hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

قائد کاروان حق وراستی ……حضرت درخواستی

قائد کاروان حق وراستی ……حضرت درخواستی

تحریر ……(مولانا) محمد عرفان اللہ اختر

قطب زمان شیخ الاسلام حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی نوراللہ مرقد ہ کو آج ہم سے بچھڑے سولہ (١٦) برس ہوگئے مگر ان کی یادیں ہنوز باقی ہیں۔ آپ کی ہستی عظیمہ علوم معارف کاخزینہ اوراسراروحکم کاآئینہ تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے فہم قرآن وحدیث کا عجب ملکہ عطا کیا تھا ان کی صحبت اور درس میں بیٹھ کر اکابر اسلاف کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔

 

قائد کاروان حق وراستی ……حضرت درخواستی

تحریر ……مولانا محمد عرفان اللہ اختر

قطب زمان شیخ الاسلام حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی نوراللہ مرقد ہ کو آج ہم سے بچھڑے سولہ (١٦) برس ہوگئے مگر ان کی یادیںہنوز باقی ہیں۔ آپ کی ہستی عظیمہ علوم معارف کاخزینہ اوراسراروحکم کاآئینہ تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے فہم قرآن وحدیث کا عجب ملکہ عطا کیا تھا ان کی صحبت اور درس میں بیٹھ کر اکابر اسلاف کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔

٭آپ کا فہم قرآنی اورربط قرآنی ہمیں ملک حسین علی رحمةاللہ کی یاد دلاتا تھا۔

٭آپ کاتبحر فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمةاللہ کی یاد دلاتا تھا۔

٭آپ کا بے مثال حافظہ مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمةاللہ کی یاد دلاتا تھا۔

٭آپ کاسلوک وتصوف میں انہماک حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانو ی ر حمةاللہ کی یاددلاتا تھا۔

٭آپ کی مجاہدانہ زندگی شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی رحمةاللہ کی یاددلاتی تھی۔

٭آپ کا جمال اپنے مرشد خلیفہ غلام احمد دین پوری رحمةاللہ کی یاددلاتا تھا،اور آپ کا جلال اپنے مربی مولانا تاج محمود امروٹی رحمةاللہ کی یاددلاتا تھا۔

آپ کی پیدائش بروز جمةالمبارک ماہ محرم الحرام (٧ ١٨٩)میں ہوئی۔گیارہ سال کی عمر میں آپ نے قرآن مجید حفظ کیا۔ اپنے علاقہ ہی کے کھنڈروالے مدرسہ میں زیر تعلیم رہے۔٭چھ سال مولانا خلیفہ غلام محمد کی صحبت میں دین پور میں رہے۔ایک سال مولاناغلام رسول پونٹوی اور مولانا حسین علی کے ہاں پڑھتے رہے۔حافظہ اور زہانت آپ کو وراثت میں ملی تھی۔جس چیز کوایک بار پڑھ لیتے کبھی نہ بھولتے آپ کے والد محترم نے آپ کی مضبوط علمی استعداد کودیکھتے ہوئے ١٩١١ میںآپ کی دین پور شریف کی درسگاہ میںداخل کرایا۔اس وقت میاں عبدالہادی دین پوری درجہ حفظ میں تھے۔یہاں مایہ نازمحدث مولانا غلام صدیقی ،حاجی پوری(خلیفہ مجاز حضرت تھانوی)مولانا عبدالغفور(شاگرد خاص حضرت شیخ الہند)جیسے یکتا روزگار اور فرشتہ صفت شخصیات مسنددرس وتدریس پرجلوہ افروز تھیں۔حضرت درخواستی جلد ہی اپنی مظبوط علمی استعداد اور جذبہ شوق کی وجہ سے تمام اساتذہ کرام کی توجہات کامرکز بن گئے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ حضرت قطب الاقطاب خلیفہ غلام محمددین پوری کے چشمہ نور ہدایت سے اپنی مجذوبانہ پیاس بھی بجاتے رہے مگر پیاس ایسی نہ تھی کہ بجھ جاتی،بلکہ روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔مرشد ومربی حضرت دین پوری آپ سے بے حد محبت اورشفقت کامعاملہ فرماتے۔حضرت کو ابتداء ہی سے احادیث نبویہ یاد کرنے کااز حد شوق تھا۔آپ کامعمول تھا کہ روزانہ اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ حضرت دین پوری پوچھتے”مولوی عبداللہ آج کیا پڑھاہے؟”

جواب میں آپ چند احادیث نبویہ بمعہ ترجمہ سناتے تو حضرت دین پوری پروجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ،اور آنکھیں پرنم ہوجاتی،اور اسی حالت میں وہ آپ کی ترقی حافظہ، اور درازی عمرکی خصوصی دعا فرماتے۔

وسعت دل ہے بہت وسعت صحر کم ہے

حصول وتکمیل تعلیم کے بعد حضرت درخواستی نے اپنی زندگی تدریس ودین کی خدمت کیلئے وقف کر دی،آپ نے بہت سے علم کے پیاسوں کی قرآن وحدیث سے پیاس بجائی اورہزاروں شاگر د پیدا کیے،جنو ں نے ملک وبیرون ملک علم دین کی شمعیں روشن کیں۔جن میں سب سے اول شاگرد اور جانشینی کا حق ادا کر نے والے آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا فد ا ء لرحمٰن درخواستی صاحب (مہتمم جامعہ انوار القرآن کراچی) اور آپ کے نواسے شخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی نوراللہ مرقدہ (بانی جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور) ٹھہرے۔مولا نا شفق الرحمٰن درخواستی ،جنہوں نے عرصہ تک حضرت درخواستی کے ساتھ ان کی سرپرستی میں بیٹھ کر درس حدیث دیا۔ اور بعد میں آپنے جامعہ میں حضرت درخواستی کے علمی وعملی فیض سے طالبین کونوازتے ہوئے اپنے شیخ کے پہلومیں جاسوئے۔حضرت درخواستی ملک وبیرون ملک میںہزاروں مدارس وجامعات کی بنیادیں رکھ کر سرپرستی فرماتے رہے،جن میں جامعہ مخزن العلوم خانپور اورجامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور سر فہرست تھے۔

حضرت درخواستی کی سیاسی خدمات کی الگ تفصیل ہے۔ آپ جب جمعیت علماء اسلام کے امیر بنے تو اپنے ٢٣ سالہ دورامارت میں ایسا تدبرانہ طریقہ اپنایا کہ پورے ملک کے علماء کرام کا اعتماد آپ کو حاصل رہاآپ جو بھی فرماتے اس پر بغیر ہچکچاہٹ تمام اراکین سر تسلیم خم کرتے باصلا حیت کارکنوں پر خصوصی نظر رہتی ، کا رکنوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کر نے کا بھی بھر پورموقع میسر آتا آپ نے جب کاروان حق وراستی کی قیادت سنبھالی تو اس وقت مولانا غلام غوث ہزاروی جمعیت علماء اسلام کے ناظم عمومی تھے۔دونوں بزرگوں کاآپس میں گہرارابطہ اورایک دوسرے پر بھر پور اعتماد تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی کے بعد مفکر اسلام مولانا مفتی محمود جمعیت علماء اسلام کے ناظم عمومی مقرر ہوئے ان کا حضرت کے ساتھ اس قدر مظبوط تعلق تھا کہ آخر دم تک کوئی بھی مخالف اس میں رخنہ نہ ڈال سکا۔حضرت کو مفتی صاحب کی صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد تھا اور مفتی صاحب بھی حضرت کے ماتحت کام کرنے کو فخر سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے کہ میری کامیابی کے پیچھے حضرت الامیر کے تدبر اوران کی دعائوں کابڑا دخل ہے اور حضرت کے بغیر جمعیت میں رہ کرکام کرنامیرے لیے ناممکن ہے۔تحریک تحفظ ختم نبوت اور جہاد افغانستان کے سلسلہ میں بھی آپ کی گرانقدر سنہری خدمات ہیں کہ جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی اکثر فرمایا کرتے تھے لگتا ہے میری موت ماہ ربیع الاوّل میں واقع ہو گی۔١٩٩٤ میں ماہ ربیع الاوّل کی آمد سے قبل تیز بخارہوا علاج جاری رہا جس کے باعث بخار قدرے اتر گیا۔وفات سے دودن قبل طبیعت کافی نارمل تھی جمعہ کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے اور وعظ بھی فرمایا ہفتہ کے دن بھی طبیعت ٹھیک تھی۔رات ساڑھے بارہ بجے تک گھر والوں کو نصیحتیں فرماتے رہے۔ چہرے پر ایک عجیب ساتبسم تھا۔صبح نماز سے فارغ ہو کر ایک گھنٹہ تک حسب معمول وظائف میں مشغول رہے پھرناشتہ کے بعد دوائی کے لئے پانی طلب فرمایا پانی پیش کیا گیا، مگروہ حلق سے نیچے نہ اترا گو یا رزق موعو پورا ہو چکا تھا۔آپ کے لاڈلے بیٹے مولانا فضل الرحمن درخواستی صاحب نے قریب ہو کر طبیعت کے بارے میں پوچھا آپ نیاپنے لخت جگر پر مسکرا تے ہوئے الوداعی نظر ڈالی منہ سے کچھ نہ فرمایا پھر منہ ایسے کھولا جیسے اللہ کانام لینا چاہ رہے ہوںمگرآواز نہ نکلی اور چہرے کی رنگت بھی بدلنے لگی۔فوراًڈاکٹروں کو بلا یا گیا۔ آخری درد بھری آواز آئی اللہ۔پھر سر مبارک تکیہ پر رکھ کر آرام سے لیٹ گئے،اور اسی حالت میں ابدی نیندسو گئے ۔یعنی ٢٨ اگست١٩٩٤ء ٹھیک صبح سات بجے عمر بھر کی بے قراری کو قرارآہی گیا ۔انااللہ واناالیہ راجعون۔

آپ کے صاحبزادے مولانافضل الرحمن درخواستی صاحب نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔دین پور کے خصوصی قبرستان میں قطب الاقطاب حضرت خلیفہ دین پوری کے قدموں میں تھوڑا دائیںطرف حضرت میاں جی خیر محمد درخواستیاور آپ کے استاد حضرت مولانا عبدالرزاق کے درمیان حضرت درخواستی کی لحد تیار تھیاس لائن میں امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترمدفون ہیں۔تدفین کے بعد جب آفتاب دنیا نے دیکھا کہ علم وعرفان کا آفتاب خاکی نقاب اوڑ ھ کر ہمیشہ کے لئے میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔تو اس نے بھی بادلو ں کی چادراوڑھ لی حالانکہ مطلع صاف تھا۔ اچانک بادل آگئے جب لوگ جامعہ مخزن العلوم کی طرف روانہ ہوئے تو جو نہی جامعہ میںداخل ہوئے آسمان کی قوت برداشت بھی جواب دے گی اور موسلادھارآنسوئوں سے زمین کو بھر دیا۔ خان پور کی سر زمین کے باسی شاہدہیں کہ اس ایک گھنٹہ میں جتنی بارش ہوئی اس سے قبل شائد کبھی نہ ہوئی ہو۔

نہ ساقی ہے نہ مے خنہ… ………نہ محفل ہے نہ پیمانہ

بہاریں لٹ گئیں ساری………… فقط باقی ہے افسانہ

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.