hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حافظ الحدیث حضرت درخواستی قدس سرہ کی محدثانہ شان

حافظ الحدیث حضرت درخواستی قدس سرہ کی

محدثانہ شان

مولاناسیدعبدالقدوس ترمذی

جامعہ حقانیہ ، ساہیوال سرگودھا

حافظ الحدیث ،ولی کامل ، عالم باعمل ، نمونہ اسلاف حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی قدس سرہ کی عظیم شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، ایسی ہستیاں ”آفتاب آمددلیل آفتاب”کامصداق ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے قرآن وحدیث کی جوخدمت لی ہے اس کافیض انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک جاری رہے گااورعلمی وسیاسی لحاظ سے آپ کی عبقری شخصیت کوہمیشہ یادرکھاجائے گاآپ کی ہمہ صفت موصوف ذات گرامی تمام مسلمانوں کے لئے ایک مشعل راہ اورراہنمائے ، اکابرسے بے پناہ عقیدت ومحبت ،مسلک کاتحفظ اورسنت کے اتباع نیز باہم اتحاد واتفاق پرزور اسی طرح قرآن وسنت سے عشق ومحبت جذبہ ایثاوخدمت خلق ، للہیت ، خلوص ، زہد وتواضع یہ ایسے اوصاف ہیں جنہوں نے آپ کی ذات کومرجع خلائق بنادیاتھا، خاص طورپررسول اکرم ۖ کی ذات اقدس کے ساتھ والہانہ شیفتگی اورحدیث پاک اورقرآن کریم سے محبت قابل دیدتھی ، نیزاپنے اکابرسے محبت عشق کی حدتک تھی ۔

حافظ الحدیث حضرت درخواستی قدس سرہ کی

محدثانہ شان

مولاناسیدعبدالقدوس ترمذی

جامعہ حقانیہ ، ساہیوال سرگودھا

حافظ الحدیث ،ولی کامل ، عالم باعمل ، نمونہ اسلاف حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی قدس سرہ کی عظیم شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، ایسی ہستیاں ”آفتاب آمددلیل آفتاب”کامصداق ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے قرآن وحدیث کی جوخدمت لی ہے اس کافیض انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک جاری رہے گااورعلمی وسیاسی لحاظ سے آپ کی عبقری شخصیت کوہمیشہ یادرکھاجائے گاآپ کی ہمہ صفت موصوف ذات گرامی تمام مسلمانوں کے لئے ایک مشعل راہ اورراہنمائے ، اکابرسے بے پناہ عقیدت ومحبت ،مسلک کاتحفظ اورسنت کے اتباع نیز باہم اتحاد واتفاق پرزور اسی طرح قرآن وسنت سے عشق ومحبت جذبہ ایثاوخدمت خلق ، للہیت ، خلوص ، زہد وتواضع یہ ایسے اوصاف ہیں جنہوں نے آپ کی ذات کومرجع خلائق بنادیاتھا، خاص طورپررسول اکرم ۖ کی ذات اقدس کے ساتھ والہانہ شیفتگی اورحدیث پاک اورقرآن کریم سے محبت قابل دیدتھی ، نیزاپنے اکابرسے محبت عشق کی حدتک تھی ۔

احقرکوپہلی مرتبہ کافی عرصہ قبل سرگودھاکے ایک جلسہ میں اپ کی زیارت اوربیان سننے کاموقع ملاتھااس کے بعد ١٤٠١ ھ میں خیرالمدارس ملتان میں آپ کی زیارت ہوئی ،پھروفات سے کچھ عرصہ قبل سرگودھا بلاک نمبر1میں زیارت ہوئی اورآپ کابیان بھی سنا، بیان کے دوران حضرت خلیفہ غلام محمدصاحب دین پوری رحمة اللہ علیہ کاتذکرہ بڑے عجیب انداز سے فرمایااورحسرت سے فرمانے لگے کہ اب ان کودیکھنے والے حضرات بھی باقی نہیں رہے ، پھرفرمایاکہ اگرکوئی ایساشخص اس مجمع میں موجود ہوتوکھڑاہوجائے ، ایک معمر صاحب کھڑے ہوگئے ، حضرت نے ان کواسٹیج پربلالیا، تحقیق کرنے سے معلوم ہواکہ انہوں نے حضرت خلیفہ غلام محمدرحمة اللہ علیہ کی نہیں بلکہ ان کے صاحبزادہ کی زیارت کی ہے ۔ آپ فرمانے لگے یہی بات تومیں کہہ رہاہوں کہ اب ان کودیکھنے والے نہیں ہیں ۔

آپ کے حافظہ کابھی عجیب عالم تھافرمایاکہ میںکافی عرصہ قبل سرگودھامیں آیاتھا اورایک مسجد میںمیری تقریر ہوئی تھی ، اس کاخلاصہ کوئی کھڑاہوکرسائے ، آپ کے اصرار پرایک صاحب نے کہاکہ حضرت آپ نے اس تقریر میں ارشاد فرمایاتھاکہ قرآن کی دوقسمیں ہیں ، ایک حال اورایک قال ۔ رسول اللہ ۖ کی ذات گرامی قرآن کاحال ہے اوریہ الفاظ قال ہیں ۔ بہرحال یہ بڑاعجیب بیان تھا، باربار آپ حسب معمول ”سبحان اللہ ”فرماتے رہے ، جس سے مجمع پرعجیب کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔

احقر کے والد ماجد حضرت اقدس مولانامفتی عبدالشکور صاحب ترمذی قدس سرہ بھی حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کااز حد احترام وادب فرماتے تھے ، اورہمیشہ بڑی عقیدت ومحبت سے آپ کاتذکرہ فرماتے تھے ، عرصہ دراز تک جمعیت علماء اسلام سرگودھاکے نائب امیررہنے کی وجہ سے آپ کو حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے ملاقات اورگفتگو کاموقع ملتارہا اورکئی مرتبہسرگودھامیںحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے آپ کی صدارت میں بیان فرمایا۔ ایک مرتبہ یہ لطیفہ بھی پیش آیاکہ حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ جلسہ کی صدارت فرمارہے تھے اورحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ دیرتک بیان فرماتے رہے ،مجمع میں کچھ حضرات سونے لگے ، ادھر صدرمحترم پربھی قدرے نیندکاغلبہ ہوا، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بھانپ گئے اورفرمانے لگے کہ مجمع بھی سورہاہے اورصدرصاحب بھی سوئے ہیں اورمیں اس کے باوجودتقریر کررہاہوں ”سب کہوسبحان اللہ ”اس سے سارامجمع متوجہ ہوااورایک عجیب لطف کی کیفیت پورے مجمع پرطاری ہوگئی ۔

حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں نے جب جواہرالقرآن کے رد میں ہدایة الحیران لکھی توحضرت درخواستی کواس کامسودہ دکھاکرتصدیق کے لئے عرض کیاتوحضرت مجھے الگ لے گئے اورعلیحدگی میں فرمایاکہ بھائی اس وقت پورے ملک میں اہل حق علماء دیوبند کے درمیان سیاسی اتحاد کی فضاقائم ہے یہ ٢٩٧٠ ء کے قریب کی بات ہے ، ہم لوگ جمعیت کی طرف سے سیاست میں حصہ بھی لے رہے ہیں،ہماری تقریظ سے یہ مسئلہ سیاسی رنگ اختیار کرسکتاہے اس لئے اب مصلحت کاتقاضایہی ہے کہ اس کتاب پرانہی حضرات کی تقاریظ لی جائیں جوعلم وفضل اورفتویٰ میںمشہورہیں ، پھرحضرت علامہ ظفراحمدعثمانی اورحضرت مفتی اعظم مفتی محمدشفیع صاحب کے اسماء گرامی کابطورخاص ذکرکیا۔

حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں ںے آپ کے اس ارشاد کے مطابق حضرت علامہ عثمای رحمة اللہ علیہ کی تقریظ لے کراس کتاب کوشائع کیاتوحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کاارشاد صحیح نکلا کہ بہت سے حضرات نے اس کتاب کوسیاسی مصلحت کے خلافقراردیالیکن علامہ عثمانی اورحضرت مولاناخیرمحمد صاحب قدس سرہماکی تصدیق کی وجہ سے اس تاثر میں بہت کمی ہوئی اوراب حال ہی میں اس کادوسراایڈیشن بھی شائع ہوگیاہے اورعلمی حلقہ میں اس کی افادیت اورمقبولیت بڑھ رہی ہے ۔

١٩٧٠ء کے سیاسی اختلاف کے حوالہ سے یاد آیاکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اورحضرت علامہ ظفر احمد صاحب عثمانی ، حضرت مفتی محمدشفیع ، حضرت مولانااحتشام الحق تھانوی رحمہم اللہ کے مابین سیاسی اختلاف اپنے عروج پرتھے لیکن اس کے باوجود جب حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کاذکرآتاتوحضرت عثمانی رحمة اللہ علیہ آپ کے بارے میں فرمایاکرتے تھے کہ حضرت مولانادرخواستی نیک آدمی ہیں اورمتکلم بالحدیث ہیں ۔

ایک مرتبہ حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ نے آپ سے سوال کیاکہ حدیث میں ایک صحابہ کے متعلق آتاہے کہ جب انہیں دفن کیاگیاتوتدفین کے بعدحضوراکرمﷺ نے تسبیح فرمائی اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی تسبیح پڑھی ۔ آپ نے صحابہ کرام کے سوال پرفرمایا:

لَقَدْ تَضَایَقَ عَلٰی ھٰذَاالْعَبْدِ الصَّالِحُ قَبْرُہ

ترجمہ: اس بندہ صالح پراس کی قبرتنگ ہوگئی تھی ۔

تضیق (قبرکی تنگی)کی وجہ کیاتھی ؟حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ وہ صحابی بکریاں چراتے تھے اوران کے بول یعنی پیشاب سے بچنے میں احتیاط نہیں ہوتاتھاجبکہ حدیث شریف میں آتاہے کہ اس میں احتیاط نہ کرنے سے عذاب قبرہوتاہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے :

اِسْتَنْزَھُوْامِنَ الْبَوْلِ فَاِنَّ عَامَّةَ عَذَابَ الْقِبْرِمِنْہُ

پیشاب سے بچوکیونکہ عموماًعذاب قبر پیشاب سے بے احتیاطی

کی وجہ سے ہوتاہے

حضرت والد صاحب قدس سرہ فرماتے تھے کہ اس تقریر سے مجھے اطمینان ہوگیا اوربعد میں بعینہ یہ توجیہ شروح حدیث میں بھی مل گئی ۔ اس سے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی وسعت نظر اورحدیث پاک سے خاص مناسبت واضح ہے ۔

احقرکے برادرمکرم ومعظم حضرت مولاناعبدا لصبور ترمذی مدظلہم نے دورہ حدیث شریف کے لئے ١٩٧٢ء میں جامعہ قاسم العلوم ملتان میںداخلہ لیاتھامگرطلباء کی باہم نااتفاقی اورحالات کی ناسازی کی وجہ سے وہاں رہنامشکل ہواتوبھائی صاحب جامعہ مخزن العلوم خانپور چلے گئے اورکئی ماہ تک حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اوردیگر اساتذہ کرام سے استفادہ کیااوریہیں دورہ حدیث کی تکمیل کے بعد سند فراغت حاصل کی جس پرحضرت درخواستی قدس سرہ کے دستخط بھی ثبت ہیں ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ جیسے عظیم محدث کے ساتھ شرف تلمذ حاصل ہوگیا ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُوَلَہُ الشُّکْرُ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کواللہ تعالیٰ نے طویل عمر عطافرمائی اوران سے بہت کام لئے اورآپ کی پوری زندگی قابل رشک تھی بالآخراکابر واسلاف کی یہ نشانی اوربزرگوں کی عظیم یادگار بھی حیات مستعار کے ایام پورے کرکے ہم سے رخصت ہوگئی ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

آپ کی وفات حسرت آیات سے روحانیت اورتقویٰ کاایک باب بند ہوگیا، یہ خلاہمیشہ محسوس ہوتارہے گا۔

وَمَا کَانَ قَیْسُ ھَلَکَہ ھَلَکَ وَاحِدٍ

وَلٰکِنَّہ بُنْیَانُ قَوْمٍ تَھْدِمًا

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی وفات کے وقت ہم ایک طویل سفرپرتھے ہمیں سفر میں ہی آپ کی وفات کاعلم ہواحضرت والد صاحب قدس سرہ نے نہایت افسوس اورگہرے رنج وغم کااظہار فرمایا۔طویل سفراوراعذار وعلالت کی وجہ سے حضرت والد صاحب رحمة اللہ علیہ بھی جنازے میں شریک نہیں ہوسکے جس کاانہیں خاص ملال تھا۔

وَلٰکِنَّ کَمَاحَسَرَاتٍ فِیْ بُطُوْنِ الْمَقَابِرُ

اوربقول کسے ”وہی ہوتاہے جومنظورخداہوتاہے ۔”اللہ تعالیٰ تمام اکابر کی خدمات کوقبول فرمائیں انہیں جزائے خیرسے نوازیں ، ان کے درجات کوبلند فرمائیں اورحسنات میںہمیں ان کے اتباع کی توفیق دیں ۔آمین ثم آمین

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.