hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

پہلا اصول

پہلا اصول جو بنیادی حیثیت رکھتاہے اس کا نام ”اصلاح عقائد”ہے۔ اس لیے کہ جب تک عقیدہ درست نہ ہو نہ تو کوئی عمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی نیک عمل قبول ہو سکتا ہے۔ان عقائد میں سے پہلا عقیدہ ”ایمان باللہ”ہے۔فرمایا لاالہ الا ھو الرحمن الرحیم اور الہ تو ایک ہی ہے من شک فیہ فھو کافر۔

اسم اعظم کی تحقیق

یاد رکھو اللہ ہی اسم اعظم ہے اگر اس کے توسل سے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے جیساکہ حضور انور انے فرمایا واسم اللہ الاعظم الذی اذا دعی بہ اجاب واذا سئل بہ اعطی۔

(ترجمہ)اور اللہ تعالیٰ کا وہ سب سے بڑا نام جس سے اس اللہ کو پکارا جائے وہ قبول فرماتا ہے اور اس کے توسل سے اگر اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔

اسم اعظم کے بارے میں سید دوعالم اسے پوچھا گیا تو آ پ نے فرمایا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ، ایک تو آیت الکرسی میں اور ایک سورت آ ل عمران کی پہلی آیت میں ،یعنی اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم اور الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم میں پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ وہ الحی القیوم ہے اور بعض نے فرمایا اسم اعظم اللہ ہی ہے ، میرے نزدیک ترجیح اسی کو ہے کہ وہ اللہ ہی ہے مگر اس کے ورد کا طریقہ وہی ہے جوکہ اجازت دینے والا بتائے جیساکہ مریض اس وقت صحت یاب ہوسکتا ہے جبکہ معالج کی ہدایت کے مطابق دوائی استعمال کرے اور پرہیز کرے۔

اسم اعظم پڑھنے کے لیے تین شرطیں

اگر آپ لوگ اسم اعظم پڑھنا چاہتے ہیں تو تین شروط کے ساتھ تم کو بتاتا ہوں۔

پہلی شرط

پہلی شرط تو یہ ہے کہ وعدہ کرو کہ یہ عمل حافظہ قوی کرنے کے لئے پڑھو گے تاکہ دینی علوم حاصل کرکے دین کی خدمت کرو ، نہ اس لیے کہ تنخواہ زیادہ ہو اور چائے اور حلوے کا دور چلے جیساکہ جامعہ میں اس کا دورہے۔

دوسری شرط

دوسری شرط یہ ہے کہ اگر اسم اعظم پڑھنے کا طریقہ آ گیا تو اس سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے قربانی دوگے۔یاد رکھو آجکل سیلابوں کا دور ہے ،ایک سیلاب پانی کا ہے جو خان پور میں آیا جس سے سارا شہر پانی میں ڈوب گیا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے میں جس مسجد میں معتکف تھا وہ مسجد بھی بچ گئی او ر کتب خانہ بھی بچ گیا۔اور ایک سیلاب قادیانیت کا سیلاب ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ سیلاب جدہ ،ریاض ،مدینہ منورہ کت پہنچ چکا ہے یعنی بعض قادیانی پاکستانی ہونے کی ونہ سے گھس کر اپنا کام کررہے ہیں ڈر ہے کہ کہیں لاکھوں کے ایمان کی کشتی نہ ڈوب جائے (اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور سعودی عرب میں ان کا داخلہ بند کردیا گیا۔ الحمدللہ)

اطمینان قلب اور تمام دکھوں کا علاج

یاد رکھو اطمینان قلب اور تمام دکھوں کا علاج سید دوعالم ا پر کامل ایمان اور آپ کی سچی اطاعت ہے ،اس لحاظ سے بھی صحابہ کرام ، انصار ومہاجرین خوش بخت تھے کہ ان کو بے نظیر نعمت حاصل تھی ،ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں پریشانی کے وقت سید دوعالم اکی خدمت میں حاضر ہو کر چہرۂ انور کی زیارت کرکے سکون اور اطمینان قلب حاصل کرلیا کرتا تھا،آج تم بھی خوش نصیب ہو میں پاکستان میں کہا کرتاہوں ”قال رسول اللہ ” اور اب کہتاہوں قال صاحب ھذہ الروضة” یہ روضۂ اقدس بھی شان والا ،روضہ میں آرام فرمانے والے بھی شان والے، حضور انور ا کے ساتھ لیٹنے والے بھی شان والے ،ایک دن انصار اور مہاجر حاضر خدمت تھے کہ حضور انور ا اپنے حجرۂ مبارک سے باہر اس طرح تشریف لا ئے کہ آپ کے ایک طرف صدیق اکبر اور دوسری طرف عمر فاروق تھے ، جناب ا کا دایاں ہاتھ صدیق اکبر کے کندھے پر تھا اور بایاں ہاتھ عمر فاروق کے کندھے پرتھا اور ارشاد فرمایا ھکذا نبعث (اسی طرح ہم قیامت کے دن اس روضہ سے اٹھائے جائیں گے )

تیسری شرط

اسم اعظم سیکھنے والوں کے لیے تیسری شرط یہ ہے کہ علم دین حاصل کر نے کے بعد قرآن وحدیث کی خدمت کو نہ چھوڑیں گے۔

یاد رکھو قرآن وحدیث اور دینی علوم پڑھنے کے لیے علماء قرآن وحدیث کی صحبت اور معیت ضروری ہے اور غیر لوگوں کی صحبت سے اجتناب ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔

واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغدوة والعشی یریدون وجھہ ولا تعد عینک عنھم ترید زینة الحیوة الدنیا ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ھواہ وکان امرہ فرطا۔(سورة الکھف آیت نمبر28 ٨٢)

(ترجمہ ) اور رکھیں آپ اپنے جی کو ان کے ساتھ جوپکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام ،طالب ہیں اس کی رضا کے اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں ان کو چھوڑ کر دنیا کی رونق کی تلاش میں ،اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے اور کر نے لگا اپنی خواہش کے کام اور اس کا کام حد سے بڑھنے والاہے۔

اسی طرح ارشاد فرمایا۔

ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۔ (ہود 113)

(ترجمہ ) اور مت جھکو ظالموں کی طرف ورنہ تم کو دوزخ کی آگ چھوئے گی۔

اسم اعظم کے ورد کا خاص طریقہ

اس کے بعد آپ نے فرمایا اسم اعظم تو اللہ ہی ہے مگر اس کے ورد کا خاص طریقہ ہے اس کے مطابق پڑھا جائے تو اس سے عقیدۂ توحید کی عظمت دلوں میں بیٹھتی ہے جو کہ پہلا عقیدۂ توحید کہلاتا ہے مگر اس کے ساتھ دوسرا عقیدہ سید دوعالم اپر ایمان لانا ہے اور یہ ایمان اسی وقت درست ہو سکتا ہے جبکہ آپ کا ادب اور احترام دل میں ہو اور آپ اکے ساتھ عشق ومحبت ہو ،میں کافی عرصہ سے بیمار ہوں ڈاکٹروں کا مشورہ یہ تھا کہ آرام کیا جائے اور کوئی سفر نہ کیا جائے مگر عید قرباں کے بعد خواب دیکھا کہ ” روضۂ انور کے سامنے کھڑا ہوں اور حسان بن ثابت کا قصیدہ پڑھ رہا ہوں ” توبہت بے چین ہوا اور احباب کے منع کرنے کے باوجود کراچی پہنچا اور وہاں سے عمرہ کے لیے گیا۔(آپ نے حسان بن ثابت کے چند اشعار پڑھے جو حضرت حسان بن ثابت نے سید دوعالم اکے روضۂ اقدس میں آرام فرمانے کے بعد پڑھے تھے ،ان اشعار کو ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔حضرت نے تو صرف اشعارہی پڑھے تھے کہ مخاطب سب عربی دان تھے مگر یہاں ان کے ساتھ زیادہ مؤثر کرنے کے لیے ترجمہ بھی درج کیا جاتا ہے ،آپ نے فرمایا۔)

نبی اتانا بعد یاس و فتر ة

من الرسل والاوثان فی الارض تعبد

آپ ایسے نبی ہیں جو نا امیدی اور کا فی مدت کے بعد تشریف لائے جب کہ زمین میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔

فامسیٰ سراجاً منیراً وھادیاً

یلوح کما لاح الصیقل المھند

پس حضور اسراج منیر اور راہنما بن کر تشریف لائے آپ اس طرح چمکے جس طرح ہندی تلوار چمکتی ہے ۔

فانذرنا نا راً وبشر جنة

وعلمنا الاسلام فللہ نحمد

پس حضور ا نے ہم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا اور جنت کی خوش خبری سنائی اور ہم کو اسلام سکھایا پس ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

تعالیت رب الناس عن قول

وماسواک الٰھا انت اعلیٰ وامجد

تو ساری تعریف سے اے تمام انسانوں کے رب بہت ہی بلند اور بالا تر ہے اور تیرے بغیر کوئی معبود نہیں تو ہی سب سے اعلیٰ اور عزت والا ہے۔

انت الہ الخلق ربی ومالکی

بذاک فی الناس ما عمرت اشھد

تو ہی سب مخلوق کا معبود ہے اے میرے رب اور میرے مالک اور میںتمام عمر لوگوں میں اسی کی شہادت دیتا رہوں گا۔

لک الخلق والنعماء الامر کلہ

فایاک نستھدی وایاک نعبد

توہی سب کو پیدا کرنے والا سب نعمتیں عطاکرنے والا ہے تیرا ہی سب اختیار ہے تو ہم تجھ ہی سے ہدایت طلب کرتے ہیںاور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔

وانما شق لہ من اسمہ لیجلہ

فذو العرش محمود وہذا محمد

حضورانور کے اسم گرامی کو اپنے اسم گرامی سے اشتقاق فرمایا یعنی عرش کے مالک خداوند تعالیٰ کا اسم گرامی تو محمود ہے اور سید دوعالم کا اسم گرامی محمد ہے (ا)۔

ماان مدحت محمدا بمقالتی

لکن مدحت مقالتی بمحمد

میں نے یہ تعریف کرکے سید دوعالم اکی مدح سرائی میں اضافہ نہیں کیا اس لیے کہ حضور ا میری نعت ومدح کے محتاج نہیں بلکہ اس کلام کو میں نے آپ کے ذکر عالی سے مشرف کیا ہے۔

یاد رہے سید دوعالم کی تعریف کرنا فریضہ ہے خود حضور انورنے فرمایا ۔

”میں اولاد آدم کا سردار ہوں ،میری یہ مسجد عظیم مسجد ہے جس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ”۔

اس ارشاد میں حضور انور نے انا سید ولد آدم فرما کر فخر نہیں فرمایا بلکہ نعمت خداوندی کا شکریہ ادا کیا ہے جس کا آپ کو حکم دیتے ہوئے خداوند قدوس نے فرمایا ؛واما بنعمة ربک فحدث۔(ترجمہ) اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان فرماتے رہیں۔

کافروں کے مقابلہ کے وقت اپنی شان کا بیان کرنا بھی عبادت ہے

کافروں کے مقابلہ کے وقت اپنی شان کا بیان کرنا بھی عبادت ہے جیساکہ خود حضور انے غزوہ حنین کے موقع پر فرمایا ۔انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب (ترجمہ) میں سچا نبی ہوں اور میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔ اسی طرح غزوہ ٔ احدکے موقع پر ابو سفیان نے جب یہ کہا ” این محمدکم”وہ تمہارا محمد کہاں ہے تو حضور نے ایک حکمت کی بناء پر جواب دینے سے منع فرمایا مگر جب ابوسفیان نے یہ کہا ”اما ھؤلاء فقتلوا” (یہ سارے قتل کئے گئے ہیں ) اس کو سن کر حضرت عمرؓ نے جلال میں آکر جواب دیا ۔”لقد ابقی اللہ من یخذیکم الیٰ یوم القیمة” (اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا ہے ان کو جو تم کو ذلیل کردیں گے اور یہ لوگ قیامت تک رہیں گے )جب ابو سفیان نے ”اعل ھبل” کہا اے ہبل تیری شان بلند ہو حضور ا نے جواب دینے کا فرمایا تو صحابہ نے فرمایا ”اللہ اعز و اجل” (اللہ تعالیٰ ہی عزت دینے والا اور جلال و احترام کا مالک ہے۔) ابوسفیان نے جب کہا ”لنا عزی ولا عزی لکم ”(ہمارا معبود عزی ہے اور تمہارا عزی کوئی نہیں )حضور نے فرمایا اس کو جواب دو ” لنا مولیٰ ولا مولیٰ لکم ”(ہمارا مالک و مدد گار اللہ تعالیٰ ہے اور تمہارا کوئی مدد گار و مولیٰ نہیں ۔

مدینہ منورہ میں رہنے والے خوش نصیب ہیں

حضرت حافظ الحدیث نے شرکاء مجلس سے فرمایا ؛تم مدینہ منورہ میں خوش نصیب ہو ،تم احد پہاڑ کو دیکھتے ہو ،جناب رسول کریم اجب احد کو دیکھتے تھے تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے تاکہ اس پہاڑ کے قریب جلدی پہنچ جائیں ۔ آپ اکا ارشاد گرامی ہے ؛ ”ھذا جبل احد یحبنا ونحبہ” ( یہ احد پہاڑ ہے جو ہمیں محبوب سمجھتا ہے اور ہم کو اس کے ساتھ محبت ہے ۔)احد پہاڑ کے دامن میں صحابہ کرام کا خون گرا،سید دوعالم کا خون مبارک گرا۔

مدینہ منورہ میں امتحان ضرور ہوتاہے

یاد رکھو مدینہ منورہ میں امتحان ضرور ہوتاہے ،صحابہ کرام جب ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آئے تو کچھ صحابہ کرام بیمار ہو گئے ، ایک دن حضور انور ا حضرت ابوبکر صدیق کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے تو آپ بیماری کی حالت میں یہ کہہ رہے تھے ۔

کل امرء مصبح فی اھلہ

والموت ادنی من شریک نعلہ

(ترجمہ) ہر انسان صبح اپنے خاندان میں کرتاہے مگر موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی قریب ہے ۔

اور حضرت بلالؓ سخت بخار کی حالت میں یوں کہہ رہے تھے۔

الا لیت شعری ھل ابیتن لیلہ

بواد وحولی اذخر وجلیل

وھل اردن یوما میاہ مجنة

وھل یبدون لی شامة وطفیل

(ترجمہ )کاش میں ایک رات وادیٔ مکہ مکرمہ میں گزارتا اور میرت ارد گرد مکہ مکرمہ کے گھاس ہوتے اور کاش میں کسی دن مجنہ کے پانی پر پہنچتا اور کاش مجھے مکہ مکرمہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ نظر آتے۔

ان کے اس شوق اور تڑپ کو دیکھ کر یہ دعا فرمائی؛

” یا اللہ ان کے دلوں میں مدینہ منورہ کو اسی طرح محبوب فرمادے جیساکہ تونے ان کے دلوں میں مکہ مکرمہ کو محبوب فرمایا ہے ”۔

یاد رکھو پہلا ادب تو خداوند قدوس کا ادب ہے ،یعنی ادب خداوندی اور دوسرا ادب ادب نبویﷺ ہے یعنی سید دو عالم ا کی تعظیم اور توقیر لازم ہے مگر ان دونوں مقاموں میں اس امر کا لحاظ ضروری ہے کہ شان رب العالمین بلند وبالا تر ہے اور اس کے بعد شان محبوب رب العالمین ہے ۔(ابن القیم کے قصیدۂ نونیہ کے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے۔

قالوا تنقصتم رسول اللہ

وا عجبا لھذا البغی والبھتان

(ترجمہ ) بعض لوگ کہتے ہیں کہ تم نے سید الانبیاء اکی توہین کی ہے اس الزام تراشی پر بڑا تعجب ہے ۔

لکنا قلنا مقالة صارخ

بینکم فی کل وقت باذان

لیکن ہم تو وہی کہتے ہیں جو پانچوں وقت مؤذن کہتا ہے ۔

الرب رب والرسول فعبدہ

لیس لنا الھة ثان

رب تو رب ہی ہے اور رسول اکرم اآپ کے بندہ ہیں ہمارا دوسرا معبود نہیں ۔

للہ حق لایکون لعبدہ

ولعبدہ حق ھما حقان

اللہ تعالیٰ کے لیے وہ حق ہے جو اس کے بندہ کے لئے نہیں البتہ اس کے بندے کا مستقل حق ہے اور یہ دونوں علیحدہ علیحدہ حق ہیں ۔

فلا تجعلوا الحقین حقا واحدا

من غیر تمییز ولا فرقان

پس تم دونوں حقوں کو ایک حق نہ بنائو یوں کہ دونوں میں کوئی بھی امتیاز اور فرق نہ ہو۔

فالحج للرحمن دون رسولہ

وکذا الصلوة والذبح والقربان

پس یاد رکھو حج صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے نہ کہ رسول ا کے لیے اسی طرح نماز اور ذبح اور قربانی بھی ۔

وکذا نذرنا وسجودنا ویمیننا

وکذا متاب العبد من عصیان

اسی طرح ہماری نذر اور سجود اور قسمیں ،اسی طرح گناہ سے توبہ کرنا یہ سب کے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔

وکذاالتوکل والانابة والتقی

وکذا الرجاء وخشیة الرحمن

اور اسی طرح توکل اور انابت اور تقوی اور رجاء اور خوف اللہ تعالیٰ ہی کا ہونا چاہیے ۔

وکذاالتسبیح والتقدیس والتھلیل

حق الھنا الدیان

اسی طرح سبحان اللہ الملک القدوس اور لاالہ الا اللہ یہ سب ہمارے معبود برحق کے حقوق ہیں۔

وکذا العبادة والاستعانة

بایاک نعبد ذا توحیدان

اسی طرح عبادت اور مدد طلب کرنا یہ بھی دونوں توحید ہی کا حصہ ہیں۔

لکنما التعزیر والتوقیر حق للرسول

بمقتضی الفرقان

لیکن ادب اور احترام یہ قرآنی تعلیمات کے مطابق رسول کریم اا حق ہیں (قرآن کریم کی سورت الفتح آیت ٩ میں فرمایا وتعزروہ وتوقروہ ۔ الآیہ)

والحب والایمان لا یختص

بل حقان مشترکان

اور محبت اور ایمان صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے نہیں بلکہ سید الانبیاء ا پر بھی ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری ہے اور حضور انور ا کی محبت بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت ضروری ہے۔

صحابہ کرام جان نثار مصطفیٰ تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید دوعالم کے جان نثار تھے

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید دوعالم اکے جان نثار تھے سخت سے سخت تکلیف کے باوجود آپ اپر اپنی جان قربان کرنا ایمان سمجھتے تھے ۔چنانچہ عزوۂ احد کے فوراً بعد ( جس میں ستر صحابہ شہید ہوگئے اور کئی زخمی ہوئے تھے) جب مشرک بدر کے مقام پر جمع ہوگئے توان کا مقابلہ کرنے کیلئے صحابہ کرام فوراً تیار ہوگئے (اور ان کو ایسا بھگایا کہ پھر ان کی جرأت حملہ کرنے کی نہ ہوسکی اس کو غزوۂ بدر صغریٰ کہا جاتا ہے )قرآن کریم نے صحابہ کرام کی منقبت بیان کرتے ہوئے فرمایا ؛

الذی استجابوا للہ والرسول من بعد ما اصابہم القرح للذین احسنوا منہم والتقوا اجرعظیم ٠ الذین قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشواھم فزادھم ایمانا وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل ٠فانقلبوا بنعمة من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء واتبعوا رضوان اللہ واللہ ذو فضل عظیم ٠(آل عمران آیت ١٧٢ تا ١٧٤)

(ترجمہ) وہ جنہوں نے حکم مانا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکا اس کے بعدبھی کہ ان کو زخم پہنچ چکا تھا ان میں سے اخلاص رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا اجر ہے وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ کافر تمہارے مقابلے کے لیے اکٹھے ہوگئے ہیں پس تم ان سے ڈرو تو اس خبر نے بجائے ڈرنے کے انکا ایمان اور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا ہمارے لئے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور بہترین کارساز ہے اس پر وہ لوٹے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ ان کو کچھ بھی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے ۔

نکتہ

حضرت درخواستی نے فرمایا کہ میں ملتزم کے پاس اس ارشاد میں غور کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فانقلبوا فرمایا ثم انقلبوا نہیں فرمایا تو مجھے انکشاف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو فوراً اپنی نعمت اور فضل سے نواز دیا اگر ثم ہوتا تو اس کا معنی تراخی کا ہے یعنی کچھ دیر بعد اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ۔

تیسرا عقیدہ

تیسرا عقیدہ قیامت کا ماننا ضروری ہے جس کو قرآن کریم میں یوم الدین،یوم القیامة ،یوم الفضل اور الآخرة کے ساتھ ذکر فرمایا ہے ،آج تک دنیا بھر کے مسلمان الآخرة سے مراد قیامت ہی لیتے تھے جوکہ مراد خداوند قدوس ہے ۔

مرزائیوں کی تحریفِ قرآن مجید

مگر اب مرزائیوں نے قرآن کریم میں تحریف کر کے اس الآخرة سے مراد آخری وحی لی ہے ،ان پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ااور فرشتوں کی لعنت ہو۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ کامیابی تب ہوگی جب ختم نبوت کے کافر کو قانوناً کافر قرار دیا جائے۔ ( الحمد اللہ ان کو کافر قرار دے دیا گیا۔)

Leave A Reply

Your email address will not be published.