hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

دسواں اصول

دسواں اصل اور فریضہ” التزام الدعائ” ہے ۔اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مانگنا اور اس سے سوال کرنا کیونکہ سب کچھ دینے والا ،ہرکام کرنے والا تووہی خداوند قدوس ہے ،اس نے اپنی رحمت سے بندوں کو حکم دیا ؛وقال ربکم ادعونی استجب لکم (المؤمن ٦٠)

(ترجمہ) اور تمہارے پالنے والے نے فرمایا ،مجھ سے مانگو میں تمہاری دعاکو قبول کروں گا ۔

اور پکارنے اور مانگنے کا طریقہ بھی بتادیا ؛ادعوا ربکم تضرعا وخفیة (الاعراف ٥٥)

(ترجمہ) اپنے رب سے مانگو عاجزی کے ساتھ او رپوشیدگی کے ساتھ ۔

اور مانگنے پر قبولیت کا وعدہ بھی فرمایا ۔اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی مہربان نہیں اور وہی رحمن اور رحیم ہے ۔شاہ عبدالعزیز نے فرمایا الرحمن وہ ذات ہے جو مانگنے پر دیدے اور الرحیم وہ ذات ہے جو نہ مانگنے والوں سے ناراض ہوجائے ۔بندہ تو مانگنے سے ناراض ہوجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نہ مانگنے سے ناراض ہوجاتا ہے ۔فرمایا

اللہ یغضب حین یترک سوالہ

والعبد یغضب حین یسأل

حج کا سفر بھی برکات کا سفر ہے

یہاں حضرت حافظ الحدیث رحمة اللہ علیہ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور امام الانبیاء کی دعا ئو ں کا ذکر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ان برکات کا ذکر فرمایا جو دعائوں کا ثمرہ ہے ،فرمایا حج کا سفر بھی برکات کا سفر ہے اور مدینہ منورہ کے باغوں میں قرآن حکیم کی شرح ہے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا ،رنگ علیحدہ علیحدہ ،شکلیں جدا جدا ،اور جداجدا بولیاں، یہ سب بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے۔ فرمایا

ومن آیاتہ خلق السموٰت والارض واختلاف السنتکم والوانکم (الروم ٢٢)

(ترجمہ)اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور بھانت بھانت کی بولیاں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف۔

یہ ساری قدرت کی نشانیاں حج میں نظر آتی ہیں ،مختلف ممالک کے باشندے علیحدہ علیحدہ رنگوں والے ،کوئی کالا کوئی سفید گورا مختلف بولیاں بولنے والے ایک ہی خدا کی تعریف کرتے ہیں اور ایک ہی گھر کا طواف کرتے ہیں فرمایا آج تو کوئی امیر ہے کوئی فقیر کوئی صدر ہے کوئی وزیر مگر ان سب کو پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے فرمایا

واللہ اخرجکم من بطون امھٰتکم لا تعلمون شیئا وجعلکم السمع والابصار والافئدة لعلکم تشکرون (النحل ٧٨)

(ترجمہ ) اور اللہ ہی نے نکالا تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حالت میں کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور اسی نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

اور فرمایا

واٰیة لھم الارض المیتة احیینٰھا واخرجنٰا منھا حبا فمنہ یاکلون ٠وجعلنا فیھا جنت من نخیل واعناب وفجرنا فیھا من العیون لیاکلوا من ثمرہ وماعملتہ ایدیھم افلا یشکرون ۔( )

(ترجمہ) اور ایک نشانی ان کے لئے مردہ زمین ہے اس کو ہم نے زندگی دی اور نکالا اس سے اناج سو اسی میں سے تم کھاتے ہو اوربنائے ہم نے اس میں باغ کھجور کے اور انگور کے اور بہائے اس میں بعض چشمے کہ کھائیں اس کے میووں سے اور وہ نہیں بنایا ان کے ہاتھوں نے پھر وہ کیوں شکر نہیں کرتے۔

اہل عرب کی خصوصیت

یہ صر ف عرب ہی کی خصوصیت ہے کہ یہاں ظاہری پیداوار نہ ہونے کے باوجود ہر شے ملتی ہے قرآن کریم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی ؛فاجعل افئدة من الناس تھوی الیھم وارزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون (ابراہیم ٣٧)

(ترجمہ) پس تو کردے یا اللہ لوگوں کے دل پھرنے والے ان کی طرف اور رزق دے ان کو پھلوں سے تاکہ یہ تیرا شکر اداکریں ۔نیز یہ بھی ارشاد فرمایا اولم نمکن لھم حرما اٰمنا یجبی الیہ ثمرات کل شی ء رزقا من لدنا (القصص ٥٧)

(ترجمہ ) کیا ہم نے ان کوجگہ نہیں دی امن والے مکان میں پناہ کی کھنچے چلے آتے ہیں اس طرف پھل ہر چیز کے ۔

جس طرح مکہ مکرمہ کی برکات ہیں اسی طرح مدینہ منورہ کی ہر شے شان والی ہوگئی اس کو دیکھنے والے بھی شان والے ہوگئے ،حضور انور ا کی دعائیں آج بھی مدینہ منورہ کا پہرہ دے رہی ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.