hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

ایمان افروز ملاقاتیں…اورفکرانگیزباتیں

ایمان افروز ملاقاتیں…اورفکرانگیزباتیں

حضرت مولانامجاہدالحسینی فاضل دالعلوم ڈابھیل، انڈیا

اللہ تعالیٰ نے برصغیر پاک وہند میں جن شخصیات کودین اسلام کی دعوت وتبلیغ اورملت اسلامیہ کی فکری تطہیر ،باطنی تزکیہ اورمعاشرتی وسیاسی رہنمائی کے لئے توفیق خاص سے نوازا، ان میں حافظ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی شخصیت منفرد اورممتاز نظرآتی ہے ، آپ کی انفرادیت یہ ہے کہ علماء کرام میں سے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک متبحر عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ القرآن اورحافظ الحدیث کے اعزاز سے بھی سرفراز تھے ،ہزاروں احادیث کامتن یادتھا، قیام پاکستان کے بعداس کے ابتدائی دورمیں ١٩٤٨ء میں حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ سے اولین شرفِ زیارت وملاقات مظفر گڑھ میں اس وقت نصیب ہوئی جب وہاں کے چند مخلص احباب میاں عبدالستارافسر مال اورچودھری صادق علی ڈی ایف سی نے مقامی انتظامیہ کی اس خواہش کامجھ سے اظہار کیاکہ افسروں اورمعززین شہرسے خطاب کے لئے کسی ایسی شخصیت کودعوت دی جائے جوکسی حلقے میں بھی متنازعہ نہ ہواورسب کے ہاں قابل احترام ہو۔

ایمان افروز ملاقاتیں…اورفکرانگیزباتیں

حضرت مولانامجاہدالحسینی فاضل دالعلوم ڈابھیل، انڈیا

اللہ تعالیٰ نے برصغیر پاک وہند میں جن شخصیات کودین اسلام کی دعوت وتبلیغ اورملت اسلامیہ کی فکری تطہیر ،باطنی تزکیہ اورمعاشرتی وسیاسی رہنمائی کے لئے توفیق خاص سے نوازا، ان میں حافظ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی شخصیت منفرد اورممتاز نظرآتی ہے ، آپ کی انفرادیت یہ ہے کہ علماء کرام میں سے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک متبحر عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ القرآن اورحافظ الحدیث کے اعزاز سے بھی سرفراز تھے ،ہزاروں احادیث کامتن یادتھا، قیام پاکستان کے بعداس کے ابتدائی دورمیں ١٩٤٨ء میں حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ سے اولین شرفِ زیارت وملاقات مظفر گڑھ میں اس وقت نصیب ہوئی جب وہاں کے چند مخلص احباب میاں عبدالستارافسر مال اورچودھری صادق علی ڈی ایف سی نے مقامی انتظامیہ کی اس خواہش کامجھ سے اظہار کیاکہ افسروں اورمعززین شہرسے خطاب کے لئے کسی ایسی شخصیت کودعوت دی جائے جوکسی حلقے میں بھی متنازعہ نہ ہواورسب کے ہاں قابل احترام ہو۔

چونکہ ان دنوں میری رہائش گاہ مظفر گڑھ میں تھی تومیں نے وہاں کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ احیاء العلوم کے مہتمم حضرت مولانامحمدعمررحمة اللہ علیہ سے مشورہ کیا، مولانامحمدعمرفاضل دیوبنداورحضرت شیخ مدنی رحمة اللہ علیہ سے بیعت ہونے کے ناطے میرے پیر بھائی تھے ، پنجاب کے سابق وزیر تعلیم اوروزیراعلیٰ سردار عبدلحمید دستی کے بھائی حاجی امیر اکبرخان (جنہوں نے وکالت کے پیشہ سے تائب ہوکر تبلیغی جماعت میں شمولیت کرلی تھی ) وہ اکثر نمازیں مدرسہ احیاء العلوم کی مسجد عیدگاہ میں اداکیاکرتے تھے اورہمارے خاص دوستوں میں سے تھے ، ان دونوں حضرات نے حضرت حافظ الحدیث مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کودعوت خطاب دینے کے لئے سب سے موزوں شخصیت قراردیا، ان دنوں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے میراکوئی تعارف نہ تھا، میں نے حضرت کی خدمت میں خانپور کے پتے پردعوت نامہ ارسال کردیا، چندروز بعد حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کامنظوری نامہ موصول ہواتوسب نے اظہارِ مسرت کیا، چنانچہ حسب پروگرام حضرت تشریف لائے اورچودھری صادق علی کی رہائش گاہ واقع ریلوے روڈ پرخصوصی خطاب کااہتمام کیاگیا، جس مین اینگلوانڈین ڈپٹی کمشنر کے سواضلع مظفرگڑ ھ کے تمام بڑے مسلم افسران علماء کرام اورعمائدین وقائدین شہرشریک ہوئے تھے ۔

دل سے جوبات نکلتی ہے اثررکھتی ہے :

حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اپنے مخصوص لہجے کے ساتھ خطاب کادھیمے انداز میں آغاز فرمایا، پھرآیات قرآنی اوراحادیث نبوی ۖ کے حوالے سے جب انسان کے ظاہروباطن سے نقاب اٹھایااورجلال وجمال آمیز لہجے میں عام انسان اورمسلمانوں کافرق واضح کیاتوسامعین پرایک سناٹاطاری تھا، آنکھیں پرنم تھیں ، کبھی کبھی سبحان اللہ کی آواز وں سے مجمع کی زندگی کاثبوت ملتاتھاورنہ نصب شدہ پتھروں کی مانندپوراماحول بے حس وحرکت تھا، پھرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے جذب وکیف کے عالم میں مستغرق بیان سے سامعین کے گریہ زاری کی بلندآوازوں سے مجمع کاسکوت ٹوٹ گیااورلوگوں پرایسی رقّت طاری ہوئی کہ الفاظ اس کی وضاحت سے قاصر ہیں ۔

قیام پاکستان سے پہلے اگرچہ مجھے اپنے وطن سلطانپورلودھی میں امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ مولاناحبیب الرحمن لدھیانوی رحمة اللہ علیہ ، مولاناقاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمة اللہ علیہ کی اورمدرسہ خیرالمدارس کے سالانہ جلسہ کے موقع پردوران طالب علمی مولاناقاری محمدطیب رحمة اللہ علیہ مہتمم دارالعلوم دیوبند، مولانااحمدسعید دہلوی،رحمة اللہ علیہ مولانامرتضی حسن چاندپوری رحمة اللہ علیہ ،مولانامفتی محمدحسن امرتسری رحمة اللہ علیہ اوردیگر عظیم شخصیات کی ایمان افروز تقاریر سننے کاشرف حاصل ہوچکا تھا، آج اسی کاروان اسلاف سے علماء دیوبند کے ایک بچھڑے ہوئے راہی حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی رقت آمیز اورگریہ افروز تقریرسن کر میری کیفیت ہی کچھ اورتھی ، آپ کاخطاب دیر تک جاری رہا۔

جب سلسلہ خطاب کی کڑیاں ٹوٹ گئیں اورلوگوں نے اشک آلود آنکھوں اورچہروں کوصاف کرکے والہانہ انداز میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی دست بوسی اورآپ کی خدمت میں اظہار تشکر کیا، اس یادگار لمحے کے نقوش آج بھی میرے ذہن میں جگمگارہے ہیں ۔

عصری تقاضے کااحساس:

بعدازاں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے ساتھ میراایساگہرتعلق خاطر قائم ہوااورآپ نے جس محبت اورشفقت بھرے سلوک کے ساتھ ذرہ نوازی کی وہ میرے لئے سرمایہ افتخار ہے ، اکثر شرف ملاقات ملتان میں امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ کے عظمت کدے پرنصیب ہوتاتھا، پھرروزنامہ آزاد ، روزنامہ نوائے پاکستان اورہفت روزہ خدام الدین لاہور کے دورادارت میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ جب بھی لاہور میں تشریف لاتے تواس فقیر کوشرف ملاقات وزیارت سے نوازتے تھے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی سب سے بڑی خوبی میں نے دیہ دیکھی کہ عصری ضرورتوں اورتقاضے کوہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے اوراپنے ملاقاتی کی صلاحیت اوراستعداد کے مطابق اظہار خیال کی صورت میں رہنمائی کیاکرتے تھے ، لاہور میں زیادہ ترملاقاتوں کااعزاز انجمن خدام الدین کے مرکز شیرانوالہ میں حضرت مولانامحمدعبیداللہ انوررحمة اللہ علیہ کے ہاں نصیب ہوا۔ جن دنوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے دونوں ترجمانوں روزنامہ آزاد اورنوائے پاکستان کی اشاعت کاسلسلہ ختم کردیا گیاتھااورراقم الحروف ہفت روزہ خدام الدین لاہور کی ادارت کے ساتھ ساتھ ادارہ صوالاسلام فیصل آباد کانظام بھی چلارہاتھا، توجمعیت علماء اسلام کے مقامی حضرات کی معرفت حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں ادارہ ”صوت الاسلام”کورونق بخشنے کی درخواست کی جاتی چنانچہ حضرت کی تشریف آوری اورخطاب کی مفصل رپورٹ مولانا عبدالرشید انصاری کے قلم سے خدام الدین میں شائع ہوتی رہی ہے ، غرضیکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ مجمع عام کے بجائے اہل علم ودانش کے خاص حلقے میں خطاب کو اسلئے ترجیح دیتے تھے کہ اس سے فکری اورباطنی تطہیر بروئے کارآتی تھی اورنظر وفکر کاایک ہم آہنگ حلقہ پیداہوتاتھا، میرے درویش خانے پرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے علمی حلقوں کوکئی مرتبہ خطاب سے نوازا۔ جیساکہ سطوربالامیں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمانوں کی بندش کاحوالہ دیاگیاہے ۔

اس سلسلے کاخصوصی قابل ذکرپہلویہ ہے کہ حضرت امیر شریعت رحمة اللہ علیہ توجماعت اورتنظیم کے ترجمان کی اشاعت کوعصری تقاضااورایک اہم تنظیمی ضرورت قراردیتے تھے لیکن مولانامحمدعلی جالندھری رحمة اللہ علیہ مجلس کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے تحریر وتصنیف کوجماعت پربوجھ خیال کرتے اورحصول چندہ کوہی جماعت سازی کامؤثر ذریعہ قراردیتے تھے ۔ راقم الحروف چونکہ مجلس کابانی رکن اورناظم نشرواشاعت تھا، حضرت امیر شریعت رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں افسوسناک صورتحال کاتذکرہ کرکے راقم نے عملاًگوشہ سکوت وتنہائی اختیارکرلیاتھا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوعلم ہواتوانہوں نے مجلس ختم نبوت کے امیر مولاناقاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمة اللہ علیہ سے اس موضوع پرگفتگو فرمائی اوردینی حلقے کے لئے ایک اشاعتی اورتصنیف وتالیف کے ادارے کے قیام کی ضرورت کااحساس دلایا۔حضرت قاضی صاحب رحمة اللہ علیہ نے میرے نام اپنے مکتوب گرامی میں اس کاحوالہ دیاتھا، نیزان دنوں چونکہ ملتان کی ایک نہایت معتبر اورمحترم شخصیت حکیم سید محمدانورعلی شاہ رحمة اللہ علیہ نے بھی مولانا محمد علی جالندھری رحمة اللہ علیہ سے اس ادارے کی ضرورت واضح کی تھی توانہیں معلوم ہواکہ شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ اس سلسلے میں پہلے ہی فکرمندہیں، حکیم صاحبنے مجھے اپنے مکتوب گرامی میں بتایاکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی کوشش اورخواہش ہے کہ مجاہد الحسینی اورڈاکٹراحمدحسین کمال ایڈیٹر ترجمان اسلام دونوں مشترکہ طورپر تصنیف وتالیف کے ادارے میں کام کریں توعصری ضرورت کے مطابق صحیح طورپر اسلام کی تبلیغ واشاعت کافریضہ انجام دیاجاسکتاہے ، لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ مولانامحمدعلی جالندھری رحمة اللہ علیہ کی طرف سے عدم تعاون کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔ اورحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی خواہش نہاں خانہ دل کے اندرہی اندررہ گئی ۔ اس سلسلے کی مفصل خط وکتابت کسی دوسرے موقع پران شاء اللہ مفصل معلومات کے ساتھ شائع کی جاسکے گی ۔

بہرنوع !اس جملہ معترضہ کامقصد یہ ہے کہ حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر کے منصب پرفائز اعلیٰ صلاحیتوں اورمحاسن واوصاف سے متصف شخصیت تھے ، وہ علماء کرام کومعاشرے میں ان کے شایان شان مقام دلانے اوردین اسلام کی جدید ترین انداز میں تعلیم واشاعت کے لئے کوشاں اورفکر مندتھے ۔

حضرت درخواستی کی اصابت رائے :

ایک مرتبہ حافظ الحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ سے میں نے دریافت کیاکہ صوبہ سرحد اورصوبہ بلوچستان سے افغانستان تک کے علاقے کی معاشرت اورتہذیب تمدن کاجائزہ لیں تواس خطے کے باشندوں میں اتباع سنت کی جھلک زیادہ نظرآتی ہے اورپنجاب وسندھ غیرہ علاقہ فرنگی تہذیب ومعاشرت کاگہوارہ نظرآتاہے ، آخراس کیسباب ومحرکات کیاہیں ؟جبکہ یہ ساراعلاقہ انگریزی حکومت کی تحویل میں یکساں طورپرغلامی کی زنجیروں میںجکڑارہاہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے بلاتوقف جواب میں فرمایاکہ افغانستان اوراس کے ملحقہ علاقے میں چونکہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تشریف آوری ہوئی تھی اس لئے ان پاکباز شخصیات کی تہذیب ومعاشرت کواللہ تعالیٰ نے قبولیت عامہ سے نوازکراسے محفوظ کردیاہے اوران بزرگوں کے نقوش تابندہ ہیں ۔ ان کے بالمقابل برصغیر کے دوسرے علاقے چونکہ ہندوئوں اورفرنگیوں کی ملی جلی تہذیب ومعاشرت کی آماجگاہ رہے ہیں ، اس لئے ان علاقوں میں اسلامی تہذیب نمایاں نہ ہوسکی ، نیز پنجاب سندھ وغیرہ علاقے کے باشندوں میں اپنی اسلامی تہذیب ومعاشرت کی عظمت اوراس کے تحفظ کااحساس بھی نہیں ہے ، اس لئے مسلمانوں کی اکثریت کے چہروں پرنہ توداڑھی کی سنت نبوی کی سجاوٹ دکھائی دیتی ہے اورنہ ہی دیگر تہذیبی اثرات ہیں۔ مغربی تعلیم وتہذیب کی یلغار نے مسلمانوں کاحلیہ بگاڑدیاہے ۔

نبی کریم ۖ کی حیات برزخی:

اسی طرح ایک شخص نے میری موجودگی میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے دریافت کیاکہ مسجد الحرام کوسعودی انتظامیہ ساری ساری رات کھلارکھتی ہے لیکن مسجد نبوی ۖ نصف شب کے بعد بند کردی جاتی ہے ،یہ تفاوت کیوں ہے ؟

حضرت حافظ الحدیث مولانادرخواستی صاحب رحمة اللہ علیہ سے دریافت کیاکہ مسجد الحرام میں اللہ تعالیٰ کاعلامتی گھربیت اللہ شریف ہے اوراللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کو ۔

لاتاخذہ سنة ولانوم اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند

اس لئے مسجد الحرام ساری رات کھلی رکھی جاتی ہے اورمدینہ منورہ کی مسجد نبوی ۖ حجرہ نبوی ۖسے ملحق ہے چونکہ حضورسیدالمرسلین خاتم النبیین ۖ کی آخری آرام گاہ اورآپ کامسکن ہے ، آپ کوآرام واستراحت کی بھی ضرورت ہے ، اس لئے مسجد نبوی ۖ رات کے کچھ حصے میں تہجد تک کیلئے بند کردی جاتی ہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے اس مدلل جواب سے سائل کی بھی تسلی ہوگئی اورآپ نے حضورخاتم الانبیاء ۖ کی برزخی حیات النبی ۖ کامسئلہ بھی حل فرمادیا۔

بہرنوع !حضرت حافظ الحدیث مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک متبحر عالم دین ، ایک جید مفکراسلام اوراسلاف کی سادگی وللہیت کاپیکرتھے ۔وہ جبہ وشملہ دستارکاسہارلے کر اپنے علمی تفوق وبرتری کا”ریاکارانہ مظاہر”کرنے والوں سے طبعامختلف طبع سے متصف تھے ، ان کی ساگی اورمعمولی لباس دیکھ کرعام ناواقف انہیں دیہاتی کسان سمجھتے مگرجب علماء وصلحاء کی مجلس میں رونق افروز ہوتے توشمع محفل کی مانند اپنے گردوپیش کوروشن کردیتے ۔ انکی گفتگو اصلاح ظاہروباطن کے لئے مہمیز کاکام دیتی ، لوگ اکتساب فیض کی خاطر کشاں کشاں حاضر خدمت ہوتے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی زندگی میں جمعیت علماء اسلام وحدتِ فکر وعمل سے آراستہ تھی ، ان کی رحلت کے بعدیہ جمعیت پہلے ہزاروی اورمفتی گروپوں میں اوراب تین دھڑوں میں تقسیم ہوکر (ف، س ، ق)کے کلمات سے معروف اورممیز ہے ، کہتے ہیں۔

خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج

تا ثریا رود دیوار کج

جملہ معترضہ :

جن شخصیات نے برصغیر کی تحریک آزادی کے دوران”جمعیة العلما” کے مقابلے میں ایک اور”جمعیة العلمائ”کی عمارت کھڑی کرنے کے لئے خشت اوّل رکھی تھی ، علماء کرام اسی وقت منقسم ہوگئے تھے اورظاہری یامادّدی تقسیم کے اثرات یوں (قلوب ) پربھی مرتب ہوتے ہیں جن کااثر زندگی کے تمام پہلوئوں کومحیط ہوتاہے اورتقسیم کے نقوش اس وقت تک نہیں مٹائے جاسکتے جب تک پرانی عمارت منہدم کرکے کوئی نئی عمارت نہیں تعمیر کرلی جاتی۔

راقم الحروف نے ”بات کہنے کی نہ تھی لیکن زباں پرآگئی”کی صورت میں جملہ معترضہ کے طورپر چندباتیں مجبورااس لئے عرض کی ہیں کہ آج دنیاکی بڑی مادی کافرطاقتوں نے ”ملت واحدہ ”کی شکل میں متحدہ محاذ قائم کرکے امت مسلمہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے دینی قوتوں کے خلاف یلغارکررکھی ہے ۔ بوسنیا، کوسوو، چیچنیا ،فلسطین اورکشمیر سے گجرات کاٹھیاواڑتک اورفلپائن سے انڈونیشیا ، تیمور سے افغانستان وعراق تک امت مسلمہ کی ہرابھرتی اورترقی پذیرقوت کی کلائی مروڑ کے رکھ دی ہے اوراکیسویں صدی کواسلامی غلبے کی صدی کی ڈینگیں مارنے اوربلندوبانگ دعوے کرنے والوں کی شہہ رگ کاٹ کے رکھ دی ہے ۔ لیکن علماء کرام کی دھڑے بندیوں کے ریت کے قلعے جوں کے توں قائم ہیں اوران کے سروں پرکودنے والی بجلیوں کی ہلاکت خیزی کاانہیںکوئی خوف دامن گیرہے نہ ہی ”کارواں کے دل میں احساس زیاں”کی کوئی رمق نظرآتی ہے ۔

 

دور تک کوئی جگنو ہے نہ ستارہ باقی

مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

اس گروہ علماء کرام میں حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ذات گرامی دینی طبقے کی فکری وعملی وحدت ویگانت کے لئے دیوار چین سے طویل اورسدِّسکندری سے بھی مضبوط ومستحکم ایک ناقابل جنبش پختہ رکاوٹ تھی ، جب موت کی سرعت رفتار نے اسے توڑ کے رکھ دیاتوہرطرف ایک بکھری داستاں کے سواکچھ نہ رہا، آج جمعیة علماء اسلام کے گروہ متحدہوجائیں توصر ف سرحد اوربلاچستان کے علاقے اس کے لئے ساز گارہیں ۔

اللہ تعالیٰ حضرت حافظ الحدیث مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کے درجات جنت الفردوس میں بلند فرمائے اوران کے پسماندگان حقیقی اورمعنوی کوان کے گرانقدر علمی ، تحقیقی اوردینی سروئے کی حفاظت اوردین اسلام کی تعلیم وتربیت ، دعوت وتبلیغ اورنشرواشاعت کی ان کے حسب خواہش توفیق سے نوازے۔

(آمین)

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.