hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

علم وعرفان کی موت

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃاللہ علیہ

مدیر ماہنامہ بینات کراچی

۱۹ربیع الاول ۱۴۱۵ھ بمطابق ۱۹۹۴ء کو صبح جھ بجے جمعت علماء اسلام کے امیر ،قافلہ سالار حریت،عالم اسلام کی نامور شخصیت ،استاذالاساتذہ ،قائد انقلاب ،تحریک آزادی کے نامور مجاہد

علم وعرفان کی موت

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃاللہ علیہ

مدیر ماہنامہ بینات کراچی

۱۹ربیع الاول ۱۴۱۵ھ بمطابق ۱۹۹۴ء کو صبح جھ بجے جمعت علماء اسلام کے امیر ،قافلہ سالار حریت،عالم اسلام کی نامور شخصیت ،استاذالاساتذہ ،قائد انقلاب ،تحریک آزادی کے نامور مجاہد ،قافلہ ولی الٰلہی کے سرخیل اور جامعہ مخزن العلوم خان پور کے بانی ومدیر اعلی شیخ التفسیر والحدیث حضر ت مولانا عبداللہ درخواستی رحلت فرمائے آخرت ہوئے

انا للہ واناالیہ راجعون

ان لللہ مااخذولہ وما اعطی وکل عندہ باجل مسمی

حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات علم وعرفان کی موت ہے آپ کا سانحہ ارتحال

موت العالم موت العالم

کے مصداق انسانیت کا نقصان ہے ،آپ کی وفات سے جہاں اہل علم حلقے ایک محقق ،مفسر ،محدث اور قادرالکلام خطیب سے محروم ہوگئے ،وہاں ارباب سیاست ایک بہترین قائد او رمنجھے ہوئے سیاستدان اور اہل قلوب ایک عظیم روحانی پیشوا سے محروم ہوگئے حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش محرم الحرام ۱۳۱۳ھ میں خان پور کے قریب درخواست نامی بستی میں مجاہد حریت جناب حافظ محمودالدین کے گھر ہوئی یہاں آپ نے ایک دین دار گھرانے میں مجاہد خاندان میں انکھ کھولی اور زندگی بھر باطل قوتوں سے نبر آزمارہے ۔

حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کو اللہ تعالی نے شروع ہی سے غیر مستوئی زکاوت وذہانت اورقوت حافظہ کی نعمت سے مالا مال فرمایا تھا ۔چنانچہ نہایت ہی کم عمری میں حفظ قرآن کی دولت سے سرفراز ہوکر بہت ہی جلد درس نظامی سے فارغ ہوکر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے اور تاحیات یہ سلسلہ جاری رہا ۔آپ کا کمال یہ تھا کہ آپ قرآن کریم کی طرح احادیث ﷺکے بھی گویا حافظ تھے ۔آپ کو اس کثرت سے احادیث مبارکہ یاد تھیں کہ حافظ الحدیث آپ کے نام کا حصہ بن گیا تھا

آپ کو قرآن اور علوم قرآن سے عشق کے درجہ میں والہانہ تعلق تھا ۔چنانچہ آپ کا معمول تھا کہ ہر سال آپ شعبان رمضان میں ایک خاص انداز سے تفسیر قرآن پڑھاتے ،جس میں شرکت کے لئے دورونذدیک کے علماء وطلباء اور ہر طبقہ کے لوگ بھر پور شرکت کرتے ۔چنانچہ پاکستان ،ہندوستان ،بنگلہ دیش،برما ،سعودی عرب ،جنوبی افریقہ ،عرب امارات وغیرہ تک آپ کے تلامذۃ کا ایک وسیع حلقہ ہے اور آپ کے تلامذۃ میں سے بیشتر حضرات آپ کے اسلوب میں اپنے اپنے علاقہ میں اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں

بلامبالغہ آ پ شعبان رمضان میں چار سے چھ گھنٹے تک بلا تکان مسلسل ایک نشست پر بیٹھ کر درس قرآن دیتے اور ذرہ بھر بھی کسی اکتاہٹ اور بوریت کا احساس نہ ہوتا

آپ جہاں بلند پایہ مفسر اور عظیم منجھے ہوئے سیاستدان تھے وہاں آپ کو اللہ تعالی نے فن خطابت می کمال درجہ کی دسترس عطاء فرمائی تھی ۔آپ کا خطاب احادیث نبوی ﷺسے معمور،قرآنی آیات سے مزین ،نہایت شفقت ومحبت کا پیغام ہوتا ۔اس اعتبار سے آُپ نے مسلک حقہ علماء دیوبند کی خدمت ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا ۔محض اسی جرم کی پاداش میں کئی بار آپ پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کے مصداق ہمیشہ محفوظ رہے ۔آپ نے خان پور شہر میں جامعہ مخزن العلوم کے نام سے ایک بہترین اور معیاری درسگاہ کی داغ بیل ڈالی اور تادم آخر آپ اس کے مہتمم اور شیخ الحدیث رہے ۔آپ کے علم وفہم اور درس وتدریس کا پوری دنیا میں شہرہ تھا آپ کے علوم ومعارف فہم وفراست تقوی تدین کی دنیا معترف تھی ۔آپ کی شخصیت علمی حلقوں میں مسلمہ اورمتفق علیہ تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ۱۹۶۲ء سے آپ جمعیت علماء اسلام کے تقریبا ۳۲سال سے امیر چلے آرہے تھے ۔

کے درخشندہ ستارے ،علم وعرفان کے بحر بیکراں ،زہدوتقوی کی تصویر مجسم ،غزالی ورازی کے خوشہ چین ،اسلاف کے علوم ومعارف کے امین ،حضرت مولانا مفتی محمودرحمتہ اللہ علیہ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ،شیخ الحدیث حضر ت مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک ،حضرت مولانا محمد عبداللہ شجاع آبادی ،حضرت مولانا محمد حبیب اللہ گمانوی رحمہم اللہ تعالی جیسے اکابرین نے جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر کام کیا ہے ۔

آپ کو سیاسی اعتبار سے اگر حضرت شیخ الہند مولانا مفتی محمود الحسن رحمتہ اللہ علیہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی نیابت حاصل تھی تو آپ روحانی اعتبار سے سلسلہ قادریہ کے مشائخ میں سے حضرت اقدس مولانا محمد عبدالہادی دین پوری قدس سرہ کے خلیفہ مجاز تھے

آپ نے تحریک ختم نبوت ۱۰۵۳،۱۹۷۴اور تحریک نظام مصطفی میں قائدانہ کردار ادا کیا ۔بارہا آپ کو پاپند سلاسل کیا گیا ،آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں مگر آپ نے ہمیشہ

افضل الجہاد کلمتہ حق عند سلطان جابر

کی سچی تصویر کا نمونہ پیش فرمایا

آپ کی وفات ہم سب بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ نقصان ہے ۔اللہ تعالی حضرت والا کو کروٹ کروٹ رحمتوں سے سرفراز فرمائے اور پسماندگان اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.