hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

سالارقافلہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ

سالارقافلہ

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ

مفتی جمیل خان صاحب کراچی

قافلہ حریت اورسلسلہ ولی اللّہی کے سرخیل جمعیت علماء اسلام کے امیر استاذ الاساتذہ حافظ الحدیث والقرآن جامعہ مخزن العلوم کے رئیس تحریک ختم نبوت کے سالار، تحریک نظام مصطفی کے قائد جہاد آزادی کے نامور مجاہد عظیم مفسرقرآن علماء حق علماء دیوبندکے مقتدا حضرت الامیر مولانا محمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بھی آخرکار سنت اللہ کے مطابق وقت موعودہ پراس دنیائے فانی سے ١٩ربیع الاول ١٤١٥ھ مطابق ٢/اگست ١٩٩٤ء صبح چھ بجے کے قریب داربقاء کی طرف تشریف لے گئے ۔

 

 

سالارقافلہ

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ

مفتی جمیل خان صاحب کراچی

قافلہ حریت اورسلسلہ ولی اللّہی کے سرخیل جمعیت علماء اسلام کے امیر استاذ الاساتذہ حافظ الحدیث والقرآن جامعہ مخزن العلوم کے رئیس تحریک ختم نبوت کے سالار، تحریک نظام مصطفی کے قائد جہاد آزادی کے نامور مجاہد عظیم مفسرقرآن علماء حق علماء دیوبندکے مقتدا حضرت الامیر مولانا محمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ بھی آخرکار سنت اللہ کے مطابق وقت موعودہ پراس دنیائے فانی سے ١٩ربیع الاول ١٤١٥ھ مطابق ٢/اگست ١٩٩٤ء صبح چھ بجے کے قریب داربقاء کی طرف تشریف لے گئے ۔

اناللہ واناالیہ راجعون

جوبھی اس دنیامیں آتاہے اس نے ایک دن اس دنیاسے ضرورجاناہے یہ اللہ تعالیٰ کاقانون قدرت ہے اورایسااٹل قانون ہے جس سے کوئی راہ فرار اختیار نہیں کرسکتااورنہ کوئی علاج انسان کوحیات جاودانی عطاکرسکتاہے ۔ بس جانے کافرق ہے کسی کے جانے سے آسمان وزمین غمزدہ ہوجاتے ہیں ۔ تاریخ اپنے ابواب بندکرلیتی ہے انقلاب رک جاتے ہیں ۔ا تحاد پارہ پارہ ہوجاتے ہیں دنیااپنے آپ کو بے آسرااوربے سہارامحسوس کرنے لگتی ہے ۔ ایسی شخصیت کی وفات کو”موت العالم ”دنیاکی موت سے تعبیر کیاجاتاہے اوربقول مولاناابوالکلام آزاد موت انسانیت کے دروازے پرپہنچ جاتی ے گویایہ ایک شخص یاایک فرد کی موت نہیں بلکہ انسانیت کی موت قرار پاتی ہے ۔

حضرت مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی موت اوراس دنیاسے تشریف بری بھی اسی انسانیت اورعالم کی موت ہے ۔ آپ کی وفات سے علماء حق کی عظمت کاایک عظیم باب اورعلماء دیوبند کے مشن کاایک بڑاشعبہ بندہوگیا۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی زندگی کااگرہم جائزہ لیتے ہیں توپیدائش سے فرشتہ اجل کے آنے تک اسلام کے لئے جدوجہد اوردین کے لئے قربانی سے مزین نظرآتی ہے اوراسی زندگی کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بشارت عطاء فرمائی ہے ۔

”یہی لوگ ہیں جوہدات پرہیں اپنے رب کی طرف سے اوریہی لوگ ہیں جوکامیاب

ہیں ۔ بے شک اللہ کے دوستوں پرنہ کوئی خوف ہوگااورنہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔”

ایسے ہی افراد اورشخصیات کواسلاف سے تعبیر کیاجاتاہے اورجن کی زندگیوں کومشعل راہ بناکر ملت کامیابی اورترقی کے قدم چومتی ہے اورجن پرقوموں کی تاریخ ہمیشہ نازاں وفرحاں رہتی ہے۔

امیرمرکزیہ حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ محرم الحرام ١٣١٣ھ بروز جمعہ خانپور کے ایک گائوں ”درخواست ”میں پیداہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد حافظ محمود الدین سے حاصل کی بعدازاں دین پور شریف میں تحریک آزادی کے رہنما اوردین پورشریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوری رحمة اللہ علیہ کی نگرانی میں تعلیم وتربیت میں مشغول ہوگئے اطراف میں جومشہوراساتذہ تھے ان سے بھی شرف تلمذ حاصل کیاآپ نے درس نظامی میں درس حدیث کے دوران ایک خصوصیت یہ پیداکی کہ بخاری شریف کوبھی قرآن مجید کی طرح ازبریاد کیاجس کی بناپراساتذئہ کرام نے آپ کو”حافظ الحدیث”کالقب عطاء کیااورآپ کایہ لقب بہت مشہور ہوا۔

تعلیم سے فراغت کے بعدآپ دستور کے مطابق اپنے اساتذہ کرام کی نگرامیں درس وتدریس میں مشغول ہوگئے ۔ درس وتدریس کے ساتھ آپ نے مسلمانوں کوانگریزی حکومت کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے جدجہد آزادی میں حصہ لیناشروع کردیا۔ تحریک ریشمی رومال جوحضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں علماء برصغیر نے حضرت سیداحمدشہید رحمة اللہ علیہ اورحضرت شاہ اسماعیل شہیدرحمة اللہ علیہ کے طرز پرتحریک آزادی کے لئے آغاز کیاتودین پوری رحمة اللہ علیہ کے ہمراہ حضرت شیخ الہندرحمة اللہ علیہ اس تحریک میں بھرپور کرداراداکیابعض خفیہاوراہم ذمہ داریوں کے لئے حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری رحمة اللہ علیہ آپ کاانتخاب فرماتے ۔ اس تحریک میں بارہامرتبہ آپ کوجان کاخطرہ بھی ہوالیکن آپ نے تمام ترقربانیاں دینااپنامذہبی فریضہ تصورکیا۔ مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے گرانقدر کام کیاحضرت شیخ الہندرحمة اللہ علیہ کی تحریک کے بعدآپ کارجحان جمعیت علماء ہندکی طرف گیااورشیخ الاسلام حضرت مولانااحمدمدنی رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں آپ نے جدوجہد آزادی میں بھرپور کرداراداکیا۔ بارہااس سلسلے میں آپ نے گرفتاری بھی پیش کی ۔ قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کاشیرازہ منتشر ہواخصوصاجمعیت علماء ہندسے وابستہ حضرات ایک حیثیت سے لاوارث اورانتشار کاشکارہوگئے ادھر بعض سیاست دانوں رہنمائوں اورقادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اورکانگریس اوربھارت نواز لٹیروں نے ان کاجینادوبھر کردیاتھاتواکثر گوشہ نشینی اوربعض دل برداشتہ ہوکرملک چھوڑنے کی باتیں کرنے لگے تھے اس وقت حضرت شیخ التفسیر مولانااحمدعلی لاہوری رحمة اللہ علیہ ،حضرت مولانامفتی محمدحسن امرتسری رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں مولانا درخواستی رحمة اللہ علیہ نے جمعیت علماء اسلام کوازسرنومنظم کیااوراس سلسلے میں حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی ہدایت پرمغربی پاکستان اورمشرقی پاکستان کے دورے کئے ۔ علماء کرام اوررضاکاروں کوجمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم پرجمع کیا۔ جمعیت علماء اسلام کی تنظیم نومیں مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ اورمولانا عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی کوششیں تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی یہی وجہ ہے کہ جب ایک مرتبہ مفتی محمود رحمة اللہ علیہ کے زمانے میں مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ نے بعض وجوہات کیبناپرجمعیت سے استعفیٰ دیناچاہا تومفتی محمودرحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ اگرآپ جماعت چھوڑیں گے توہم آپ سے پہلے چھوڑیں گے میں صرف اس جماعت کاسیکرٹری جنرل رہوں گاجس کے حضرت درخواستی امیرہوں گے ۔ جمعیت علماء اسلام نے حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں قیام پاکستان کے بعدجب اسلامی نظام کے لئے جدوجہد کی توحضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی ہدایت پرپاکستان کے مختلف علاقوں میں آپ حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی نمائندگی کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔

١٩٦٢ء میں جب حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ اس دنیاسے تشریف لے گئے توحضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کوتمام علماء کرام نے حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کے جانشین کے طورپر جمعیت علماء اسلام کامتفقہ امیربنادیا ۔ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے امیر بنتے ہی مغربی پاکستان اورمشرقی پاکستان کے دورے فرمائے مولانامفتی محمودرحمة اللہ علیہ اورمولاناغلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ کی معیت میں جمعیت علماء اسلام کوبھرپورانداز میں اس طرح منظم کیاکہ جب ایوب خان کی اسلام دشمنی اورآمریت کے خلاف جمعیت علماء اسلام نے جدجہد شروع کی توپورے پاکستان میں جمعیت علماء اسلام کے کارکن سراپااحتجاج بن گئے ۔ نظام شریعت کانفرنس لاہور میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ بعدازاں بہت بڑاجلوس نکالاگیا۔ پولیس نے اندھادھند لاٹھی چارج کیا۔ حضرت مولاناعبیداللہ انوررحمة اللہ علیہ شدیدزخمی ہوئے اورپھریہی تحریک ایوب آمریت کاخاتمہ ثابت ہوئی ۔ اس نظام شریعت کانفرنس میں حضرت مولاناعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی تقریر تاریخی تقریر تھی۔

یحییٰ خان دورمیں جب ٧٠ء کے انتخابات ہوئے توجمعیت علمائے اسلام نے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی قیادت میں مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان میں اکثرنشستوں پربھرپورحصہ لیا۔ سات سیٹوں پرکامیابی حاصل ہوئی اورووٹوں کے تناسب کے اعتبارسے جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان میں دوسرے نمبررہی ۔ مولانامفتی محمود رحمة اللہ علیہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کے منصب پرفائز ہوئے ۔ بھٹودورحکومت میں جب قومی اتحاد قائم ہوا توجمعیت علماء اسلام سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے اس میں شریک تھی اورمولانا مفتی محمود رحمة اللہ علیہ نے واضح اعلان کیاکہ اگرضیاء الحق اسلام کاوعدہ پورانہیں کریں گے توجمعیت علماء اسلام ان کی حکومت کے خلاف تحریک چلائے گی ۔ الغرض جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کی خدمات جلیلہ کاایک طویل باب ہے جس کااحاطہ ایک ضخیم کتاب بھی نہیں کرسکتی۔

قادیانیت کے خلاف جہاد علماء حق کاخاص اعزاز رہاہے طالب علمی کے دورسے آپ نے قادیانیت کے خلاف جدوجہد کاآغاز کیا۔ ٥٣ء کی تحریک میں صف اول کے سپاہی کاکردار اداکیا۔ ١٩٧٤ء میں آپ کی جماعت نے مجلس عمل کی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے آپ کی قیادت میں نمایاں کردار اداکیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بعض اہم اجلاسوں کی آپ نے صدارت بھی فرمائی ۔

دینی تعلیم کی اشاعت کے لئے دارالعلوم دیوبند قائم کرکے جس تحریک کاآغاز کیاگیاتھاعلماء حق نے اس کوجاری رکھاوریہ ان مدارس کی برکت ہے کہ برصغیر میں دینی علوم کیشاعت سب سے زیادہ ہے ۔ حضرت مولانادرخواستی رحمة اللہ علیہ کواس کاخاص شغف تھا۔ آپ جس قریہ اوربستی میں جاتے ان کومدرسہ قائم کرنے کی تلقین فرماتے ۔ آپ کے دست مبارک سے چارہزار سے زائد مدارس کاافتتاح ہوا۔ آپ سینکڑوں مدارس کے سرپرست تھے ۔ آپ کااپناقائم کردہ مدرسہ مخزن العلوم اب جامعہ کی حیثیت اختیار کرگیاہے ۔٦٠سال سے زائد آپ نے درس حدیث دیا۔ تعلیمی میدان میں آپ کی خصوصیت تفسیر قرآن کاخصوصی کورس تھا۔ شعبان المبارک اوررمضان المبارک دوماہ میں آپ علماء کرام کے لئے خصوصی درس دیتے تھے اوران کوقرآن مجید کی تفسیری اسلوب پڑھایاکرتے تھے ۔ اس کورس میں سینکڑوں علماء کرام پاکستان ، بنگلہ دیش، افغانستان ، ہندوستان ، عرب ممالک ، افریقی سے آکر شریک ہوتے تھے اس طرح آپ کے ہزاروں شاگردپوری دنیامیں تفسیرقرآن کے درس میں مشغول ہیں ۔ظاہری علوم کے ساتھ باطنی علوم اورروحانی تربیت بھی فرماتے تھے ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ نے حضرت خلیفہ غلام محمددین پوری رحمة اللہ علیہ سے سلوک کے منازل طے کئے اوراصلاح باطن کی تکمیل کی آپ کوان کی طرف سے چاروں سلسلوں میں دستارخلافت عطاء کی گئی ۔ اس سلسلہ میں آپ کے مرید ملک اوربیرون ملک تزکیہ نفس میں مصروف ہیں ۔ آپ کوکئی دفعہ حج اورباربار عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی ۔

آج حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ کی رحلت جمعیت علماء اسلام ، دینی مدارس ، مجلس تحفظ ختم نبوت اورتمام دینی جماعتوں کے ایک عظیم سانحہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اللہ رب العزت حضرت کوجنت فردوس میں جگہ عطافرمائے اورآپ کے پسماندہ ، معتقدین ،متوسلین ، مریدین اورہم سب کوصبرجمیل عطافرمائے ۔(آمین)

٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.