hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

قبرمیں کشادگی ، جنت کی وسعتوں کاپیش خیمہ:

محبت کایہی درد تھا، عشق ومستی کی یہی تپش تھی جوحرزِجاں بن چکی تھی ، احادیث پڑھتے اورقرآن سنتے رہتے ، اسی حال میں قبرکی گود میں چلے گئے ۔ کہتے ہیں کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ، پہلی منزل جس کے لئے آسان ہوگئی اس کاقیامت تک ساراسفر آسان ہوگیا۔ حضرت سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایک وصیت یہ بھی فرمائی تھی کہ میرے لئے لمبی چوڑی قبرنہ کھدوائی جائے ،اگرمیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مستحق رحمت ہوں تواز خود میری قبرتاحد نگاہ وسیع ہوجائے گی اوراگرمستحق رحمت نہیں ہوں توقبر کی وسعت میرے عذاب کی تنگی کودورنہیں کرسکتی ۔ خانپور کے نواح میں دین پورکی بستی دین والوں اوراللہ والوں کی بسائی ہوئی بستی ہے ۔

دین پورشریف کاگورستان وہ گنج عالی منزلت ہے کہ جس کی خاک میں سلسلہ قادریہ کے امام الاولیاء حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ ، امام انقلاب مولاناعبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ ،مولانالعل حسین اختررحمة اللہ علیہ ، مولاناعبدالشکوردین پوری رحمة اللہ علیہ جیسی ہستیاں آسودئہ خواب ہیں ۔ صاحبزادہ مولاناعبدالرحمن درخواستی نے بتایاکہ دوقبروں کے درمیان حضرت رحمة اللہ علیہ کے لئے جب ہم نے قبرکھودی توجگہ تنگ محسوس ہورہی تھی ، مٹھیاں بندکرکے دونوں ہاتھوں کوملاکربتارہے تھے کہ بس تین ہاتھ چوڑی قبرتھی ، لیکن جب ہم نیاشکبارآنکھوں اوردل پرغم کے ساتھ اس آشنائے حق اورواقف اسرار موت وحیات ہستی کوقبرمیں اتارتوقبر پانچ ہاتھ وسیع نظرآرہی تھی ۔ درحقیقت یہ صلہ جاودانہ ہے قبروالے کی اس جدوجہد کاجس نے ارض الہٰی کوہزاروں میل کی وسعتوں تک ذکرالہٰی اوراعلاء کلمة الحق کے زمزموں سے بھردیاتھا۔ ان کے لئے قبرتنگ کیوں رہتی ، قبرکی وسعت پیش خیمہ ہے جنت کی ان وسعتوں کاجوخدائے ارحم الراحمین نے اپنے بندوں ، اپنے محبوب ۖ کے چاہنے والوں کے لئے تیارکررکھی ہے ۔

ایک طائر قدسی صفات خاموش ہوگیا، اس کی ندائے سحراب کبھی سنائی نہ دے گی ۔ ایک کھلی کتاب تھی جوبندہوگئی ، اب اس کامطالعہ کوئی نہ کرسکے گا۔ مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کاداغ رحلت اورغم جدائی صرف ان کے آٹھ بیٹوں ،ایک بیوہ ، پوتوں ، نواسوں قریبادوسوافراد پرمشتمل درخواستی خاندان کے افرادہی کونہیں سہناپڑا بلکہ دینی جماعتوں کے تمام کارکن ، مدارس وجامعات کے ہزاروں طلباء واساتذہ اورکیماڑی کے ساحل سے لے کرگلگت وچترال تک پھیلے ہوئے ان کے لاکھوں عقیدت منداوردیگرممالک میں اہیں جاننے اورپہچاننے والاہرکوئی دل گرفتہ وغم زدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ سب کوصبر بالاجر عطافرمائے اورحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی روح کوارواح مقدسہ کے ساتھ جمع کردے ۔ جن کے ساتھ انہیں بیرتھا۔

کوئی آگیا ہے ادھر سے نکل کر

قیامت تھی، رفتار کیا تھی

ہزاروں کلیجے کو تھامے ہوئے ہیں

الہٰی وہ چشم فسوں کار کیا تھی

لیا مغفرت نے تڑپ کر بغل میں

کرامت و عزت سالار کیا تھی

Leave A Reply

Your email address will not be published.