تاہم بصداصرار وہ راضی ہوگئے ، مولاناتھانوی نے یہاں پرتین روز تک قیام کیا۔ فرمایامجھ یقین ہے کہ یہ خداپرستوں کاڈیرہ ہے اوریہاں پرروحانیت تقسیم ہوتی ہے ، مولاناتاج محمود امروٹی کی درخواست پرمولاناشیخ الہند رحمة اللہ علیہ کئی دفعہ سندھ تشریف لائے اورلوگوں کوفیض پہنچایا ۔

یہ سب لوگ ایک ہی مشن سے منسلک تھے اوران کا آپس میں گہراتعلق تھا، دین کیخدمت ، خداپرستی اہل اسلام کی خیرخواہی اورانگریز دشمنی ان لوگوں کامشن تھا، کہتے تھے کہ انگریزوں نے ہمارے دین ، مذہب اورتہذیب کوخراب کردیاہے لہٰذیہ انگریزوں کوقطعاًبرداشت نہیں کرتے تھے ۔

علمائے حق کی استقامت علی الحق:

علمائے حق کوکلمہ حق بلند کرنے کی پاداش میں کس قدر مصائب کاسامنا کرناپڑاس کااندازہ ان حقائق سے لگایاجاسکتاہے کہ مولانااحمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ نے زندگی کے آٹھ سال قیمتی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاردئیے مولاناعطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ قلندرقسم کے عالم دین تھے بظاہر توآپ احرار کے لیڈرتھے نہایت خداپرست ، حق گوپیراوربزرگ تھے ۔ دنیاداربالکل نہ تھے انہوں نے بھی عمر عزیز کے دس سال جیلوں میں گزاردئیے ، اسی طرح مولاناحسین احمدمدنی اورمولاناغلام محمددین پوری رحمہمااللہ نے بھی کافی عرصہ جیل میں گزارا۔ مولاناتاج محمود امروٹی رحمة اللہ علیہ نے دین کی خاطر انگریز کے مقابلے میں بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں ۔ مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بارہاگرفتار ہوئے اورجیل میں ڈال دئیے گئے ۔ یہ قوم وملت کاصحیح دردرکھنے والے لوگ تھے ، ایسے لوگوں کادنیاسے اٹھ جاناحادثہ ہوتاہے جس کی وجہ سے فیض کم ہوجاتاہے اوربرکات اٹھ جاتی ہیں ۔

دعائے مغفرت :

پہلے مولانالاہوری رحمة اللہ علیہ کافیض عام تھا، مولاناشیخ الہند رحمة اللہ علیہ کافیض ساری دنیامیں پھیلاہواتھا ، شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی رحمة اللہ علیہ کافیض عالمی تھا، مفتیاعظم فلسطین جوفوت ہوچکے ہیں ، حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے ، آپ کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ جب مولانا حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ مدینہ منورہ میں پڑھاتے تھے تواس زمانے میں مفتی اعظم

فلسطین نے بھی آپ سے فیض حاصل کیاتھا، حدیث اورفقہ کی تعلیم حاصل کی تھی ، الجزائر کے شیخ بشیر ابراہیمی بھی حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کے شاگردتھے ،مولانالاہوری رحمة اللہ علیہ مولاناشیخ الہندرحمة اللہ علیہ کے بھی شاگرد تھے ۔

مولانامحمدقاسم نانوتوی حج کے لئے جارہے تھے کہ ان کاجہاز عدن کے قریب کسی جزیرے میں رک گیاآپ کوپتہ چلاکہ یہاں بھی کوئی عالم دین مقیم ہے تحقیق کرنیپرمعلوم ہواکہ وہ شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمة اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے ہیں ، ان بزرگوں کافیض جاری ہے اورانشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا، یہی انہی کے فیض کی ساری شاخیں ہیں ، پہلے ہم حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی صحت کے لئے دعائیں کرتے تھے اب ”رحمة اللہ علیہ ”کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندفرمائے ، یہ سب شجر طوبیٰ کی شاخیں ہیں ۔

آپ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی بخشش ومغفرت اوررفع درجات کے لئے دعاکریں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندفرمائے اورن کے شاگردوں اورپسماندگان کوان کے طریقے پراستقامت نصیب فرمائے ۔آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.