hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آخری لمحات”کلمہ ہے تیراپاک ،توسب سے بڑاہے ”:

١٩/ربیع الاول/٢٨اگست کودنیاکاسورج افق مشرق سے جوں جوں بلندہورہاتھا، ادھرعلم وعمل اورجہدمسلسل کایہ آفتاب عالمتاب جوایک سوتین سال قبل بستی درخواست کے خوش بخت اورخداپرست مجاہد آزادی حافظ محمود الدین کے گھر میں طلوع ہواتھا اورساری زندگی دلوں کی بستیوں کواپنی ضیاء پاشیوں سے منور کرتارہا، آج غروب ہونے کے لئے آہستہ آہستہ اپنے مغرب دین پور کے قریب ہورہاتھا، صبح تقریباًپونے سات بجے چائے کی آدھی پیالی نوش کی اورطبیعت بگڑگئی ،معالج کوبلانے کی کوشش کی گئی لیکن پاس بیٹھنے والوں سے فرمایارہنے دواب ضرورت نہیں ہے ، سب پڑھو۔

لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ ،لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ

لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ ،لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ

کچھ دیر ذکر الہٰی جاری رہاپھرآواز بندہوگئی مگرلب ہلتے رہے ، پھرآخری ہچکی کے ساتھ ایک آواز بلندہوئی ”اللہ ”اورجاں بحق تسلیم ہوگئے ۔

دل کے ظرف میں ماسوی اللہ کے ہرچیز کی نفی ہوچکی تھی ، فرشتہ اجل نے اوپرسے آئی روح کوواپس لے جانے کے لئے بہشتی طشت میں ظرف کوانڈیلاتواس میں جوتھاوہ سامنے آگیا۔

لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ

یہ وہ جوہرگرانمایہ تھاجوروز محشر جب نفسانفسی کاعالم ہوگاکام آئے گا۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں شفیع عاصیاں ۖکاارشاد ہے کہ قیامت کے دن میری شفاعت کاسب سے پہلے اورزیادہ وہ شخص اہل ہوگاجوخلوص قلب اورروح کی صفائی کے ساتھ لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ پڑھے ۔ جبکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کاتوسرمایہ حیات اورغذائے روح ”سب کہوسبحان اللہ ، الحمدللہ ،اللہ اکبر،لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ ”کے چارکلمات مقدسہ ومطہرہ ہی تھے ، خلوت وجلوت میں ان کایہی وظیفہ تھا، لاکھوں انسان گواہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر اوروعظ میں انہی پاکیزہ ارفع کلمات کاورد سامعین سے بھی باربار کروایاکرتے تھے اورجاتے وقت بھی ان کی روح نے لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کاپھریرالہراتے ہوئے پرواز کی ۔ اللھم اغفرہ اللھم الرحمہ

رب ذوالجلال نے انہیں آج کے دور کے انسانوں کی اوسط عمرسے نسبتاً طویل عمرعطافرمائی مگرانہوں نے اپنی زندگی کاایک ایک لمحہ یاد الہٰی ، اشاعت دین اورقرآن وحدیث کی تدریس وتعلیم کے لئے وقف کررکھاتھا۔ پاکستان کاکوئی چھوٹا یابڑاشہر اورقصبہ نہیں جہاں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ وعظ ونصیحت کے لئے نہ پہنچے ہوں ۔ ایک انداز ے کے مطابق ان کے تلامذہ اورعقیدت مندوں کی وساطت سے اندرون وبیرون ملک جن دینی مدارس، مکاتب اورجامعیت کاقیام عمل میں آیاان کی تعداد پانچ سوسے زیادہ ہے ، جبکہ چارہزار کے قریب دینی تعلیمی اداروں کی آپ سرپرستی فرمارہے تھے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے قرآن کریم کی تفسیر پڑھنے والے علماء کی تعداد پچاس ہزارسے زائد بیان کی جاتی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.