hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حرم پاک کی فضائوں میں میری پہلی ملاقات

حرم پاک کی فضائوں میں

میری پہلی ملاقات

…بلبل وبستان اہل حق حضرت سیدامین گیلانی ،لاہور…

جمعہ کے مبارک دن تہجد کے وقت کی رحمت بارساعتیں میں نے حرم پاک میں نوافل اداکئے پھرطواف بیت اللہ سے فارغ ہوکر عین میزاب رحمت کے نیچے غلاف کعبہ کوتھام کراشکبار آنکھوں اوردل کے پورے خلوص کے ساتھ یہ دعاکرتارہا۔”اے اللہ جہاں تیرے اس گھر میں مجھ ساسراپا عصیاں حاضرہے ، وہاںتیرے ایسے بندے بھی آئے ہوئے موجود ہوں گے جوتجھے اورتیرے محبوب ۖکومحبوب ہوں گے جن کے تقویٰ وطہارت پرملائکہ بھی رشک کرتے ہوں گے

آج مجھے اپنے کسی ایسے ہی محبوب سے ملاقات کاشرف بخش۔”

حرم پاک کی فضائوں میں

میری پہلی ملاقات

…بلبل وبستان اہل حق حضرت سیدامین گیلانی ،لاہور…

جمعہ کے مبارک دن تہجد کے وقت کی رحمت بارساعتیں میں نے حرم پاک میں نوافل اداکئے پھرطواف بیت اللہ سے فارغ ہوکر عین میزاب رحمت کے نیچے غلاف کعبہ کوتھام کراشکبار آنکھوں اوردل کے پورے خلوص کے ساتھ یہ دعاکرتارہا۔”اے اللہ جہاں تیرے اس گھر میں مجھ ساسراپا عصیاں حاضرہے ، وہاںتیرے ایسے بندے بھی آئے ہوئے موجود ہوں گے جوتجھے اورتیرے محبوب ۖکومحبوب ہوں گے جن کے تقویٰ وطہارت پرملائکہ بھی رشک کرتے ہوں گے

آج مجھے اپنے کسی ایسے ہی محبوب سے ملاقات کاشرف بخش۔”

اسی دھن میں سپیدہ سحرنمودارہوگیا، صبح کی نماز سے فارغ ہوکر پھرطواف کیااوراسی جگہ آکرمنت وزاری میں مشغول ہوگیا۔ حتی کہ سورج نے اپنی کرنیں بکھیر دیں اورمیں غلافِ کعبہ تھام کراسی التجا میں مگن تھاکہ اچانک میرے سانسوں میں ایک کیف افزاٹھنڈک شامل ہوگئی جس سے میراسینہ لبریز ہوگیااورایک خاص کیفیت طاری ہوگئی ۔ پھرمیرے ہاتھ ازخود غلاف کعبہ سے سرک گئے اوردل سے آواز آئی کہ تیری دعاقبول کرلی گئی ہے اورمیں پورے یقین کے ساتھ پھرطواف میں مشغول ہوگیاکہ اللہ کاوہ برگزیدہ بندہ جس کی مجھے طلب ہے وہ ضرور ملے گا۔

ساتویں چکے کے بعد جب میں حجر اسود سے چندقدم آگے بڑھا توایک نادید ہاتھ میرے سینے پر لگاجیسے مجھے روک دیاگیاہے ، میں ادھرادھر دیکھنے لگاتومیں نے ہجوم سے دورایک بزرگ کودیکھاجوٹکٹی باندھے بیت اللہ شریف کودیکھنے میں محوتھے ۔ دل ان کی طرف کھینچنے لگااورکہنے لگاتیرامطلوب ومحبوب یہی ہے ،میں ان کے سامنے حاضرہوگیا اوربیٹھ کربے ساختہ سلام کرکے عرض کرنے لگاکہ حضرت میرانام امین گیلانی ہے ، شیخوپورہ سے آیاہوں مجلس تحفظ ختم نبوت کاادنیٰ ہوں ۔ آج تہجد کے وقت سے اب تک خداکے حضورمیں جودعائیں کرتارہاوہ آپ کی شخصیت کی صورت میں ظہورپذیرہوگئیں ۔

میں نے دعاکے لئے عرض کیا، انہوں نے دعافرمائی ۔ میں نے نصیحت طلب کی تونصیحت کے کلمات سے نواز صحن حرم میں بیت اللہ شریف کے زیرسایہ محبت کارشتہ بندھ گیا۔ اب آپ ہی فرمائیں ، یہ نقش میرے دل سے تاحیات مٹ سکتاہے ؟ ہرگز نہیں ، اسی بزرگ کانام حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی نوراللہ مرقدہ ہے اوریہ واقعہ ١٩٥٧ء کاہے ۔

ایک پھل فروش:

ہزارہ کی طرف کاپروگرام تھا، حضر ت درخواستی رحمة اللہ علیہ میرے ہاں شیخوپورہ تشریف لائے اورہم نے دوسرے دن سفرکرناتھا، میں نے عرض کیاکہ حضرت آج کل بچوں کی اسکول سے گرمیوں کی چھٹیاں ہیں ، ان کاتقاضاہے کہ وہ بھی آپ کے ساتھ جائیں گے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بہت خوش ہوئے فرمایاہاں لے چلو، بچوں کے ساتھ سفرخوشگواررہے گا، دومیرے لڑکے تھے اوردوبھتیجے چاروں کوساتھ لے کر سفرشروع ہوگیا۔ راستے میں ان حضرت رحمة اللہ علیہ سے دل لگی کرتے رہے ، ہنسنے ہنسانے کی باتیں کرتے رہے ، جب بھی پچیس میل کاسفر طے ہوتاگاڑی رکوادیتے اورانہیں کھانے پینے کی چیزیں منگواکردیتے خود کیلے چھیل چھیل کران کوکھانے کے لئے دیتے ، میں باربار روکتاکہ حضرت بچوں نے بہت کھاپی لیاہے بس فرمائیں ، فرماتے تمہیں نہیں معلوم ، بچے بہت جلد ہضم کرلیتے ہیں ۔ میں ناچارخاموش ہوجاتا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے ایک جگہ فروٹ کی سجی ہوئی دکان دیکھی توپھرگاڑی رکوائی میرے ہاتھ میں کچھ نوٹ تھماکرفرمایاجائو اس پھل والے کی دکان سے پھل لے آئو، بچے مجھے اشاروں میں کہہ رہے تھے کہ ہمارے پیٹ بھرے ہوئے ہیں ، کچھ بھی نہ لائیں میں نے ان کی ترجمانی کی توحضرت رحمة اللہ علیہ ہنس کرفرمانے لگے بچوں کی بات مانتے ہو، میری بات کیوں نہیں مانتے ؟ جائو پھل لے کرآئو ۔میں ناچاراترادکان والے سے پھل ٹوکری میں ڈلوایااورپیسے پوچھے تواس نے کہاکہ جس بزرگ نے آپ کوبھیجا ہے ہم ایسے بزرگوں سے پیسے نہیں لیاکرتے ۔ میں بہت اصرار کیامگروہ نہیں مانا،میں جی میں سوچ رہاتھاکہ اگریہ اتناہی عیدت مندہے تودکان سے اترکرچندقدم پرکھڑی کارمیں حضرت سے ملاقات کیوں نہیںکرتاعجیب ماجراہے ۔

عقیدت اتنی کہ ایک معقول رقم وصول نہیں کررہااوربے نیازی اتنی کہ حضرت سے ملاقات کے لئے چارقدم اٹھانے کی تکلیف بھی نہیں کرتا۔میں مجبورہوکرلوٹااورحضرت سے ماجرابیان کیا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اس دکاندار پرایک نظر ڈالی اورکہاوہ پیسے نہیں لیتاتوتم خود رکھ لواوربیٹھوچلیں ابھی کافی سفرکرناہے ۔

میں خیال کرتاہوں کہ وہ پھل فروش بھی کوئی اللہ والاتھا، اس نے کسی دوسرے اللہ والے سے روحانی رابطہ کرلیاتھامگربظاہر دونوں بے نیاز رہے کیونکہ جولطف راز میں ہے اظہار میں نہیں ۔ یہ لوگ بڑے گہرے ہوتے ہیں ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کاتقویٰ :

گرمیوں کاموسم تھا، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ لاہورتشریف لائے ہوئے تھے ، میوہسپتال کے ایک ڈاکٹر صاحب حضرت رحمة اللہ علیہ کے عقیدت مندتھے ۔ ملاقات کے لئے آئے توحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے ان سے ذکرکیاکہ ان کی پنڈلیوں پرپھنسیاں نکلی ہوئی ہیں انہوں نے پھنسیاں دیکھ کرکہاکہ حضرت تھوڑی سی زحمت فرمائیں اورگاڑی میں میرے ساتھ ہسپتال تک چلیں توٹیسٹوں کے ذریعے معلوم ہوگاکہ پھنسیاں نکلنے کاسبب کیاہے اورخون ٹیسٹ کرکے خون کادرجہ حرارت بھی معلوم کرلیں گے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ راضی ہوگئے اوران کے ساتھ ہسپتال تشریف لے گئے انہوں نے جوٹیسٹ ویسٹ کرناتھاکیااورساتھ ہی یہ بھی عرض کیاکہ حضرت آپ کی آنکھ میں جوناخونہ ہے اس کاعلاج بھی بہت ضروری ہے ، کبھی یہ ناخونہ نظرپراثر انداز ہوسکتاہے ۔ بہت معمولی ساآپریشن ہے بس دوتین دن میں آنکھ بالکل صاف ہوجائے گی ۔ ان کے اخلاص کودیکھ کرحضرت رحمة اللہ علیہ نے ان کی بات مان لی اورہسپتال کے ایک اسپیشل کمرہ میں داخل ہوگئے ۔

ڈاکٹرصاحب بڑی احتیاط اورمحبت سے ناخونہ اتاردیااورحضرت رحمة اللہ علیہ کی اس آنکھ پر پٹی باندھ دی ، ڈاکٹرصاحب اکثر خودآکر حضرت رحمة اللہ علیہ سے خیریت معلوم کرتے رہتے اورمناسب دوائی دے دیتے ، دوسرے دن حضرت رحمة اللہ علیہ اپنے بیڈ پرآنکھیں بندکئے لیٹے ہوئے تھے کہ ایک نرس نے آکر منہ میں تھرمامیٹر رکھ دیااورنبض دیکھنے لگی ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے محسوس کیاکہ یہ ہاتھ نسوانی معلوم ہوتاہے ، آنکھ کھولی کھول کردیکھا، اتنے میں اس نے تھرمامیٹر حضرت رحمة اللہ علیہ کے منہ سے نکال لیااوردرجہ حرارت دیکھنے لگی توحضرت رحمة اللہ علیہ نے چیں بہ چیں ہوکراس سے فرمایا کہ بی بی تم فورا واپس جائو اورڈاکٹرصاحب کومیرے پاس بھیج دو ۔ وہ حسب ارشاد فوراواپس ہوگئی اورڈاکٹر صاحب آگئے ۔ حضرت ناراضگی کے لہجہ میں فرمایاکہ تم نے نرس کومیرے پاس کیوں بھیجا؟تمہیں معلوم نہیں کہ غیر محرم کودیکھنااوراس سے مس ہوناحرام ہے ؟ ڈاکٹرصاحب نے عرض کیاکہ حضرت یہ ہسپتال کی نرسیں ہوتی ہیں ، مریضوں کی دیکھ بھال کرنا، ٹمپر یچر اوردیگر کیفیات معلوم کرنے کے لئے یہ متعلقہ ڈاکٹر کوآگاہ کرتی ہیں اوراس کے مطابق مریض کودوائی دی جاتی ہے ۔ یہ سب کچھ سن کربھی حضرت رحمة اللہ علیہ نے اپنے خدمت گزاروں کوجو ان کے پاس تیمارداری کی غرض سے موجود تھے ، حکم فرمایاکہ مجھے ایک منٹ کے لئے بھی یہاں رہناپسندنہیں ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اٹھ کربیٹھ گئے اورفرمایاسامان گاڑی میں رکھواورمجھے لے چلو۔ ڈاکٹرصاحب ان کاجلالی انداز دیکھ کرساکت وصامت کھڑے رہے ، اتفاق سے اس وقت حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی بیمارپرسی کے لئے شیخ محمود صاحب ہوشیارپوری ٹمبرمرچنٹ جن کی دکان بانساں والے بازار میں تھی آئے ہوئے تھے ، انہوں نے حضرت کوساتھ لیااوراپنے گھرلے گئے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ وہیں آرام فرمارہے تھے اورڈاکٹرصاحب وہیں آکر آپ کی دیکھ بھال کرتے رہے ۔

وہ لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دئیے

ڈھونڈا تھا آسماں نے جنہیں خان چھان کے

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.