hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حضرت درخواستی نوراللہ مرقدہ کاذوق حدیث :

اللہ تعالیٰ نے حافظ الحدیث حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوجوعلوم نبوت کاذوق عطافرمایاتھاوہ اس میں اپنی مثال آپ ہی تھے ، فرمایاکرتے تھے کہ جب تک میں حدیث کامتن نہ پڑھوں اس وقت تک حدیث بیان کرنے میں مجھے لطف نہیں آتا۔ گھنٹوں گھنٹوں احادیث کامتن پڑھ کرسامعین کومحظوظ فرماتے ، یوں محسوس ہوتاکہ آپ ۖ کادورواپس لوٹ آیاہے اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث مبارکہ سنارہے ہیں ۔

آپ اندازہ لگائیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی ۖ میں بیٹھ کراحادیث مبارکہ پڑھناشروع فرمائیں ، آپ اپنے خاص انداز سے درس حدیث میں مشغول تھے توایک مصری عربے بے ساختہ بول اٹھا:

یااھل المدینة !کنتم مارأیتم اباھریرہ؟ فھذااباھریرة

اے مدینہ والو!تم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دیکھناہے توآئو آج مدینہ کی سرزمین پرابوہریرہ کودیکھ لو۔ ساری دنیامیں علم عرب سے پہنچاہے مگرآج سرزمین عرب پرایک عجمی حدیث سنارہے ہیں اورقرآن سنارہے ہیں ۔

صاحب کنزالعمال نے اپنی تصنیف میں ج ١٠، ص ٢٩٤پرامام الانبیاء ۖ کایہ فرمان نقل کیاہے :

اللھم ارحم خلفآئی قیل ومن خلفائک یارسول اللہ قال الذین یاتونمن بعدی ویرؤون احادیثی ویعلموھاالناس

اے اللہ !میرے خلفاء پررحمت نازل فرما، عرض کیاگیاآپ کے خلفاء کون ہیں ؟ فرمایاجومیری احادیث کی روایت کرنے والے ہیں ، وہ میرے خلفاء ہیں ۔

غالباً ١٩٧٩ء کی بات ہے حج سے واپسی پرجب حضرت درخواستی مرقدہ جامعہ انوارالقرآن کرچی میں تشریف لائے ، جوکہ کراچی والوں پرحضرت حافظ الحدیث کابہت بڑااحسان ہے کہ جامعہ انوارالقرآن کی سنگ بنیاد رکھ کراپنی یاد گارچھوڑگئے اوراس لگائے گئے پودے کے سائے آج پوری دنیامیں پھیل گئے ہیں ۔اندرون سندھ(پتھورو) میرپورخاص ، حیدرآباد بلکہ پورے ملک اوربیرون ملک افریقہ ، آسٹریلیا، فجی ، کنیڈا، جرمنی ، لندن ، سعودی عرب وغیرہ وغیرہ میں جانشین حافظ الحدیث حضرت مولانافداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم العالیہ اپنی علمی مجالس سے دین کے پیاسوں کوفیض حافظ الحدیث سے سیراب کررہے ہیں ۔

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی جامعہ انوارالقرآن میں آمد ہوئی تواحقربھی حاضرخدمت ہوا، میرے پہنچنے سے قبل علماء کی خاصی تعداداپنے محبوب ومرشد کے ارشادات سننے کے لئے پہلے سے موجود تھی ۔ حضرت کی مسندعلم کے امین جانشین حافظ الحدیث حضرت مولانافداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم کے حکم پرآنے والے احباب کوزمزم پلایاجارہاتھااورمولانافضل الرحمن درخواستی ، مولانامطیع الرحمن الرحمن درخواستی ، قاری اللہ داد ، مولانافیض اللہ آزاد اوربہت سارے علماء تھے میں نے دیکھاکہ چاند اپنے ستاروں میں ، آقا اپنے غلاموں میں ، استاد اپنے شاگردوں میں ، شیخ اپنے مریدوں میں بیٹھاہواتھاگویاشیخ یوںفرمارہے تھے کہ

جو میرے دل میں ہے اسے اپنے دل میں سمجھ لیجئے گا

دلوں ، دلوں میں ہی ہو جائے فیصلہ دل کا

حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ اپنے علوم سے محفل کوگرمارہے تھے فرمایاکہ عاشق اپنے محوب کا کلام سننے سے بہت خوش ہوتاہے ، کھانے کے دوران اگرمحبوب کاخط مل جائے تواس کے شوق سے کھاناچھوڑدیتاہے ۔ یہ توہم عام انسانوں کاحال ہے کہ اسے یہ لذت ملتی ہے ، اورجواصل محبوب ۖ ہیں توجوان کاکلام سنتااورپڑھتاہے اسے کتنی لذت اورتازگی ملتی ہوگی ۔ بس یہ فرماناتھاکہ سامعین پروجد طاری ہوگیا۔ سب اہل دل کے قلوب بے ساختہ سبحان اللہ کہہ اٹھے ، کلام محبوبس ے لذت حاصل کرنا، یہ کتنی بڑی سعادت کی بات ہے یہ حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کااھادیث سے کمال عشق تھا۔

فداہوں آپ کی کس کس اداپر

ادائیں لاکھ اور بے تاب دل ایک

یہ یادیں میرے لئے زندگی کاسرمایہ ہی نہیں بلکہ متاع آخرت بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ان یادوں کوایک ایسے وثیقے کے طورپرقبول فرمالے گاجومجھ جیسے گنہگار کے لئے دخول جنت کاضامن ثابت ہوگا۔ اس کی رحمت سے کیابعید ہے کہ وہ اپنے محبوب ومقرب بندے سے وابستہ ان یادوں کومیرے اعمال نامہ میں سرفہرست لکھ کرمجھے جہنم سے رہائی کاپروانہ عنایت فرمادیں اورمیں خوشی سے پھولانہ سمائوں اورکہتاپھروں کہ یہی میراسرمایہ ہیاوریہی میری متاع ہے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کوعجیب خصوصیات سے نوازاتھا ، آدمی کتنابھی پریشان ہوتا، تھکاہواہوتا، حضرت کے محفل میں آتاتوساری پریشانی ختم ، ساری تھکاوٹیں ختم ، ساراغم کافور ہوجاتا۔

ایک مرتبہ خانپور جامعہ مخزن العلوم میں حاضری ہوئی میرے ساتھ خیرپور سے ایک قافلہ بھی گیاتھا۔ ایشیاء کے عظیم خطیب امیر شریعت سید حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ کی اہلیہ محترمہ کاانتقال ہواتھا، اللہ کی شان دیکھیں جس مکان سے حضرت امیر شریعت کاجنازہ اٹھاتواستقامت وامتنانت کے اس پہاڑ کی میت بھی اسی مکان سے اٹھی اوراس حقیر کواللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بخشی کہ اس مکان کوبھی دیکھااورآنے والے ان سعادت مندوں میں شامل ہوگیاجن کی آہیں اورسسکیاں اپنی روحانی ماں کوالوداع کررہی تھیں ۔

واپسی پرخانپور حاضری تھی خوش قسمتی کہئے یاقدرت کی کرم نوازی سمجھ لیجئے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ جامعہ میں تشریف فرماتھے ، حضرت کودیکھ کردل کی عجیب کیفیت ہوگئی ، ایسامحسوس ہورہاتھاکہ گویارحمت کاآبِ حیات قلب پربرس رہاہے ۔ شیخ درخواستی کی نگاہ اپنے خادم پرپڑی توفرمایا۔

”خیرپوری خیرسے آیاہے ۔”

یقین جانئے کہ شفقت ومحبت بھرے حضرت کے ان الفاظ کی وہ لذت آج بھی محسوس کرتاہوں ۔

کہاں سے لائوں یہ گوہر نایاب

بس حضرت کے انوارات بھرے چہرے کی طرف نگاہ اٹھائی توسفرکی ساری تھکاوٹ ختم ہوگئی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.