hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

علماء کرام کے قافلہ کے سرخیل

علماء کرام کے قافلہ کے سرخیل

جودت کامران

وہ علماء کرام کی جن باتوں میں گلوں کی خوشبوہوتی ہے ، اس قافلہ کے مسافرہیں جواب تیزی سے کوچ کررہاہے ۔ ایسے بزرگ اب خال خال ہی نظرآتے ہیں ، جیسے حافظ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ تھے ۔ مولانامحمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ خانپور کے قریب درخواست نامی ایک بستی میں پیداہوئے اوراسی مناسبت سے درخواستی کہلائے ۔ پھریہ سلسلہ ایساچلاکہ ان کی اولاد ، خاندان اورعقیدت مندوں کی ایک بڑی تعدادنے اس لفظ کواپنے نام کاحصہ بنالیا۔

 

 

علماء کرام کے قافلہ کے سرخیل

جودت کامران

وہ علماء کرام کی جن باتوں میں گلوں کی خوشبوہوتی ہے ، اس قافلہ کے مسافرہیں جواب تیزی سے کوچ کررہاہے ۔ ایسے بزرگ اب خال خال ہی نظرآتے ہیں ، جیسے حافظ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ تھے ۔ مولانامحمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ خانپور کے قریب درخواست نامی ایک بستی میں پیداہوئے اوراسی مناسبت سے درخواستی کہلائے ۔ پھریہ سلسلہ ایساچلاکہ ان کی اولاد ، خاندان اورعقیدت مندوں کی ایک بڑی تعدادنے اس لفظ کواپنے نام کاحصہ بنالیا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ علماء دیوبند کے سرخیل رہے ہیں مگریہ دلچسپ حقیقت ہے کہ انہوں نے تحصیل علم دارالعلوم دیوبندسے نہیں کی بلکہ دین پورشریف ضلع رحیم یارخان میں حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری رحمة اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے ، جودیوبند کے بعدعلماء کرام کاایک بہت بڑامرکز تھا۔ دین پورشریف کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ قافلہ حریت کے ایک بڑے مجاہد مولاناعبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ نے ریشمی رومال کی تحریک کاآغاز بھی یہیں سے کیاتھا۔ دین پورشریف چونکہ بڑے بڑے علماء کرام کامرجع تھا، اس لئے مولانامحمد عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے مولاناعبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ جیسے حریت فکرکے مجاہد اوران ہی جیسے دیگر علماء کرام کی صحبت میں بچپن سے جوانی تک کاسفرطے کیا۔

اس جلیل القدردارالعلوم میں علم شریعت کے چشمے بھی رواں تھے اورروحانیت کے بھی، یہاں آزادی کے متوالوں کی دینی اورسیاسی ہی نہیں حربی تربیت بھی کی جاتی تھی ۔ مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اسی ماحول میں تربیت پائی ۔ ان کی دلچسپی کاسب سے بڑامحور علوم قرآن وحدیث رہے ۔

قدرت نے انہیں غیرمعمولی حافظہ سے نوازاتھا، نتیجہ یہ نکلاکہ حدیث کے حافظ کی حیثیت سے شہرت پائی ۔ مسلمانوں کے درمیان قرآن حکیم کے حافظ تولاکھوں کی تعداد میں مل جاتے ہیں مگرحدیث شریف کاحافظ ہونابڑے فضل وکمال کی بات ہے ۔

قبل ازیں ذکرکیاگیاکہ حافظ الحدیث حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے دین پورشریف سے کسب فیض کیا۔ اس مرکز کے زیراثر تحریک آزادی میں حصہ لیااورسیاست کے اسرارورموز سیکھے ۔ یہاں سے تحصیل علم کے بعد خان پورتشریف لے گئے جہاں ان کے استاد اورروحانی پیشوانے جاکردعوت دین پھیلانے کاحکم فرمایاتھا۔ انہوں نے یہاں آکر مخزن العلوم کے نام سے دینی مدرسہ قائم کیاجس سے اس عہدے کے بڑے بڑے علماء کرام نے کسب فیض کیا۔

ان کے شاگردوں کی تعداد پچاس ہزاربیان کی جاتی ہے ۔ اس مدرسہ سے مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کی فکرعام کرنے والے شاگردچاردانگ عالم میں پہنچ گئے اوررشدوہدایت کاکام کرنے لگے ۔ حرم بیت اللہ شریف کے اندرروزانہ درس قرآن دینے والے جید عالم دین مولانامحمدمکی ان ہی کے شاگرد ہیں ۔ جن کے حجرعلمی اورتقویٰ کااعتراف سعودی حکومت نے اس طرح کیاکہ انہیں وہاں کی نہ صرف مستقل شہریت دے دی بلکہ اسلام کے مرکزمیں دنیابھر کے اردوبولنے والے مسلمانوں تک پیغام حق پہنچانے اورانہیں دین سکھانے کی خدمت پرمامور کردیا۔ مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ خود ہی نہیں ان کے شاگردبھی شرعی علوم کے ماہراورروحانی مراتب پرفائز ہیں ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز جمعیت علماء ہندسے کیالیکن تقسیم ہندکے بعدمولاناشبیراحمدعثمانی رحمة اللہ علیہ نے جمعیت علماء اسلام قائم کی تواس میں شامل ہوگئے اورحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ٣٢سال تک جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیرکے منصب پرفائز رہے ۔ مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ جیسے جید عالم دین نے بھی ان کے زیرقیادت کام کرنے پرفخرمحسوس کیا، مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ ہمیشہ ان کے پاس سیاسی مشوروں کے لئے حاضرہواکرتے تھے اورہمیشہ اقرار کرتے تھے کہ میں نے حضرت الامیر حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے جس مشورے پرعمل کیاکامیاب ہوااورجس مشورے پرعمل نہ کیامجھے ناکامی کاسامناکرناپڑا۔

انقلاب ایران کی دوسری سالگرہ کے موقع پرایرانی حکومت نے مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ کوان تقریبات میں شرکت کی دعوت دی تومفتی محمود رحمة اللہ علیہ حضرت سے مشورے کے لئے تشریف لائے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے انہیں مشورہ دیاکہ آپ کاایران جانامصلحت کے منافی ہوگااس لئے مناسب یہی ہوگاکہ آپ وہاں تشریف نہ لے جائیں لیکن مفتی محمود رحمة اللہ علیہ پرجماعت کے دیگراکابرین کادبائو زیادہ تھااس لئے وہ ایران تشریف لے گئے ، واپسی پروہ بہت دل گرفتہ تھے ، اوراکثرکہاکرتے تھے کہ میں نے ایران جاکرغلطی کی ۔اس کے لئے انہوں نے حضرت الامیر مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کے پاس جاکرمعذرت بھی کی ۔

جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زمانہ میں دارالعلوم دیوبندانڈیاکاجشن منایاگیاتومولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ کواس میںبھی شرکت کی دعوت دی گئی ، اس وقت پاکستان اوربھارت کے باہمی تعلقات ایسے تھے کہ مفتی محمود رحمة اللہ علیہ کی سطح کے کسی سیاسی قائد کابھارت جاناخلاف مصلحت تھا، ان حقائق کی روشنی میں حضرت الامیر مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے انہیں بھارت جانے سے منع فرمایامگرپاکستان اوربھارت کے بااثر علماء کرام کے زیر اثر مفتی محمود صاحب بھارت چلے گئے مگریہ دورہ بھی ناکام ثابت ہواجس پرمفتی محمود صاحب بہت پشیمان ہوئے اورپاکستان واپس آکر مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ سے معذرت کی۔

مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ پیپلز پارٹی کے ہمیشہ خلاف رہے ، ان کی سرگرمیوں کوہمیشہ شک کی نظروں سے دیکھا، وہ برملا فرمایاکرتے تھے کہ جوآدمی یاگروپ پیپلز پارٹی کے ساتھ جائے گاوہ ہم میں سے نہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹونے ایک مرتبہ جب ان کے اقتدار کاسورج نصف النہار پرتھاحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے پیغام بھیجاکہ

”مجھ سے ملاقات توکجا میرے شہر میں قدم رکھنے کی بھی جرأت نہ کرنا۔”

بھٹوصاحب حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے اس درشت پیغام سے بہت جزبز ہوئے مگراس کے بعدانہیں ، کبھی ہمت نہ ہوئی کہ مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ سے ملاقات کی خواہش کریں یاخان پور ہی آسکیں ۔ مولاناکوثر نیازی جوبھٹوکے عہد میں مذہبی امور کے وزیر تھے ، ایک مرتبہ خانپور آئے توپیغام بھیجاکہ وہ خدمت میں باریابی کی اجازت چاہتے ہیں ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے ملاقات کاوقت دینے سے انکار فرمادیالیکن مولاناکوثرنیازی کے مشیروں نے ان سے کہاکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ درویش آدمی ہیں ، آپ ان کے مدرسہ میں چلے جائیں ملاقات ہوجائے گی ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوجب اس منصوبے کی خبرملی تودارالعلوم کے دروازے بندکرادئیے اورخبردار کردیاکہ کوثر نیازی کسی صورت میں بھی مدرسہ میں داخل نہ وہون ۔ کچھ لوگوں نے انہیں مشورہ دیاکہ ملاقات کی صورت میںمدرسہ کی بیش بہامالی اعانت ہوسکتی ہے اورملاقات نہ کرنے کی صورت میں بھاری نقصانات ، یہاں تک کہ مدرسہ بند کرنے کی نوبت بھی آسکتی ہے مگرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی استقامت میںکوئی فرق نہ آیا۔ کوثرنیازی مقامی انتظامیہ کی فوج ظفر موج کے ساتھ مدرسہ پہنچ گئے مگران کے لئے دروازے بندہوچکے تھے ۔ انہیں شرمندہ ہوکرواپس لوٹناپڑا، واپس جاکر انہوں نے کسی سے کہاکہ حضورۖ توکفارحتی کہ یہودیوں سے بھی ملاقات کرلیاکرتے تھے مگریہ کیسے عالم دین اوردرویش ہیں کہ ملاقات کاوقت ہی نہیں دیتے ؟ یہ بات اخبارات میں بھی شائع ہوئی مگراس سے پہلے ہی مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ تک یہ بات پہنچ گئی ، شہر میں خوف وہراس کاعالم تھااورکوثر نیازی ندامت کاغصہ ان کے پیروکاروں پراتاررہے تھے ۔ چنانچہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اگلے ہی جمعہ کے خطبہ میںیہ تاریخی جملہ فرمایا:

”کوثرنیازی!اگرتوکافر اوریہودی ہوتاتومیں تجھ سے ملاقات کرلیتامگرتوتومنافق ہے ، میںمنافق سے کس طرح مل سکتاہوں ۔ ”

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک ثابت قدم ، پرعزم ، وضع داراورنہایت سادہ انسان تھے ، وہ اپنے مؤقف کے پکے اوربڑے سچے سیاستدان تھے ،وہ اسلام کے شیدائی تھے اوراسلام سے ہٹ کرکوئی بات سننے کوتیار نہیںہوتے تھے ۔ وہ ایسی سیاسی جماعتوں کوبھی سخت ناپسندفرماتے تھے جن کے منشور میںنظام مصطفی ۖ کے نفاذ کاعزم شامل نہ ہو۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے سینکڑوں دینی مدارس قائم کئے ، چارہزارمدارس کی سرپرستی کی اورلاکھوں شاگردوں کوعلم وعرفان کی تعلیم دی ۔ وہ ١٩٦٢ ء سے اپنی وفات تک جمعیت علماء اسلام کے امیررہے ۔ امارت کے ان ٣٢سالوں کے دوران مولاناغوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ مولانامفتی محمود ،مولاناعبیداللہ انور، مولاناسمیع الحق اورمولانافضل الرحمن جمعیت کے جنرل سیکرٹری رہے ۔ مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے سامنے دوزانو ہوکربیٹھاکرتے تھے ، انہوں نے ٥٣،٧٤اور٧٧کی تحریکوں میں بھرپورحصہ لیااورگرفتار بھی کئے گئے ، ان پردوبار قاتلانہ حملہ بھی ہوامگروہ کبھی خائف نہ ہوئے اورنہ ہی کبھی کوئی محافظ اپنے ساتھ رکھا۔

انہیں حافظ قرآن کے ساتھ حافظ الحدیث بھی کہاجاتاتھاکیونکہ انہیں ہزاروں سے احادیث مبارکہ زبانی یاد تھیں ۔ شریعت کے اس قدر پابندتھے کہ تصویر اترواناگناہ سمجھتے تھے چنانچہ اگروہ فوٹوگرافر کودیکھ لیتے توبہت ناراض ہوتے ۔ان کی جوتصاویر موجود ہیں وہ انہیںبتائے بغیراچانک اتاری گئی ہیں ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ توآج اس جہانِ فانی میںنہیں ہیں لیکن ان کے لاکھوں شاگرد اورمرید آج دنیاکے کونے کونے میں تعلیمات اسلام کوپھیلانے میں مصروف ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.