hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

عہدپیروی میں حوصلوں کاشباب:

١٩٦٤ء میں جب ملک بھر کے علماء نے قیادت ورہنمائی کابارِگراں ان کے ضعیف کندھوں پر ڈالاتواس وقت حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی عمر ستّر سال تھی مگردنیانے دیکھاکہ یہ بوڑھا جرنیل پھرکبھی چین سے نہیںبیٹھا۔ جب ملک میں جمعیت علماء اسلام کے نائب امیرمولانامفتی محمود اورسیکرٹری جنرل مولاناغلام غوث ہزاروی رحمہمااللہ کی سیاست کاسورج نصف النہار پرتھا، جمعیت علماء اسلام ایک صحیح سالم جماعت تھی ، متحدہ پاکستان کے دونوں حصوں مشرقی اورمغربی پاکستان کے شہروں اورقصبوں میںعوامی رابطے کے جلسے اورکانفرنسیں منعقد کی جاتی تھیں ہرجگہ نمازِعشاء کے بعد پہلے تلاوت قرآن کریم ، نعتیں اورنظمیں پڑھی جاتیں بعدازاں جمعیت کے مقامی زعماء کرام اپنی خطابت کے جوہر دکھاتے ، پھرحضرت مفتی صاحب رحمة اللہ علیہ کامفکرانہ خطاب ہوتا ، ان کے بعدمولاناہزاروی رحمة اللہ علیہ کی تقریر کاطوفان خس وخاشاک کی طرح اڑاکر لیجاتااورسب مقررین کے بعدجب رات انگڑائی لے کراپنے وجود پرکھڑی ہوجاتی توامیرجمعیت حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی تقریر کاآغازہوتا۔ آپ رحمة اللہ علیہ کے بیان میں نہ کوئی سیاسی ہیر پھیر ، نہ کسی کے بیان پرتبصرہ ہوتا، نہ فلسفیانہ مسجع وتراشید ہ فقرے ہوتے ، نہ شاعرانہ قافیہ بندی ہوتی ، کسی پرطعن نہ کسی پرطنز، بس سوز وگداز میں ڈوبی ہوئی ایک آواز جوئے آب کی مانند رواں ہوتی کہ جس کوسننے والے ، بولنے والے کے خلوص وللہیت سے فیض یاب ہوتے ، حدیث نبوی ۖ کے ترانوں سے روحیں مخمورہوجاتیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جاں نثاری وفاداری کاتذکرہ فرماتے تودلوں کی دنیاتہہ وبالاہوجاتی ، بزرگوں اوراکابر علماء وصلحاء کاموضوع چھیڑدیتے توسامعین ماضی کی بابندہ یادوں میںکھوجاتے ، جب رات کاآخری پہرہوتا توحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کچھ یوں فرمانے لگتے :

”مزدورکوکومزدوری آخرمیں ملاکرتی ہے ، رحمت کادریاموج میں ہے ، یہ تہجد کا

وقت ہے ، شان والے نبی ۖ بھی اس وقت اپنے رب کے سامنے دست بستہ

کھڑے ہوتے تھے ، جھولیاں پھیلاکربیٹھو، یہ مانگنے کاوقت ہے ، مانگنے والے

سے رب راضی ہوتاہے ، اس رب کے خزانوں میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی ، اس کے

دروازے سے مانگنے والاکبھی خالی نہیں جاتا۔

پھردعاشروع ہوجاتی مگران کی دعاایک تقریر ہوتی اورتقریر دعاہواکرتی تھی ۔ فجرکی نماز کے بعد کہیں درسِ قرآن دیتے ، دن میں سفر کرتے ، بعدظہر پھرکہیں جلسہ، پھرسفر، رات کوپھر پروگرام ، سیاسی امورپرزیادہ گفتگونہ فرماتے مگرجب بات کرتے توبنیادی اصولوں کی نپی تلی بات کرتے ۔ صحافیوں کوانٹرویودینے سے دلچسپی نہ رکھتے تھے ۔

صدرایوب خان مرحوم کے نافذ کردہ غیرشرعی عائلی قوانین کے خلاف احتجاجی تحریک میں اور١٩٥٣ء پھر ١٩٧٤ء کی تحفظ ختم نبوت کی تحریکیوں اور١٩٧٧ء کی تحریک نظامِ مصطفی میں سرگرمی سے حصہ لیااوراپنی جماعت کوجدوجہد اورقربانی میں کسی سے پیچھے نہیں رہنے دیا۔ وہ دین وملت اورعوام پرمظالم ڈھانے والوں کے خلاف ہمیشہ برسرِپیکاررہے ۔ ١٩٦٨ء میںلاہور میں جانشین شیخ التفسیر حضرت مولاناعبیداللہ انوررحمة اللہ علیہ اوران کے رفقاء کوجب پولیس نے جمعة الوداع کے موقع پرتشدد کانشانہ بنایااورروزہ دارنمازیوں پربے تحاشا لاٹھی چارج کیاتومعادوسرے ہی جمعہ حضرت درخواستی نے لاہور پہنچ کر اسی جگہ ایوبی آمریت کے خلاف جلوس کی قیادت کی اورتقریر میں ایوب خانی مطلع العنانی اورکبروغرور کوچیلنج کرتے ہوئے فرمایا۔

”گزشتہ جمعہ تم نے نمازیوں پرمظالم کے پہاڑ توڑے ، اس دن عبیداللہ تھے ، آج

عبداللہ آیا ہے ، بلائو ان پولیس افسروں کوہم بھی وہی جرم کررہے ہیں جوپچھلے

جمعہ کیاگیا ، آئو ہمت ہے تولاٹھی چارج آج کرکے دیکھو۔

یہ وہ دن تھاجب لوگوں نے پہلی مرتبہ جمال کوجلال میںبدلا ہوادیکھا ،پھرصدر ایوب خان مرحوم نے معافی مانگ لی تھی مگران کے دس سالہ جبری اورغاصبانہ اقتدار کاسورج اہل حق پرڈھائے جانے والے انہی مظالم کی تاریک گھٹائوں کی اوٹ آخرکار غروب ہوگیا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اتنی لمبی عمر میںبھی کبھی کسی حاکم وقت کے دروازے پرنہیں گئے ، نہ کسی سے راہ ومراسم رکھے مگرجب وہ دنیا سے گئے تومیں نے دیکھاکہ خانپور میں حضرت رحمة اللہ علیہ کے فرزندگان سے اظہار تعزیت کے لئے ملک کاسربراہ خود ان کے دروازے پرکھڑاتھا۔

آپ وہ بے ریاشخصیت تھے کہ جنہوں نے اپنی شہرت کے لئے کبھی کوشش نہیں کی ، نہ اس کی تمناکی ، ان کی تمام تر سادگی اورتگ ودو محض دین کی شہرت واشاعت اتباع نبی ۖ اورجادئہ توحید کافیضان عام کرنے کے لئے تھی ۔ جب وہ جانے لگے تولوگ آغئے ، انسانوں کاسیلاب امڈآیا، خانپور شہر کے کوچہ وبازاردین پورشریف کی خانقاہ تک کے تمام راستوں کوپہلی مرتبہ اپنی تنگ دامانی کااحساس ہوا، انتابڑاہجوم خانپور کی تاریخ نے کبھی نہ دیکھاتھا، جن لوگوں نے دیکھاتھا، جن لوگوں نے دیکھاہے ان کاخیال ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے جنازے کے بعدملکی تاریخ کایہ سب سے بڑاجنازہ تھالیکن اس دنیاسے اٹھنے والایہ جنازہ سربراہ حکومت ومملکت کانہیں ، کسی گورنر وامیر ووزیر کانہیں ، ایک فقیر منش اوردرویش عالم ربانی کاجنازہ تھا، ہرجانے والے کی نماز جنازہ میں شریک ہوکراس کے لئے دعاکی جاتی ہے کہ اس کی مغفرت ہوجائے ، مگراس جنازے میں قوم اس لئے بھاگتی ہوئی آئی تھی کہ کہ ان کی نیکی قبول ہوجائے اوران کی بھی بخشش ہوجائے ۔ اس اجتماع جنازہ میں ایسے گمنام خدارسیدہ عارفان حق بھی تھے کہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.