hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آسمان علم و عمل کا درخشندہ ستارہ

آسمان علم و عمل کا درخشندہ ستارہ

مولاناعرفان الحق حقانی

دارالعلوم حقانیہ ، اکوڑہ خٹک

چمن کے تخت پرجس دن تہہ گل کاتجمل تھا

ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی ایک شورتھاغل تھا

جب آئے دن خزاں کچھ نہ تھابجز خارگلشن میں

بتاتا تھا باغبان رو روکریہاں غنچہ تھایہاں گل تھا

موت ایک اٹل حقیقت ہے یہ بسترمرگ پرآئے یامیدان کارزار میں ، محلات میں آئے یاسنگلاخ پہاڑوں میں یاچٹانوں میں دوران علالت آئے یاتندرستی وجوانی میں ، اس نے بہرحال آناہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

”ہرنفس کوموت کاذائقہ چکھناہے ۔”

لیکن خوش قسمت ہیں وہ لوگ جوا س عارضی دنیامیں موت کے آنے سے قبل اپنے مقصدحیات کی تکمیل کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اورحالات کے نشیب وفراز اورزمانے سیپہنچنے والے مصائب وآلام کوخندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں اورنتائج سے بے نیاز ہوکر اپنی منزل کی طرف رواں ہوتے ہیں ۔ تاریخ اصل میں ایسے لوگوں پرفخرکرتی ہے اورایسی عظیم ہستیوں کے اصول ہی آنے والی نسلوں کے لئے مینارہ نورکی حیثیت رکھتے ہیں ۔

آسمان علم و عمل کا درخشندہ ستارہ

مولاناعرفان الحق حقانی

دارالعلوم حقانیہ ، اکوڑہ خٹک

چمن کے تخت پرجس دن تہہ گل کاتجمل تھا

ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی ایک شورتھاغل تھا

جب آئے دن خزاں کچھ نہ تھابجز خارگلشن میں

بتاتا تھا باغبان رو روکریہاں غنچہ تھایہاں گل تھا

موت ایک اٹل حقیقت ہے یہ بسترمرگ پرآئے یامیدان کارزار میں ، محلات میں آئے یاسنگلاخ پہاڑوں میں یاچٹانوں میں دوران علالت آئے یاتندرستی وجوانی میں ، اس نے بہرحال آناہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

”ہرنفس کوموت کاذائقہ چکھناہے ۔”

لیکن خوش قسمت ہیں وہ لوگ جوا س عارضی دنیامیں موت کے آنے سے قبل اپنے مقصدحیات کی تکمیل کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اورحالات کے نشیب وفراز اورزمانے سیپہنچنے والے مصائب وآلام کوخندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں اورنتائج سے بے نیاز ہوکر اپنی منزل کی طرف رواں ہوتے ہیں ۔ تاریخ اصل میں ایسے لوگوں پرفخرکرتی ہے اورایسی عظیم ہستیوں کے اصول ہی آنے والی نسلوں کے لئے مینارہ نورکی حیثیت رکھتے ہیں ۔

بقیة السلف حافظ القرآن والحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ ایسی ہی شخصیتوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے لئے ایک باقاعدہ لائحہ عمل مرتب کیااوراس کی تکمیل کی خاطر آخردم تک اس راستے میں حائل ہونے والی باطل قوتوں سے ٹکراتے رہے ۔ ملت اسلامیہ کی فلاح وبہبود ، معاشرے میں پیداشدہ ناہمواریوں کے خاتمہ کی تڑپ سامراجی اورطاغوتی قوتوں سے نفرت ، ظالموں سے عداوت اورمظلوموں سے محبت ، ترویج واشاعت علوم اسلامیہ یہ وہ اصول تھے جوحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے اپنے پیشواحضرت مولاناخلیفہ غلام محمددین پوری ، حضرت مولاناعبدالہادی دین پوری ، حضرت مولاناعبیداللہ سندھی ، شیخ التفسیر مولانااحمدعلی لاہوری رحمہم اللہ تعالیٰ سے ورثے میں حاصل کیں تھیں ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ آخری سانسوں تک خدمت دین میں منہمک رہے ، اسلامی نظام حیات کی آفرینی پرپختہ یقین تھا، اس لئے ساری عمر اس کے نفاذ کے لئے کوشاں رہے اورقرآن وحدیث کادرس دیتے رہے ۔ بڑھاپے اوربیماری میں آرام وسکون کوملحوظ رکھا، ڈاکٹروحکیم باربار آرام کامشورہ دیتے رہے مگرآپ نے کبھی بھی اس مشورے کوقبول نہ کیا۔ مسلسل جدوجہد میں مصروف آپ رہے اپنی زندگی پاکیزہ نظریہ حیات کے تحت گزاری ۔

بہمہ صفت موصوف :

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بہمہ صفت موصوف ایسے عظیم شخصیت تھے جوکہ اکابر اوراصاغر کے ہاں یکساں محبوب تھے ۔ آپ رحمة اللہ علیہ علم وعمل ، اخلاق وکردار ، تعلیم وتبلیغ، درس وتدریس ، ارشادوہدایت ، زہدوتقویٰ ، سیاست وخطابت غرض ہرمیدان میں رہبرانہ اورقائدانہ حیثیت کے مالک تھے ۔

وَلَیْسَ عَلَی اللّٰہِ بِمُسْتَنْکِرٍ

اَنْ یَّجْمَعُ الْعَالَمُ فِیْ وَاحِدٍ

آپ کی حیات مقدسہ کے درجنوں گوشے ہیں ، جن پرکام کرنے کے لئے ایک مستقل اکیڈمی کی ضرورت ہے جوقائم ہوجائے اورکام کرے توبھی حق ادانہ ہوسکے گا۔

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

ْ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوان کے اسلاف کاعلم وعمل ، زہدوتقویٰ ، تبحراورجامعیت ورثے میں ملی ۔ انہوں نے اس ورثے کواخیردم تک سینے سے لگائے رکھااورجاتے وقت یہ امانت اپنے اخلاف کے سپردکی ۔

اَھِیْمَہ بِلَیْلٰی مَاحَیَّیْتَ وَاِنْ اَمَتَّ

اَوْ کَلْ بِلَیْلٰی مِنْ یّھِیْم بِھَا بَعْدِیْ

داداجان رحمة اللہ علیہ اوردارالعلوم حقانیہ سے گہری محبت:

انہیں مرکزی علم دارالعلوم حقانیہ اورحضرت داداجان شیخ الحدیث مولاناعبدالحق رحمة اللہ علیہ سے گہری محبت تھی ۔ دارالعلوم حقانیہ کے تاسیسی دورسے سالانہ جلسوں میں باوجود ضعفوبیماریوں کے شرکت فرماتے رہے ۔ جامع مسجد دارالعلوم حقانیہ کے سنگ بنیادرکھنے کی تقریب میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ دیگراکابرین کے ہمراہ بنفس نفیس شریک تھے ، ہمیشہ دارالعلوم تشریف لانے کے موقع پرحضرت شیخ الحدیث مولاناعبدالحق رحمة اللہ علیہ ان کاشانداراورپرتپاک استقبال کرتے ۔

وَلِیْ رَاوَلِیْ مِے شَنَاسَدْ

دارالعلوم میں ہمیشہ طلباء کواپنے ارشادات عالیہ سے مستفید فرماتے تھے ۔

انداز تقریر:

راقم کوکئی بارحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے ارشادات عالیہ سے مستفید ہونے کاموقع ملا۔ آپ کی تقاریر کاانداز بالکل نرالااوراچھوتاتھا، اپنے خطبات ومواعظ میں جب حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ تسلسل اورروانی کے ساتھ احادیث مبارکہ پڑھتے چلے جاتے توسامعین پروجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ۔

حافظ الحدیث :

حفظ قرآن کارواج فی زمانناعام ہے لیکن حفظ حدیث ناپید ہے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوعصرحاضرکے علماء میں ایک خصوصی امتیاز حاصل تھاکہ احادیث مبارکہ کاایک بہت بڑاذخیرہ لفظاومتناانہیں ازبرتھا۔ درحقیقت وہ اس شعر کی تصویرتھے ۔

ماہرچہ خواند ایم فراموش کردیم

الاحدیث یار کہ تکرار می کنیم

مساجد اورمدارس کاقیام:

جگہ جگہ مساجد ومدارس دینیہ کاقیام آپ کامحبوب مشغلہ تھا۔ پاکستان میں دینی مدارس کے جال پھیلانے کے لئے قدرت نے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے تجدیدی کام لیا، جہاں تشریف لے جاتے وہاں مسجدومدرسہ بن جاتااوریوں ہزاروں کی تعداد مساجد ومدارس کی شکل میں صدقات جاریات آپ کے نامہ اعمال میں درج ہیں ۔

نمرد آنکہ ماند پس ازوی بجائے

پل و مسجد و خانقاہ ومہمان سرای

تواضع اورطبعی انکساری:

عجزوانکساری آپ رحمة اللہ علیہ میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی ۔ تواضع ان کی فطرت تھی ، جاہ ومرتبہ اورمنصب ومقام پاکر بڑے رتبہ اورمقام پرپہنچ کرمدارس عربیہ کی سرپرستی ، جمعیت علماء اسلام کی امارت ، تحریک ختم نبوت تحریک نظام مصطفی ۖ ، تحریک نفاذ شریعت اوردیگر بیسیوں تحاریک کی قیادت ، علم تفسیر وحدیث میںجلیل القدرامامت پورے عالم میں بے مثال محبوبیت کی بلند ترین منازل پرپہنچنے کے باوجود وہ اپنی زندگی میں آخردم تک بے تکلف اورسادہ تھے ۔ ایسے مقامات پر پہنچ کراچھے اچھے بہک جاتے ہیں ۔

ذراپی کربہک جانایہ کم ظرفوں کاشیوہ ہے

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اپنے بلندمقامات پرپہنچے لیکن نہ توان کی بات چیت میں فرق آیانہ وضع اورلباس میں اورنہ کسی اورچیز میں سوائے اس کے کہ تواضع بڑھتی گئی انابتاورتذلل الی اللہ کی کیفیت روز افزوں تھیں ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوایک نظردیکھ کر اِذَارؤذکراللّٰہ کی کیفیت طاری ہوجات تھی ۔

گفتئہ اوگفتہ اللہ بود:

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ مستجاب الدعوات شخصیت تھے اوراس سلسلے کے سینکڑوں واقعات ہیں جن کوبیان کرناایک مستقل کام ہے ۔ مشت نمونہ خروار ے کے طورپرایک ہی واقعہ ذکرکیاجاتاہے ۔

میرے ماموں مولاناگوہرالرحمن جہانگیری اورمولاناافتخارالحق صدیقی مہتمم دارالعلوم فاروق اعظم ہری پورراوی ہیں کہ ایک دفعہ شعبان کے مہینے میں ہم لوگ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے دورہ تفسیر پڑھنے کی سعادت حاصل کررہے تھے ، سخت گرمی کاموسم تھا، طلباء گرمی کی شدت سے نہایت بے قرار اورنڈھال تھے ، کسی ساتھی نے رقعہ لکھ کر حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے کی خدمت اقدس میںپیش کیاکہ باران رحمت کیلئے دعافرمائیے کیونکہ مزید ہمت وطاقت نہیں توحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے دروس روک کرخوب گڑگراکرباران رحمت کے لئے دعافرمائی ، دعاختم ہونے کی دیرتھی کہ آسمان پرہرطرف سے بادل امڈآئے ۔ حالانکہ قبل از دعاآسمان پربادلوں کانام ونشان بھی نہ تھااورزوروں کی بارش شروع ہوگئی ۔ یہ دعاوہ تھی کہ فورامستجاب ہوگئی۔

گفتہ او گفتہ اللہ بود

گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی پیشین گوئی:

١٩٧٧ء کے الیکشن میں جب اکابرین جمعیت علماء اسلام کے اصرار پرداداجان حضرت شیخ الحدیث مولاناعبدالحق رحمة اللہ علیہ الیکشن لڑرہے تھے ،مقابلہ میں وزیراعلیٰ سرحد نصراللہ خٹک تھا، تمام حکومتی مشینری اورانتظامیہ ان کے اشارہ ابروپرچلتی تھی ،بھٹوکی پالیسی کیمطابق چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو ہرصورت میں کامیاب کرناتھا۔ ابتدائی مراحل میں حضرت داداجان کے کاغذات داخل کرانے اورانہیں ریجیکٹ کرانے میںحکومت کے تمام حربے ناکام رہے مگرپھربھی یہی کہاجاسکتاتھاکہ جس کادست قدرت ہرووٹرکی پرچی پرپہنچتاہو، ووٹ کی پرچیاں اس کی چیرہ دستیوں سے کس طرح محفوظ رہ سکیں گی ۔ اسی دوران مردِ قلندر شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے اورحضرت مولاناسمیع الحق دامت برکاتہم کے کمرہ میں مراقبہ کیااورفرمایاکہ میں نے حضرت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ دارالعلوم حقانیہ تشریف لائے اورحضرت مولاناعبدالحق رحمة اللہ علیہ نے مدمقابل وزیراعلیٰ کوگدھے پرسوار بھاگتے ہوئے دیکھاہے ۔ وہ فرار ہوگیا، گدھے پرسواری ان کے آبائی پیشے خرکاری سے مناسبت تھی ۔

پھرایساہی ہوا، جوحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے پیشین گوئی کی تھی ۔ تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کامیاب تھے اورسرحد کے وزیراعلیٰ بری طرح ناکام رہے ۔ جب بھٹونے ان سے وجہ دریافت کی توکہنے لگے کہ میرامقابلہ تووارث پیغمبرسے تھا، میں ان سے کس طرح جیت سکتاتھا۔ اس طرح حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی پیشین گوئی پوری ہوگئی ، یہ علم وروشنی کاعظیممیناراوردنیائے علم کاآفتاب بالآخر ٢٨اگست ١٩٩٤ء کواس دارِفانی سے دارِبقاکی طرف کوچ کرگیا۔

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی

ایک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خاموش ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.