hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

چندیادیں

مولانامحمد فیاض خان سواتی

مہتمم مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ

دنیاکادستورہے یہاں جوبھی آیاوہ ایک دن موت کی وادی میں ضرورداخل ہوا، مگرکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جواپنی حسین یادیں پیچھے چھوڑ کرجاتے ہیں ، انہیں میں سے حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بیسیوں صدی کی وہ یگانہ روزگارہستی ہیں جن ملت اسلامیہ مت مدید تک فخرکرتی رہے گی ۔ آپ ایک متبحر عالم دین ،کہنہ مشق مدرس ، ہردلعزیز خطیب اوراسلاف کی یادگار تھے ۔ قرآن وسنت کی بالادستی ، اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی مسلک کی ترجمانی ، مدارس اسلاامیہ کی سرپرستی اورملک عزیز پاکستان میں نفاذ شریعت کی ترویج آپ کامشن تھاجس کی تکمیل میں آپ نے قیدوبند مصائب وآلاماورجاں گسل حوادثات کوخندہ پیشانی سے براداشت کیالیکن تادم واپسیں آپ کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی ، ٣٢سال تک کاعرصہ علماء حق کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امری کی حیثیت سے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے ۔ آپ ہرتحریک میں علماء حق کے ہراول دستہ کی قیادت فرماتے رہے ، یقیناآ پ اکابروسلاف کے علوم وکردار کے صحیح امین اورجانشین تھے ۔

 

 

چندیادیں

مولانامحمد فیاض خان سواتی

مہتمم مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ

دنیاکادستورہے یہاں جوبھی آیاوہ ایک دن موت کی وادی میں ضرورداخل ہوا، مگرکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جواپنی حسین یادیں پیچھے چھوڑ کرجاتے ہیں ، انہیں میں سے حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بیسیوں صدی کی وہ یگانہ روزگارہستی ہیں جن ملت اسلامیہ مت مدید تک فخرکرتی رہے گی ۔ آپ ایک متبحر عالم دین ،کہنہ مشق مدرس ، ہردلعزیز خطیب اوراسلاف کی یادگار تھے ۔ قرآن وسنت کی بالادستی ، اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی مسلک کی ترجمانی ، مدارس اسلاامیہ کی سرپرستی اورملک عزیز پاکستان میں نفاذ شریعت کی ترویج آپ کامشن تھاجس کی تکمیل میں آپ نے قیدوبند مصائب وآلاماورجاں گسل حوادثات کوخندہ پیشانی سے براداشت کیالیکن تادم واپسیں آپ کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی ، ٣٢سال تک کاعرصہ علماء حق کی نمائندہ جماعت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امری کی حیثیت سے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے ۔ آپ ہرتحریک میں علماء حق کے ہراول دستہ کی قیادت فرماتے رہے ، یقیناآ پ اکابروسلاف کے علوم وکردار کے صحیح امین اورجانشین تھے ۔

احادیث نبویۖ کے ساتھ آپ کواس قدرعشق تھاکہ نوجوانی کی عمرمیں ہرروزتینسواحادیث زبانی یاد کرلیتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آپ کے نہاں خانہ ذہن میں اتنی احادیث محفوظ تھیں کہ حافظ الحدیث کالقب آپ کے اسم کاجزو لاینفک ہوگیاتھا، آپ صاحب کرامت بزرگ اورابدالوں کی طرح جذ ب کی کیفیت سے بھی متصفت تھے ،یہی وجہ ہے کہ آپ اکابر واصاغر علماء وطلباء اورعامة المسلمین سب ہی کے معتمد ، قائد ، پیشوااورمقتدی تھے ۔

اُولئِکَ اَسْلَافِیْ فَجِئْنٰی بِمِثْلِھِمْ

اِذَاجَمَعْتَنَا یَا جَرِیْرَ الْمَجَامِعْ

مدرسہ نصرت العلوم سے لگائو:

والد محترم مفسرقرآن حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتی دام مجدہم اورمدرسہ نصرت العلوم کے ساتھ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوخصوصی لگائوتھا، زندگی بھرآپ کایہ معمول رہاکہ جب کبھی گوجرانوالہ کے گردونواح میں تشریف لاتے تواحباب سے فرماتے مجھے عبدالحمید کے پاس نصرت العلوم میںپہنچادو اس طرح آپ ادارہ کی سرپرستی اوروالد محترم مدظلہ سے مشفقانہ برتائوروارکھتے ۔ آپ تقریبا آٹھ مرتبہ بخاری شریف کی اختتامی تقریب میں مدرسہ نصرت العلوم تشریف لائے اوربخاری شریف کی آخری حدیث کاسبق پڑھایا، علاوہ ازیں دستابندی کے کئی مواقع اورجمعیت علماء اسلام کے پروگراموں کے سلسلہ میں توبیشمار مرتبہ ادارہ میں تشریف لائے ۔

دورہ تفسیرمیں حضرت کی شفقت:

سن ١٩٥٩ ء کی بات ہے جنرل ایوب خان کے دوراقتدار میں حضرت والدمحترممدظلہ کے خلاف حکومت کی جانب سے تین ماہ کی زبان بندی کاآرڈر جاری ہواتوآپ نے موقع کوغنیمت جانتے ہوئے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی یادگار مدرسہ مخزن العلوم خانپور میں دورہ تفسیرقرآن کریم میںشرکت فرماکر ان سے شرف تلمذ حاصل کیااوردورہ تفسیر کے دوران حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے بالکل سامنے بیٹھ کربالبدہة آپ رحمة اللہ علیہ کی اردوتقریرکوعربی میں منتقل کیا۔ پچیس پاروں کی تفسیر کے بعد حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بیمارہوگئے اس لئے باقی پانچ پاروں کی تفسیر اس وقت تومکمل نہ ہوسکی لیکن بعد میں ایران کے ایک طالب علم بیاض سے اسے بھی حاصل کرلیاگیا، یوں حضرت والد محترم مدظلہ کوحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی دورہ تفسیرکی تمام تقریرکواردوسے عربی میں منقل کرنے کاشرف عظیم حاصل ہے ۔ حضرت والد محترم مدظلہ بیان فرماتے ہیں کہ دورہ تفسیرکے دوران بھی حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اس قدرشفقت فرمایاکرتے تھے کہ بندہ کوخصوصی توجہات سے نوازاکرتے تھے ، ناظم مدرسہ کوآپ نے حکم فرمایاکہ انہیں مہمان خانہ میں ٹھہرائیں ، ایک دن مجھے کسی عارضہ کی وجہ سے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے سامنے سبق میں بیٹھنے کاموقع نہ ملاتودوسرے طلباء وہاں بیٹھ گئے جب دوسرے روز میں اپنی جگہ پرحضرت کے سامنے بیٹھاتوآپ نے اپنے مخصوص انداز میں تنبیہہ فرماتے ہوئے مجھے مخاطب فرمایاکہ کل تم اس مقام سے کیوں غائب تھے ۔

نظام شریعت کانفرنس:

١٩٧٥ء میں جمعیت علماء اسلام نے کل پاکستان تین روزہ نظام شریعت کانفرنس منعقد کی اس کے لئے جگہ کاانتخاب شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ مقررہوا ۔ لیکن عین وقت پرمسٹر ذوالفقارعلی بھٹونے اجازت نامہ منسوخ کردیااورخود غیرملکی دورہ پرچلاگیا۔ جمعیت کے اکابرین کے لئے اس وقت بڑی پریشانی پیداہوئی کیونکہ سارے ملک سے ہزاروں کی تعداد میںعلماء کرام اورکارکنان جمعیت گوجرانوالہ پہنچ چکے تھے ، اس موقع پرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اورحضرت مفتی محمودرحمة اللہ علیہ نے والدمحترم مدظلہ کوپیغام بھیجاکہ اگرآپ اجازت دیں تویہ کانفرنس گوجرانوالہ کی سب سے بڑی جامع مسجد نورمدرسہ نصرت العلوم میں منعقد کرلی جائے ، انکار کاتوسوال ہی پیدانہ ہوتاتھا، اس لئے وہ کانفرنس بڑی آب وتاب کے ساتھ جامع مسجد نور میں منعقد ہوئی ۔ بندہ کی نظروں سے ابھی تک وہ منظرمحونہیں ہواجب نماز عصرکے بعد حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اورحضرت مولانامفتی محمود رحمہما اللہ علیہ نے جامع مسجد نور کے کچے صحن میں تین سوباوردی کارکنان جمعیت کی صف بستہ قطاروں میں گھوم کرسلامی لی ۔

اس کانفرنس کے ملک بھر میں بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے لیکن مسٹربھٹونے اپنی سبکی سمجھتے ہوئے طیش میں آکراپنے صوبائی وزیراوقاف رانااقبال احمدخان کے ذریعے جامع مسجدنوراورمدرسہ نصرت العلوم کوسرکاری تحویل میں لینے کانوٹیفکیشن جاری کردیا، جسے اہل حق نے قبول نہ کیاتحریک چلی جوتحریک جامع مسجد نور کے نام سے معروف ہے ۔ حضرت مفتی صاحب رحمة اللہ علیہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم این اے کی حیثیت سے اس پرسخت احجاج کیا، علاوہ ازیں سینکڑوں کارکنوں نے گرفتاریاں پیش کیں ، ماریں کھائیں اذیتیں برداشت کیں لیکن محکمہ اوقاف کوجامع مسجد نورپرقبضہ کاخواب شرمندہ تعبیرنہ ہونے دیابعدازاں بھٹوکی حکومت کاتختہ الٹ گیا، ضیاء الحق کامارشل لاء نافذ ہوگیاتوحضرت درخواستی اورمفتی صاحب رحمہمااللہ نے جنرل ضیاء الحق کوکہہ کراس نوٹیفکیشن کوواپس کرادیا۔

سنت پرعمل:

ایک مرتبہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، اس وقت آپ کی آنکھوں میں تکلیف تھی جس کے لئے وہ معجون قسم کی کوئی دوائی استعمال فرمارہے تھے ، جب دوائی استعمال فرمالی توآپ کی انگلی کے ساتھ جومعجون باقی رہ گئی وہ انگلی انہوں نے حضرت والد محترم مدظلہ کوپیش فرمائی کہ آپ اسے چاٹ لو، یہ دراصل حضورۖکی سنت مبارکہ پرعمل تھاکہ آپ ۖ کھاناکھانے کے بعداپنی انگلیوں کوخود چاٹ لیتے تھے یاکسی دوسرے شخص کوپیش فرماتے تھے کہ وہ چاٹ لے ۔ چنانچہ حضرت والد محترم مدظلہ نے آپ کی انگلی چاٹ لی ، گویاآپ نے ایک مخصوص انداز سے حاضرین مجلس کے ذہنوں میں سنت پرعمل کاجذبہ پیدافرماکراان کی تربیت بھی فرمادی ۔

آخری ملاقات:

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب وفات سے کچھ عرصہ قبل علاج کے سلسلہ میں وہ لاہور تشریف لائے ، قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں قیام پذیرتھے انہوں نے حضرت والدمحترم مدظلہ کوپیغام بھیجاکہ وہ یہاں آکر مجھے ملیں چنانچہ احقربھی والد محترم مدظلہ کے ہمراہ لاہورگیا، اس وقت یہ گمان بھی نہ تھاکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے یہ ہماری آخری ملاقات ہوگی ، اس کے کچھ عرصہ بعدآپ دنیاسے رحلت فرماگئے ۔ بندہ آپ کے جنازہ میں بھی شریک ہوا۔مخزن العلوم کی سوگوار فضادیکھ کرایسامحسوس ہوجیسے شاعرنے کسی ایسے ہی موقع کے لئے یہ شعرکہاہو۔

اَمَّاالْخِیَام فَاِنَّھَاکَخِیَامُھُمْ

وَاَریٰ رِجَالُ الْحَیِّ غَیْرِرِجَالُھَا

خیمے اورعمارتیں توویسی کی ویسی ہی تھیں لیکن قبیلے کے مرداورہی نظرآرہے تھے نہ آج وہاں حافظ الحدیث کی علمی جولانیوں کی گونج تھی اورنہ ہی ان جیسی شفقت ومحبت کرنے والاکوئی بزرگ تھا۔ آنکھوں کے سامنے بچپن کاوہ منظر گردش کرگیاجب بندہ آپ رحمة اللہ علیہ کی گود میںبیٹھ کرداداجان کے الفاظ سے انہیں مخاطب کرتاتھا، اس کے ساتھ ہی آنکھوں سے آنسوئوں کاسیلاب بہہ پڑا، جب آنسوتھمے توحافظ الحدیث دین پورے کے تاریخی قبرستان میں اپنے اسلاف کے قدموں میں لحد کے اندر اتارجاچکے تھے ۔

آپ کی وفات سے چمنستان سے علم وعمل خزاں رسیدہ ہوگیا، اب گردونواح میں نظردوڑاتے ہیں تودوردورتک کوئی ان کاثانی نظرنہیں آتااوربے اختیار دل سے یہ دعانکلتی ہے ۔

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.