hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

نواں اصول

نواں فریضہ اور اصلالتزام رفاقة اولیاء اللہ والاجتناب عن رفاقة اولیاء الشیطانہے یعنی کامیابی اور کامرانی کا نواں اصل اولیاء اللہ کی محبت اور رفاقت ہے جیساکہ قرآن کریم کاارشاد ہے ؛یایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین ۔(برائت ١١٩)

(ترجمہ) اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ساتھ رہو سچے لوگوں کے۔

اللہ والوں کے ساتھ چلنے سے نور ہدایت مل جاتا ہے

کیونکہ یہ لوگ راہ ہدایت کی روشنی میں ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ چلنے والوں کو بھی نور ہدایت مل جاتاہے ۔فرمایا ؛اللہ ولی الذین اٰمنوا یخرجھم من الظلمت الی النور (بقرہ ٢٥٧)

(ترجمہ) اللہ تعالیٰ مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ،نکالتاہے ان کو اندھیروں سے اجالے کی طرف۔

کیونکہ یہ حق وصداقت کے علمبردار ہوتے ہیں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ؛ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔

(ترجمہ ) خبردار بیشک اولیاء اللہ پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہونگے۔

اولیاء اللہ کی پہچان

مگر ان کی علامت بھی بیان فرمائی کہ الذین اٰمنوا وکانوا یتقون (یونس ٢٣)

(ترجمہ) یہ ایمان دار ہوکر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں ۔

اولیاء اللہ کی یہی علامت ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں ،خود جناب رسول اکرم انے جو شفیع محشر ہیں ارشاد فرمایا ہے انی اخاف العرض الاکبر میں تو اپنے رب کے سامنے بڑی پیشی سے ڈرتا ہوں۔حضور انور نے اولیاء کرام کی یہ علامت بتائی ہے ،اذاراٰو ذکراللہ یعنی ان کو دیکھ کر خدایاد آجائے ،وہ ہر وقت اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں۔قیامت کے دن سب انبیاء علیہم السلام اللھم سلم سلم پکاریں گے ،لوگ فریادی بن کر سب کے پاس جائیں گے مگر سب انبیاء کرام جلال خداوندی سے اس قدر متأثر ہونگے کہ کوئی بھی اس کے لیے آگے نہ بڑھے گا آخر حضرت عیسی علیہ السلام سب انسانوں سے فرمائیں گے ،ھذا خاتم الانبیاء فاذھبوا الیہ یعنی تم سب خاتم الانبیاءکے پاس جائو وہ تمہاری شفاعت کریں گے ،چنانچہ سب نبیوں کے امتی جناب رسول اللہ کے حضور جاکر درخواست کریں گے انت محمد رسول اللہ خاتم الانبیاء ہماری شفاعت فرمادیں یہ حدیث بخاری شریف میں سات مرتبہ آئی ہے اور بخاری شریف ہی میں یہ کلمہ خاتم الانبیاء بھی روایت ہے یعنی قیامت کے دن بھی حضور انور ا کی ختم نبوت کا اقرار کیا جائے گا ، اسی طرح اولیاء اللہ کی اولاد کو بھی ان کی شفاعت سے فائدہ ملے گا،قرآن کریم میں ارشاد ہے والذین اٰمنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنابھم ذریتھم وما التنھم من عملھم من شی ء (الطور ١٢)

(ترجمہ)اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی راہ چلی ان کی اولاد ایمان کے ساتھ ہم پہنچادیں گے ان تک ان کی اولاد کو اور نہ گھٹائیں گے ان کے نیک اعمال سے کچھ بھی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.