hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

تاج قیادت زیباہے تیرے سرپر:

٢٣فروری ١٩٦٢ء میں جب شیخ التفسیر حضر ت مولانا احمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ کاانتقال ہوگیا توسوال پیداہواکہ اب جمعیت علماء اسلام کی امارت وقیادت کابوجھ کس کے کاندھوں پررکھاجائے َ اس ذمہ داری کوکون نبھاسکتاہے ؟وہ کون ہے کہ جس کاوجود مایہ ناز ہو، جس کی فراست ایمانی نور الہٰی سے مستنیر ہوکہ اس کے سرپرتاج قیادت رکھاجائے توملک بھرکے اہل حق کی نظریں اس کے علمی مرتبہ اورروحانی مقام کی بلندیوں کونگاہیں اوپر اٹھاکردیکھیں ، ایک بڑااجتماع منعقدہوا، جس میں انتخاب امیرکے لئے اصولی بحث ہوئی اورہرکسی نے اپنے اپنے دلائل پیش کئے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے فرزند اکبرجانشین حافظ الحدیث حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم العالیہ بیان فرماتے ہیں کہ

علماء کے اس جلیل القدرمجمع میں محدث کبیر حضرت علامہ یوسف بنوری قدس سرہ نے جمعیت علماء اسلام کے منصب امارت کے لئے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی حمایت کی اورانہیں امیر منتخب کرنے کے لئے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ

جمعیت علماء اسلام کے امیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ تھے ، اب ان کے بعد وہی شخص اس منصب اعلیٰ کااہل ہوسکتاہے جوحضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ جیسی کچھ خصوصیات ، صفات وکمال کاحامل ہو، میرے نزدیک حضرت مولانا محمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ سے زیادہ اوردوسراکوئی شخص حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی نسبت حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ سے تھی اورحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی نسبت بھی حضرت دین پوری رحمة اللہ علیہ سے ہے ، علمی اورتدریسی مرتبہ کے لحاظ سے حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ دورہ تفسیر پڑھایاکرتے تھے جبکہ مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ بھی دورہ تفسیرقرآن پڑھاتے ہیں ۔ آپ رحمة اللہ علیہ نے فرمایاظاہری شکل ووجاہت کے اعتبارسے مولانااحمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ کے بعد جمعیت کے سربراہ بننے کے لائق اورمستحق حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ہیں اوروہ حافظ الحدیث بھی ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.