hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

جنگ آزادی کے مجاہد علماء کی آخری یادگار:

ویسے توکوئی بھی شمع بجھتی ہے تودھواں اٹھتاہے ، اندھیرابڑھتاہے مگرکوئی عالم ربانی اورمرشد روحانی دنیاسے اٹھ جائے توخانقاہیں مضطرب اوردرسگاہیں اداس ہوجایاکرتی ہیں ۔ جبکہ حضرت مولانا محمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ استاذ العلماء اورامیرالعلماء تھے وہ نصف صدی سے قبل کے قافلہ علماء وصلحاء واکابرین وملت میں سے تھے ، ناموس صحابہ کے دفاعی علوم کے عصرحاضر میں بڑے عالم جوبذاتِ خود یادگار اسلاف ہیں حضرت مولانا علامہ عبدالستارتونسوی دامت برکاتہم العالیہ نے سچ فرمایاکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ موجودہ دور کے علماء میں سے نہیں تھے ، وہ مجاہد ملت مولاناغلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ اورمفکر اسلام ، مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ کے عہدے کے آدمی نہیں تھے ، بلکہ امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ اورشیخ التفسیر حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ جیسے اکابر حضرات ان کے ہم عصر تھے کہ جنہوں نے برطانوی سامراج کے عہد تسلط میں امام انقلاب حضرت مولاناعبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ اورشیخ الہند مولانامحمود الحسن رحمة اللہ علیہ کے زیر قیادت آزادی کی جنگ لڑی اوراسلام کے خلاف اٹھنے والے ہرفتنے خصوصاًعیسائیت کی انگریزوں کی سرپرستی میں ارتدادی مہم جوئی ، قادیانیت ، مغرب زدگی اوربدعات وتوہم پرستی سے مسلمانوں کوبچانے کے لئے دم واپسیں تک برسرپیکار رہے ۔ جانے والوں کی یادآتی توکبھی کبھی حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ خود فرمایاکرتے تھے ۔

”میں تواپنے ساتھیوں کی ڈار سے بچھڑی ہوئی ایک کونج ہوں ”

Leave A Reply

Your email address will not be published.