hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

اردو ہفت روزہ ” اخبار جہاں ” کا تعزیتی خبر نامہ

ممتاز عالم دین جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر

مولانا عبداللہ درخواستی کی دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی

اردو ہفت روزہ ” اخبار جہاں ” کا تعزیتی خبر نامہ


کالم نگار اخلاق احمد

برصغیر کے معمر ترین عالم دین اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی طویل علالت کے بعد ہفتہ 28 اگست کی صبح سات بجے اپنے آبائی شہر خان پور ضلع رحیم یار خان میں انتقال فر ما گئے ۔

ان للہ و انا الیہ راجعون

ان کی عمر 103 برس تھی۔ مولانا محمد عبداللہ درخواستی مولانا احمد علی لاہور کے بعد 1962 سے اب تک یعنی لگ 32 برس سے جمیعت علمائے اسلام کے امیر چلے آرہے تھے ۔

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کو پیر کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں دین پور شریف کے تاریخی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ حضرت درخواستی کی نماز جنازہ گورنمنٹ نارمل اسکول کے گرائونڈ میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ نماز جنازہ مولانا درخواستی کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن درخواستی نے پڑھائی اس مقوع پر وفاقی وزیر میرا فضل خان ، سینیٹر حافظ حسین احمد ، مولانا فضل الرحمن ، مولانا سمیع الحق اور مولانا اعظم طارق کے علاوہ مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے شیخ الحدیث مولانا سیف الرحمن المہند ، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ، مولانا محمد اجمل خان ، مولانا محمد اجمل قادری ، مولانا سراج احمد دین پوعر ، مولانا جمیل الرحمن اختر، مولانا عبدالستار کے فیصلے کے مطابق دن 10 بجے تک مولانا کے سوگ میں کارو بار بند رہا ۔ ہر مکتبہ فکر کے افراد نے جنازے میں شرکت کی ۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے ۔ ہر مکتبہ کے افراد نے جنازے میں شرکت کی ۔

اس موقع پر مولانا محمد اجمل قادری نے دو اہم اعلانات کئے جن کے مطابق مولانا درخواستی کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے جانشیں ہوں گے جن کی آئندہ جمعہ خان پور میں ملک بھر کے علماء اور جمعیت علماء اسلام کے اراکین کی موجودگی میں دستار بندی کی جائے گی دوسرے اعلان کے مطابق مولانا فضل الرحمن درخواستی جامعہ مخزن العلوم خان پور کے مہتمم ہوں گے ۔

صدر اور وزیر اعظم نے ممتاز عالم دین اور جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا عبداللہ درخواستی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہا ر کیا ہے ۔ مولانا درخواستی کے صاحبزادوں کے نام اپنے تعزیتی پیغامات میں صدر فاروق لغاری اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ان کے انتقال کو نا قابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ یار رکھی جائیں گی ۔ وہ عالم اسلام کے ایک ممتاز اسکالر تھے ۔

چئیر مین سینٹ وسیم سجاد نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا عبداللہ درخواستی کو اسلام کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں ان کی شاندار خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ برصغیر کی روحانی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ سینٹ کے ڈپٹی چئیر مین میر عبدالجبار نے اپنے اپیغام میں کہا کہ اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں مولانا عبداللہ درخواستی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔

صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ آفتاب احمد خان شیر پائو نے مولانا عبداللہ درخواستی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور ملک میں اسلامی اقدار کی سر بلندی کے لئے مولانا درخواستی کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

جمعیت علماء اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے بھی حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اسے ملک و قوم کے لئے ایک عظیم نقصان قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا درخواستی نے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور پاکستان میں قرآن و سنت پر مبنی معاشرے کے قیام کے لئے جو خدمات انجام دی انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا سمیع الحق نے مولانا درخواستی کے سانحہ ارتحال کو علم و دین کی دنیا کا نا قابل تلافی نقصان قرار دیا ہے اور کہا کہ حضرت مولانا درخواستی کی وفات سے ایک عہد ایک تاریخ کا خاتمہ ہو گیا ۔ انہوں نے تقریباً پون صدی تک قرآن و سنت کی نشرو اشاعت اور اسلامی سیاست کا علم بلند کئے رکھا ۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا احمد علی لاہوری کی وفات سے اب تک ان کی نگرانی میں جمعیت علمائے اسلام نے ملکی سیاست میں مٔوثر کردار ادا کیا ۔ انہوں نے جمیعت علمائے اسلام کی قیادت کی نازک اور عظیم ذمہ داری کا بوجھ نا چیز کے کندھوں پر ڈالا اور الحمدللہ ان کے مشن پر چلتے ہوئے ان کی وفات تک میں نے ان کے اعتماد کو مجروح نہیں کیا ۔

جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر چوہدری رحمت علی قائم مقام امیر چوہدری رحمت الٰہی ، نائب امراء خرم مراد ، چوہدری محمد اسلم سلیمی ، مولانا جان محمد عباسی ، پروفیسر غفور احمد، پروفیسر سینیٹر خورشید احمد، سیکریٹری جنرل سید منور حسن ، امیر جماعت اسلامی پنجاب حافظ محمد ادریس اور جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے صدر شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک نے مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی وفات پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میںجماعت کے رہنمائوں نے مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی دینی اور علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت و بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔

ممتاز افغان رہنما مولوی جلال الدین حقانی ان کے نائب مولوی نظام الدین حقانی اور مشیر خاص یعقوب شریعت یار نے مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لئے مغفرت اور لواحقین کے صبیر جمیل کی دعا کی ۔ دریں اثناء جمعیت اہلحدیث کے جنرل سیکریٹری و سینیٹر پروفیسر ساجد میر اور مرکزی رہنما قاری عبدالوکیل نے بیرون ملک سے ٹیلیفون پر تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی دینی خدمات کو ملت اسلامیہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی ۔

ان کی وفات ایک بہت بڑی کتاب کے بند ہونے کے مترادف ہے ۔

مولانا عبداللہ درخواستی نے سوگواروں میں 8 صاحب زادے ، 6 صاحبزادیاں اور ایک بیوہ چھوڑی ۔ مولان کی دو بیویاں پہلے انتقال کر چکی ہیں ۔

مولانا کے صاحبزادوں میں برے مولانا فداء الرحمن درخواستی ہیں جو جے یو آئی کے مرکزی نائب امیر ہیں اور کراچی میں ایک دینی ادارہ جامعہ انورالقرآن کے سر براہ ہیں جب کہ خان پور کا قدیم ادارہ جامعہ مخزن العلوم مولانا فضل الرحمن درخواستی ، مولانا مطیع الرحمن درخواستی ، مولانا جمیل الرحمن درخواسی چلا رہے ہیں ۔

مولانا درخواستی نے جنگ آزادی کے عظیم رہنمائوں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن ، حضرت مولانا تاج محمود امروٹی ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ، حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد اور حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے ساتھ جنگ آزادی میں کام کیا ۔ مولانا درخواستی کے والد حضرت حافظ محمود الدین نے انگریزوں کے خلاف جہاد میں نمایاں کردار اد ا کیا ۔ مولانا درخواستی میدان سیاست کے ساتھ ساتھ میدان تصوف میں بھی خاص مقام رکھتے تھے ۔ آپ کو خلافت حضرت میاں عبدالہادی دین پوری سے ملی ،آپ کے ہزاروں کی تعداد میں مرید ہیں جو اندروں ملک اور بیرون ممالک میںہیں ۔

مولانا درخواستی ساری زندگی خان پور میں شعبان المعظم میں قرآن مجید کی تفسیر پڑھایا کرتے تھے ، مولانا سے پاکستان ، بنگلہ دیش ، ہندوستان ، سعودی عرب ، افغانستان ، ایران ، مصر ، انڈونیشیاء ، ملیشیاء ، سائوتھ افریقہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے تقریباً پچاس ہزار سے زائد علمائے نے قرآن مجید کی تفسیر پڑھی ۔ مولانا درخواستی نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں 500 سے زائد دینی مدراس قائم کئے ، ان کے شاگرد مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں بھی تعلیم دے رہے ہیں ۔ وہ جن دینی اداروں کی پر پرستی فرما رہے تھے ان کی تعداد 4000 سے زائد ہے ۔

مولانا درخواستی نے 1953 کی تحریک ختم نبوت 1974 کی تحریک ختم نبوت ، ایوب خان کے عائلی قوانین کے خلاف چلنے والی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ مولانا درخواستی نے 1977 کی تحریک نظام مصطفی ۖ میں ملک کے کونے کونے کا دورہ کیا مولانا درخواستی کو ان تحریکوں کے دوران کئی بار قید و بند کی صعوبتیں بھی کاٹنی پڑیں ۔

مولانا درخواستی نے جے یو آئی کے امیر منتخب ہونے کے بعد 1968 میں آئین شریعت کانفرنس بلائی جس میں ایک لاکھ سے زائد علماء اور عوام نے شرکت کی ۔ کانفرنس میں مولانا درخواستی نے دینی جماعتوں کے سایسی کردار کے تعین پر خطاب کیا اور مذہبی قوتوں کو ایک نیا رخ دیا ۔ مولانا عبداللہ درخواستی نے لاہور کاآخری دورہ مئی 1994 کو کیا اس موقع پر جامعہ قاسم العلوم شیرنوالہ گیٹ مین ملک بھر سے آئے ہوئے علماء نے آپ سے ملاقاتیں کیں اور آپ نے ان سے خصوصی خطاب کیا ۔ مولانا عبداللہ درخواستی علالت کے باعث زیادہ کمزور ہو گئے تھے ڈاکٹروں نے انہیں سفر سے بالکل روک دیا تھا اسی بنیاد مولانا درخواستی نے مولانا اجمل خان کو جماعت کا قائم مقام امیر نامزد کر دیا تھا ۔ مولانا اجمل خان قائم مقام امیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے ۔ مولانا محمد عبداللہ درخواستی یوں تو جے یو آئی کے سابق امیر حضرت مولانا احمد علی الہوری کی وفات کے بعد سے جماعت کے امیر چلے آرہے تھے ۔ لیکن جماعت نے دو برس قبل پیرانہ سالی کے با وجود مولانا کو امیر منتخب کیا تھا ۔ مولانا مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبید اللہ انور ، مولانا محمد اجمل خان ، مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن نے مولانا عبداللہ درخواستی کی امارت میں بطور جنرل سیکریٹری کام کی ا۔ مولانا مفتی محمود بھی مولانا درخواستی کی امارت میں بطور سیکریٹری جنرل آخری دم تک کام کرتے رہے اور جمعیت کے دونوں دھڑوں کے اتحاد کے بعد مولانا مفتی محمود اللہ صاحبزادے مولانا فضل الرحمن فضل الرحمن بطور جنرل سیکریٹری کام کر رہے ہیں ۔

مولانا عبداللہ درخواستی کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی دینی مدراس میں اطلاع ملنے پر قرآن خوانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ لاہور میں جامعہ رحمانیہ ، جامعہ قاسم العلوم ، جامعہ اشرفیہ ، جامعیہ حنفیہ قادیہ ، جامعیہ قاسم ابراہیمیہ میں قرآن خوانی ہوتی رہی جبکہ بعد ازاں دینی مدارس میں تعطیل کر دی گئی ۔ مولانا عبداللہ درخواستی کے جنازے میں شرکت کے لئے ہزاروں علماء کے قافلے خان پور پہنچنا شروع ہو گئے ۔

مولانا عبداللہ درخواستی کی وفات پر مختلف علمائے کرام ن گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی وفات سے ملک ایک ایسی مذہبی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جنہیں حدیث کا حافظ کہا جاتا ہے اور ان کی وفات سے ایک ایسا خلاء پیدا ہوا ہے جو شاید کبھی پر نہ ہو سکے ۔ مولانا عبدالرحمن نے کہا کہ مولانا درخواستی ایک ایسی شخصیت تھے جن کی اس دور میں نظیر نہیں ملتی ۔ و حدیث کے حافظ تھے اور غالباً انہیں لاکھوں حدیثیں حفظ تھیں اور ان جیسا کوئی عالم اس دور میں نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا مولانا درخواستی ان سے بڑا پیار کرتے تھے اور ہمیشہ محبت سے پیش آتے اور شفقت کرنا ان پر ختم تھا ۔ آپ کی وفات سے مجھے بہت صدمہ ہوا۔

مولانا عبدالقادر روپڑی نے کہا کہ مولانا عبداللہ درخواستی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے ۔ ان کے انتقال سے عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ وہ علمی اعتبار سے بہت بڑی شخصیت تھے اور ملکی معاملات کا گہرا فہم رکھتے تھے ۔ جمیعت علمائے اسلام کے نائب امیر علامہ ڈاکٹر خالد محمود نے کہا مولانا درخواستی ملک کے ممتاز عالم دین تھے ، ایسے بطل حریت روز روز جنم نہیں لیتے ۔ انہوں نے ہر مشکل مرحلے پر قوم کی رہنمائی کی ۔ ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ جماعت علماء اہلحدیث کے سر براہ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ مولانا درخواستی کی ساری زندگی اسلام کی خدمات میں گزری ۔ وہ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے ۔ انہوں نے کہا وہ دعا گو ہیں کہ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.