hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

تفسیر قرآن کی تدریس کاشوق وانہماک:

حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی ایک متبحر عالم دین ، کہنہ مشق استاد اوراسلام کے انتھک بے خوف اورنڈر مبلغ ومجاہد تھے ، شعبان اوررمضان کے دنوں میں ان کادورہ تفسیرشہرہ آفاق ہوتاتھا ، ملک کے دوردراز علاقوں کے علاوہ بنگلہ دیش ، برما، ہندوستان ایران، افغانستان ،شام ، عراق ، کویت ، سعودی عرب تک سے تشنگان علوم اسلام ان کے دروس میں شرکت کے لئے رخت سفرباندھاکرتے تھے ۔ جامعة العلوم الاسلامیہ نبوری ٹائون کے شیخ ورئیس اورماہر تعلیم مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر فرماتے ہیں کہ اس دور میں گزشتہ زندگی کی جدید آسائشیں میسرنہیں تھیں ، کمرے ٹھنڈے کرنے والے کولر اورائرکنڈیشنز وغیرہ کاتصور تک نہیں تھالیکن مخزن العلوم خانپور میںشائقین علم ڈیرے ڈالے رہتے ، شدید گرمی اورتپتے ہوئے موسم میں بھی حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سارادن تفسیرقرآن کی تدریس کاسلسلہ جاری رکھتے ۔ پانچ چھ گھنٹے تک مسلسل بیٹھ کر پڑھاتے مگرحدیث نبوی علی صاحبہاالصلوٰة والسّلام کے ادب کوملحوظ رکھتے ہوئے پہلوتک نہ بدلتے ۔ جون جولائی کے مہینوں میں جب دھوپ کی تمازت ناقابل برداشت ہوجاتی توپانی میں کپڑابھگوکر حضرت رحمة اللہ علیہ اپنے سراورشانوں پراوڑھ لیتے اورہماراکوئی ہم سبق ساتھی یاحضرت رحمة اللہ علیہ کاخادم کھڑاہوکر ہاتھ سے پنکھاجھلتارہتااورحضرت رحمة اللہ علیہ پڑھاتے رہتے ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کے صاحبزادگان میں مولاناعبدالرحمن اورمولاناعطاء الرحمن نے بتایاکہ ہماراگھر مدرسہ سے دوکلومیٹرکے فاصلے پرہے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ گھرسے متصل مکی مسجد میںنمازفجر خود پڑھاتے ۔ نماز کے بعد عامة الناس کے لئے قرآن کریم کادرس دیتے اوردن چڑھتے ہی مدرسہ مخزن العلوم تشریف لے جاتے ۔ سارادن وہاں تعلیم وتدریس میں مصروف رہ کر نماز عصرکے بعد وہاں سے واپس تشریف لاتے اورمغرب وعشاء کی نماز گھرکے قریب مکی مسجد میں ہی ادافرماتے ۔ جماعت کی امامت خود فرماتے ، پچیس تیس برس تک حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کایہی معمول رہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.