hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حضرت درخواستی کاانداز خطاب:

غالباً ١٩٩٨ء میں جامعہ فاروقیہ کے فضلاء جامعہ میں تین روزہ پروگرام تھاجس میں ملک بھرسے نامورعلماء کرام ، خطباء کرام اورقراء کرام تشریف لائے تھے ۔ میرے طالب علمی کے وہ دن آج بھی مجھے یاد ہیں ۔ ١٩٧٥ء کی تین روزہ خلافت راشدہ کانفرنس اور ١٩٧٨ء کی کی دستار فضلاء کانفرنس جن میں حضرت درخواستی کاوہ خطاب مجھے نہیں بھولتا، مجھے ایسامحسوس ہوتاتھاکہ علم وفضل کابحربیکراں موجزن ہے ۔ جب احادیث بیان فرماناشروع کی توعلم وحکمت کی یہ محفل ایک عجیب سرور حاصل کررہی تھی ۔ ایمان کیا س باغ میں رحمت کی ہوائیں چل پڑیں ایسامحسوس ہورہاتھاکہ آسمان سے تائید ونصرت کاسکینہ نازل ہورہاہے اورسامعین دم بہ خود بیٹھے ہیں ۔ ہرطرف سے ”سبحان اللہ سبحان اللہ ”کی حیات آفریں آواز آرہی ہے ۔ رات کی تاریکی رخصتی لے رہی ہے ، مگریہ ہردل عزیز خطیب اپنے موتی بکھیر رہاتھا، اللہ کے بندوں کی اصلاح کاغلبہ اس قدرتھاکہ جب بھی کوئی بیان فرماتے ، انتہائی دل سوزی سے فرماتے اورحضرت کے الفاظ شبنم کے ٹھنڈے قطروں کی طرح دلوں پرپڑتے اوراثرانگیزی کایہ عالم ہوتاکہ ساری ساری رات بیان ہوتامگرسامعین کی دل کی پیاس پوری نہ ہوتی ۔ طرز تخاطب ہی اس قدرنفیس ، حسین ، دلنشین ہوتاکہ ہرآدمی ہرہربول پرسبحان اللہ کہتا۔ اس لئے کہ وہ الفاظ سادے ہوتے مگرمخاطب کے دل پراثر کرجاتے ۔

ہمارے حضرت حافظ الحدیث نوراللہ مرقدہ کیاتھے ؟:

ہمارے حضرت حافظ الحدیث اقوام عالم کے لئے مینارہ نورتھے ، جوانسانیت وشرافت کے اعلیٰ مقام پرفائز تھے ۔ جوگلستان علم کواپنے وجود مسعود سے باغ وبہاربنادئیے تھے ۔ ایوان عمل ان کے نورانی اعمال سے جگمگااٹھتاہے ، وہ خود شمع کی مانند پگھل کردوسروں کوروشنی بخشتے تھے ۔ جوخودبے قراررہ کردوسروں کوسکون وچین کی دولت سے مالامال کرتے ، جن کے دیکھنے سے خدایاد آتااورجب بولتے توان کے منہ سے موتی جھڑتے اورجب خاموش ہوتے تووقاروسکینت کااعلیٰ نمونہ ہوتے ، جن کی ہردھڑکن کے ساتھ لاکھوں دل دھڑکتے تھے ، حضرت درخواستی رحمة اللہ علیہ کی اس دنیاسے رخصتی سے انسانیت کاایک باب بندہوگیا، صرف ایک چیز نہیں جسے بیان کیاجائے یہاں جب نگاہ ڈالتے ہیں توپورے عالم کاباب بندنظرآتاہے ۔ انکساری کی جدائی نظرآتی ہے ، شرافت ونجابت کی رخصتی نظرآتی ہے ۔ انسانیت وسیادت ، غیرت وحمیت کافقدان نظرآتاہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.