hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

آٹھواں اصول

آٹھواں اصل اور فریضہ ”التزام تعظیم شعائر اللہ” ہے ،یاد رکھو دین سب ادب کا نام ہے ”الدین کلہ ادب ” اللہ تعالیٰ بے ادبی سے بچائے ۔ قرآن مجید نے فرمایا ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقویٰ القلوب (الحج ٣٢)

(ترجمہ)اور جس نے شعائر اللہ کی تعظیم کی تو یہ دل کا تقویٰ ہے ۔

مشہور شعائراللہ چار ہیں

شعائراللہ تو بہت ہیں مگر چار مشہور ہیں ۔ کتاب اللہ ،رسول اللہ ،بیت اللہ ،صلوة اللہ ،فرمایا لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً (النور ٢٣)

(ترجمہ) مت بناؤ رسول اللہ کے بلانے کو برابر آپس میں ایک دوسرے کے بلانے کے (معمولی نہ سمجھو)حضور انور کے پاس اور آپ کی مسجد میں بڑے ادب اور احترام کے ساتھ آئے ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ مسجد نبوی میں دو آدمی آپس میں اونچی آواز میں باتیں کررہے ہیں تو آپ نے ان کو اپنے پاس بلاکر پوچھا تم کہاں سے آئے ہو ؟انہوں نے کہا ہم یمن سے آئے ہیں تو اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا (یعنی ان کو انکی لا علمی کی وجہ سے معاف کردیا ) میں تم سب زائرین کو خبر دار کرتاہوں کہ صلوٰة وسلام آہستہ اور ادب کے ساتھ پڑھو ،شورو غل کرنے اور بے ادبی کرنے سے خطرہ ہے کہ کہیں حج ہی نہ ضائع ہوجائے ارشاد قرآنی ہے۔ ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ اولٰئک الذی امتحن اللہ قلوبہم للتقویٰ لھم مغفرة واجر عظیم (الحجرات ٣)

(ترجمہ) بے شک وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آواز کو اللہ تعالیٰ کے رسول کے پاس یہ وہ لوگ ہیں کہ جانچ لیا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ اور پرہیز گاری کے لیے ان کے لیے بخشش اوربڑا اجر ہے۔

تو شعائر اللہ کا ادب اورتعظیم یہ ایک بڑا فریضہ ہے ۔میں نے سنا ہے کہ اس سال روافض بھی کافی تعداد میں آئے اور یہاں ناچتے کودتے رہے (یہ لوگ حرم میں جلے ہوئے سگریٹ تک پھینک دیتے تھے ) حج کے لیے نیاز مندی ،عجزاور ادب سب سے بڑا زادراہ ہے ۔

امام غزالی فرماتے ہیں کہ ایک مجذوب حج کو جارہا تھا مگر زادراہ کچھ بھی پاس نہ تھا میں اس سے کہا کہ جب تمہارے پاس سفر خرچ نہیں تو کس طرح حج کے لیے جارہے ہو؟اس نے جواب میں کہا؛

وفدت علی الکریم بغیر زاد

من الحسنات والقلب السلیم

فان الزاد اقبح کل شی ء ٍ

اذا کان الوفود علی الکریم

(ترجمہ) میں کریم خدا کے حضور بغیر کسی زاد راہ کے جارہا ہوں صرف سالم دل میرا زادراہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی سخی کے ہاں مہمان بن کر جائے تو اپنا سفر خرچ اور کھانا ساتھ لے کر جانا بہت ہی غیر مناسب بات ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.