hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

میری صحت یابی حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی کھلی کرامت

میری صحت یابی

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی کھلی کرامت

مولانامنظوراحمدچنیوٹی

جنرل سیکرٹری ، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ

١٩٥٠ء میں بندہ جب دورہ حدیث اوردیگرعلوم سے فارغ ہواتودورہ تفسیرکے لئے اپنے محسن ومربی استاذ حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ سے مشورہ کیاکہ تین چارجگہ دورہ تفسیرہورہاہے مجھے کہاں جاناچاہیے ؟ توحضرت علامہ سید محمدیوسف بنوری رحمة اللہ علیہ نے مشورہ دیاکہ آپ حافظ الحدیث والقرآن حضرت شیخ درخواستی قدس سرہ العزیز کے ہاں دورہ تفسیر پڑھیں ۔ حضرت استاذمکرم کے مشورہ سے ایک دوساتھی لے کربندہ خانپور حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوگیا، حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ نے روانگی کے وقت مجھے فرمایاکہ اگرموقع مل جائے توحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے معلوم کرناکہ جب انہوں نے استخارہ کیاتھاکہ مجھے اس مرتبہ مدینہ منورہ رہناچاہیے یاپاکستان واپس جاناچاہیے توحضورۖ نے کیاارشاد فرمایاتھا؟ حضوراکرمﷺ کے اصل الفاظ کیاتھے ، کیونکہ لیڈروں اورخطیبوں سے جوالفاظ حضورۖ کی طرف منسوب سن رہے ہیں وہ توحضورۖ کے نہیں ہوسکتے ، آپ حضرت سے صحیح الفا ظ پوچھ کرمجھے لکھنا۔

میری صحت یابی

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی کھلی کرامت

مولانامنظوراحمدچنیوٹی

جنرل سیکرٹری ، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ

١٩٥٠ء میں بندہ جب دورہ حدیث اوردیگرعلوم سے فارغ ہواتودورہ تفسیرکے لئے اپنے محسن ومربی استاذ حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ سے مشورہ کیاکہ تین چارجگہ دورہ تفسیرہورہاہے مجھے کہاں جاناچاہیے ؟ توحضرت علامہ سید محمدیوسف بنوری رحمة اللہ علیہ نے مشورہ دیاکہ آپ حافظ الحدیث والقرآن حضرت شیخ درخواستی قدس سرہ العزیز کے ہاں دورہ تفسیر پڑھیں ۔ حضرت استاذمکرم کے مشورہ سے ایک دوساتھی لے کربندہ خانپور حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوگیا، حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ نے روانگی کے وقت مجھے فرمایاکہ اگرموقع مل جائے توحضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے معلوم کرناکہ جب انہوں نے استخارہ کیاتھاکہ مجھے اس مرتبہ مدینہ منورہ رہناچاہیے یاپاکستان واپس جاناچاہیے توحضورﷺنے کیاارشاد فرمایاتھا؟ حضوراکرمﷺ کے اصل الفاظ کیاتھے ، کیونکہ لیڈروں اورخطیبوں سے جوالفاظ حضورﷺکی طرف منسوب سن رہے ہیں وہ توحضورﷺکے نہیں ہوسکتے ، آپ حضرت سے صحیح الفا ظ پوچھ کرمجھے لکھنا۔

عیدگاہ کے برآمدہ میں حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ پڑھایاکرتے تھے ، سخت گرمی کاموسم تھارات کوبرآمدہ کی تپتی ، سلگتی چھت پربغیر چارپائی کے ہم سوتے تھے ، چنددن امتحان لینے کے بعد حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے ازراہ شفقت چارپائی کاانتظام فرمادیا کہ آپ امتحان میں پورے اترے ہیں ، الحمدللہ ۔

حضرت کاطریقہ کاریہ تھاکہ پہلے ہرسورت کاموضوع بتلاتے ، مثلاًسورہ بقرہ کاموضوع ”اصلاح الیہود ”۔اسی طرح سورہ آل عمران کاموضوع ”اصلاح النصاریٰ ”پھرہررکوع کاعلیحدہ موضوع بیان فرماتے پھراس میں جتنے مضامیں ہوتے ان کوموتیوں کی طرح ایک لڑی میں پردہ دیتے ہرسورت کے ساتھ ربط پھرہررکوع کادوسرے رکوع سے ربط پھرہرآیت کادوسری آیت سے ربط بظاہر جن آیات کاآپس میں کوئی ربط نظرنہ آتا۔ حضرت رحمة اللہ علیہ ایساربط بیان فرماتے کہ ہم حیران رہ جاتے ، بندہ کچھ زود نویس تھا سنتابھی رہتااورساتھ ساتھ لکھتابھی جاتا، میری تحریر کردہ دوضخیم جلدوں میں کاپیاں میرے پاس موجود ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ سے دورہ تفسیر پڑھنے کے بعدقرآن کے تمام مضامین واضح ہوئے اورمعلوم ہواکہ الحمدکی ”الف ”سے والناس کی ”س”تک قرآن مجید کس طرح ایک مربوط کتاب ہے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اپنے دور کے عالم باعمل ، ولی کامل اوراسلاف کی پوری یادگار تھے ، آپ ”بقیة السلف اورحجة الخلف ”تھے لیکن حفظ احادیث کی وجہ سے ”حافظ الحدیث ”آپ کاخاص لقب مشہورتھا اورمیری اپنی ناقص معلومات کے مطابق حضرت درخواستی رحمة اللہعلیہ پوری دنیامیں واحد”حافظ الحدیث”تھے ۔ جس قدر احادیث کاذخیرہ آپ کودیاتھا، آپ کے ہم پلہ اورکوئی ایسی شخصیت اس دورمیں دوردورتک کوئی نہ تھی ۔ حرمین شریفین میں جب علماء عرب کے سامنے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ احادیث سناتے تووہ دم بخود رہ جاتے اورتعجب کرتے کہ ایک عجمی عالم کواس قدر احادیث یاد ہیں ، اس باب میں حضرت رحمة اللہ علیہ اپنی مثال آپ تھے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کے نادرواقعات ، مشاہدات ، کرامات توبے شمار ہیں جواہل قلم حضرات تحریر فرمادیں گے ۔

”قلندرہرچہ گوید دیدہ گوید”

بندہ اپنے ذاتی مشاہدہ کے ایک دوواقعات قارئین کی دلچسپی کے لئے ان کی خدمت میں پیش کرتاہے ۔ لیکن واقعات پیش کرنے سے قبل حضرت کے استخارہ میں حضوراکرم ۖ کے الفاظ بھی سن لیں جن کے دریافت کرنے کاحضرت بنوری رحمة اللہ علیہ نے مجھے حکم دیاتھا۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک دن سبق سے فارغ ہوکر گھرتشریف لے جانے لگے توبندہ بھی پیچھے ہولیا۔ حضرت نے دیکھ کردریافت فرمایاکہ دیوانہ کدھرآرہاہے ، میں نے حضرت سے عرض کیاکہ حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ نے مجھے حکم دیاتھا کہ آپ سے دریافت کروں کہ جب آپ نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے ارادہ سے استخارہ فرمایاتوحضوراکرم ۖ نے کیاارشاد فرمایاتھاتوحضر ت درخواستی نے فرمایاکہ دولفظ تھے ۔

”اذھب ثم ارجع” اب جائو پھرآنا۔

اب یہ الفاظ جب خطباء اورمقررین تک پہنچے توانہوں نے اپنے پاس سے کئی خطیبانہ اضافے کرلئے اورسب حضوراکرم ۖ کی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ حضورۖ نے یوں فرمایااور

من کذب علی متعمدافلیتبوامقعدہ من النار

کامصداق بنتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کومعاف فرمائیں اوردیگرحضرات سے گزارش ہے کہ وہ بھی حضورۖ کی طرف نسبت کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیاکریں تاکہ وہ بھی اس حدیث کامصداق نہ بن جائیں ۔ امام العصر حضرت سید انور شاہ کشمیر ی رحمة اللہ علیہ تویہاں تک فرمایاکرتے تھے کہ جوطالب علم حدیث کی عبارت غلط پڑھتاہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ بھی کہیں اس وعید میں شامل نہ ہوجائے ۔ اکثرمقررین وخطباء اس کی احتیاط نہیں کرتے اوراپنے پاس سے جملے منسوب کرتے رہتے ہیں ۔ حضرت علامہ بنوری رحمة اللہ علیہ چونکہ خود بہت بڑے محدث تھے اوربڑے محتاط تھے اس لئے انہوں نے کچھ خطباء اورمقررین سے سناتھا ، وہ فرماتے تھے کہ یہ الفاظ حضورۖ کے نہیں ہوسکتے ، مجھے اصل الفاظ معلوم ہونے چاہیں ۔ چنانچہ حضرت درخواستی نے جب مجھے یہ دولفظ بتائے تومیں نے حضرت بنوری رحمة اللہ علیہ کوخط میں تحریرکردئیے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ایک کھلی کرامت:

فروری ١٩٩٣ ء میں بندہ کاگوجرانوالہ سے لاہور جاتے ہوئے شدیدایکسیڈنٹ ہوا۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کے پانچوں سوارموقع پرہی جاں بحق ہوگئے جبکہ بندہ اپنے ہمسفرساتھیوں سمیت شدید ترین زخمی ہوگیا، ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ، سرپرشدید چوٹیں آئیں ، بڑی مقدار میں خون بہہ گیا، حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی بلکہ رقیبوں نے مشہورکردیاکہ منظوراحمدچنیوٹی انتقال کرگئے ۔ میرے مہربانوں نے خوشیاں منائیں چناب نگر(ربوہ ) میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اوراسکولوں میں چھٹی کردی گئی ۔ مجھے پہلے جنرل اورپھر سروسز ہسپتال میں داخل کیاگیالیکن جناب جسٹس (ر)رفیق احمدتارڑ سابق صدرپاکستان جواس وقت سپریم کورٹ جج تھے کوپتہ چلاتووہ مجھے تیسرے دن میوہسپتال لے آئے جہاں ڈاکٹرمنیرالحق صاحب ایم ایس تھے ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ بھی ان دنوں علیل تھے اورمیوہسپتال میں زیرعلاج تھے ، آپ کوگورنر کے لئے مخصوص رکھاگیاکمرہ دیاگیاتھاجبکہ مجھے وی آئی پی روم میں رکھاگیا۔ میرادوران ایکسیڈنٹ کافی خون بہہ چکاتھا، کمزوری بہت تھی ، کئی روز تک آپریش نہ ہوسکا ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوپتہ چلا توصاحبزادہ مولانافضل الرحمن درخواستی کوروزانہ مزاج پرسی کے لئے بھیجتے ۔ میرے پیٹ میں کوئی چیز نہیں ٹھہرتی تھی ، ذراسی چیزڈالی توفوراقے آجاتی ، بڑی کوشش کی گئی کوئی دوائی وغیرہ بھی اندرنہ ٹھہرتی تھی ۔ا سی وجہ سے کئی روز سے قضائے حاجت بھی نہیں ہوئی تھی۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ ایک روز خود عیادت کے لئے تشریف لائے میں نے دونوں شکایتیں ذکرکیں توآپ دیر تک کچھ پڑھتے رہے ، دم کیااوردعافرمائی ۔ اس ناچیز کی دل جوئی کیلئے چاروں سلسلوں میں اجازت بھی مرحمت فرمائی اورسبز چادر عنایت فرمائی ورنہ”من آنم کہ من دانم ”والامعاملہ ہے ۔ بس یہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی ذرہ نوازی تھی یادل جوئی بندہ تواپنے آپ کوقطعا اس کااہل نہیںپاتااورنہ ہی الحمدللہ اس غلط فہمی کاشکار ہے ۔ حضرت والاکی زندہ کرامت جو دیکھی کہ اس روز قے بندہوگئی ، کچھ نہ کچھ کھایاجانے لگااوراجابت بھی ٹھیک ہوتی گئی ، میں توسمجھتاہوں کہ یہ حضرت درخواستی کے دم کااثرتھا۔

میرے معالج ڈاکٹر صاحب اوردیگر ڈاکٹرحیران تھے کہ کوئی دوائی کارگرنہ ہوئی لیکن حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی دعاء اوردم دسے دونوں تکلیفیں رفع ہوگئیں ۔ کروڑوں رحمتیں ہوں آپ پر، حضرت اقدس رحمة اللہ علیہ کی جامع صفات ، جامع کمالات شخصیت کی وفات حسرت آیات پرجس سے دینی طبقہ میں وہ خلاپیداہواہے جس کاپرہونا بظاہر ناممکنات میں سے ہے ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Leave A Reply

Your email address will not be published.