hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

ساتواں اصول

ساتواں اصل اور فریضہ ” اتباع کتاب اللہ اور اتباع حدیث رسول اللہ ہے قرآن حکیم کا ارشاد ہے ؛اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم (اعراف ٣)

(ترجمہ) اس ہدایت کی پیروی کرو جو تمہاری طرف اتاری گئی تمہارے رب سے ۔

قرآن عزیز ہدایت ہے ،شفاء ہے ،نور ہے ذکر حکیم ہے ،صراط مستقیم ہے ۔فرمایا ؛ان ھذا صراطی مستقیما (انعام ١٥٤)

قرآن ہادی ہے ۔ان ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم (اسراء ٩)۔ یہ قرآن سیدھی اور پختہ راہ کی طرف چلاتا ہے ۔ قرآن حکیم کو برہان فرمایا۔ یایھاالناس قد جاء کم برھام من ربکم وانزلنا الیکم نورا مبینا (النساء ١٧٥)

(ترجمہ)اے لوگو آ گئی تمہارے پاس واضح ہدایت تمہارے رب کی طرف سے اور اتارا ہم نے تمہاری طرف ہمیشہ رشنی دینے والا نور ۔

قرآن کو روح بھی فرمایا وکذالک اوحینا الیک روحاً من امرنا (الشوریٰ ٥٢)

(ترجمہ) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف روح کی اپنے حکم سے ۔

قرآن احسن الحدیث بھی ہے ؛فرمایا اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر٢٣)

(ترجمہ)اللہ تعالیٰ ہی نے اتاری سب سے بہتر بات ۔

قرآن مجید کو شفاء اور رحمت اور نصیحت بھی فرمایا ؛وننزل من القرآن ماھو شفاء ورحمة للمؤ منین (اسراء ٨٢)

(ترجمہ) اور اتارتے ہیں ہم قرآن سے وہ جو شفاء ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔

قرآن کی طرح حدیث مصطفیکی اتباع بھی ضروری ہے

جس طرح قرآن کریم کی اتباع ضروری ہے اسی طرح حدیث رسول اکی اتباع بھی کامیابی وکامرانی کے لیے ضروری ہے ؛فرمایا قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران ٣١)

(ترجمہ) آپ ا فرمادیجئے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو تم سے اللہ تعالیٰ محبت فرمائے گا۔

آپ اسب مسلمانوں کے لیے قیامت تک آخری رسول ہیں ؛ فرمایا قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف ١٥٨)

(ترجمہ) آپ فرما دیجئے اے لوگو ! میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تم سب کی طرف ۔

اسی نبی کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ؛فاٰمنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باللہ وکلمتہ واتبعوہ لعلکم تھتدون (الاعراف ١٥٨)

(ترجمہ) پس ایمان لے آئو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جولہ یقین رکھتا ہے اللہ تعالیٰ پر اور اس کے کلمات پر اور اس نبی کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پالو۔

اسی طرح سید دوعالمنے فرمایا امتی یدخلون الجنة الا من ابیٰ قیل من ابیٰ قال من اطاعنی دخل الجنة ومن عصانی فقد ابیٰ ۔

(ترجمہ) میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی مگر وہ جس نے انکار کیا اس پر پوچھا گیا کہ حضرت انکار کرنے والا کون ہے ؟ آپﷺ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا جس نے میرا حکم نہ مانا اس نے انکار ہی توکیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.