hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آپ کی تین پسندیدہ چیزیں

حضرت حافظ الحدیث نے اس نورانی مجلس کے آخر میں مندرجہ ذیل واقعہ ارشاد فرمایا ۔

ایک دن سید الانبیاء نے فرمایا ۔

”حبب الی من دنیا کم ثلٰث الطیب والمراة الصالحة وجعلت قرة عینی فی الصلوٰة ”۔

(ترجمہ)تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں پسند ہیں ١۔خوشبو، ٢۔نیک عورت ، ٣۔ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین پسندیدہ چیزیں

حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا مجھے تین چیزیں پسند ہیں ۔

النظر الیٰ وجہ رسول اللہ ا وانفاق مالی علی رسول اللہ اوان تکون بنتی تحت رسول اللہ

(ترجمہ ) سید دو عالم کے چہرہ انور کو دیکھنا اور اپنا مال سید دوعالم اکے ارشادات پر خرچ کرنا اور یہ کہ میری بیٹی حرم نبوی میں ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین پسندیدہ چیزیں

حضرت عمر نے فرمایا مجھے تین چیزیں پسند ہیں ۔

”الامر بالمعروف والنھی عن المنکر واقامة حدود اللہ وفی روایة والثوب الخلق ”

(ترجمہ)حکم دینا نیک کام کا اور روکنا برائی کا اور قائم کرنا اللہ تعالیٰ کی حدود کو اور ایک روایت میں پرانا لباس پہننا بھی آیا ہے ۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین پسندیدہ چیزیں

حضرت عثمان نے بھی اپنی تین محبو ب اشیاء کا ذکر کیا ۔

”کسوة العریان واشباع الجیعان وقراء ة القرآن او افشاء السلام وطیب الکلام واطعام الطعام”۔

(ترجمہ ) ننگوں کو لباس پہنانا ،بھوکوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ،اور قرآن عزیز کی تلاوت یا سلام بہت زیادہ کہنا ،پاکیزہ کلام کرنا اور کھانا کھلانا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین پسندیدہ چیزیں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی محبوب اشیاء کا ذکر فرمایا ۔

”الخدمة للضیف ،والصوم فی الصیف ،والضرب بالسیف”۔

(ترجمہ) مہمان کی خدمت ،گرمی کے موسم میں نفلی روزہ ،جہاد میں تلوار کا چلانا۔

جبرائیل امین کی تین پسندیدہ چیزیں

ملاعلی قاری نے فرمایا اتنے میں جبرئیل علیہ السلام نے حاضر ہوکر اپنی تین محبوب چیزوں کا ذکر فرمایا ۔

”النزول علی النبیین وتبلیغ الرسالة للنبیین والحمد للہ رب العالمین ”۔

(ترجمہ) انبیاء علیہم السلام پر نازل ہونا ،اللہ تعالیٰ کے پیغامات ان کوپہنچانا اور تمام جہانوں کے رب کی حمد وثناء کرنا ۔

اللہ تعالیٰ کی تین پسندیدہ چیزیں

اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مجھے خداوند قدوس نے فرمایا کہ مجھے اپنے بندوں کی ان تین چیزوں سے محبت ہے ۔

”قلب شاکر ولسان ذاکر وبدن علی البلاء صابر”

(ترجمہ )دل شکر گزار ،اور زبان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی اور تکالیف کی حالت میں صبر کرنے والے بدن۔

امام اعظم ابوحنیفہ کی تین پسندیدہ چیزیں

امام ابوحنیفہ نے فرمایا ۔مجھے ان تین چیزوں سے محبت ہے ۔

”تلاوة کتا ب اللہ ،والتمسک بسنة رسول اللہ والاعراض عما سوی اللہ” ۔

(ترجمہ) اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت اور جناب رسول اللہ کی سنت سے راہ نمائی اور غیراللہ سے کنارہ کشی۔

امام مالک کی تین پسندیدہ چیزیں

امام مالک نے فرمایا مجھے ان تین چیزوں کے ساتھ محبت ہے ؛ملازمة مدینة رسول اللہ اومجاورة روضة رسول اللہ ا وحب حدیث رسول اللہا ۔

(ترجمہ)مدینہ منورہ میں ہمیشہ قیام کرنا ،روضہ ٔانور کاقرب اور حدیث سے محبت۔

امام شافعی کی تین پسندیدہ چیزیں

امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا مجھے ان تین چیزوں سے محبت ہے ۔

” الھجرة فی سبیل اللہ والانفاق فی سبیل اللہ والجھاد فی سبیل اللہ”۔

(ترجمہ )اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا ، اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ۔

امام احمد ابن حنبل کی تین پسندیدہ چیزیں

امام احمد ابن حنبل نے فرمایا مجھے ان تین چیزوں سے محبت ہے ۔

”الاعطاء للہ والمنع للہ والحب فی اللہ” ۔

(ترجمہ ) کسی کو دینا اللہ کے لیے اور نہ دینا بھی اللہ کے لئے اور محبت کرنا بھی اللہ کے لئے۔

حضرت حافظ القرآن والحدیث کی تین پسندیدہ چیزیں

اس کے بعد حضرت نے اپنی تین محبوب اشیاء کا ذکر فرمایا ۔

”التوکل علی اللہ والشغل بذکر اللہ والموت فی بلدة رسول اللہ ۔

(ترجمہ ) اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ،اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا شغل ،اور سید دوعالم کی بستی میں موت ۔

حضرت قاضی زاہد الحسینی کی تین پسندیدہ چیزیں

حضرت حافظ الحدیث مدظلہ العالی کے خطاب کا یہ جامع خلاصہ ہے ،یہ گناہ گار بھی اپنی محبوب ترین تین چیزوں کا ذکر کرتا ہے۔

”احب ان یکون لسانی رطباً من ذکر اللہ وتلاوة کلام اللہ والصلوٰةعلی حبیب اللہ والعکوف فی بیت اللہ والبکاء من خشیةاللہ”

(ترجمہ) اس گناہ گار کو ان تین چیزوں سے محبت ہے۔اللہ تعالیٰ کے ذکر، قرآن عزیز کی تلاوت اور محبوب کبریا پر درود سے زبان ہر وقت تررہے۔ اور مسجد میں اعتکاف کو اور خشیت خداوندی سے رونے کو۔

اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور سب مسلمانوں کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

قاضی محمد زاہد الحسینی ٨ ١ ربیع الثانی ١٤٠٠ ھ یوم الخمیس

٦مارچ ١٩٨٠ ئ

جامعہ مدنیہ اٹک شہر (پاکستان)

Leave A Reply

Your email address will not be published.