hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

اشکہائے عقیدت بہ فراق شیخِ طریقت

 

اشکہائے عقیدت بہ فراق شیخِ طریقت

امیرِ جمعیة حضرت درخواستی قدّس سرّہ

(مولانامنظوراحمدنعمانی)

حضرتِ درخواستی کے غم سے دل بے تاب ہَے

ہر طرف ظلمت ہی ظلمت اب کہاں مہتاب ہَے

جن کے علم و فیض سے روشن ہوا سارا جہاں

اب انہیں ڈھونڈوں  کہاں وہ گوہرِ نایاب ہَے

 

اشکہائے عقیدت بہ فراق شیخِ طریقت

امیرِ جمعیة حضرت درخواستی قدّس سرّہ

(مولانامنظوراحمدنعمانی)

حضرتِ درخواستی کے غم سے دل بے تاب ہَے

ہر طرف ظلمت ہی ظلمت اب کہاں مہتاب ہَے

جن کے علم و فیض سے روشن ہوا سارا جہاں

اب انہیں ڈھونڈوں کہاں وہ گوہرِ نایاب ہَے

جس نے ہر سُو تھے جلائے علم و حکمت کے چراغ

جنکی تابانی سے عالم روشن و شاداب ہے

دین کی تبلیغ کے انتھک مُجاہد تھے وہی

جنکی سعیِ کا ملہ سے قصرِ دیں باتاب ہَے

جنکی فرقت میں زمین و آسماں ہیں اشکبار

نوحہ کن مکتب، مساجد، منبر و محراب ہے

موتِ عالِم فی الحقیقت ہَے جہاں سارے کی موت

علم ہَے روحِ جہاں دنیا فقط اسباب ہَے

بُلبلیں سرگشتہ ہَیں گُل کی زیارت کے لیے

گُلشنِ علم و ادب سنسان ہَے بے آب ہَے

خُم خانہ ہَے اجڑا ہوا مئے معرفت باقی نہیں

ساغِر ہَیں سب خالی پڑے ساقیِ مادر خواب ہَے

اٹھ میرے ساقی پیاسو ں کو پلا دے وہ شراب

جس کو پی کر آج تو مخمُور ہَے سیراب ہَے

لے گیا عشقِ مدینہ تجھکو مدنی ۖ کے حضور

جو شفیعِ عاصیاں ہے رحمتِ احباب ہَے

اب خدا حافظ چلو اُس ربِّ ِ عالم کے حضور

اپنے بندوں کے لیے جو غَافرِ و توّاب ہَے

زندگی تیری سے پائی زندگی منظور نے

اب تلک تیرے ہی مخزن کا بنا بوّاب ہَے

ماہِ عِرفاں کے سِتارے ہَیں فدآئِ جانشیں

ہم مطیع و فضلِ رحماں خادمِ طلّاب ہَے

عبدِ رحماں و عطاء وہم جمیل و الخلیل

ہم عزیز خورد بے سایہ بسے بے تاب ہَے

چودہ سو پندرہ ربیع اول کی تھی انیس جب

سات تھے یکشنبہ کے غائب ہوا مہتاب ہَے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.