hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

جن کودیکھ کررب یاد آئے

جن کودیکھ کررب یاد آئے

پروفیسر ڈاکٹر حافظ احمدخان ، اسلام آباد

شوال المکرم ١٩٦٢ ء ی دوپہرتھی ، میں اپنے شفیق چچااورمحترم استاد حافظ شیرمحمد رحمة اللہ علیہ کی معیت میں خان پورپہنچا۔ مدرسہ مخزن العلوم خانپورپہنچ کرمعلوم ہواکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ دین پورکالونی میں اپنے گھر تشریف فرماہیں ۔ چونکہ مدرسہ کے داخلے کاوقت گزرچکاتھا، اس لئے حضرت رحمة اللہ علیہ کی اجازت کے بغیرداخلہ ملناناممکن تھا۔ لہٰذا ہم نمازعصر سے پہلے مکی مسجد پہنچ چکے تھے ، نماز کھڑی ہونے میں ابھی چند منٹ باقی تھے کہ ایک نورانی چہرہ کھلی آستین کاکرتا، تہبند زیب تن کئے ، سرپردستار باندھے ، ایک بڑی چادر اوڑھے ہوئے اورہاتھ میں عصالئے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے مکبرنے تکبیر پڑھی اورنماز عصر مکمل ہوئی ۔ نماز کے بعد مسجد کے برآمدے میں حضرت تشریف لائے جہاں ایک سادہ ساگدااورتکیہ لگاہواتھا، تمام حاضرین حضرت سے مصافحہ کرتے رہے ہم نے بھی مصافحہ کیااوربیٹھ گئے ،کچھ لوگوں نے حضرت کابدن دباناشروع کیا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اس وقت نیم دراز ٹیک لگائے تشریف فرماتھے ۔

 

 

جن کودیکھ کررب یاد آئے

پروفیسر ڈاکٹر حافظ احمدخان ، اسلام آباد

شوال المکرم ١٩٦٢ ء ی دوپہرتھی ، میں اپنے شفیق چچااورمحترم استاد حافظ شیرمحمد رحمة اللہ علیہ کی معیت میں خان پورپہنچا۔ مدرسہ مخزن العلوم خانپورپہنچ کرمعلوم ہواکہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ دین پورکالونی میں اپنے گھر تشریف فرماہیں ۔ چونکہ مدرسہ کے داخلے کاوقت گزرچکاتھا، اس لئے حضرت رحمة اللہ علیہ کی اجازت کے بغیرداخلہ ملناناممکن تھا۔ لہٰذا ہم نمازعصر سے پہلے مکی مسجد پہنچ چکے تھے ، نماز کھڑی ہونے میں ابھی چند منٹ باقی تھے کہ ایک نورانی چہرہ کھلی آستین کاکرتا، تہبند زیب تن کئے ، سرپردستار باندھے ، ایک بڑی چادر اوڑھے ہوئے اورہاتھ میں عصالئے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے مکبرنے تکبیر پڑھی اورنماز عصر مکمل ہوئی ۔ نماز کے بعد مسجد کے برآمدے میں حضرت تشریف لائے جہاں ایک سادہ ساگدااورتکیہ لگاہواتھا، تمام حاضرین حضرت سے مصافحہ کرتے رہے ہم نے بھی مصافحہ کیااوربیٹھ گئے ،کچھ لوگوں نے حضرت کابدن دباناشروع کیا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اس وقت نیم دراز ٹیک لگائے تشریف فرماتھے ۔

درمیان قد، متبسم چہرہ ، آنکھوں میں عجیب قسم کی نورانیت بھری روشنی ایک جاذب نظر شخصیت ہمارے سامنے تھی ۔ چنانچہ پہلی ہی ملاقات میں اجنبیت اپنائیت میں تبدیل ہوگئی ۔ دل نے چاہا کہ ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوجاؤں جوبدن دبانے کی سعادت حاصل کررہے ہیں ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ لوگوں سے انتہائی شفقت آمیز لہجے میں خیریت دریافت فرمارہے تھے ، مجمع میں جگہ تلاش کرتے ہوئے میں آگے بڑھااوران کے قدموں کودباتے ہوئے مجھے کتنی دلی طمانیت نصیب ہوئی ۔

شیخ التفسیرحافظ القرآن والحدیث حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی شخصیت سے میں اتنامتاثرہوچکاتھاکہ میرے دل سے دعانکلی کہ ”اللہ کرے مجھے داخلہ کی اجازت مرحمت فرمائیں اورمجھے اس ولی کامل کی رفاقت نصیب ہوجائے ۔”کم سنی اورناسمجھی کازمانہ تھا، مجھے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے علمی مرتبہ اورفضل وکمال کاکچھ اندازہ نہ تھامگران کی دل آویز شخصیت دل میں گھرکرگئی ۔ معاًحضرت رحمة اللہ علیہ نے میری طرف توجہ فرمائی اورپوچھا ، تمہارانام کیاہے ؟ کہاں سے آئے ہو ؟ جواباًعرض کیا، میرانام حافظ احمدخان ہے ، میں نوشہرہ فیروز سندھ سے حاضر ہواہوں ۔ مدرسے میں داخلہ کامتمنی ہوں ۔حضرت نے فرمایایہ ”خان ”کیاہوتاہے ، اپنانام ”حافظ احمدعلی ”رکھو ۔ جاؤناظم صاحب سے کہہ دو کہ داخلہ دے دیں ۔ یہ سن کرمیری خوشی کی انتہاء نہ رہی ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا، ساتھ کون ہیں ؟ میں نے عرض کیاچچاصاحب میرے ساتھ ہیں۔ پھران سے بھی خیریت معلوم کی ۔ جب چچاجان نے بتایاکہ میں سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں گوٹھ حاجی احمدخان بوھیوکے مدرسہ میں بچوں کوقرآن مجیدحفظ کراتاہوں تویہ سن کرحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بے حد خوش ہوئے ۔ آپ رحمة اللہ علیہ فرمایاکرتے تھے کہ یہ مسجدیں ہماری مسجدیں ہیں، سب مدرسے ہمارے مدرسے ہیں ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ تبلیغ کے سلسلہ میں جہاں جہاں تشریف لے جاتے وہاں مسجداورمدرسے کی تعمیر کاشوق دلاتے ، خودبھی سرپرستی فرماتے اوردوسروں کوبھی متوجہ فرماتے ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کامعمول تھاجب کوئی ساتھ اپنے علاقے میں آنے کی دعوت دیتاتوآپ اس سے معلوم کرتے کہ آپ کے علاقہ میں مسجدہے؟ وہاں بچوں کوقرآن مجید کی تعلیم دی جاتی ہے ؟ اگرپہلے سے مسجدومدرسہ نہ ہوتاتوآپ ہی اسی شرط پردعوت قبول فرماتے کہ پہلے مسجد ومدرسہ کی جگہ مخصوص کروپھرمیں آؤں گا۔ اس کے بعدآپ وہاں تشریف لے جاتے ، مسجد ومدرسہ کاافتتاح فرماتے اوربے حد خوش ہوتے ۔ انہیں آباد رکھنے کی تلقین فرماتے اورارشاد فرماتے کہ

”مسجدیں بہشتی باغ ہیں اورمدرسے محمدباغ ہیں ۔”

شیخ التفسیر حضرت مولانااحمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ سے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے قلبی لگاؤاورروحانی تعلق کی بدولت نوشہرہ فیروز سندھ سے چلنے والاحافظ احمد خان مخزن العلوم کے داخلہ ریکارڈ کے مطابق اب حافظ احمدعلی بن چکاتھا۔ مدرسہ کے اساتذہ اورساتھیوں کے ہاں اب بھی وہی نام مستعمل ہے ، مجھے خود بھی اسی نام سے پکاراجانابے حدپسندہے کیونکہ ایک ولی کامل کی پسند اورایک ولی کامل کاتجویز کردہ نام ہے ۔ میرے اسکول کے ریکارڈ اورتعلیمی اسناد پرچونکہ یہی نام ہے اس لئے ملازمت کے لئے ریکارڈ میں بھی احمدخان ہی چل رہاہے ۔ تعلیمی سلسلہ شروع ہوئے ہفتہ بھرگزراہوگاکہ مدرسہ کے ایک طالب علم جمال الدین بنگالی میرے پاس آئے اوربتایا کہ حضرت رحمة اللہ علیہ بلارہے ہیں ۔حضرت رحمة اللہ علیہ اپنے کمرے میں فرش پربچھے ہوئے گدے پرتکئے سے ٹیک لگائے بخاری شریف کامطالعہ فرمارہے تھے ۔ میں نے سلام عرض کیا ، جواباًفرمایاکہ ان کومولاناعبدالواسع رحمة اللہ علیہ کے پاس لے جاؤ اوران سے کہوکہ ان کودعالکھناسکھادیں ۔

حضرت مولاناعبدالواسع رحمة اللہ علیہ مدرسہ میں شعبہ فارسی کے استاد اوربہت اچھے خطاط تھے ۔ دعائیں لکھنے کی سعادت انہیں کوحاصل تھی ، ایک نوعمر لڑکے کے بارے میں حضرت رحمة اللہ علیہ کایہ پیغام سن کر انہیں حیرت ہوئی اورسوال کیاکہ تم کس پیرصاحب کے بیٹے ہو؟تمہاراتعلق کس خانقاہ سے ہے ، یہاں توعلماء اس سعادت کے منتظرہیں ، آپ کواجازت کیسے مل گئی ؟ میں خاموش رہا، میرے پاس ان سوالات کے جوابات نہ تھے ۔ خیرقلم دوات لانے کاحکم ہوااورمیں بحمداللہ متعلم ہونے کے ساتھ ساتھ ”کاتب دعا”ہونے کااعزاز بھی پاگیا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی شفقت توپہلی ہی ملاقات میں نصیب ہوچکی تھی مگرخصوصی تعلق اورقربت میں ”دعانویسی ”خاصی کارآمد ثابت ہوئی ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ کی شفقت کاسلسلہ مزید وسیع سے وسیع ترہوتاچلاگیا۔ یہ ان کی نگاہ کرم تھی جس میں میرااپناکوئی کمال نہ تھا، باقی طالب علم فارغ اوقات میں نہرعباسیہ کی سیرکوجاتے اورہم کمرے میں بیٹھے دعائیں لکھاکرتے ، تھوڑے ہی عرصہ میں احساس ہواکہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے کیونکہ لکھنے والاجس رفتار سے لکھتاہے ”بانٹنے والا”اس سے کہیں زیادہ فیاضی سے تقسیم کردیتاہے ۔ اس لئے یہ سلسلہ راتوں کوبھی جاری رکھناپڑا، لیکن لکھنے میں روحانی کیف حاصل ہوتاتھا، اس لئے یہ کابرضا ورغبت جاری رہا۔

ایک دن رحیم یارخان سے ایک ساتھی تشریف لائے اورحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے ذکرکیاکہ میں نے پریس لگایاہے ، دعاء فرمائیں ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ نے دعافرمائی اورمیں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حاجی صاحب سے کہاکہ یہ دعائیں چھپوادیں ۔ حضرت رحمة اللہ علیہ نے توقف فرمایااورخاموش ہوگئے ۔ ان کی خاموشی مجھ پربڑی شاق گزری کیونکہ حضرت رحمة اللہ علیہ کی خاموشی اکثراوقات ناراضگی کاپیش خیمہ بھی ہوتی تھی ۔ ہم نے نگاہیں نیچی کرلیں اورنتائج کے انتظار میں خاموش بیٹھے رہے ۔ تاہم تھوڑی دیرکے بعدحضرت رحمة اللہ علیہ نے فرمایا، تم عجیب آدمی ہو!جاؤ ، مولاناعبدالواسع رحمة اللہ علیہ سے کہوکہ تعویذ خوشخط لکھ کر حاجی صاحب کے سپر د کردیں اوریوں دعانویسی سے قلم پریس کے سپردہوئی جوآج بھی جاری ہے اورانشاء اللہ یہ فیض جاری وساری رہے گا۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کرتاچلوں کہ یہ دعائیں وہ قرآنی دعائیں ہیں جوقرآن وسنت سے منقول ہیں۔

رسالت مآبﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کومختلف اوقات میں پڑھنے کاحکم فرمایا، ان کی خیروبرکت اورفضائل بیان فرمائے ۔

تعلیمی سال کے اختتام پرحضرت رحمة اللہ علیہ ملک بھرکاتبلیغی سفرفرمایاکرتے تھے ۔ میری خواہش تھی کہ حضرت رحمة اللہ علیہ نوشہرہ فیروز کے لئے وقت عنایت فرمائیں ، جس مدرسہ میں مجھے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ، وہاں حضرت درخواستی قدم رنجہ فرمائیں تاکہ دیگراحباب اورخصوصاًمدرسہ کے اساتذہ وطلبہ آپ سے فیضیاب ہوں ۔میں نے اپنی خواہش کااظہارحضرت رحمة اللہ علیہ سے کیا، آپ نے نہ صرف قبول فرمایا بلکہ سندھ کے تبلیغی ذمہ داری بھی میرے سپرد فرمائی ۔

ایک ہفتہ پرمحیط یہ تبلیغی سفرپندونصائح ، حکمت وموعظت اورتزکیہ نفس کاتربیتی پروگرام ثابت ہوا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ مشفقانہ انداز میں بڑی بات فرماجاتے جواصلاح باطن کے لئے اکسیر کادرجہ رکھتی ۔ جلاوجمال دونوں کیفیتیں خلوص پرمبنی ، اصلاح عمل کاذریعہ ثابت ہوتیں ، قرآن وحدیث کاورد روز وشب ، سفروحضر کاوظیفہ ہوتاتھا۔ سنت نبوی ۖ کی اطاعت مقصدحیات رہا، حدیث رسول ۖ سے والہانہ عشق تھا، حدیث پڑھانااورحدیث سناناحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کامحبوب مشغلہ تھا۔ اکثروجد میں آکر یہ شعرپڑھاکرتے تھے ۔

ماھرچہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم

الاحدیث یارکہ تکرار می کنیم

ہم نے جوکچھ پڑھاہے اسے بلادیاہے ، سوائے حدیث

رسول اللہﷺ کے جسم کاہم باربار ورد کرتے ہیں ۔

وَمِنْ مَّذْھَبِیْ حُبُّ النَّبِیِّ وَکَلَامِہ

وَلِلنَّاسِ مِمَّایَعْشَقُوْنَ مَذَاھِب

میراعقیدہ (مذہب ) جناب رسول اللہ ۖ اوران کے کلام

سے محبت ہے ، لوگ جس سے محبت کرتے ہیں وہی عقیدہ

(مذہب ) اختیارکرتے ہیں ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ پنجاب کے دور پرروانہ ہوئے تواحقر کوسندھ جانے کاحکم ہوا اورفرمایاکہ سکھرجاکرمولاناعبدالمجید صاحب کے مشورہ سے پروگرام کوحتمی شکل دے دیں ۔حضرت مولاناعبدالحمید صاحب حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے بااعتماد ساتھیوں میں سے تھے، پروگرام کے مطابق حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کاپنجاب کادورہ مکمل کرکے لاہورسے روانہ ہوئے ۔ گھوٹکی ریلوے اسٹیشن پرہم نے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کااستقبال کیااورطے شدہ پروگرام کے مطابق روانگی ہوئی ۔ پنوں عاقل میں بعداز نماز عشاء حضرت رحمة اللہ علیہ کابیان ہوا۔ لوگ دوردراز دیہاتوں سے سفرکرآئے ہوئے تھے ، مسجد کھچاکھچ بھری ہوئی تھی ۔صحن میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی لوگ گلیوں میں موجود جس کوجہاں جگہ ملی حضرت کابصیرت افروز خطاب سن رہے تھے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ جب قرآن وحدیث بیان فرمارہے ہوتے تھے توعجیب وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی ۔ بات دلوں پراثرانداز ہورہی تھی ۔ سامعین اس قدر توجہ اورنہماک سے وعظ سنتے تھے کہ گویاسکتہ طاری ہے ۔ آپ جب قرآن مجید یاحدیث رسول ۖ بیان فرماتے تویوں محسوس ہوتاکہ سارامنظر آنکھوں کے سامنے ہے ۔ خصوصا جب رسول کریم ۖ کاذکرفرماتے توایک کیف کاعالم طاری ہوجاتا جوصرف عشا ق کاملان راہ طریقت کاحصہ ہے ۔ ذکرحضرت خاتم النبیین ﷺ پرمیرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے اوریہ اثر الحمدللہ اب تک قائم ہے ، یہ اس ولی کامل کافیض ہے جسے دیکھ کررب یاد آئے ۔ حضورکی ذات والاصفات سے سچی محبت تھی ، فرمایاکرتے تھے محبت کامعیار اطاعت ہے جوآپﷺ کی سیرت پرعمل کرتاہے وہی محبت کے دعوے میںسچاہے ۔ محبت رسولﷺ کاداعی اگرسنت رسولﷺ کے مطابق عمل نہیں کرتاتویہ دعویٰ جھوٹاہے ۔ حضرت فرمایاکرتے تھے کہ اگردنیاوآخرت کیکامیابی اورفلاح چاہتے ہوتوقرآن وسنت کی پیروی کرواورزندگی کاہرلمحہ حضورﷺکی سیرت کے مطابق گزارو۔ سیرت وصورت دونوں میں حضورۖ کی سیرت مبارکہ کاعکس نظرآئے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کامعمول تھاکہ وہ ذکرسیدناخیرالانام رحمة اللہ علیہ اس طرح فرماتے ”شان والے نبی نے فرمایا”وہ نبی بھی شان والا ، اس کانام بھی شان والا ،اس کاپیغام بھی شان والا ، اس کاکلام بھی شان والا، اس کامرتبہ بھی شان والا، اس کے دیکھنے والے ، اس کے ماننے والے بھی شان والے ، سب کہوسبحان اللہ ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کابیان کئی کئی گھنٹوں پرمحیط ہوتاتھا، اس دورہ سندھ میں ایک مرتبہ میں سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے نیند سے مغلوب ہوکرمسجد کے صحن میںسوگیا ، حضرت رحمة اللہ علیہ بیان ختم فرماکر مسجد کے دروازے تک پہنچ چکے تھے ، لوگوں کاجم غفیر تھا، دروازے پرگاڑیوں کی قطارلگی ہوئی تھی ، ہرایک کی خواہش تھی کہ اسے شرف میزبانی بخشیں ، حضرت رحمة اللہ علیہ میراانتظار فرمارہے تھے ، دیکھوحافظ کہاں ہے ؟ دیوانہ کہیں سوگیا ہوگا ۔ ایک دم میرے کان میں آواز سنائی دی ، جلدی سے اٹھ کرحاضرخدمت ہواتوناراضگی کے بجائے تبسم فرمایااورفرمانے لگے ”یہ نیند بھی عجیب چیز ہے ”اللہ کی شان ہے حضورۖ جہاد کے سفر سے تھکے ہوئے تھے ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھکے ہوئے تھے ، آپﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ آپ جاگتے رہواورہمیں نماز کے وقت اٹھادینا ، اللہ کی شان دیکھیں حضوربھی سوگئے ، سارے صحابہ کرام رضواللہ علیہم اجمعین بھی سوگئے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ جاگتے رہے ، نماز سے ذراپہلے نیند غالب آگئی ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی سوگئے ، سب کینمازقضاہوگئی ۔ سب کہوسبحان اللہ۔

خلوص نیت، حسن عمل ، جہدمسلسل اوررضائے الہٰی کاحصول زندگی بھرآپ کاشیوہ رہا۔ یہی زریں اصول حصول کامیابی کے لئے اخلاص نیت وعمل ، مسلسل جدوجہد اورنتائج کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکرتے رہنا چاہیے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے زندگی بھرتعلیم وتدریس اوروعظ وتبلیغ کے ذریعہ انسانوں کی اصلاح باطن اورکردار سازی کی جدوجہد جاری رکھی ۔ تمام دنبیاء علیہم السلام بشمول جناب رسالت مآب ۖ ”تعمیر انسانیت ”کاعظیم کام سرانجام دیتے رہے ، تعلیم تدریس ، تزکیہ نفس اورحکمت وموعظت سے ”عظیم انسان ”بنائے ۔ بڑی بڑی عمارتوں اورزندگی کی تمام سہولتوں سے آراستہ درسگاہوں سے کبھی ”بڑے انسان ”نہیں بنے ۔ جوکام صفہ کی درسگاہوں سے شروع ہواوہ صرف ”بوریانشینوں ”کے حصہ میں آیا ۔یہ عظمت تن آسانوں کوکہاں میسر؟

بے سروسامانی کے عالم میں خرقہ پوش بوریانشینوں نے جوعظیم انسان پیداکئے اوراللہ تعالیٰ نے جس فیض سے انہیں نوازا ، دنیاکی جدید درسگاہوں سے اس کاتصور بھی ممکن نہیں ۔ بڑی بڑی عمارات اوروسائل سے مالامال یونیورسٹیوں سے بڑے بڑے ماہرین فن توپیداہوسکتے ہیں جوچند روزہ مادی زندگی میں اپنانام پیداکرجائیں مگران کی ساری جدوجہد کامحور اپنی ”ذات ”اورانفرادیت ”ہی رہتی ہے ۔ جوموت کے ساتھ فناہوجاتی ہے ، ایسے لوگ کبھی انسانیت کی فلاح کاکام نہیں کرسکتے ، ایساکام جس سے اجتماعیت کافائدہ ہو اورخود ان کے لئے دنیاوآخرت کی کامیابی کاضامن ہو۔

نقش سجود تیری جبیں پررہاتوکیا

وہ سجدہ کرکہ روئے زمیں پرنشاں رہے

ایسے کام صرف طالبان راہ حق ہی کرسکتے ہیں جن سے انسانیت کوفائدہ پہنچے اورخود ان کے لئے توشئہ آخرت اوررضائے الہٰی کے حصول کاموجب ہو ۔ کردارسازی کے ذریعہ ”انسان سازی کاعمل مقصود فطرت اورفریضہ انبیاء کرام علیہم السلام ہے ، تمام انبیاء اوران کے متبعین تعمیر سیرت وکردارکاعظیم کارنامہ انجام دیتے رہے ۔ بوریہ نشین علم وعرفان کے چشمے بہاتے رہے ، انسانوں کواس کے مقاسے آگاہ کرتے رہے ۔

گردش ایام نے ہرچیز پرگہرے نقوش چھوڑے ، تبدیلیاں رونماہوئیں ،طریق کاربدلے تواخلاق کے معیار بھی بدلے ۔ رضائے الہٰی کی جگہ خود نمائی نے لے لی ،اجتماعیت ،انفرادیت پرقربان ہوگئی ، شخصی وذاتی مفاد ، قومی ملی مفاد کونیلام کرگیا، وحدت ملی پارہ پارہ ہوگئی ۔

دین مصطفیﷺ عالمگیریت کے وسیع وحسین جامے سے نکل زبان ، رنگ ونسل ، علاقائیت، انفرادیت ، مسلکیت اورعصبیت کے تنگ وتاریک خانوں میں مقید ہونے لگااوربالآخر ذاتی پسندوناپسند اوراناکی بھینٹ چڑھ گیا۔ اسلام جن خوبیوں کواجاگر کرنے اورجن برائیوں کومٹانے آیاتھا، اس کے خلاف عمل ہونے لگا اورخرابیوں کاصفایا کردیا۔اللہ کے دین برحق کاوہ نقشہ سامنے آیااوراسے ایسے رنگ میں پیش کیاگیاکہ چرخ کہن لرز اٹھا۔

وقت کرتاہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتا

آج یہ حالت ہے کہ ”حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَةُ الْمَوْتِ’‘کانقشہ ہمارے سامنے ہے ، جس سے رسالت مآبﷺنے آگاہ فرمادیاتھا۔ ہم وہن کی بیماری کاشکارہیں ۔دنیاکی محبت ہمارے دلوں میں گھر کرچکی ہے اورموت سے ہمیں کراہت ہوتی ہے ہم اصلاح عمل اورتوبہ کی توفیق سے بھی محروم ہوچکے ہیں ، ہم نے دنیاکومقصد حیات بنالیاہے اورموت کوبھلادیاہے ۔ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی یہ سزاہے کہ ہم علم وعرفان سے بے بہرہ اورعقل سلیم سے محروم ہیں۔ دل ودماغ ، عقل وخرد ہمارے گناہوں کی سیاہی سے زنگ آلود ہوچکے ہیں ۔ ہم صُمُّ بُکْمُ عُمْیُ کی عملی تصویربنے بیٹھے ہیں ۔

روز شب کے میلے ، غفلتوں کے مارے

سب یہی سمجھتے ہیں :

جس کوہم نے دفنایا ، فقط اسی کومرنا تھا

رسالت مآبﷺ کی امت ، امت مرحومہ مغلوب ومصلوب بے کسی وبے بسی کی تصویربنی ہوئی ہے ۔ ہم اپنے دشمن سے اپنی بربادی کاعلاج معلوم کرتے ہیں ۔ آج کرئہ ارض پربسنے والے انسانوں کی کل آبادی کاایک چوتھائی حصہ مسلمانوں پرمشتمل ہے ۔٥٦سے زائد اسلامی مملکتوں اوردنیاکے مجموعی وسائل کاتقریبا٦٠فیصد قدرتی وسائل سے مالامال سرزمین پربسنے والے مسلمان ظلم واستحصال ، ذلت وپسماندگی کاشکارہیں ۔ افغانستان ، بوسنیا، چیچنیا ، کوسوو،فلسطین وکشمیر ، ہرجگہ مسلم خون کی ارزانی ہے اورقانون واخلاق کے تمام ضابطے خاموشتماشائی بن گئے ہیں ۔

رسالت مآبﷺ نے جہاں مرض ”وھن ”کی نشاندہی اوراس کے برے اثرات سے متنبہ فرمایاتھاوہیں اس کاشافی علاج بھی تجویز فرمایاتھا:

”جب تک تم اللہ اوررسولﷺ کی اطاعت کی طرف نہ لوٹوگے اس مرض سے نجات حاصل نہ کرسکوگے ۔”

آئیے !صدق دل سے نبی رحمتﷺ کی سیرت وتعلیمات کواپنائیں اورذلت وپسماندگی کی تنگ وتاریک اوربھیانک وادیوں سے رشدوہدایت کے صراط مستقیم کی طرف لوٹیں ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ مسلمانوں کی دین اسلام سے کمزوروابستگی کی وجہ سے پریشان رہتے اورفرمایاکرتے تھے ۔

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جاہے تماشا نہیں ہے

یہ دنیاسرائے ہے ، اس کے لئے اتنی کوشش کریں جتنایہاں رہناہے ، آخرت کی فکرکریں جہاں ہمیشہ رہناہے ، حقیقی کامیابی اخروی کامیابی ہے وہاں کے لئے تیاری کرو۔ لوگوں کی دنیاسے محبت اوردین سے بے رخی دیکھ کریہ شعرپڑھاکرتے تھے ۔

بے کسے شد دین احمد ہیچ اورا یار نیست

ہرکسے باکار خود بادین احمد کار نیست

دین مصطفیﷺ بے کس وبے آسراہوگیاہے ، ہرایک کواپنے اپنے کام سے غرض ہے، دین مصطفی ﷺسے کسی کوغرض نہیں ۔

علامہ اقبارل رحمة اللہ علیہ کایہ شعر اکثربڑے پُرسوز اداز میں پڑھاکرتے تھے :

بمصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست

اگربہ اونہ رسیدی تمام بولہبی است

اپنے آپ کودین مصطفیسے وابستہ کرلوکہ آپﷺ کی اطاعت ہی اصل دین ہے ، اگراطاعت مصطفیﷺ کے ذریعہ ان کے دامن سے وابستہ نہیں ہوئے توپھرباقی ابولہب کاکردار رہ جاتاہے۔

امت مسلمہ سے عموما اوراہل علم وفضل سے خصوصاًاوردرد مندانہ اپیل ہے ، خدارادین مصطفیﷺ کوحقیقی روح کے مطابق اپنائیے اورمقصد حیات بنائیے ۔ اپنی زندگیوں کوقرآن وسنت کے مطابق ڈھالنے کی سعی وعمل شروع کیجئے اورخود عمل کیجئے پھردوسروں کودعوت دیجئے ۔ دین مصطفی ۖ کوسیرت مصطفی ۖ کے آئینے میں دیکھئے ، خود پرستی وانا پرستی کے خول سے باہرنکلئے ، تعصب ، تنگ نظری ، جہالت واخلاقی پسماندگی ، کم کوشی وبے عملی کے بھیانک اورپرخطرراستوں سے واپس پلٹئے ۔ انفرادیت کواجتماعیت پرقربان کرناسیکھئے ، اورسیکھلائیے ۔ رضائے الہٰی کے حصول کومقصدحیات بنائیے ، خلوص نیت اورحسن عمل سے معاشرتی زندگی میں نکھار پیداکیجئے تاکہ لوگ ہمارے کردار سے متاثر ہوں ۔ یادرکھئے ۔

”دین مصطفیﷺ کردار سے پھیلاہے تلوارسے نہیں ، تلوارتوصرف محافظ رہی ہے کہ کوئی دشمن شب خون نہ مارے ۔”

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی زندگی سادگی اوراستغناء کاحسین امتزاج تھی اوروہ اپنے رفقاء کی زندگیوں میںیہی رنگ دیکھناچاہتے تھے۔ اہل علم سے محبت تھی ، علماء طلباء اورعوام الناس سبھی سے شفقت ومحبت سے پیش آتے ۔ آپ کے ہاں امیرغریب کاامتیاز نہ تھا ، مخلص لوگوں کے خلوص کی وجہ سے ان سے بے حد شفقت فرماتے ۔ ظاہری نام ونمود سے قطعا آزاد وبے بہرہ تھے ۔ حکمرانوں سے ملاقات کوناپسند فرماتے تھے البتہ مخلص دیندارحکام وافسران کوشرف ملاقات بخشتے اورشفقت ومحبت سے پیش آتے ۔ حکومت سے کسی قسم کی گرانٹ لیناپسند نہ فرماتے تھے ، فرمایاکرتے تھے اللہ تعالیٰ اپنے دین کاخود محافظ ومعاون ہے ۔ وہی ہماراحاجت روااورکارساز ہے ۔

حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ کی رفاقت ،آپ کی شفقت اوردعائیں میری زندگی کابہترین اثاثہ ہیں ۔یہ آپ کے پدرانہ شفقت کااثر ہے کہ حضرت رحمة اللہ علیہ کے تمام صاحبزادے بھائیوں جیساسلوک کرتے ہیں ۔ میں بھی وقتافوقتا حاضری دیتارہتاہوں اورمخزن العلوم کی پرانی یادیں تازہ کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ مخزن العلوم اورجامعہ انوارالقرآن سمیت تمام دینی مدارس ، مساجد ، خانقاہیں آباد رکھے اورتاقیامت انسانوں کے لئے فیض رسانی کایہ سلسلہ ان سے جاری رہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے آخری ملاقات میوہسپتال لاہور کے اسپیشل وارڈ میں ہوئی جہاں حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ زیرعلاج تھے ۔ حضرت مولانافداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم العالیہ اسلام آباد تشریف لائے اورحضرت رحمة اللہ علیہ کی علالت کابتایا،میرے لئے ناممکن تھاکہ عیادت کے لئے حاضرنہ ہوتا۔

استاد محترم ڈاکٹر عبدالواحد ہالیپوتہ جواس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تھے ، میں نے استاد محترم کے زیراشراف حضرت مولاناعبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ کی تفسیر سورہ یوسف پراپنا تحقیقی مقالہ مکمل کرکے سندھ یونیورسٹی سے (ڈاکٹریٹ) پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹرصاحب سے حضرت کی علالت کاتذکرہ ہواتووہ بھی تیارہوگئے ۔ حضرت مولانافداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم جناب ڈاکٹرعبدالواحد ہالیپوتہ اورناچیز ایک ہی فلائٹ سے لاہور روانہ ہوئے ۔ جناب جسٹس ڈاکٹر منیر احمدمغل صاحب لاہور ائیر پورٹ پرمنتظرتھے ۔ لاہورائیرپورٹ سے سیدھے ہسپتال پہنچے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بیماری کی وجہ سے کافی کمزورتھے ۔ مگرجب احادیث مبارکہ سناناشروع ہوئے توجوانی کاعالم محسوس ہوتاتھا ، آواز اورحافظے میں ذرابھر کمی کاشائبہ تک نہ تھا ۔ حضرت مولانافداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم نے علالت کی بناء پردرخواست کی کہ حضرت دعافرمائیں مہمان اجازت چاہتے ہیں ، حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ نے اجازت دے دی ورنہ احادیث مبارکہ کایہ درس جاری رہتا۔

حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ نے زندگی بھرقرآن وحدیث کے دروس سے لوگوں کے قلوب واذہان منورومعطر فرماتے رہے اوراسی مشن کی تکمیل میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

Leave A Reply

Your email address will not be published.