hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

خان پور کا چراغ

مجیب الرحمن شامی


ایڈ یٹرروزنامہ ” پاکستان "

متحدہ علماء کونسل کے سیکریٹری جنرل مولانا ملک عبدارئوف خان پور میں مولانا محمد عبداللہ درخواستی کا جنازہ پڑھ کر واپس آئے میرے پاس تشریف لائے ۔ مولانا درخواستی کا ذکر چھڑ گیا ۔ دیر تک ہم دونوں ان کی باتیں کرتے اور ان کو یاد کرتے رہے ۔ ملک عبدالرئوف حضرت درخواستی کے با قاعدہ شاگرد ہیں ، وہ سرگودھا کے قریب دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور دو دو سے طالبان علم ان کے درس میں شریک ہو کر ان دو ماہ میں قرآن مکمل کر لیتے تھے ۔ ملک عبدالرئوف کی جوانی کا ابھی با قاعدہ آغاز نہیں ہوا تھا کہ مولانا درخواتی کے ہاں پہنچے اور قرآنی علوم سے ان کا سینہ منور ہوا ۔ حضرت درخواستی : کے بیٹوں مولانا فداء لرحمن دامت برکاتہم اور مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم کے ساتھ تعلق دوستی کے سانچے میں ڈھل گیا ۔ مولانا فداء الرحمن درخواستی دامت برکاتہم لاہور آتے تو ملک صاحب کے ہاں قیام کرتے ہیں اور ملک صاحب خان پور جاتے ہیں تو خصوصی مہمان کا درجہ پاتے ہیں ۔

مولانا محمد عبداللہ درخواستی 103 سال کی عمر میں اس خاموشی سے روانہ ہوئے کہ ان کے قریب بیٹھے ہوئے افراد کو بھی معلوم نہ ہو پایا ، لیٹے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک چپ لگ گئی ۔خیال ہوا کہ اونگھ گئے ہیں ، چند لمحموں بعد کسی نے سوچا کہ کہیں شوگر ختم نہ ہو گئی ہو ، ذیابیطس کے مریضوں کی ایک مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض اوقات شوکر بالکل ختم ہونے کی وجہ سے غشی کا دورہ پڑ جاتا ہے ۔ یہ غشی قدر طویل بھی ہو جاتی ہے کہ جان لے کر جائے ، اس سے جان کی امان پانا آسان نہیں ۔ آواز دی گئی تو کوئی جواب نہ آیا ، ڈاکٹر کو بلایا گیا ، اس نے آکر دیکھا تو بتایا کہ مولانا اس دنیا میں نہیں رہے ، وہ تو وہان جا چکے ہیں جہاں ایک دن سب کو جانا ہے اور لوٹ کر کسی بھی نہیں آنا ۔

مولانا درخواستی کی عجب انفرادیت تھی کہ دیو بند میں ایک دن کے لئے تعلیم نہیں پائی ، تعلیم پانا تو کچا اس شہر اور اس کے عظیم الشان مدرسے کو دیکھا تک نہیں لیکن اکابرین دیو بند کے سرکا تاج بن گئے ۔ انہوں نے ان کیہاتھ پر بیعت یوں کہ انہیں جمعت علماء اسلام امیر بنا لیا، مولانا احمد علی لاہور کا انتقال ہوا تو و ہ جمعیت کے قائد تھے ، ان کے بعد ایک سے ایک بڑا عالم ، مفتی اور فاضل دیو بند موجود تھا لیکن جس پر سب کی نگاہ انتخاب ٹھہری وہ خان پور کا رہنے والا ایک درویش منش بزرگ تھا ۔ جدید سیاست کے زاویوں سے بے خبر اور اس کے تقاضوں سے ناآشنا ۔ قرآن اور حدیث رسول ۖ پڑھانے والا اور ان ہی کو اپنی کائنات قرار دینے والا ۔

حضرت درخواستی نے اپنے ہم عصر وں ، نیاز مندوں ، بر خورداروں کی اس ” درخواست ” کو بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ قبول کیا ۔ پوری کوش کی کہ یہ ذمہ داری کسی اور کے سپر د کر دی جائے ، لیکن جب ایک نہ چلی تو آگے بڑھنا پڑا، روتے ہوئے تقریر کی اور یہ عربی مقولہ دہراتے رہے کہ بڑوں کی موت نے مجھے بڑا بنا دیا ۔

جمعیت علماء اسلام کا لطیفہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد حضرت مولانا شیبر احمد عثمانی نے ، مولانا محمد شفیع ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور بعض دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر تھی تھی ۔ علمائے دیو بند کی بڑی تعداد جمعیت العلماء ہند میں شامل تھی ، جس کی قیادت مولانا حسین احمد مدنی کے ہاتھوں میں تھی ۔ مولانا مدنی کی سیاست کانگریس کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ تھی وہ ہندوستان کو مسلم اور غیر مسلم ہندوستان میں تقسیم کرنے کے قائل نہیں تھے ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان کے رفقاء مسلمانوں کے لئے الگ وطن کے حصول کے حق میں تھے ۔ ان کو معلوم تھا کہ اب یا یا کبھی نہیں کا معاملہ ہے ،انگریز بر صغیر سے رخصت ہو رہا ہے ، متحد ہندوستان میں تین غیر مسلم ووٹوں کے مقابلے میں ایک ووٹ مسلمان کا ہو گا ۔ مطلب یہ ہوا کہ مستقل اکثریت ، مستقل اقلیت پر حکومت کرے گی۔ ان کا خیال پختہ ہو تا گیا کہ مسلمانوں کو اس قہر سے بچانا چاہیے اور جہاں جہاں ان کی اکثریت ہے کم از کم وہاں تو ان کو مکمل آزادی مل جانی چاہیے اور جہان جہاں ان کی اکثریت ہے کم از کم وہاں تو ان کو مکمل آزدی مل جانی چاہیے ۔ مولانا عثمانی نے جمعیت العلماء ہند کے مقابل جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی ، اس جمعیت نے مسلم لگ کو مولوی کمک مہیا کی اور جمعیت العلماء ہند کا سحر توڑ دیا ۔

قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد تک یہ جمعیت سر گرم رہی لیکن مولانا شبیر احمد عثمانی کی وفات کے بعد اس کا نقش مدہم ہو گیا کیونکہ اس کے اکثر ذمہ دار صرف علمی مشاغل سے دلچسپی رکھتے تھے ۔ مولانا عثمانی کی جمعیت علماء اسلام کو بحال کرنے کی ایک کوشش 1969 میں ہوئی لیکن یہ الگ کہانی ہے ، جس وقت مولانا درخواستی جمعیت علماء اسلام کے امیر منتخب ہوئے یہ دیو بند کے دونوں ذہنوں کی نمائندی کر رہی تھی کہ مسلم لیگی ذہن نے بھی اس کی مخالفت میں آواز نہیں اُٹھائی ۔

مولانا درخواستی کا کمال یہ تھا کہ ان کو ہزارون احادیث اسناد کے ساتھ یاد تھیں ۔ ایک روایت کے مطابق اپنے شیخ اور مولانا عبید اللہ سندھی کے داماد حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری سے دیو بند جانے کی اجازت طلب کی ۔ خلیفہ دین پوری خان پور کے قریب دین پور میں رشد و ہدایت کا چراغ جائے ہوئے تھے ، شاید اسی قرب کی وجہ سے حضرت عبداللہ درخواستی نے تحصیل علم کے دین پور کا رخ کای تھا ۔ خلیفہ غلام محمد دین پوری نے اپنے ہونہار شاگرد سے کہا کہ روزانہ چند احادیث یاد کر کے مجھے سنا دیا کرو، آپ کو دیو بند جانے کی ضرورت نہیں ، وہاں سے لوگ خود یہاں آیا کریں گے ۔ نوجوان عبداللہ درخواستی نے اتنی کثرت سے احادیث یاد کرنا شروع کر دیں کہ حافظ الحدیث کہلائے ۔ اتنی احادیث برصغیر تو کیا اسلامی دنیا کے کسی اور عالم کو بھی شاید ہی یاد ہوں ، جو عبداللہ نے یاد کر لی ھی اس امتیاز نے ان کو ایک نئی شان عطا کر دی اور آپ کی شہرت یقینی ہو گی ۔ مولانا درخواستی جمعیت کے دستور کے مطابق تمام اختیارات ان کو حاصل تھے لیکن مولانا درخواستی کی گوشہ نشینی اور مفتی محمود کی محنت ۔۔۔۔ کو ایک فعال سیاسی قوت کا قالب بھی عطا کر دیا۔

حضرت درخواستی عملی سیاست دان نے نہیں تھے لیکن مختلف معاملات میں اپنی رائے رکھتے تھے اور اس پر ڈٹ بھی جاتے تھے ۔ ایم آر ڈی کے قیام کے وقت انہوں نے اس میں شمولیت کی مخالفت کی ۔ ان کا موقف تھا کہ جس پیپلز پارٹی کے خلاف ہم نے جدوجہد کی تھی اس کے ساتھ رشتہ ٔ اتحاد قائم نہیں کیا جا سکتا ، جمعیت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی لیکن مولانا نے اپنی رائے نہیں بدلی ۔ 1988 میں بے نظیر بھٹو نے انتخاب جیب لیا تو بھی انہوں عورت کی سر براہی کو تسلیم کر نے سے انکار کر دیا ۔ انتخابات کے چند ہی روز بعد باقاعدہ فتوی ٰ جاری کر دیا کہ شرعی اعتبار سے عورت کو سر براہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا ، شاید ان کے اس روپے ہی کی وجہ سے جمعیت علماء اسلام براہ راست حکومت میں شامل ہونے سے گریزاں رہی ۔

مولانا درخواستی عرصہ دراز سے مختلف امراض کا شکار تھے ، ان کی سرگرمیاں محدود تھیں لیکن وہ چار پائی سے بہر حال نہیں چپکے ۔ ان کو کرسی پر بٹھا کر مسجد میں لایا جاتا ، کبھی چند جملے ارشاد فرما دیتے ، کبھی دعاکے لئے ہاتھ اُٹھا دیتے ، ان کا صدمہ ملک بھر میں محسوس کیا گیا ، ان کے شہر میں ان کا ماتم اس طرح ہوا کہ شاید ہی کوئی شخص ہو جو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوا تھا ۔ شہر سوگ میں ڈوبا ہوا تھا ، کاروبار بند تھا اور ہو کا عالم تھا ۔ خان پور کے اس چراغ کی روشنی دور دور تک پھیلی ہوئی ۔ دل کی دنیا ایسے ہی اذکار سے روشن ہوتی اور روشن رہتی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.